آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رمضان المبارک 1442ھ 16؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وہ شاہوں کے محلّات تک پہنچا۔اس نے غریبوں کی بستیوں میں ڈیرے جمائے۔اقتدارکے ایوانوںتک رسائی حاصل کی۔اُمرا کی پرتعیّش رہایش گاہوں میں داخل ہوگیا۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے طیارہ بردارجہاز تک میں اس نے نقب لگالی،حالاں کہ اس کے اوپر سے گزرنے والے کسی پرندے تک کی اسکریننگ ہوتی رہتی ہے اور کسی کشتی یا جہاز کو اس کے قریب سے گزرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔دوسری جانب حکم رانوں اور وزرا کے ان دفاتر اور رہایش گاہوں تک میں جا گھسا جہاںداخل ہونے والی ہر شئے اور جان دار کی کڑی جانچ ،پڑتال کی جاتی ہے۔دنیا کا طاقت ور ترین ملک بھی اس کی تبا ہ کن پیش رفت روکنے میںناکام نظر آرہا ہے ۔ 

دنیا کے بہت اعلی تعلیم و تربیت یافتہ طبیب ذرایع ابلاغ کو انٹرویودینےکے دوران یہ بتاتے ہوئے آب دیدہ ہو جاتے ہیں کہ کس طرح وہ اپنے سامنے لوگوں کو مرتا ہوا دیکھ رہے ،لیکن وہ کچھ نہیں کر پارہے۔وہ بار باریہ یاد دلاتے ہیں کہ یہ سب کچھ اس ملک میں ہورہا ہے جو دنیا میں سب سے طاقت ور سمجھا جاتاہے،جس کے پاس دنیا کا سب سے جدید اسلحہ،طیّارے،میزائل ،توپ ، تفنگ ، وغیرہ ہیں۔وہ ملک جوزندگی کے ہر شعبے میںتمام ممالک سے بہت آگے ہے،جس کی معیشت سب سے مضبوط تصور کی جاتی ہے اورجس کا سکّہ پوری دنیا پر چلتا ہے ۔ایسا وہاں ہورہا ہے۔وہاں اربوں کھربوں کا اسلحہ موجود ہے،لیکن اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کم پڑگئے ہیں،ماسک کی قلت ہوگئی ہے،تمام تر کوششوں اوردعووں کے باوجود تادمِ تحریر اس عفریت کے خلاف کوئی ویکسین یا دوا تیار نہیں کی جاسکی ہے۔حالاں کہ تادمِ تحریر دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بارہ لاکھ چھہتّر ہزارسے بڑھ چکی ہے اورانہتّر ہزار سے زاید افراد اس کی وجہ سے جان کی بازی ہارچکے ہیں۔

طاقت ور ترین ملک کیسا بے بس ہے

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چار اپریل کو وائٹ ہاؤس میں کرونا وائرس ٹاسک فورس کی جانب سے روزانہ دی جانے والی بریفنگ میں امریکی عوام سے کہا:’’کرونا وائرس کی وجہ سے ملک میںبدقسمتی سے بہت اموات ہو رہی ہیں۔ بدقسمتی سے بہت سی اموات ہوں گی‘‘۔

اطلاعات کے مطابق تا دمِ تحریر امریکا میں 9620 اموات ہو چکی ہیں اور کرونا وائرس کے 336851 مریض ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔وہاں 3500 سے زیادہ اموات صرف نیو یارک میں ہوئی ہیں۔یاد رہے کہ امریکا میں ایک دن میں اب تک دنیا میں سب سے زیادہ،یعنی1169 اموات ہوئی ہیں۔نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو نے ریاست میں 113700 کیس سامنے آنے کے بعد مزید وینٹی لیٹرز کے لیے اپیل کی ہے ۔ریاست لوزیانا کے حکام کے مطابق جلد ہی لوزیانا کو بھی وینٹی لیٹرز کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ریاست نیویارک کو چین اور امریکی ریاست اوریگون سے 1100 وینٹی لیٹرز ملنے کی امید ہے۔

