آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ذیقعد 1441ھ4؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دُکھ، تکلیف، پریشانی، مصیبت اور آزمائش کی گھڑی میں ہم دُعا مانگتے ہیں ۔ ہم خالقِ کائنات کے آگے سربسجود ہو جاتے ہیں اور ہماری اُمید بھری نظریں نوجوانوں کی طرف اُٹھ جاتی ہیں کیونکہ نوجوان ہماری اُمید، ہماری آس، ہمارا مستقبل ہوتے ہیں لیکن یہ آنکھیں ایک تصویر دیکھ کر جھک گئیں۔ لاک ڈائون کے دوران گورنمنٹ کے اعلان کے باوجود تفریحاً گھر سے نکلنےوالے درجنوں نوجوان پولیس کے سامنے قطار میں مرغا بنے نظر آ رہے ہیں…! کاش کہ یہ قطار مہذب دُنیا کے لوگوں جیسی قطار ہوتی۔ 

جس میں وہ لوگ تحمل کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، مگر یہ تو سزا میں مرغا بنے جوان ہیں۔ اگر جانور ہی بننا منظور ہے تو اس کی بھی گنجائش موجود ہے۔ اقبال کے شاہین کی طرح اُونچی پرواز سیکھو، گھوڑے جیسی طاقت حاصل کرو، چیتے جیسی پھرتی سیکھو یا پھر کوّے جیسی عقلمندی حاصل کرو۔ مگر خدا کے واسطے سزا کے طور پر مرغا نہ بنو…!

میرے دوستو! میرے ساتھیو! قانون کی پاسداری کا حکم تو ہمارا دین بھی دیتا ہے اور دُنیا کا ہر مذہب سکھاتا ہے۔ میرے قائد نے بھی تنظیم، یقین اور اتحاد کا سبق دیا ہے۔

یہ بہار کا موسم ہے۔ جب درختوں پر نئے شگوفے پھوٹ پڑتے ہیں۔ پودے پُھولوں سے ڈھک جاتے ہیں، کوئل کوکنے لگتی ہے، پرندے چہچہاتےہیں، تتلیاں رنگین پروں کو پھیلانے لگتی ہیں اور ہم گہری سانس کے ساتھ فطرت کی خوشبو اور خُوبصورتی کو اپنے اندر اُتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دُنیا خودبخود خُوبصورت نظر آنے لگتی ہے، مگر اس بار عجب موسمِ بہار ہے جس میں خوف کا رنگ پھیلا ہوا ہے ہم اپنی سانسوں سے خوف کھا رہے ہیں، ڈر کے مارے گھروں میں دُبکے بیٹھے ہیں، دوستوں، عزیزوں سب سے ملنے سے گھبرا رہے ہیں۔ ہاتھ ملانے سے گریزاں بھی ہیں۔ گھر سے باہر قدم رکھنے پر سہمے جا رہے ہیں۔ یہ وقت اللہ پاک سے دُعا مانگنے اور رحمت، رحم اور فضل طلب کرنے کا وقت ہے۔ اپنی سوچ اور شخصیت کو نئے سانچے میں ڈھالنے کا وقت ہے۔ سمجھ جائیں اور یقین رکھیں، دُکھ اور تکلیف کے پیچھے کوئی حکمت، کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے۔

جب چیزیں تیز رفتاری سے بے ترتیب ہو جاتی ہیں تو سمجھ جانا چاہئے کہ خالقِ کائنات اب ترتیب دُرست کرنے والا ہے اور وہ کر رہا ہے۔

پوری دُنیا اس وقت کورونا وائرس کی وجہ سے حالتِ جنگ میں ہے۔ COVID-19 کی وبا نے ترقّی یافتہ ممالک کو بھی نہیں چھوڑا۔ انگلینڈ کے وزیراعظم بورس جانسن، شہزادہ چارلس، کینیڈین فرسٹ لیڈی، وزیر، مشیر اور عام انسان سب ہی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ بڑے بڑے ترقّی یافتہ ملکوں میں حالات قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔

سائنسدان چُپ ہیں، طبیعادان پریشان اور کیمیادان خاموش۔ اس وبا کا کوئی علاج فی الحال موجود نہیں صرف احتیاط، احتیاط اور احتیاط…! خود بچیں اور دُوسروں کو بچائیں۔ اپنے اپنے گھروں میں بند رہیں، اپنے ہاتھوں کو صابن سے 20 سیکنڈ تک اچھی طرح دھوئیں، سماجی فاصلہ رکھیں، چہرے اور آنکھوں کو نہ چھوئیں، کھانستے اور چھینکتے ہوئے مُنہ کو ڈھانپ لیں، بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں، ہجوم والی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں۔ بڑے بڑے ترقّی یافتہ ممالک پریشان ہیں اور وہاں لاک ڈائون ہو چکا ہے۔ لیکن ہم تو قرضوں میں جکڑے ہوئے ایک ایسے ملک کے باشندے ہیں جہاں صحت کی سہولیات پہلے ہی ناکافی ہیں اور یہ وائرس ہمارے ملک میں داخل ہو چکا اور ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ 

جنگ بھی ایک نظر نہ آنے والی حقیقت سے۔ ایسے حالات میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنا بہادری نہیں غفلت اور حماقت ہے۔ ہمیں علم ہے کہ ہم ایک کم تعلیم یافتہ ،کم ڈسپلن یا تنظیم والی قوم ہیں۔ بات سمجھ نہ آئے تو پیروی نہیں کرتے لیکن بات سمجھ آ جائے تب بھی فالو (Follow) نہیں کرتے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ قدرت نے ہمیں مضبوط اور منظم لوگوں سے بھی نوازا ہے۔ وہ یقیناً ہمارے بڑے ہمارے اساتذہ، ہمارے رہبر ہیں اور نوجوانوں کو ان ہی سے سیکھنا ہے کیونکہ نوجوانوں میں توانائی اور سیکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔

زندگی کے سفر میں ہزاروں موڑ آتے ہیں کبھی یہ راہیں گلزار ہوتی ہیں اور کبھی راہ میں کانٹے بچھے ہوتے ہیں۔ یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو اپنی عقل، دانش اور حکمتِ عملی سے ان کانٹوں کو چُن کر اپنے اور اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ نوجوانوں کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ پاک پر یقین رکھیں اور مثبت رویہ اپنائیں اپنے آپ کو اپنے عصر سے ہم آہنگ رکھیں اور اس کے تقاضوں کو سمجھیں، منظم ہو جائیں۔ ہمارے سامنے چین کی مثال موجود ہے۔ چینی کورونا وائرس کے خلاف یوں اُٹھ کھڑے ہوئے جیسے قومیں جہاد کیلئے سینہ سپر ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے دِن دیکھا نہ رات اور اس وبا سے مقابلے کا بیڑا اُٹھا لیا اور آخر انہوں نے COVID-19 کو شکست دے دی۔ صرف حکومت اور صحت سے متعلق اداروں کی ہدایات پر عمل کر کے اور ثابت کر دیا کہ وہ ایک منظم اور دلیر قوم ہے۔ ہم بھی کر سکتے ہیں اور ضرور کریں گے۔ انشاء اللہ

نوجوانوں کیلئے آج کل سب سے بڑا مسئلہ ہے ’’لاک ڈائون۔‘‘ وہ اس طبعی قید کی حالت میں کیا کریں؟ اپنا دِن کیسے گزاریں؟ گھر بند، اسکول، کالج، مسجد، ریستوران، گلی کوچے، شہر، گائوں بند، ٹریفک بند، ٹرینیں اور ہوائی جہاز بند، یعنی لاک ڈائون…! سب سے پہلی بات تو یہ کہ اس لاک ڈائون سے پریشان اور مایوس نہ ہوں۔ سوچیں کیا کر سکتے ہیں۔ کیا کرنا چاہتے ہیں یا کرنا چاہتے تھے جو باہر کی مصروفیات کی وجہ سے کر نہ پائے۔ لسٹ بنائیں، عمل کریں۔

بھرپور نیند لیں، بھرپور نیند ہمیں ذہنی سکون پہنچانے کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم میں دُرستگی اور مرمت کا کام بھی کرتی ہے۔

