آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ان دنوں کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں خوف کی لہر دوڑی ہوئی ہے۔ لیکن تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی بستیاں اس سے زیادہ بھیانک صورت حال سے گزر چکی ہیں اور اگر ماضی کی بعض وباوں پرنظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ وائرس اتنا خطرناک نہیں ہے جتنا اس سے پیدا ہونے والا خوف بڑا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ماضی میں کئی بار ایسا ہوا کہ خوف ناک وباوں نے بڑے پیمانے پرمتعدد ممالک میں تباہی مچائی۔تاہم کرونا کے خطرے سے صرفِ نظر کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔چناں چہ آج دنیا بھر میں اس سے نمٹنے کے لیے حکومتیں اپنی سی کوشش کرتی نظر آتی ہیںکیوں کہ یہ بہت تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ میں تیزی آ رہی ہے۔گزشتہ روز جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈراس ادھانوم نے کہا کہ کرونا کے پہلے کیس کے رپورٹ ہونے کے بعد 67 دن میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچی، گیارہویں روز دوسرا لاکھ ہوا اور تیسرا لاکھ صرف چار یوم میں ہوا۔یعنی وقت گزرنے کے ساتھ اس کی رفتارمانندِ برق ہوجاتی ہے۔

ہم امتحان کے تیسرے مرحلے میں

پاکستان میں کروناوائرس تیسرے فیز میں داخل ہوچکا ہے۔اس وقت ایشیائی ممالک میں ایران کوکرونا سے متاثرہ ممالک میں سرِفہرست دیکھا جارہا ہے اور پاکستان میں کرونا کی کیٹیگری ٹو بتائی گئی ہے،یعنی یہاں اسے دوسرا درجہ دیا جارہا ہے۔ تاہم اب تک اس بات کا تعین نہیں کیا جاسکا ہےکہ ملک میں وائرس سے ہونے والی اموات کا تناسب کتنا ہے اور پاکستان میں یہ کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے اورآئندہ وائرس کے پھیلنے کی رفتار کیا ہو گی۔البتہ ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں وائرس اب تیسرے مرحلے میں داخل ہورہا ہے جس میں وائرس کی شدت میں بھی تیزی آجائے گی۔

ماہرینِ صحت کہتے ہیں کہ اٹلی سمیت دیگر یورپی ممالک میں وائرس سے ہونے والی تباہ کاریوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یورپی ممالک وائرس کی شدید زد میں ہیں جس کی تباہ کاریوں کا رخ اب پاکستان، ایران بھارت سمیت دیگر ایشیائی ممالک میں ہوگیا ہے۔ان کے مطابق یہ بات درست ہے کہ پاکستان، بالخصوص کراچی اور اندرون سندھ میں دو ہفتوں کے دوران وائرس کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔پاکستان میں وائرس انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونا شروع ہوگیا ہےجوبہت خطرناک صورت حال کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے بہ قول اس وقت پاکستانی ماہرینِ صحت،فیملی فزیشنز، اور نیم طبی عملہ بہ راہ راست کرونا کے نشانے پر اگیا ہے۔ابھی پاکستان میں کرونا وائرس سے شرح اموات0.5فی صد سامنے آرہی ہے۔اٹلی میں یہ شرح دس ،چین میں2.7،جرمنی میں 0.8 اور اسپین میں چار فی صد سے زایدبتائی جارہی ہے۔

ایک ارب محصور افراد

اس وقت ایک اندازے کے مطابق دنیا کے پچاس سے زاید ممالک میں ایک ارب کے قریب افرادلاک ڈاؤن میں ہیں۔ پاکستان میں بھی بیش تر مقامات پر کچھ ایسی ہی صورت حال ہے اورحکومت نے سول انتظامیہ کی مدد کے لیےفوج طلب کر لی ہے۔اطلاعات کے مطابق دنیا میں کرونا وائرس کی پھیلتی ہوئی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید ممالک کی حکومتیں لاک ڈاؤن کی جانب بڑھ رہی ہیں اوربعض ممالک نے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے اورکئی نے اس مہلک وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عوام کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کم از کم 34 ممالک یا خطوں میں لاک ڈاون کو لازمی اقدام کے طور پر نافذ کیا جا چکا ہے جہاں تقریباً 65کروڑ 90لاکھ افراد گھروں میں محصور ہیں۔ان ممالک اور خطوں میں فرانس، اٹلی، ارجنٹائن، عراق، روانڈا، امریکی ریاست کیلی فورنیا اور پاکستان بھی شامل ہیں۔پابندی کے یہ اقدامات کرنے والانیا ملک یونان ہے جہاں پیر کی صبح لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔کولمبیانے منگل کو مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنےکا اعلان کیااور نیوزی لینڈ بدھ کے روز اس کی پیروی کرے گا۔ایران ، جرمنی اور برطانیہ سمیت کم از کم چار ممالک نےجن کی مجموعی آبادی 22 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ افراد پر مشتمل ہے، اپنے عوام کو گھروں میں رہنے اور دوسروںسے رابطے محدود رکھنے کی اپیل کی ہے، لیکن ان ہدایات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