امریکا کے ذرایع ابلاغ ،طبیب اور عوام ان دنوں مختلف ذرایع سے دنیا بھر کو یہ بتا اور دکھا رہے ہیں کہ خوف نے کیسے دنیا کی اس سپر پاور کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ کیسے دنیا کا سب سے طاقت ور ملک اس وائرس سے پیدا ہونے والے طبّی مسائل سے الجھا ہوا ہے۔ وہ وائرس جسے چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے محض ایک سیاسی افوا ہ قرار دیا تھا۔ایسا اس ملک میں ہورہا ہے جسے باہر سے دیکھنے والے ہر لحاظ سے محفوظ تصور کرتے ہیں اوروہاں جا کر پرسکون زندگی گزارنے کی خواہش میں وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کو خطرے میں ڈال کر اِدہر کا رخ کرتے ہیں۔لیکن چند ہی دنوں میں یہ ملک بدل چکا ہے۔

ابھی کسی کو یہ معلوم نہیں کہ یہ صورت حال مزید کس قدر بگڑ سکتی ہے اور کب تک حالات ایسے ہی رہیں گے۔وہاں بہت سے افراد خوف زدہ ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کیسے اندرونی طور پر کم زور دکھائی دیتی ہے۔حالاں کہ یہ وہ ملک ہے جو دنیا کے کسی بھی کونے میں کچھ بھی ہو رہا ہو اس پر تبصرہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا اور اس کے رہنما اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہتے۔

امریکہ کے وفاقی تحفظ صحت کے بیماریوں پر قابو پانے اور بچانے والے ادارے (سی ڈی سی) کے سابق ڈائریکٹر ٹام فرائیڈن نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ زیادہ خراب صورت حال میں(جو کہ دکھائی دے رہی ہے) ملک کی نصف آبادی اس وائرس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے اوردس لاکھ سے زاید افراد اس سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔ وہاں صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اب یہ خبریں آرہی ہیں کہ وہاں سے لوگ آبائی وطن واپس جا رہے ہیں ۔ 

دو ماہ پہلے تک چین اس وائرس پر قابو پانے کی تگ ودو میں تھا تاکہ اموات سے بچا جا سکے۔امریکا میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام عاید کیا جاتا ہے کہ یہ وہ وقت تھا جب صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ٹیسٹ کرنے اور بچاو کی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔صدر ٹرمپ نے جنوری میں ڈیوس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقعے پر عالمی ذرایع ابلاغ کو بتایاتھا کہ ہم نے اسے مکمل قابو میں رکھا ہوا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین سے جو اطلاعات آ رہی ہیں، ان کا اس پر مکمل اعتماد ہے۔

نظامِ صحت کا ٹیسٹ

امریکا میں صورت حال تیزی سے بدلی ہے۔ یہ دیکھنا باعث تعجب ہے کہ کیسے امریکامیں ہیلتھ کیئر سے شروع ہونے والی کئی دن کی سیاسی گہما گہمی والی بحث آخر میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ پر ختم ہوئی۔ہیلتھ کیئر ایجنسی (سی ڈی ایس) نے کورونا وائرس سے متعلق اپنا ٹیسٹ کا نظام متعارف کرایا ،لیکن مینوفیکچرنگ کی خامیوں کی وجہ سے ابتدائی ٹیسٹ سے حاصل ہونے والے ابتدائی نتائج بے نتیجہ ہی رہے۔

یعنی ہنگامی حالات میں وہاں بھی خطرناک قسم کی غلطیاں ہوئیں۔تاہم بعد میں حکام کا کہنا تھاکہ یہ معاملات حل کر لیے گئے ہیں۔لیکن وہاں مسئلہ یہ ہے کہ اگر ٹیسٹ کی سہولت دست یاب بھی ہو توبہت سے لوگ اس کے اخراجات برداشت ہی نہیں کر سکتے ہیں ۔ دراصل دنیا کے اس سب سے زیادہ طاقت ور ملک کا صحت کا نظام ایسا ہے کہ اگر آپ کی انشورنس نہیں ہے تو آپ انتہائی خطرے میں ہیں۔

