آپ آف لائن ہیں
پیر2شوال المکرم1441ھ25؍مئی 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

لاہور ہائیکورٹ، ایڈیٹر انچیف جنگ جیو کی گرفتاری نیب کی بزنس مین پالیسی کیخلاف ہے، وکیل درخواست گزر

لاہور ہائیکورٹ، ایڈیٹر انچیف جنگ جیو کی گرفتاری نیب کی بزنس مین پالیسی کیخلاف ہے، وکیل درخواست گزر


لاہور(نمائندہ جنگ)ممتاز قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن نے لاہور ہائیکورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ جیو کے ایڈیٹر انچیف کی طرف سے اراضی کی خریداری پرائیویٹ پارٹیوں کے درمیان سول معاملہ ہے۔

میرٹ پر دیکھا جائے توحق دعویٰ ختم ہو چکا،گرفتاری نیب کے اپنے ایس او پیز کی خلاف ورزی ہے،نیب نے انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہوا ہے، رہا کیا جائے۔ 


لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے جنگ اور جیو نیوز کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کے خلاف درخواستوں پرسماعت کی، جس میں میر شکیل الرحمٰن کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے اپنے دلائل مکمل کر لئے۔ 

امجد پرویز ملک ایڈووکیٹ نے انکی معاونت کی ۔ نیب کی طرف سے گرفتاری اور احتساب عدالت سے جسمانی ریمانڈ لینے کے خلاف اور ضمانت پر رہائی کی درخواستوں پر سماعت 7اپریل تک ملتوی کردی گئی ،آئندہ سماعت پر نیب کے وکیل جوابی دلائل دیں گے ۔ 

نیب کی طرف سے سپیشل پراسیکیوٹر سید فیصل رضا بخاری نے عدالت میں جواب جمع کروا دیا،درخواستوں میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب، احتساب عدالت کے جج اور دیگر کو فریق بنایا گیا۔ 

بیرسٹر اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کو 3مارچ کو نیب نے نوٹس دیا کہ 5مارچ کو پیش ہوں، یہ نوٹس ڈپٹی ڈائریکٹر ویری فکیشن کی طرف سے تھا جس کا مقصد شکایت کی تصدیق کرنا تھا۔ 

میر شکیل الرحمٰن 5مارچ کو نیب میں پیش ہوئے،قانوناً یہ ضروری تھا کہ ان کے خلاف شکایت کی تصدیق کی جاتی مگر نیب کے اپنے ایس پی اوز کے تحت بھی یہ تصدیق نہیں کی گئی، اس روز نیب نے کوئی سوال نامہ بھی نہیں دیا۔

 اگر نیب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کو کوئی سوال نامہ دیا گیا اور انہوں نے جواب بھی دیا تو نیب وہ سوال نامہ اوران کے جواب عدالت میں پیش کردے۔ 

اعتزاز احسن نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن پر نیب جو الزام عائد کررہا ہے وہ 34سال پرانا سول معاملہ ہے اور پرائیویٹ پارٹیوں کے درمیان سول ٹرانزیکشن ہے، یہ 1986کا معاملہ ہے جسے 2020میں بڑا معاملہ بنا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنی تشکیل کے 20سال تک اس معاملہ پر کچھ نہیں کیا، یہ میرٹ پر بھی کوئی کیس نہیں بنتا ،یہ ایک دستاویزی معاملہ ہے جس کا سارا ریکارڈ ایل ڈی اے کے پاس موجود ہے ۔ 


اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو شکایت کی تصدیق کے مرحلہ پر گرفتار کیا گیا جس میں بد نیتی واضح ہے، میرا موقف ہے کہ عدالت اس سارے معاملے کا نوٹس لے ،ہم یہ نہیں کہتے کہ نیب انکوائری نہ کرے۔

نیب انکوائری کرنا چاہتا ہے تو ضرور کرے مگر درخواست گزار کو نیب کی غیر قانونی جسمانی کسٹڈی سے آزاد کیا جائے کیونکہ نیب نے انھیں یرغمال بنا رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کی اپنی رپورٹ بڑی دلچسپ ہے نیب کہتا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن الاٹی ہیں حالانکہ میر شکیل الرحمن الاٹی نہیں ہیں، انہوں نے تو حاکم علی وغیرہ سے اراضی خریدی ،الاٹی حاکم علی وغیرہ تھے،میر شکیل الرحمٰن کو پلاٹ الاٹمنٹ میں دی گئی رعایت کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی امر نہیں ہے،یہ پرائیویٹ سول ٹرانزیکشن تھی۔ 