برطانیہ میں ویک اینڈ پر پارکس اور ساحلوں پر جمع ہونے والے ہجوم کے بعد حکومت نے سخت اقدامات کا انتباہ کیا تھا جب کہ ایران میں لاکھوں افراد گزشتہ ہفتے نئے سال کے آغاز کے حوالے سے سفر کر رہے تھے۔دوسری جانب کم از کم 10 ممالک اور خطے میں، جن کی مجموعی آبادی 11 کروڑ 70 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، کرفیو لگا دیا اور راتوں رات سفر پر پابندی عاید کردی گئی۔یہ اقدامات چلی، فلپائن کے دارالحکومت منیلا، سربیا اور موریطانیہ میں اٹھائے گئے ہیں۔ادہر سعودی عرب میں بھی پیر کی شام سے کرفیو نافذ کردیا گیاہے۔بعض مزید ممالک کے اہم شہروں میں آئسولیشن کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور لوگوں کو شہروں میں داخل ہونے اور باہر جانے سے روک دیا گیا ہے۔یہ اقدامات بلغاریہ، قازقستان اور آذربائیجان سمیت کئی ممالک کے شہروں میں دیکھے گئے ہیں۔مجموعی طور پر ان شہروں کی آبادی ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ نفوس سے زیادہ ہے۔

کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد پہلا لاک ڈاؤن چین کے شہر ووہان میں کیا گیاتھا۔یہ ہی وہ شہر ہے جہاں سے یہ وبا شروع ہوئی تھی۔اس کے بعد لاک ڈاؤن کے اعلانات اٹلی، فرانس اورا سپین میں سامنے آئے اور اٹلی میں تو پورا ملک ہی لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہا ہے۔وہاں حکومت نے چھ کروڑ کی آبادی کو گھروں میں رہنے کو کہا ہے۔ وہاں سب سے پہلے ملک کے شمالی حصوں میں سفری پابندیاں عاید کی گئی تھیں جس کے بعد انہیں پورے ملک تک پھیلا دیا گیا۔اب وہاں صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہی کوئی فردگھر سے باہر نکل سکتا ہے اور ایسی صورت میں اسے اپنے ساتھ ایک فارم رکھنا ہوتاہے کہ اس کا سفر کرنا کیوں ضروری ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 206 یورو (235 ڈالر) تک کا جرمانہ یا تین ماہ کی جیل بھی ہو سکتی ہے۔

فرانس اورا سپین میں بھی بلاضرورت گھر سے نکلنے پر عوام کو جرمانے ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔ وہاں تمام عوامی مقامات کو بند کر دیا گیا ہے۔ا سپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے عوامی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے لوگوں سے کہا ہے کہ تب تک گھر سے نہ نکلیں جب تک کوئی مجبوری نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو مشکل حالات کا سامنا ہے۔ یہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ لوگوں کو اکٹھا ہونے سے روکنے کے لیے مختلف مقامات پر سیکیورٹی اہل کار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق بے گھر افراد کے تحفظ اور انہیں رہایش فراہم کرنے کے لیے مسلح افواج بھی تعینات ہیں۔