دوسری جانب وہاں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کاٹن سویب، دستانوں اور دیگر آلات کی کمی کی وجہ سے کرونا کے ٹیسٹ مطلوبہ رفتار سے نہیں ہو رہے ہیں ۔ وہاں کے ممتاز صحافی ڈیوڈ ویلاس ویلس نے ’’امریکا اِز بروکن ‘‘کے عنوان سے لکھے گئے اپنے کالم میں میں صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی خوب خبر لی۔ 

انہوں نے لکھا کہ یہ کتنا افسوس ناک ہے کہ ہم ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں کا نظام نجی اداروں اور مخیر افراد کے ہاتھوں یرغمال بن کر رہ گیا ہے، جہاں امریکا میں بھی ضرورت کے اس وقت میں اس وبا سے متعلق ضروری طبی امداد فراہم نہیں کریں گے،ہمارے موجودہ نظام کی خرابی کی اس سے زیادہ بھیانک مثال کیا ہوگی کہ صفِ اول کے طبی اداروں اور انشورنس کمپنیز کو ٹیسٹ کرنے کے لیے فیس معاف کرنے یا مشترکہ ادائیگی پر زبردستی مجبور کرنا پڑا۔

ممتاز امریکی صحافی کارل گبسن نے انشورنس نہیں کرائی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ کورونا وائرس کے دور میں رہنا کتنا خوف ناک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں سڑک پر موٹر سائیکل سے گرنے کے بعد جب میں 2013 میں ڈاکٹر کے پاس گیا تو زیادہ فیس دیکھ کر پھر کبھی کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا۔چار گھنٹے انتظار کرنے کے بعد ڈاکٹر نے میرے بازو پر پٹی باندھی، درد کی دوا لکھی اور مجھے گھر جانے کا مشورہ دیا۔ اتنے سے کام کے لیے مجھے چار ہزار ڈالرز سے بھی زیادہ رقم دینی پڑی تھی۔ میں کوئی اپارٹمنٹ کرائے پر لے سکتا ہوں اور نہ ہی گاڑی خرید سکتا ہوں۔یاد رہے کہ2018تک امریکا میں ایک اندازے کے مطابق 27.5ملین افراد نے (جو کل آبادی کا 8.5 فی صد بنتے ہیں) ہیلتھ انشورنس نہیں کرائی تھی۔

اب عوامی احتجاج کے بعد دباؤ میں آکر امریکی حکومت نے کرونا وائرس کے جلد اور مفت ٹیسٹ کی سہولت کا قانون بنایا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تقریباً پانچ لاکھ بے گھر امریکیوںکے، جو کیمپ، پناہ گاہوں اور گلیوں میں رہتے ہیں، اس وبا کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔

ضروری سازوسامان کی قِلّت

امریکا کے ذرایع ابلاغ کے مطابق اگرچہ وائٹ ہاؤس کے صحن میں کھڑے ہو کر صدر ٹرمپ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ملین کے حساب سے ماسک تیار کیے جارہے ہیں، تاہم زمینی حقایق یک سر مختلف ہیں۔اس ملک سے ایسی افسوس ناک اطلاعات بھی آئی ہیں کہ ریاست سیٹل میں ڈاکٹر پلاسٹک شیٹ سے اپنے لیے ماسک خود تیار کر رہے ہیں۔دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق صحت اور اسپتال سے متعلق ایسوسی ایشن نے کنسٹرکشن کمپنیز، دانتوں اور جانوروں کے ڈاکٹرز سمیت دیگر گروپس سے، جن کے پاس ماسک ہو سکتے ہیں، ماسک عطیہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ایک ایمرجنسی روم میں ڈاکٹرز کو زایدالمیعاد ماسک دیے گئے،جب انہوں نے یہ ماسک پہننے کی کوشش کی تو ان کی ربر ڈھیلی پڑ گئی۔رپورٹ کے مطابق امریکا میں بہت سے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ا نہیں صرف ایک ہی ماسک دیا جا رہا ہے جسے وہ لامتناہی وقت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔وہ اسے صاف کر کے دوبارہ استعمال کر رہے ہیں۔اور یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ کتنا موثر ہو سکتا ہے۔شگاگو میں واقع ایک میڈیکل سینٹر میں عملے نے ’’واش ایبل لیب گوگلز‘‘ استعمال کرنے شروع کر دیے ہیں۔بروکلن کے ایک ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ماسک کی سپلائی کم ہونے کی وجہ سے وہ ایک ہفتے تک ایک ہی ماسک استعمال کرتے رہے۔