اعتزاز احسن نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن جو خود سوال نامہ تیار کرکے لے کر گئے تھے نیب نے وہ بھی ان سے رکھ لیا ،اگر نیب وہ سوال نامہ بھی عدالت میں پیش کردے تو کیس ہی ختم ہو جاتا ہے۔ 

درخواست گزار کی 33کنال اراضی پہلے ہی برلب نہرپر موجود تھی باقی 21کنال اس کے ساتھ مل گئی جو غیر قانونی نہیں، ویسے بھی یہ معاملہ اب چیلنج نہیں ہو سکتا کیونکہ اس پر اعتراضات اٹھانے کی قانونی مدت بھی ختم ہو چکی ہے، اس معاملہ پر تو سول دعویٰ تک دائر نہیں کیا جا سکتا۔ 

انہوں نے کہا کہ نیب خود کہتا ہے کہ یہ کیس مزید تحقیقات کا متقاضی ہے تو نیب تحقیقات ضرور کرے ہم تعاون کریں گے مگر درخواست گزار کو پہلے غیر قانونی حراست سے رہا کیا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ پہلا معاملہ ہے جہاں شکایت کی تصدیق سے پہلے ہی گرفتار کرلیا گیا، درخواست گزار کو دفاع کا موقع تک نہیں دیا گیا، عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ غیر قانونی طریقہ سے ہونے والی گرفتاری اور ریمانڈ کو کالعدم قرار دے دے ،اس سلسلہ میں اعتزاز احسن نے ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی نظیریں بھی پیش کیں۔ 


انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن پلاٹوں کےالاٹی نہیں ہیں، اصل مالکان ایگزمپشن پر زمین حاصل کرتے ہیں حاکم علی، ہدایت علی سمیت 7 بہن بھائیوں کو زمین الاٹ کی گئی تھی، نیب نے شکیل الرحمٰن کو گرفتار کرتے ہوئے 2019ء کی بزنس مین پالیسی کی خلاف ورزی کی۔

احتساب عدالت کے جج نے جسمانی ریمانڈ کے تحریری حکم میں ریمانڈ کی وجوہات بھی بیان نہیں کیں، نیب کا طے شدہ منصوبہ تھا کہ میر شکیل الرحمن کو گرفتار کر لیا جائے۔ 

عدالت نے استفسار کیا کہ زمین ایکوائر کرنے کا ایوارڈ کب ہوا؟نیب کے وکیل نے کہا کہ1986ء کو محمد علی کے نام پر ایوارڈ جاری ہوا۔اعتزاز احسن نے کہا کہ بغیر اعتراض کے زمین الاٹمنٹ کے ایوارڈ میں ترمیم کی گئی۔

انہوں نے استدعا کی کہ میر شکیل الرحمٰن کو 12 مارچ کو گرفتار کرنے کا اقدام نیب کے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دے کالعدم کیا جائے،احتساب عدالت کا میر شکیل الرحمن کا جسمانی ریمانڈ دینے حکم غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور ضمانت پر رہا کیا جائے ۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کی نیب میں گرفتاری اور حراست کو غیر قانونی قرار دے کر ملزم کو مقدمہ ختم کیا جائے ،میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کو نیب پالیسی 2019ء سے متصادم اور نیب کے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیاجائے۔ 

انہوں نے عدالت سے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن بڑی عمر کے ہیں اس لئے ضمانت پر رہا کیا جائے۔ اعتزاز احسن کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کر دی اورآئندہ سماعت 7 اپریل کو نیب پراسیکیوٹر کو دلائل دینے کی ہدایت کی۔ 

نیب نے جنگ جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کی درخواست کی مخالفت کر دی ۔ نیب نے میر شکیل الرحمٰن کی اہلیہ کی درخواست پر نیب نے لاہور ہائیکورٹ میں جواب جمع کرا دیا۔

7 صفحات پر مشتمل جواب کے مطابق چیئر مین نیب نے قانون کے مطابق میر شکیل الرحمٰن ، نواز شریف اور ایل ڈی اے کے متعلقہ افسران کے خلاف انکوائری کی منظوری دی۔ 