اسی طرح بعض ممالک نے وائرس پھیلانے میں کردار ادا کرنے والوں کے خلاف سخت سزا کا اعلان بھی کیا ہے۔ سعودی عرب نے ملک میں داخل ہونے پر اپنے سفر اور اپنی صحت سے متعلق تفصیلات چھپانے والوں پر ایک لاکھ تینتیس ہزار ڈالر جرمانہ عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔بعض ممالک نے تو اپنے ہاں داخل ہونے پر ہی پابندی لگا دی ہے اور بعض ممالک ملک میں داخل ہونے والوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ خود کو کم از کم چودہ دنوں کے لیے بالکل الگ تھلگ رکھیں، ہو سکے تو کسی ہوٹل کے کمرے میں۔آسٹریلیا نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ خود کو تنہا رکھنے کے قانون کو نہ ماننے والےافراد کو سخت جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے اور جیل بھی ہو سکتی ہے۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسنڈا آرڈرن نے تنبیہ کی ہے کہ مسافر اگر خود کو تنہا رکھنے کے ضوابط پر عمل نہیں کریں گے تو انہیں جرمانے کے علاوہ ملک سے باہر نکالے جانے جیسی سزا کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ یہاں آتے ہیں اور خود کو تنہا کرنے کے بارے میں ہماری درخواست ماننے کا آپ کا کوئی ارادہ نہیں ہے تو ہم آپ کا خیر مقدم نہیں کرتے۔ اس سے پہلے کہ ہم آپ کو باہر نکالیں آپ خود ہی یہاں سے چلے جائیے۔نیوزی لینڈ نے بھی مسافروں پر زور دیا ہے کہ وہ خود کو تنہا رکھنے کے ضوابط کی پاسداری کریں۔

امریکا میںسینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے پاس ملک میں اور اس کی ریاستوں کے مابین بیماریاں پھیلنے سے روکنے کا اختیار موجود ہے۔یہ اختیار گزشتہ دنوں اس وقت استعمال کیا گیا جب ووہان سے آنے والے امریکیوں کو واپس آنے پر کیلی فورنیا کے ایک فوجی اڈے پر لازمی قرنطینے میں رکھا گیا تھا۔سی ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ ریاستی، مقامی اور قبائلی اہل کاروں کے پاس اپنی سرحدوں کے اندر وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پولیس کے اختیارات بھی ہیں۔ وہاں بعض ریاستوں نے عوامی مقامات پر اکٹھا ہونے پر پابندی لگا دی ہے اور کئی مقامات ایسے ہیں جہاں ایک وقت میں پچاس سے زیادہ لوگ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔

اتنی جلدی، مگر کیوں؟

دنیا بھر میں بہت سے افراد اپنی حکومتوں سے یہ سوالات کررہے ہیں کہ انہوں نے لاک ڈاون کرنے یا سخت حفاظتی اقدامات اٹھانے میں اتنی جلدی کیوں کی ہے۔دراصل جدید دور میں بھی بہت سے افرادکی فکر سائنسی نہیںہے،لہذا وہ دنیابھرسے ہرلمحےموصول ہونے والی اطلاعات کا سائنسی انداز میں تجزیہ کرنے سے قاصر ہیں۔انہیں معلوم ہی نہیں کہ آج اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور علمِ شماریات نے باہم مل کر اس وبا کے خلاف جنگ کو کس نہج پر پہنچادیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آج اس وبا کے خلاف ان دونوں شعبوںکا کردار بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے۔اطلاعاتی ٹیکنالوجی ہر لمحے ماہرینِ طب کو دنیا بھر میں اس وبا کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ رکھ رہی ہےجس کی بنیاد پر چارٹ اور گراف بن رہے ہیں۔ان چارٹس اور گراف کی مدد سے ماہرین کو یہ پتا چل رہا ہے کہ یہ وائرس کب، کہاں،کس رفتار سے پھیل رہا ہےاور اتنے نقصانات کررہا ہے۔

