آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عالمی یومِ ارض کے حوالے سے خصوصی رپورٹ

دھرتی ماں کا قرض اتاریں
تحریر و گفتگو:حنا خان
اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا بھر میں زمین کا عالمی دن ہر سال 22 اپریل کو منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد عالمی برادری کی توجہ کرہ ارض کی حفاظت اور ماحولیاتی آلودگی سے جڑے مسائل کی جانب مبذول کراناہے۔انٹرنیشنل مدر ارتھ ڈے (عالمی یومِ ارض) کی تاریخ 1970 سے ملتی ہے جب ماحولیاتی تحفظ ملکی سیاسی اہم امور کا حصہ نہ تھا۔تاہم اس دوران ماحولیات کی حفاظت و بقا کے لیے کوششوں کا آغاز کیا گیا۔دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی فضائی، زمینی اور آبی آلودگی کے خلاف آگاہی پھیلانے کے لیے دنیا کے تمام ممالک میں یہ دن باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔رواں سال یہ دن ’’پروٹیکٹ آور اسپیشیز‘‘یعنی مختلف انواع مخلوقات کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے حوالے سے منایاگیا۔
دنیا میں صنعتی ترقی اور قدرتی وسائل کے استعمال میں بے احتیاطی نےموجودہ دور میں زمین پر رہنے والے ہر جاندار کی زندگی داؤ پر لگا دی ہے، چاہے وہ جانور ہوں یا پودے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت کرہ ارض واضح طور پر اپنے تحفظ و بقاکے لیے آواز اٹھانےکی اہمیت پر زور دے رہی ہے۔ موجودہ دور میں فطرت بہت سے مسائل مثلاً آسٹریلیاکے جنگلات میں بھڑکنے والی آگ، گرمی کی شدت اور کینیا میں بدترین ٹڈی دل حملہ سے دوچار

ہے۔ اسی طرح اب دنیا کو COVID-19کا سامنا ہے، جو دنیا بھر کے لیے بہت بڑی تباہی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ آب و ہوا میں تبدیلی، فطرت میں انسان ساختہ تبدیلیاں نیز جنگلات کی کٹائی، زراعت اور مویشیوں کی پیداواربڑھانے کے مصنوعی طریقوں کا استعمال یا غیرقانونی جنگلاتی حیاتیات کا کاروبارجانوروں سے متعدی بیماریوں کی منتقلی کو بڑھا سکتاہے، کورونا وائرس اس امر کی ایک حالیہ مثال ہے۔اقوام متحدہ کے محکمہ ماحولیات کے مطابق انفیکشن کی ہر چار ماہ بعد ابھرنے والی ایک نئی بیماری میں سے 75فیصد بیماریاں جانوروں سے منتقل ہوتی ہیں، جس سے انسانوں، جانوروں اور ماحولیات کے مابین قریبی تعلقات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق جانوروں اور پودوں کی قریباً ایک ملین انواع کو معدومی کا خطرہ لاحق ہے۔ماہرین کے مطابق ہم انسان جس بے احتیاطی سے زمین اور اس کے وسائل کابے دریغ استعمال کر رہے ہیں، قوی امید ہے کہ زمین سے جنگلی حیات اور دیگر انواع کےخاتمے کا باعث بنیں گے۔لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ تمام انواع ہی انسان کی بقا کی ضامن ہیں اور ان انواع کا خاتمے کے بعد انسان کی بقا کی امید رکھنا خام خیالی ہے۔موجودہ وقت میں جہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دن لوگوں میں ماحول کی صفائی اور آلودگی پھیلانے سے گریز کے لیے آگاہی کی اہمیت پر زور دیا جائےوہیں قدرتی وسائل کے بے احتیاط استعمال سے بھی روکنا لازم وملزوم ہے۔کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ نہ صرف فطرت بلکہ انسانی صحت میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