قانون کےمطابق میر شکیل الرحمٰن کے وارنٹ جاری کرکے انکی گرفتاری عمل میں لائی گئی، میر شکیل الرحمٰن کی اہلیہ کی لاہور ہائیکورٹ میں درخواست قانونی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔

نیب نے میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے بعد قانون کےمطابق ان کا جسمانی ریمانڈ لیا، میر شکیل الرحمٰن اپنے جوابات سے نیب کو مطمئن نہیں کر سکے تھے، میر شکیل الرحمٰن نے نیب کو مطلوبہ ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا۔

میر شکیل الرحمٰن نے غیر قانونی طور پر زمین الاٹ کروائی، نیب نے اختیارات کا بالکل ناجائز استعمال نہیں کیا لہٰذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کی رہائی سے متعلق درخواست خارج کرے۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ جوہر ٹاؤن میں اراضی کی الاٹمنٹ میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی، 180 کنال زمین میں سے 126 کنال زمین ایل ڈی اے نے لے لی، ایل ڈی اے رول کے مطابق 15 کنال زمین ایگَزمپٹڈ مل سکتی ہے۔

نیب کا یہ الزام ہے کہ نہر پر انہیں پلاٹ کیوں دیے گئے،میر شکیل الرحمٰن کے پاس پہلے ہی 33کنال نہر پر ملکیتی اراضی تھی جو اضافی اراضی ملی وہ ساتھ لگا دی گئی، انہیں کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ 


اعتزاز احسن نے کہا کہ نیب نے میر شکیل الرحمٰن کو نوٹس دے کر دستاویزات سمیت 5مارچ کو پیش ہوئے کا حکم دیا اور نوٹس 3مارچ کو ملا، یہ میر شکیل الرحمٰن کی دیانتداری تھی کہ وہ قبل از گرفتاری ضمانت کا حق رکھنے کے باوجود تمام تر ثبوتوں کے ساتھ نیب میں پیش ہوگئے،انہیں یہ تصور بھی نہیں تھا کہ ان کے معاملہ میں کوئی پیچیدگی ہو سکتی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ انھیں خو نوٹس بھیجا گیا وہ ڈپٹی ڈائریکٹر ویری فیکیشن کی طرف سے تھا جس کا مطلب ہے کہ یہ دیکھنا تھا کہ شکایت درست بھی ہے یا نہیں میر شکیل الرحمن نے نیب سے سوال نامہ مانگا مگر نہیں دیا گیا۔

اس کے بعد دوبارہ 12مارچ کا طلب کیا گیا تو میر شکیل الرحمٰن پھر تمام ثبوتوں کے ساتھ پیش ہو گئے اور اپنے ساتھ خود تیار کردہ سوال نامہ بھی لے گئے مگر نیب نے ان سے تمام دستاویز بریف کیس اور لیپ ٹاپ رکھ لیا، تفتیشی افسر بڑی تعظیم سے بات کرتے رہے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ گرفتار کر نا ہے۔ 

اعتزاز احسن نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کو اس موقع پر گرفتار کر لیا گیا کیونکہ وارنٹ گرفتاری پہلے ہی جاری ہو چکے تھے۔ 

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیئرمین نیب نے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے اپنا مائینڈ اپلائی نہیں کیا، ایک شخص گھر میں یہ بتا کر جائے کہ وہ نیب کے سوالوں کے جواب دے کر آتا ہے مگر اسے وہاں گرفتار کرکے بٹھا لیا جائے تو بڑی عجیب بات ہے کیونکہ میر شکیل الرحمٰن تو بے گناہ تھے اور وہ تمام ثبوتوں کے ساتھ نیب گئے تھے۔

گرفتاری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا مگر انھیں اچانک گرفتار کر لیا گیا جو نیب کے اپنے ایس او پیز کی بھی خلاف ورزی ہے ۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ نیب نے میر شکیل الرحمٰن کو تو شکایت کے تصدیقی مرحلہ پر گرفتار کیا اور ایسے حکم پر جس میں چیئرمین نے مائنڈ اپلائی نہیں کیا اور اعلٰی عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں کہ جو فیصلے مائنڈ اپلائی کئے بغیر ہوں، ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی اور انہیں کالعدم قرار دیا جانا چاہئے۔

اہم خبریں سے مزید