چناں چہ وہ دنیا بھر کو آئندہ کے حالات کے بارے میں پہلے سے مطلع کرنے کی حالت میں ہیں۔ماہرین نے ان چارٹس اور گراف کی مدد سے ایک اصول ترتیب دیا ہے جسے Flatten the curve کا نام دیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں جب یہ وائرس پھیلتا ہے تو ابتدا میںاس کی رفتار کم ہوتی ہے ،لیکن پھر ہر گزرنے والے ہفتے میں یہ رفتار بہت تیزی سے بڑھنے لگتی ہے اور گراف اوپر جانے لگتا ہے ۔ ایسے میں اس پر مکمل قابو پانا تقریبا ناممکن ہوتا ہے ۔ لیکن اگر بروقت اقدامات اٹھالیے جائیںتواوپر کو بڑھتا ہوا گراف مزید اوپر جانے سے رک جاتا ہےےماہرین کے مطابق یہ بھی بہت بڑی کام یابی ہوتی ہے۔یعنی اگر کسی علاقے یا ملک میں روزانہ کی بنیاد پر دس کیسز رپورٹ ہورہے ہوںاور آئندہ چند دنوں تک ان کی شرح یہ ہی رہے تو حالات قابو سے باہر ہونے کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔لیکن اگر ان کی تعداد روزانہ بڑھنے لگے تو سمجھ لیں کہ وہ ملک بہت زیادہ خطرے کی زد میں آچکا ہے۔ماہرین کے مطابق تیسرے مرحلے کے بعد اس وائرس کے پھیلاو کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کہ اب روزانہ کتنے کیسز رپورٹ ہوں گے اور نئے کیسز کی یومیہ شرح کیا ہوگی۔ماہرین کے مطابق جن ممالک نے یہ مرحلہ آنے سے پہلے لاک ڈاون کیا انہوں نے اس وائرس پر بہت حد تک قابو پالیا۔لیکن جنہوں نے ایک یوم کی بھی تاخیر کی وہاں بیس فی صد یومیہ تک نئے کیسز بڑھنے لگے اور شرح اموات بھی بڑھیں۔

بروقت فیصلوں کی اہمیت

ماہرین اس ضمن میںبروقت فیصلے کرنے کے لیے بعض مثالیں بھی پیش کررہے ہیں۔ان میں سے حال کی مثال تو چین کی ہےاور ماضی سے وہ امریکا کی مثال پیش کرتے ہیں۔ان کے بہ قول دسمبر 2019ء میں کرونا کا خوف پھیلنا شروع ہوا تو دنیا کے سامنے دو ماڈل تھے ۔ ایک سینٹ لوئس کا اور دوسرا فلاڈلفیا کاماڈل۔ان دونوں ماڈلزپر عالمی ادارہ صحت سمیت دنیاکے تمام اعلیٰ فورمزپر بحث مباحثے ہوئے۔تاہم ماہرین نے موثر نتائج کی بنیاد پر سینٹ لوئس ماڈل اپنانے کا فیصلہ کیا۔اس ماڈل کے اثرات سمجھنے کے لیے ہماراماضی میں جھانکنا ضروری ہے۔دراصل 1918ءمیں ہسپانوی انفلوئنزا امریکا پہنچا تھا۔ سینٹ لوئس اور فلاڈلفیا میں ستمبر میں پہلے کیس سامنے آئے۔فلاڈلفیا کےمیئر تھامس بی ا سمتھ نے اسے ہلکا لیا اوراسے معمولی نزلہ، زکام قرار دیا اور حکام سے کہا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں‘لوگوں کو احتیاط کی ہدایت کریں اور شہری زندگی کو چلنے دیں۔دوسری جانب سینٹ لوئس میں انفلوائنزا کا پہلا کیس سامنے آیا تووہاں کے میئر نےاسے سنجیدگی سے لیا،سینٹ پیٹرک ڈے کی پریڈ منسوخ کر دی،پورے شہر میںعوامی اجتماعات ،اسکول‘ بس ‘ ٹرین‘ شاپنگ سینٹرز‘ اناج اور سبزی منڈی حتیٰ کہ جنازے تک پر پابندی عاید کردی تھی۔ساتھ ہی پولیس کو حکم دیاکہ شہر کے تمام چرچ بھی شام تک مقفل کر دیے جائیں۔ 

لوگوں نے یہ احکامات پسند نہیں کیے۔چناں چہ شہر میں احتجاج شروع ہوگیا۔ لیکن میئرنہ صرف اپنے فیصلے پر ڈٹا رہا بلکہ آہستہ آہستہ لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا۔ یہ پابندی دو ماہ تک جاری رہی۔ نومبرآنے تک فلاڈلفیا میں انفلوئنزانے تباہی پھیلا دی تھی۔وہاںساٹھ ہزارافراد ہلاک ہوئے،تقریبا ہر گھر میں ماتم تھا۔گورکن تک زندہ نہیں بچے تھے،پادری جنازے پڑھانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے چناں چہ شہر کی انتظامیہ لاشیں جلانے پر مجبور ہو گئی تھی۔ایسے میں اس کا رابطہ باقی ملک سے کاٹ دیا گیا تھا۔ادہر سینٹ لوئس میں بھی انفلوئنزاتھالیکن اموات اورمتاثرہ افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔یہ وبا 1919ء کے اواخر میں امریکا سے ختم ہوئی تھی۔

