آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بلاشبہ اُمّتِ مسلمہ اپنی شان دار اور حقیقی علمی میراث پر فخر کی سب سے زیادہ حق دار ہے کہ اِس علمی سرمائے کی بنیاد قانون سازی کے اوّلین مصادر، قرآن و سنّت پر قائم ہے، جسے مستند ترین ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اِس پر مستزاد وہ مسلمان علماء و فقہاء ہیں، جنھوں نے فاصلوں اور زبانوں کے اختلاف کے باوجود آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم علمی خزانہ چھوڑا۔ان فقہائے کرام میں امام محمّد بن حسن شیبانیؒ وہ پہلے شخص ہیں، جنھوں نے نہ صرف فقہِ اسلامی کو علمی انداز میں مدوّن کیا، بلکہ اس پر کثیر سرمایا بھی چھوڑا۔ امام محمّد کا شمار’’ صاحبین‘‘ یعنی امام ابوحنیفہؒ کے دو جلیل القدر شاگردوں میں ہوتا ہے۔ 

دوسرے شاگرد، امام ابو یوسفؒ تھے۔ امام محمّدؒ کے امتیازی مقام کی ایک وجہ اُن کی تصانیف بھی ہیں۔اُن کے اولین استاد، امام ابو حنیفہؒ کی جانب چند رسائل منسوب کیے جاتے ہیں، مگر حدیث اور فقہ پر خود امامِ اعظمؒ کی اپنی کوئی کتاب نہیں، آپؒ کی علمی کاوشوں اور تفقّہ فی الدّین کا نچوڑ اُن کے شاگردوں، بالخصوص’’ صاحبین‘‘ کی تالیفات ہی میں ملتا ہے۔ آپؒ کے شاگرد امام ابو یوسفؒ کا تحریری کارنامہ ’’ کتاب الخراج‘‘ اور’’الرد علیٰ سیرالاوزاعی‘‘ وغیرہ جیسی کُتب ہیں، مگر اُن کا تصنیفی کام بہرحال کم ہی ہے۔ اس کے برعکس، امام محمّدؒ کی تالیفات کثیر ہونے کے ساتھ، فقہ اور قانون کے تقریباً تمام پہلوئوں کی جامع ہیں۔

آپؒ کا پورا نام، محمّد بن حسن فرقد شیبانی تھا، جب کہ ابو عبد اللہ کنیت تھی۔آپ ؒبنو شیبان کے مولیٰ تھے، اسی نسبت سے شیبانی کہلائے۔ والد، جو شام کی فوج میں ملازم تھے،131 ہجری میں لشکر کے ساتھ عراق کے شہر، واسط آئے، جہاں امام محمّدؒ کی پیدائش ہوئی۔ حسن بن فرقد کا شمار صاحبِ حیثیت لوگوں میں ہوتا تھا اور اُنہوں نے تَرکے میں اپنی اولاد کے لیے زرِ کثیر چھوڑا، یہی دولت امام محمّدؒ کے لیے کاروبارِ زندگی سے فراغت اور حصولِ علم میں معاون ثابت ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ آپؒ طاقت وَر، طویل القامت، سڈول جسم کے مالک اور بہت وجیہہ تھے۔ آپؒ کی پرورش کوفہ میں ہوئی، وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

قرآنِ پاک کا کچھ حصّہ حفظ کیا اور بہت سی احادیثِ نبویہ ؐ بھی یاد کیں۔یہ وہ دَور تھا، جب کوفہ علم کا مرکز تھا۔ علماء کی کثرت کی وجہ سے اس شہر کی شہرت عروج پر تھی۔ شاید اسی لیے امام ابو حنیفہؒ نے اسے ’’مدینۃ العلم‘‘ یعنی’’ علم کا شہر‘‘ قرار دیا تھا۔ جہاں ایک طرف مساجد حدیث، فقہ اور دیگر علوم کے حلقۂ ہائے دروس سے گونجتی رہتیں، تو دوسری طرف، یہ عربی روایات اور بیرونی ثقافتوں کا اِک عجیب سنگم بھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کوفہ ان مجموعۂ اضداد کی بنا پر علمی اور فکری تنازعات کا مرکز بھی بن گیا تھا۔ امام محمّد کو جلد ہی امام ابو حنیفہؒ کے حلقۂ درس نے اپنی جانب متوجّہ کرلیا۔ 