اسی طرح اس بہت زیادہ ترقی یافتہ ملک سے غیر معمولی قسم کی خبریں آرہی ہیں۔یہاں تک کہ امریکی محکمہ صحت (سی ڈی ایس) نے یہ اعلان کرنے کی بھی کوشش کی کہ ماسک کی کمی کی وجہ سے اگر ضروری ہو تو منہ کو ڈھانپنے کے لیے کپڑا اور اسکارف استعمال کیا جائے۔ سی ڈی ایس کے مطابق جہاں ماسک دست یاب نہ ہوں وہاں آخری حل کے طور پر گھر میں بنائے گئے ماسک بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں تاکہ کووڈ19کے متاثرہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کی جا سکے۔ہیلتھ کیئر کے محکمے میں کام کرنے والے افراد اس صورت حال پر سخت غصے میں ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ سی ڈی ایس کے یہ اقدامات انہیں اور ان کے خاندانوں کو خطرے میں ڈال دیں گے۔

کرونا سے زیادہ متاثرہ مریض جب سانس لینے میں تکلیف محسوس کرتا ہے تو ایسے میں وینٹی لیٹرزبہت ضروری ہو جاتے ہیں۔ امریکا کے پاس اس وقت ایک لاکھ ساٹھ ہزار وینٹی لیٹرز ہیں جن میں سے نواسی ہزارابھی اسٹاک میں رکھے ہوئے ہیں۔لیکن وہاں جو صورت حال پیدا ہوچکی ہے اس میں اس سے بہت زیادہ وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہے۔امریکا کے طبّی ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر کرونا کی وبا 1918 کی فلو کی وبا کی طرح ہوتی تو اس کے لیے 9.6 ملین افراد کواسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت پڑتی اور2.9ملین افرادکو آئی سی یو کی ضرورت پڑتی۔یاد رہے کہ 1968 کی وبا سے اموات کی تعداد ایک ملین سے زاید بنتی ہے جس میں تقریباً ایک لاکھ امریکی بھی شامل تھے۔ 1918 میں فلو سے 500 ملین افراد متاثر ہوئے تھے جو دنیا کی کل آبادی کا ایک تہائی بنتا ہے۔ اس وبا سے 50 ملین افراد ہلاک ہوئے، جن میں 675000 امریکی تھے۔

امریکامیںاسپتال سےمتعلق ایسوسی ایشن کےمطابق ملک بھر کے اسپتالوں میںموجود اور مطلوبہ بستروں کی تعداد میں بڑا فرق ہے۔اب یہ کمی پوری کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔وہاں ایک ہزار افراد کے لیے تقریباً 2.8 بستر دست یاب ہیں۔ اتنے ہی افراد کے لیے جنوبی کوریا کے پاس بارہ سے زایداور چین میں ایک ہزار افراد کے لیے4.3بستر دست یاب ہیں۔اس ملک میں اکثر پیشگی تیاریوں کی خبریں سننے کو ملتی ہیں،لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنے شدید بحران کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے عوام کا اعتماد بحال کرنے کی غرض سے صحت کے شعبے کے لیے ایک ٹریلین ڈالرز سے زاید مختص کیے ہیں۔حالاں کہ یہ کام پہلے بھی کیا جاسکتا تھا۔

اٹلی کے اتنے بُرے حال کی وجہ

وہاں شعبہ صحت پر سرکاری اخراجات میں سال ہا سال سے کٹوتی ہو رہی ہے اور اب یہ جی ڈی پی کے 6.5 فی صد تک پہنچ چکا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس سطح سے نیچے ایک ریاست صحت کے بنیادی حق کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ درحقیقت، سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایک اعشاریہ ایک کروڑ اطالویوں کے لیے یہ حق سرے سے موجود ہی نہیں۔ 2009 سے2017ء کے دوران وہاںشعبہ صحت میں5.2فی صد اسٹاف برخاست کر دیا گیا۔ 

یعنی 46ہزار 500 ملازمین۔ پچھلے دس برسوں میں70ہزار بستر ختم کر دیے گئے ہیں۔اس وبا میں کلیدی اہمیت کے میڈیکل یونٹس میں 1980ء میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے 922 بستر موجود تھے،لیکن اب یہ تعداد 262 پر آگئی ہے۔انتہائی نگہداشت کے یونٹس (ICUs) میںچھ کروڑ کی آبادی کے لیےپانچ ہزار نوّےبستر موجود ہیں (اعدادوشمار،وزارتِ صحت 2017 )۔ یعنی ہرایک لاکھ افراد کے لیے 8.92 بستر۔ ان میں سےپچاس فی صد بستر وںپر عام طورپرمریض موجود ہوتے ہیں اور یہ شرح اکثر زیادہ بھی ہوتی ہے۔ وہاںاسپتالوں میں محض667وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔

اس وبا سے پہلے،چند برسوں میں ICUs کے سربراہان بارہا رپورٹ کر چکے ہیں کہ فلو کا معمولی ترین مسئلہ بھی ان یونٹس کو بھر دیتا ہے۔دس مارچ کو ان ICUs میں 877 افراد کو صرف کرونا وائرس کی وجہ سے داخل کیا گیا تھا۔ لومبارڈیا میں یونٹس پہلے ہی بھر چکے تھے اور بار بار مریضوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے کی فریاد کی جا رہی تھی۔ اورابھی تووبا اپنی انتہاکو پہنچی بھی نہیں تھی۔پھر جب ایسا ہوا تو انتہائی بھیانک نتائج سامنے آنے لگے۔

ان کٹوتیوں کے موجودہ صورت حال جیسی کسی ہنگامی حالت میں کیا اثرات مرتب ہوں گے،نہ صرف اس کی پیش بینی کی جا چکی تھی بلکہ اس کا باریک بینی سے جائزہ بھی لیا جا چکا تھا۔ جانز ہاپکِنز یونیورسٹی کی ایک تحقیق نے گلوبل ہیلتھ سیکیورٹی انڈیکس میں اٹلی کوسو میں سے چھپّن ویں نمبرپر رکھا تھا۔ اور ایک ’’تیز تر وبا میں ردِ عمل اور تخفیف‘‘ کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے سو میں سے 47.5 نمبردیے تھے۔ آج وہاںیہ اعدادوشمار انسانی جانوں میں اپنا اظہار کر رہے ہیں۔

صحت کے شعبے پر کم خرچ

اگرچہ صحت کے شعبے پر عالمی سطح پرسرکاری اور غیر سرکاری فی کس سالانہ اخراجات میں بہت اضافہ ہوا ہے ، لیکن عالمی ادارہ صحت کے ایک جائزے کے مطابق اس میں حکومت (پبلک سیکٹر) کا حصہ بہ تدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔ زیادہ ترافراد کو اپنی جیب سے اپنی صحت اور علاج معالجے پر پیسے خرچ کرنےپڑتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کرونا وائرس جیسی تیزی سے پھیلنے والی وبا کا مو?ثر مقابلہ کرنے کے لیے جس قسم کے انفرااسٹرکچر، یعنی اسپتالوں، طبیبوں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ضروری سازو سامان کی، اورجس تعداد میں ضرورت ہے،وہ دست یاب نہیں ہے۔ 

یہاں تک کہ امریکا، جہاں صحت پر فی کس سالانہ خرچ8362ڈالرز ہے،میں بھی ماہرین نےمتنبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس جس تیزی سےپھیل رہا ہے اس کے پیشِ نظر خطرہ ہے کہ تین چار ماہ میں امریکا کی تقریباً ساٹھ فی صد آ?بادی متاثر ہو گی اور اس صورت میں امریکا کا موجودہ ہیلتھ انفرااسٹرکچر جواب دے سکتا ہے۔

اٹلی کے بارے میں یہ سوال سنجیدہ بحث کا موضوع ہے کہ آ?خر کار وہاںاس صورت حال کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں ۔بہت سےافراد اس بات پر متفق ہیں کہ ان میںسے ایک اٹلی کا ناکافی اور پْرانا ہیلتھ انفرا اسٹرکچر ہے، جو دبائو پڑنے پر صورت حال کو قابو میں نہیں رکھ سکا۔ برطانیہ میں اپوزیشن لیڈر جیریمی کوربن نے وزیر اعظم بورس جانسن کی قدامت پسند حکومت پر الزام لگایا ہے کہ ان کی پارٹی کے مختلف ادوارِ حکومت میں صحت کے لیے پبلک سیکٹر فنڈنگ میں جو بہ تدریج کمی کی جاتی رہی، وہ برطانیہ میں کورونا وائرس کے بے قابو ہونے کی ایک وجہ ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ اگرترقی یافتہ ممالک، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کی کل آبادی کا صرف 18 فی صد ہونے کے باوجود صحت پرہونے والے کل عالمی اخراجات (6.5 ٹریلین ڈالرز) کااسّی فی صدخرچ کرتے ہیں، ان کی یہ حالت ہے تو پاکستان جیسے غریب اور پس ماندہ ملک میں یہ مسئلہ کتنی سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رائے ہے کہ کرونا وائرس جیسی وباؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے مغربی ممالک بنیادی انفرااسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔اگرچہ دنیا صحت کی طرف زیادہ توجہ دے رہی ہے اور اس شعبے پر پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کی طرف سے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے،مگر پاکستان میں قومی بجٹ میں صحت کے لیے مختص رقم میں بہ تدریج کمی ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد کونجی اسپتالوں اور معالجوں پر انحصار کرنا پڑ تا ہے۔

دنیا بھر میں صحت کے شعبے میںدہائیوں سے ہونے والی کٹوتیوں کی وجہ سے بیماری کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات متاثر ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اٹلی اور برطانیہ میں گزشتہ سالوں میںاس شعبے میں تنزلی آئی ہے۔ یہی صورت حال باقی مغربی دنیا کی بھی ہے۔ اٹلی میں اکثر ہیلتھ ورکرز کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ کس کا علاج کریں اور کس کا نہ کریں،کیوں کہ ان کے پاس محدود سہولتیں ہیں ۔لہذا وہاںبہت سے لوگ محدود وسائل کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھورہے ہیںجن میں زیادہ تر بزرگ افراد ہیں۔جوں جوں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، صحت عامہ کا نظام جواب دیتا جا رہا ہے۔ اس سے لاکھوں لوگ اپنی مدد آپ پر مجبور ہوں گے۔

امیر لوگوں کو ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ایران میں بہت سے وزیروں اوراراکینِ پارلیمان کو بیمار ہونے کے بعد فوری بہترین علاج مہیا کیا گیا اور اب وہ صحت یاب ہو رہے ہیںاور دوسری جانب ہزاروں عام مریضوں کو ٹیسٹ کرانے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔وہاںیہ ایک الم ناک واقعہ بھی ہوا کہ یک نرس کے ٹیسٹ کا نتیجہ اس کی موت کے ایک ہفتے بعد آیا۔

سنگاپور میں تمام شہریوں کو ماسک اور دیگر حفاظتی سامان مہیا کیا گیا۔ چین میں فوری طور پر حالات سے نمٹنے کے لیے نئےاسپتال بنائے گئے اور ہزاروں لوگوں کے ٹیسٹ کیے گئے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جن میں کوئی علامات موجود نہیں تھیں۔ برطانیہ میں حکومت ایسے کوئی اقدامات اٹھاتی نظر نہیں آرہی۔ ٹیسٹنگ نہیں ہو پا رہی۔یہاں تک کہ شمالی اٹلی سے آنے والوں اور علامات رکھنے والوں کا بھی ٹیسٹ نہیں کیا جا رہا۔خاص طور پر امریکاکا صحت کا شعبہ آنے والے حالات کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔

سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ لاکھوں امریکی ہیلتھ انشورنس سے محروم ہیں جنہیں خوف ناک حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت لوگوں کو عارضی انشورنس فراہم کر دے۔ مگر اس سے بھی مسائل حل نہیں ہوں گے، کیوں کہ امریکاکا شعبہ صحت صرف ایک کام کےلیےہے اور وہ کام بڑی بڑی میڈیکل اور فارماسیوٹیکل کمپنیز کی جیبیں بھرناہے۔یہ اس قسم کے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

ناقدین کہتے ہیں کہ چندہفتوں میں کوئی تیاری نہیں کی گئی۔ اسپتالوں کے پاس کوئی منصوبہ نہیں، ٹریننگ بھی نہیں ہوئی اور سازوسامان بھی محدود ہے۔ امریکی سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول نے جرمنی میں بننے والی کرونا وائرس کی ٹیسٹنگ کی کٹس استعمال کرنے سے انکار کر کے اپنی کٹ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور وقت بھی ضائع ہوا۔ 

لہٰذاچھ مارچ تک جہاں جنوبی کوریا میں ایک لاکھ چالیس ہزار مریضوں کا ٹیسٹ کر لیا گیا تھا، وہاںامریکا میں محض دو ہزار افراد کا ٹیسٹ ہو پایا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس بات کا اندازہ ہی نہ ہو سکا کہ مریضوں کی حقیقی تعداد کتنی ہے۔ عام لوگوں کو صحت اور معیشت کے بحران سے بچانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ لیکن بحران کے بڑھتے ہی امریکی سینٹرل ریزرو نے بڑے سرمایہ داروں کو بچانے کے لیے منڈی میں پندرہ کھرب ڈالرز پھینک دیے۔

وبا کی صورت میں کسی بھی ملک میں صحت کی دست یاب سہولتیں پہلا ڈیفنس ثابت ہوتی ہیں۔ پاکستان میں صحت کی سہولتیں یا ہیلتھ انفرا اسٹرکچر کسی بھی طرح اس وبا سے نمنٹنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اقوامِ متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیائی اور پیسیفک ممالک کی جانب سے نومبر 2018 میں جاری کردہ رپورٹ ’’سوشل آ?ؤٹ لُک فار ایشیا اینڈ دا پیسفک 2018‘‘کے مطابق اقوامِ متحدہ نے پاکستان کو ایشیا پیسیفک کے ممالک کی اس فہرست میں شامل کرلیاہے جو سماجی بہبود، تعلیم اور صحت عامہ پر سب سے کم رقم خرچ کرتے ہیں۔

حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ دنیا میں تیرہ ہزار آٹھ سو نوّے جوہری ہتھیار توموجود ہیں،لیکن ایک لاکھ افراد کے لیے بہ مشکل ایک وینٹی لیٹردست یاب ہے۔ حالاں کہ اس وقت ایک وینٹی لیٹر کی قیمت محض سات ہزار ڈالرز ہے۔

 نئے انداز سے سوچنے کی ضروت

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مصدقہ متاثرین اور اس سے ہونے والی اموات کی تعداد روز بہ روز تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ادہر امریکا میں ایک دن میں اب تک دنیا میں سب سے زیادہ 1169 اموات ہوئی ہیں۔امریکا میں بے روزگاری کی وجہ سے تقریباً ایک کروڑ افراد نے حکومت سے امداد کی درخواست کی ہے۔دوسری جانب عالمی بینک نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے پیش نظر معاشی مشکلات کو ٹالنا ممکن نہیں ہے اورایشیا کے کئی ممالک سمیت دنیا بھر میں دو کروڑچالیس لاکھ افراد غربت سے نجات حاصل نہیں کر پائیں گے۔

