آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کولیسٹرول کو مطلوبہ سطح پر رکھنے والی 5 غذائیں

میڈیا نے کچھ کیا ہو یا نہیں ،کم سے کم اتنا تو سب کے ذہن میں بٹھادیا کہ کولسٹرول کی زیادتی انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ اس سے دل کے امراض سمیت دیگر امراض کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ا س کیلئے چکنائی والی یا مرغن غذائوں کے زیادہ استعمال سے اجتناب کرنا چاہئے ،کیونکہ جسم میں کولیسٹرول بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ چکنائی والی اشیا ہی ہوتی ہیں۔لیکن جس طرح بعض غذائوں سے کولیسٹرول بڑھتا ہے اسی طرح قدرت نے ایسی غذائیں بھی انسان کو بخشی ہیں جن سے کولیسٹرول کنٹرول میں، یا کم ہوسکتا ہے۔

کولیسٹرول کی اقسام

کولیسٹرول دوقسم کے ہوتے ہیں۔ ایک اچھا کولیسٹرول ہو تاہے ، جسے High-dnisity lipoprotein (HDL)کہتے ہیں، جوانسانی جسم کیلئے ضروری ہوتا ہے جبکہ ایک لیسٹرول Low-density lipoprotein (LDL)جو انسانی صحت کیلئے اچھا نہیں ہوتا اور اسے چیک کرتے رہنا ضروری ہوتا ہے۔ ایل ڈیل ایل کولیسٹرول خون کی باریک شریانوں(آرٹریز) میں رکاوٹ ڈالتاہے یا انہیں سخت کرتا ہے، جبکہ ایچ ڈی ایل ،ایل ڈی ایل کی رکاوٹ کو دور کرتے ہوئے آرٹریز سے جگر تک لے جا کر باہر نکال دیتاہے۔ ،ایچ ڈی ایل خون نالیوں کو نقصان سے بچاتاہے۔ ایل ڈی ای یعنی غیر صحت بخش کولیسٹرول امراض قلب کے خطرات میں اضافہ کرتاہے۔

غیرصحت بخش کولیسٹرول سے بچنے یا اس کو کنٹرول رکھنے کیلئے جو غذائیں ماہرین تجویز کرتے ہیں ، وہ درج ذیل ہیں؛

دالیں

کئی اسٹڈیز سے پتہ چلا ہے کہ دالیں ، اناج ، مٹر ، چھولے اور پھلیاں کولیسٹرول کم کرنے میں بہت مدد کرتی ہیں۔ کینڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جنرل میں شائع ہونے والی ایک اسٹڈی کے مطابق روزانہ تین چوتھائی کپ دالیں کھانےسے ایل ڈی ایل یعنی برے کولیسٹرو ل میں 5 فیصد تک کمی آتی ہے۔ یہ بہت زیادہ تو نہیں ،لیکن ایک اچھی خاصی کمی ہے۔

دالیں ، اناج ، چھولے وغیرہ کے کئی استعمالات ہیں، یہ روٹی سے لے کر، سموسوں ، اسنیکس اور اسموتھیز تک میں شامل ہوتے ہیں۔سلاد اور سوپ میں بھی ان کا استعمال آپ کو فائدے دے سکتاہے ۔ دالوں اور اناج سے پروٹین حاصل ہوتی ہے اور چکنائیاں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ ایک کپ پکی ہوئی دال میں صرف 230 کیلوریاں ہوتی ہیں۔

کینیڈا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دالوں کا استعمال بلڈ پریشر کو خطرناک حد تک بڑھنے سے روکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دالیں انسانی خون کو صاف کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔سبھی دالیں آئرن کا خزانہ ہیں۔ایک پلیٹ دال روزانہ کھانے سے مطلوبہ خوراک کا37 فیصد آئرن حاصل ہوتاہے۔اور دالوں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمارے پٹھے کو مضبوط بناتی ہے۔