حضرت داؤد طائیؒ کے مطابق، امام ابو حنیفہ نے اُسی وقت اُن کے متعلق فرمایا تھا’’اگر یہ زندہ رہا، تو بڑا مرتبہ اور مقام حاصل کرے گا۔‘‘ آپؒ، امام ابو حنیفہؒ کے حلقۂ درس میں بیٹھنے آئے، تو تقریباً 14 برس کے تھے۔ امامِ اعظمؒ نے حفظ القرآن کا امتحان لیا، تو اُنھیں مکمل حافظ نہ پایا، اس پر اُنھیں نصیحت کی کہ جب تک قرآنِ پاک حفظ نہ ہو جائے، درس میں شریک نہ ہوں۔ چناں چہ وہ سات دن درس میں حاضر نہ ہوئے، بعد ازاں اپنے والد کے ساتھ آئے اور کہا ’’مَیں نے قرآنِ پاک حفظ کر لیا ہے۔‘‘ اس سے اُن کے حافظے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کا تعلیم دینے کا طریقہ ایک ایسے اسلوب اور نہج پر مشتمل تھا، جو تحقیق، غور و فکر اور مناظرانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا۔

آپؒ طلبہ کے سامنے محض اپنی آراء ہی بیان نہ کرتے، بلکہ سوالات اُٹھاتے اور اپنے تلامذہ کے ساتھ اس پر بحث مباحثہ کرتے، کبھی کبھی تو اس طرح کے مباحثے مہینوں چلتے۔ جب مسئلے کا حل پا لیتے اور کسی ایک رائے پر اتفاق ہو جاتا، تب اُسے تحریر کرنے کی اجازت دیتے۔ امام محمّدؒ نے اِس طرزِ تعلیم سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ نہ صرف یہ کہ زیرِ بحث مسائل کی تحقیق میں شریک ہوتے، بلکہ جوابات بھی قلم بند کرتے۔ دورِ طالبِ علمی کی یہ ابتدائی مشق، بعدازاں آپؒ کی تصانیف اور تدوینِ فقہ کی بنیاد بنی۔

امام محمدؒ نے دیگر اساتذہ سے بھی استفادہ کیا اور دِل چسپ بات یہ ہے کہ ان اساتذہ کی سوچ میں خاصا اختلاف بھی تھا۔ ان اساتذہ میں مفسّر، محدّث، فقیہہ، ادیب اور مؤرخ شامل تھے۔ اس اختلافی فضا نے اُن کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مزید جِلا بخشی۔نیز، آپؒ نے کئی علمی اسفار بھی کیے۔ بصرہ، مکّہ مکرّمہ اور مدینہ منوّرہ کا کئی بار سفر کرکے وہاں کے علماء سے استفادہ کیا۔ حج کے موقعے پر وہاں دنیا بھر کے علماء اور فقہاء کی مجالس ہوتی تھیں، جن میں علمی مذاکرہ اور مباحثہ ہوتا، امام محمّدؒ نے اس طرح کی مجالس سے بھی بھرپور فوائد سمیٹے۔امام ابو حنیفہؒ کے انتقال کے بعد امام ابو یوسفؒ سے کسبِ علم حاصل کرتے رہے، جنھیں اصحابِ ابوحنیفہؒ میں سب سے بڑا محدّث تسلیم کیا جاتا تھا۔ اُنہوں نے امام ابو یوسفؒ سے احادیث اور آثار کا وہ علم حاصل کیا، جس پر عراقی فقہ کی عمارت قائم کی تھی۔ بعدازاں، مکہ مکرّمہ میں امام مالکؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تین سال اُن کی صحبت میں گزارے۔ اِس طرح آپؒ کو فقہِ کوفہ اور فقہِ مدینہ یا یوں کہہ لیجیے، آثارِ عراق و حجاز یک ساں حاصل ہوگئے۔ اس دوران اُن مناظروں اور مباحث کی رُوداد بھی اپنی’’ کتاب الحج‘‘میں سمو دی، جو آپؒ کے اور شیوخِ مدینہ کے درمیان ہوتے تھے۔