ایسے میں یہ سوال سر اٹھاتا ہے کہ کیا آج پوری دنیا کے فیصلہ سازوں کو بالکل نئے انداز سے سوچنے،فیصلہ کرنے اور نئی ترجیحات کا تعیّن کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟کیا وہ وقت نہیں آن پہنچا ہے جب ہتھیاروں پر بے تحاشا اخراجات کرنے کے بجائے ہر ملک اپنے ہاں غربت ختم کرنے اور صحتِ عامہ کا نظام بہتر سے بہتر بنانے پر توجہ دے؟

اسٹاک ہوم کے بین الاقوامی ادارہ برائے امن کی تحقیق کے مطابق 2017میں دنیا بھرمیں فوج پر ہونے والے اخراجات ایک ہزار سات سو انتالیس بلین ڈالرز تھے جس میں سے صرف امریکا نےچھ سو دس بلین ڈالرز خرچ کیے تھے۔ اس میں دل چسپ بات یہ ہے کہ 2017یا اس سے تھوڑا پہلے اس رقم کا زیادہ ترحصہ تیسری دنیا کے ممالک میں خرچ ہوا جس میں خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور بھارت شامل ہیں۔ جنگ پر فی کس آنے والا خرچ 230ڈالر زہے۔ یہ 230ڈالرز کا خرچ جو دنیاکے ہر شخص کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے اس سے تیسری دنیا کے ہر شخص کو صحت کی انشورنس، ٹرانسپورٹیشن اور تعلیم کی سہولت مہیا کی جا سکتی ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں فوج پر ہونے والے اخراجات بڑھ رہے ہیں جب کہ یورپ اور اٹلانٹک کےممالک کے فوجی اخراجات میں کمی آ رہی ہے ۔

دوسری طرف دل چسپ بات یہ ہے کہ جنگی سازوسامان کی تیّاری پہلی دنیا کے ممالک میں ہو رہی ہے اور وہ اپنے جنگی سازو سامان کی فروخت کے لیے تیسری دنیا کے ممالک کو ہمیشہ سے استعمال کرتے آئے اور ان میں مسائل پیدا کرتے رہے ہیں۔ 2018میں دنیا بھر میں فوج پر ہونے والے اخراجات ایک ہزارآٹھ سو بائیس بلین ڈالرزتھےجس میں چین، بھارت، سعودی عرب، امریکا اور فرانس مجموعی طورپر اس کا ساٹھ فی صد خرچ کرتے ہیں۔ بھارت اس مد میں 66.5بلین ڈالرز اور پاکستان 11.4بلین ڈالرز خرچ کرتا ہے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی2019میں شایع ہونے والی سالانہ رپورٹ کے مطابق2018میں دنیا بھر میں ہتھیاروں پر جو رقم خرچ کی گئی وہ دنیا کے تمام ممالک کی مجموعی پیداوار (GDP) کااکّیس فی صدہے۔ سب سے زیادہ رقم (649 بلین ڈالرز) امریکا نے خرچ کی تھی جو باقی تمام ممالک کے جنگی اخراجات کا 36 فی صد ہے۔ دوسرا نمبر چین کا ہے، جس نے 250بلین ڈالرز مالیت کے ہتھیار تیار کیے۔ 

وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے ممالک، جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں، نے اْس برس اسلحے کی تیاری و خریداری پر85بلین ڈالرز خرچ کیےجو دنیا کے اسلحے پر مجموعی اخراجات کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ اس کے باوجود ان ممالک کی اقتصادی صورت حال اور مجموعی قومی آ?مدنی کے تناظر میں یہ خاصی بڑی رقم محسوس ہوتی ہے۔