صبح جلد بیدار ہو جائیں، دیکھیں نیا دِن کتنا خُوبصورت ہے۔ عبادت کریں، قرآن پاک کی تلاوت کریں، ترجمہ پڑھیں، غور کریں۔ ہمارا رَبّ دِن میں پانچ بار ہمیں فلاح اور خیر کی طرف بُلاتا ہے۔ حاضر ہو جائیں، خدائے پاک سے اپنے دانستہ اور نادانستہ گناہوں کی معافی طلب کریں۔ ہدایت مانگیں۔ ہمت حوصلہ اور حفاظت مانگیں۔ دیکھیں دِل کو کتنا سکون ملتا ہے۔ یوگا کریں، سانس کی مشقیں کریں، صحت مند اور موازن غذا لیں۔ اس سے ہمارے جسم کا مدافعت کا نظام مضبوط ہوتا ہے۔ پانی کا زیادہ استعمال کریں۔ یہ لاک ڈائون صرف باہر نکلنے پر آپ کو پابند کرتا ہے۔ باقی آپ مکمل طور پر آزاد ہیں۔ دیکھیں سُورج کے نکلنے، ہوا کے چلنے اور پُھولوں کے خوشبو بکھیرنے پر پابندی نہیں ہے۔ 

مثبت سوچ اپنانے پر پابندی نہیں ہے، گھر والوں سے باتیں کرنا، ان کے ساتھ ہنسنا بولنا منع نہیں ہے۔ میوزک بجانے گانا گانے، گانا سُننے پر پابندی نہیں ہے۔ پالتو جانوروں کا خیال رکھنا منع نہیں ہے، کتابیں پڑھنے پر پابندی نہیں ہے۔ لان میں پودوں کی تراش خراش یا انہیں پانی دینا منع نہیں ہے۔ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر رنگوں سے تصویر بنانے پر پابندی نہیں ہے۔ چھت پر جا کر ممنوعہ ڈور کے بجائے عام ڈور سے پتنگ اُڑانے پر پابندی نہیں ہے ہاں کٹی پتنگ کے پیچھے بھاگنا منع ہے۔ انڈور گیمز مثلاً کیرم، شطرنج، اسکریبل اور کچھ نہیں توچیل اُڑی، کوّا اُڑا کھیلنا منع نہیں ہے۔

ویڈیو گیمز، ٹیلی ویژن، نیٹ اور موبائل کا استعمال منع نہیں، مگر سارا دن اس کے استعمال پر پابندی ہے۔ اگر آپ لڑکی ہیں تو یقیناً کچن میں مائوں کا ہاتھ بٹا رہی ہوں گی۔ گھر کی صفائی اور کپڑوں کی دُھلائی بھی کر رہی ہوں گی، کچھ بنیادی سلائی کڑھائی بھی سیکھی جا سکتی ہے۔ یہ تبدیلی کا زمانہ ہے۔ چلیں کچھ تبدیلی لائیں اور لڑکے گھر کے کاموں میں مائوں کی مدد کریں۔ کچن میں ہاتھ بٹائیں بلکہ ان کی مدد سے کچھ کھانا بنائیں، دیکھیں مشکل مگر کتنا خوش کن کام ہے۔ ہاں کچن کے کیبنٹ بھی صاف کئے جا سکتے ہیں۔ اپنی الماریاں خود سے ترتیب دے لیں۔ 

آج کل کچھ تعلیمی ادارے آن لائن پڑھا رہے ہیں ان میں شامل ہو جائیں۔ اپنے نامکمل اسائنمنٹ مکمل کر لیں، کوشش کر کے نیٹ پر کچھ غیرنصابی شارٹ کورسز ہو رہے ہیں وہ جوائن کر لیں۔ گھر میں چھوٹے بہن بھائیوں کو پڑھائیں ان کے ساتھ کھیلیں، چھوٹی بہنیں ہیں تو ان کے لئے پرانے ڈبّوں سے ’’Doll House‘‘ گڑیا کا گھر بنا دیں۔ نرمی، تحمل اور شائستگی اپنائیں۔ اگر محلے پڑوس میں کوئی تکلیف میں ہو تو اس کی مدد کریں۔ سب سے ضروری بات محبت کریں اپنی ذات سے اپنے گھر والوں سے، اپنے دوست احباب سے، کتنے دوستوں اور رشتہ داروں سے آپ عرصے سے رابطے میں نہیں ہیں۔ انہیں فون کرلیں۔ خیریت دریافت کریں دُعا لیں اور دُعا دیں…!