ایواکاڈو

پینسلوینیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک اسٹڈی کے دوران زائد وزن کے شکا ر افراد کو دو گروہوں میں رکھا گیا ۔ دونوں کو وزن کم کرنے والی ڈائٹ پر رکھاگیا لیکن ایک گروہ کو ایواکاڈو سے محروم رکھا گیا۔ جس گروہ کی ڈائٹ میں ایوا کاڈو شامل تھا اس کے LDLمیں 14mg/dLکمی دیکھنے میں آئی ، جبکہ ایواکاڈو کے بغیر ڈائٹ اپنانے والوں کا بُرا کولیسٹرول یعنی ایل ڈیل ایل 8mg/DLکمی تھی۔

جَو

جَو تو ویسے بھی کولیسٹر ول میں کمی کے حوالے سے سپر فوڈ کےطور پر مشہورہے۔ تھائی لینڈ میں کی گئی ایک ریسرچ کے مطابق کولیسٹرول کی زیادتی کاشکار افرا دکو چار ہفتے کیلئے جو کا دلیہ (oatmeal)یا چاول کا دلیہ دیا گیا۔ جن لوگوں نے جو کا دلیہ استعمال کیا ان کےپورے کولیسٹرول میں 5 فیصد جبکہ بُرے کولیسٹرول یعنی LDLمیں 10 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

جَو کے دلیے سےبھرا پیالہ فائبر، آئرن، پروٹین، اور وٹامن بی ون سے بھرپور ہوتاہے اور اس کو غذا میں شامل کرنے کا مطلب ہے کہ آپ کو کولیسٹرول کی وجہ سے ہونے والی دل کی بیماریاں، بلڈ شوگر کی کمی جیسے خطروں کا کم سامنا ہوگا اور آپ کانروس سسٹم بہتر ہوتا چلاجائےگا۔

بادام

جرنل آف نیوٹریشن میںشائع شدہ ایک مطالعے کےمطابق ناشتے سے پہلے 10 گرام بادام ( یعنی 8 بادام ) آپ کے صحت مند کولیسٹرول یعنی HDLکی سطح کو بڑھاتاہے۔ چھ ہفتوںاچھے کولیسٹرول کی سطح 12 سے 14 فیصداور 12 ہفتوں میں یہ سطح 14 سے 16 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔

نہار منہ بادام کھانے کے علاوہ یہ کئی اقسام کے کھانوں ،مٹھائیوں ،کیک اور شیک میں بھی استعمال ہوتاہے۔

گرین ٹی

گرین ٹی میں ایک مرکب خون کی رگوں اور شریانوں کی تنگی اور سختی کو دور رکھنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے.وقت کے ساتھ ساتھ شریانوں میں چربی جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے اور بڑھتے بڑھتے سخت پلاک کی صورت اختیار کر جاتی ہے اس سے دل کو آکسیجن سے بھرپور خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھنے لگتا ہے ۔اس عمل میں کافی عرصہ لگتاہے تاہم جب بند شریانوں کا خطرہ سامنے آتا ہے تو اس کے نتائج بہت خراب نکلتے ہیں۔اس صورتحال میں گرین ٹی کا باقاعدہ استعمال بڑی حد تک اس کیفیت کو دور کرسکتا ہے۔

گرین ٹی کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہےکہ یہ LDL کو کم کرتے ہوئے اس سے وابستہ بیماریوں سے بچنے میں مدد کرتی ہے ،ساتھ ہی یہ HDLمیں کمی نہیں آنے دیتی ۔ امیریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن سےایک تجزیاتی ریسرچ سے پتہ چلا یا کہ گرین ٹی بہترین طریقے سے کولیسٹرول کی سطح کو کم (7mg/dLسے زیادہ ) کرتی ہے ،جس میں زیادہ حصہ LDL کا ہوتا ہے اور اس میں فائدہ مند HDL پر آنچ بھی نہیں آتی۔