پہلے آہستہ، پھر اچانک حملہ

مذکورہ بالا حقایق کی بنیاد پر ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس بہت بڑا خطرہ ہے اور اس کے خلاف جنگ میں ایک ایک دن اہم ہے۔ایسے میں جب آپ فیصلہ کرنے میں ایک دن کی بھی تاخیر کرتے ہیں تو شایدآپ بہت سے نئے کیسزبڑھانے میں کردار ادا کر رہے ہوں۔اس ضمن میں وہ مثال دیتے ہیں کہ اگر ہیوبے کے حکام 23 جنوری کے بجائے 22 جنوری کو ووہان شہر بند کرنے کا اعلان کر دیتے تو اس سے کرونا وائرس کے کیسز میں 20 ہزار کی نمایاں کمی ہوجاتی۔ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کی صورت حال کے پیش نظربہت سے ممالک کے لیے یہ فیصلہ کرنا بے حد مشکل ہو سکتا ہے کہ آج کیا کیا جائے؟ کیا ہمیں مزید معلومات کا انتظارکرنا چاہیے یا آج ہی کچھ کیا جائے ،لیکن کیا؟وہ کہتے ہیں کہ اس کے لیے درجِ ذیل نکات بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں:

آپ کے علاقے میں کرونا وائرس کے کتنے کیسز ہیں؟

متاثرہ افراد کے مریض بننے کی صورت میں کیا ہو گا؟

آپ کو کب اور کیا کرنا چاہیے؟

وہ کہتے ہیں کہ یہ بات ہر ملک اور شخص کو ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ کرونا وائرس تیزی سے آپ کی جانب بڑھ رہا ہے، یعنی پہلے آہستہ اور پھر اچانک حملہ آور ہوتاہے۔ یہ چند دنوں کی بات ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک یا دو ہفتے کی بات ہو۔جب ایسا ہوگا تو آپ کے ملک میں صحت کے نظام پر بوجھ بڑھ جائے گا۔ آپ کے ہم وطنوں کا علاج مکمل نہیں ہو پائے گا۔ محکمہ صحت کے کارکنان متاثر ہوں گے، بعض ہلاک بھی ہو جائیں گے۔ محکمہ صحت کے کارکنوں کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کون سے مریضوں کو آکسیجن ملے گی اور کون سا مریض اس کے بغیر زندگی اور موت کی جنگ لڑے گا۔اس صورت حال سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ کل کے بجائے آج ہی سےسماجی سطح پرآپس میں فاصلہ بڑھایا جائے۔ 

اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی تعداد میں ممکن ہو لوگوں کو گھروں تک محدود کرنے کا عمل شروع کیا جائے۔وہ سیاست دانوں اور کمیونٹی لیڈرز سے کہتے ہیں کہ یہ آپ کا اختیار اور ذمے داری ہے کہ صورت حال کو خراب ہونے سے روکیں۔آج آپ کو کئی طرح کے خوف ہوں گے،مثلا، اگر میں ضرورت سے زیادہ ردعمل کا اظہار کروں گا تو کیا ہوگا؟ کیا لوگ مجھ پر ہنسیں گے؟ کیا وہ مجھ پر غصہ کریں گے؟ کیا میں بے وقوف دکھائی دوں گا؟ کیا یہ انتظار کرنا بہتر ہو گا کہ دوسرے لوگ پہلے کوئی قدم اٹھائیں؟ کیا میں ملکی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچاؤں گا؟لیکن دوسے چار ہفتے میں جب پوری دنیا لاک ڈاؤن ہو جائے گی۔ جب آپ فاصلہ بڑھانے کی حکمت عملی اپنا کر بہت سی جانیں بچا چکے ہوں گے تو لوگ آپ پر مزید تنقید نہیں کریں گے بلکہ وہ درست فیصلہ کرنے پر آپ کو اچھے لفظوں سے یاد کریں گے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید