آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آزاد میڈیا لازم مگر نیت...

وزیراعظم عمران خان نے بجا فرمایا کہ جمہوریت کیلئے آزاد میڈیا لازم ہے، مگر انہوں نے یہ کیا کہہ دیا کہ ہمارے ہاں تعمیری کے بجائے بدنیتی پر مبنی تنقید ہوتی ہے، نیتوں کا حال تو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، ان کو کیسے کسی کی نیت تک رسائی ہو جاتی ہے۔ تنقید تو فقط تنقید ہوتی ہے، اور اکثر بُری لگتی ہے اس لئے کہ بدنیتی پر مبنی نہیں ہوتی، ہاں اگر حکومت یہ سمجھے اور قوم بھی یہ جانے کہ کوئی تنقید ریاست کیلئے خطرناک ہے تو اس پر قرار واقعی کارروائی کی جا سکتی ہے، آزاد میڈیا سے بشرطیکہ وہ آزاد ہو یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط قرار دے، آزاد میڈیا کبھی مادر پدر آزاد نہیں ہوتا، کڑوا سچ ضرور لکھتا، بولتا ہے، اور اگر سچ میٹھا ہو تو وہ سرے سے سچ ہی نہیں ہوتا خالص خوشامد ہوتی ہے، اگر جمہوریت ہے تو میڈیا لازماً آزاد ہوتا ہے اور تلخ نوا بھی، کہ اس کی تلخ نوائی میں قوم کیلئے شیرینی اور حکمرانوں کیلئے رہنمائی پوشیدہ ہوتی ہے، آج جیو؍ جنگ گروپ آف میڈیا پر افتاد در افتاد اس لئے ہے کہ وہ کلمۂ حق کو بلند کرتا ہے، آزاد میڈیا کی نوکِ زبان ہو یا نوکِ قلم، یہی آواز آتی ہے ’’میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند‘‘۔ میڈیا خبردار کرتا ہے کہ راستہ غلط ہے اس پر نہ جا، ظاہر ہے طفلانِ اقتدار کو یہ بات کب اچھی لگتی ہے، سب سے بڑے میڈیا ہائوس کے مالک اور میرِ صحافت کو پابند سلاسل کرنا کیا آزادیٔ صحافت کیلئے ہے؟ میر شکیل الرحمٰن پر حافظؔ کا یہ شعر بڑا فٹ بیٹھتا ہے؎

یوسف از پا کئی داماں خود بہ زنداں می رود

بے گناہی، کم گنا ہے نیست در دیوان عشق

(یوسف پاک دامن ہونے کے باوجود خود زندان چلے گئے کیونکہ بے گناہ ہونا عشق کے جہاں میں کوئی کم گناہ نہیں ہوتا)

٭٭٭٭

میر خلیل الرحمٰن کا پودا ہرا رہے گا

جنگ، خزاں کے خلاف جنگ اور آمدِ بہار کا آہنگ ہے، برسوں پہلے اس پودے کو میر خلیل الرحمٰن نے سینچا، اب یہ گلستانِ آگہی بن چکا ہے، قوم کے باشعور افراد کے ذمہ لازم ہے کہ وہ جنگ جیو کے حق میں اپنی آواز بلند کریں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اس میڈیا ہائوس نے ہر دور میں کلمۂ حق بلند کیا، اس کے خلاف اپنوں بیگانوں نے بڑی سازشیں کیں مگر اس کا قد بلند اور شاخیں پھیلتی گئیں، اب اسے مالی نقصان کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر؎ اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے اور پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا، اس لئے کہ پھونک کیلئے بھی پھیپھڑوں کی ضرورت ہوتی ہے، آج بھی کسی نے اشتہار چھپوانا ہو تو جنگ کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہی کثیر الاشاعت اخبار ہے، اور اسی کو بڑا اخبار سمجھا جاتا ہے، ہماری گزارش ہے کہ جو ادارتی صفحہ ڈراپ ہو چکا ہے، اسے بحال کیا جائے تاکہ تکمیلِ اخبار مجروح نہ ہو، اور آوازۂ حق کا پھیلائو جاری رہے، ہم نے یہ بات اس لئے لکھی ہے کہ ہم سے کئی لوگوں نے اس بارے مطالبہ کیا، ادارتی صفحہ 2نہ چھپنے پر بعض ناہنجار حلقے بہت خوش ہیں، ہم سمجھتے ہیں یہ کڑوا گھونٹ پی لیا جائے اللہ بھلی کرے گا۔

٭٭٭٭

کارِ خیر ہے جہاں تک پہنچے

ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو خدمت خلق کے حوالے سے ہر کوئی جانتا ہے، انہوں نے کورونا وائرس کے علاج کیلئے ایک ہربل سیرپ تیار کیا ہے۔ یہ دوائی ہلدی، شہد، زیتون، دار چینی کا مرکب ہے، اور اب تک ڈاکٹر صاحب اسی کا کئی مریضوں پر کامیاب تجربہ کر چکے ہیں۔ یہ بالکل بےضرر ہے، اس کے اجزا سے گھر پر بھی یہ دوا تیار کی جا سکتی ہے، سوشل میڈیا پر ان کی وڈیو دیکھی جا سکتی ہے، جس میں تمام تفصیل موجود ہے۔ وقت کے ساتھ ہربل طریقہ علاج کی افادیت بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف موثر ہے بلکہ مابعد مضر اثرات سے بھی پاک ہے، ہم نے خود ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کرکے معلوم کیا ہے کہ ان کی تیار کردہ اینٹی کورونا وائرس دوا سے اب تک کئی مریض شفایاب ہو چکے ہیں، وزارتِ صحت اس ہربل دوا کو گھر کی مرغی کی طرح دال برابر نہ سمجھے بلکہ فوری ڈاکٹر آصف جاہ سے رابطہ کرے اور اُن کی کاوش کا جائزہ لے، اور اگر اس ہربل سیرپ کو موثر پائے تو سرپرستی کرے، وہ ایک ماہر ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور آیور ویدک طریق علاج پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔ ہماری نظریں صحت کے حوالے سے صرف مغرب پر ہی جمی رہتی ہیں، ہمارے ہاں بھی طب کے شعبے میں کئی جوہر قابل ہیں، ان کی قدر افزائی کی جائے، اگر یہ دوا واقعتاً موثر ہے تو حکومت اسے پوری دنیا کو اس سے مستفید کر سکتی ہے، وزیر صحت خود ایک ڈاکٹر ہیں ڈاکٹر آصف محمود جاہ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ رابطہ 03334242691

٭٭٭٭

مجرمانہ کھانسی

....Oبرطانیہ میں جان بوجھ کر کھانسنا جرم قرار،

کھانسنا ایک فطری عمل ہے، دل کو خون کی روانی میں ذرا سی رکاوٹ محسوس ہو تو وہ کھانسی کے ذریعے اسے بحال کر دیتا ہے، لگتا ہے کورونا نے برطانیہ کو کچھ تو کرو نا! پر مجبور کر دیا ہے، چاہے وہ بے عقلی ہی کیوں نہ ہو۔

....O عمران خان کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تردید

افواہ سازوں کی کیسی عجیب آرزوئیں ہوتی ہیں۔

٭٭٭٭

تازہ ترین