ساتھ ہی گھر سے باہر نکلنے والوں اور باہر نکل کر کھیلنے والے بچوں کو سمجھائیں کہ اس وقت گھر میں بند رہنا کیوں ضروری ہے اور یہ تھوڑے عرصے کی مشکل ہے۔

مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے

لیکن مرے دِل یہ تو فقط اِک ہی گھڑی ہے

ہمت کرو جینے کو تو اِک عمر پڑی ہے

اس لاک ڈائون کے عرصے میں انشاء اللہ آپ لوگ لاک ڈائون ایکسپرٹ ہو جائیں گے۔ پھر ہم اُمید رکھتے ہیں کہ آپ اس کے بعد معاشرے میں بہت سارے لاک ڈائونز کا اطلاق کریں گے۔

بھوک اور غربت کا لاک ڈاؤن

دُکھ درد اور تکلیف کا لاک ڈاؤن

جہالت اور بیماری کا لاک ڈاؤن

ملاوٹ اور جرائم کا لاک ڈاؤن

ظلم اور زیادتی کا لاک ڈاؤن

بلکہ ہر اس بیماری کا جو میرے ملک، میرے معاشرے، میرے لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے۔ اس مشکل وقت میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اسٹریس سے بچیں، ذہنی دبائو اور پریشانی سے نجات حاصل کریں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ صرف مستند ذرائع سے ملنے والی خبر پر یقین کریں۔ فیملی، فرینڈز اور پڑوسیوں کی مدد بہت ضروری ہے۔ یہ بھی ہمیں ذہنی دبائو سے بچاتی ہے۔ مثبت سوچ اپنائیں کیونکہ آپ جسمانی طور پر صرف گھر میں محصور ہیں، ذہنی طور پر نہیں۔ اُمید یقین اور حوصلہ رکھیں۔

کورونا وائرس ہم سے بہت کچھ لے رہا ہے مگر ساتھ ہی کچھ خاص دے بھی رہا ہے ہمیں اچھا اور منظم انسان بننے کا موقع دے رہا ہے۔ ہمیں ایک دُوسرے کے قریب آنے، مل کر کام کرنے، سیکھنے اور بڑھنے کا موقع… بحیثیت قوم ہمیں بھی اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے، متحد ہو کر اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے COVID-19 سے مقابلے کی ضرورت ہے۔

نوجوانوں کا ذہن تازہ اور زرخیز ہوتا ہے جو نئے خیالات لے کر آتا ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ ہمارے نوجوان سامنے آئیں گے اور دُنیا کو بتلا دیں گے کہ وہ اربوں عام انسانوں کی طرح فقط مرنے کیلئے پیدا نہیں ہوئے بلکہ وہ دُنیا پر اپنے قدموں کے ایسے مستقل نشانات ثبت کریں گے جو اعتماد، مسرت اور خوشحالی کی علامت اور ضمانت ہوں گے۔

ہمیں یقین ہے کہ COVID-19 کی ویکسین بھی بن جائے گی اور علاج بھی دریافت ہو جائے گا۔ ساتھ ہی ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جب یہ خطرہ ٹل جائے گا اور ہم طبعی قید سے نئی سوچ، نئے خوابوں، نئے ارادوں اور جینے کے نئے طریقوں کے ساتھ باہر آئیں گے تو دیکھیں گے کہ ہماری زمین ہماری دھرتی، ہماری ماں کی چادر اوزون کا زخم بھر چکا ہوگا۔ وبا بیماری عذاب اور آزمائش کی گھڑیاں گزر چکی ہوں گی۔ ہماری سوچ اور شخصیت نئے سانچے میں ڈھل چکی ہوگی۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے گا اور ہم زندگی کو نئی ڈگر پر لا کر انسانیت، امن اور خوشحالی کی طرف گامزن ہو جائیں گے۔

خُدا جو خود محبت ہے

وہ کتنی دیر دیکھے گا تڑپتا اپنے مظہر کو

نہیں ویران رکھے گا وہ بازار و مساجد کو

خُدا کو رحم آنا ہے

خُدا کو رحم آئے گا

فقط تم حوصلہ رکھنا

ذرا سا فاصلہ رکھنا

جُھکا کے سر کو سجدے میں

خُدا سے رابطہ رکھنا