آپؒ،عباسی خلیفہ، ہارون الرشید کے زمانۂ اقتدار میں بغداد منتقل ہوئے۔ وہاں آنے کا مقصد کوئی عہدہ حاصل کرنا نہیں تھا کہ آپؒ خلفاء اور امراء کی مجالس سے الگ تھلگ ہی رہتے تھے۔دراصل، بغداد مختصر مدّت میں علم کا مرکز بن گیا تھا، اس کشش نے آپؒ کو وہاں کے سفر پر مجبور کیا۔تاہم، وہاں پہنچنے سے قبل ہی اُن کا علمی چرچا وہاں پہنچ چُکا تھا۔ آپؒ کو بہت جلد وہ شہرت حاصل ہوئی کہ امام ابو یوسفؒ کی حیات ہی میں وہ اہل الرائے کے لیے بغداد میں مرجع ِاوّل بن گئے۔ خلیفہ آپؒ کی علمیت سے واقف ہوا، تو منصبِ قضاء کی ذمّے داری دینا چاہی، گو کہ آپؒ کو علمی مشغولیت تَرک کرنا پسند نہ تھی، مگر سیاسی حالات آڑے آگئے اور بادل ناخواستہ یہ عُہدہ قبول کرنا پڑا۔ اس سے یہ نقصان بھی ہوا کہ اُنھیں بغداد چھوڑ کر رقّہ جانا پڑا۔تاہم، منصبِ قضاء کی ذمّے داریاں بھی علمی کاموں سے نہ روک سکیں۔ ایک دفعہ یحییٰ بن عبد اللہ بن حسین کے حق میں دو ٹوک فیصلہ دیا، جو خلیفہ کی مرضی کے خلاف تھا، لہٰذا آپؒ خلیفہ کے عتاب کا شکار ہوئے۔ نہ صرف عُہدے سے معزول ہوئے، بلکہ فتویٰ دینے سے بھی روک دیا گیا۔ 

کچھ عرصہ یہی صُورتِ حال رہی، پھر فتویٰ نہ دینے کی پابندی اُٹھالی گئی اور خلیفہ نے اُنھیں قاضی القضاۃ کا منصب پیش کیا۔آپؒ اُسے ہرگز قبول نہیں کرنا چاہتے تھے، مگر انکار کا کوئی فائدہ نہ تھا، لہٰذا مجبوراً یہ عُہدہ قبول کرنا پڑا۔ آپؒ نے عہدہ قبول تو کرلیا، مگر حق کا دامن پھر بھی نہ چھوڑا اور خلیفہ کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں دئیے۔ کم وبیش دو سال تک اس منصب پر فائز رہنے کے بعد خالقِ حقیقی سے جاملے۔آپ ؒکا انتقال رے کے قریب، رنبویہ کے مقام پر 189 ہجری میں ہوا، جہاں آپؒ خلیفہ ہارون الرشید کے ساتھ گئے تھے۔ رے کے قریبی مقام، جبلِ طبرک میں آپؒ کی قبرِ مبارک ہے، جو پانچویں صدی ہجری تک تو معروف تھی، لیکن اب زمانے کے نشیب وفراز نے اس کے نشانات مٹا دئیے ہیں۔

امام محمّد کی علمی اور فقہی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ آپؒ نے مختصر عرصے میں وہ علمی شان و شوکت اور بلندی حاصل کی، جو بہت کم افراد کے حصّے میں آتی ہے۔ آپؒ کی بہت سی تالیفات ہیں، جو حنفی فقہ کی بنیادی مراجع شمار ہوتی ہیں، جن میں’’ کتاب المبسوط‘‘ کو ایک خاص مقام حاصل ہے، جسے’’ الاصل‘‘ بھی کہا جاتاہے۔ المبسوط اپنے طلبہ کو املا کروائی تھی، جس کے سبب اس کے متعدّد نسخے وجود میں آئے، تاہم ان میں سب سے اہم ترین اور مشہور نسخہ وہ ہے، جو زجانی نے روایت کیا۔ امام صاحبؒ کے بعد حنفی فقہ پر قلم اٹھانے والا ہر شخص اس کتاب کا محتاج رہا ہے۔ آپؒ کی دوسری اہم تصنیف’’ جامع الصغیر‘‘ ہے، ضخامت کے لحاظ سے تو یہ ایک مختصر کتاب ہے، مگر حنفی فقہ میں اس کی علمی قدر و قیمت بہت زیادہ ہے، کیوں کہ یہ امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور خود آپؒ کی فقہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ 

جامع الصغیر فروعی مسائل پر مشتمل ہے، جن کی تعداد 1532 ہے۔ نیز، اس میں 170 کے قریب اختلافی مسائل بھی ہیں۔اس کتاب کی علمی قدر و قیمت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ علماء نے اس پر خاص توجّہ دی اور متعدّد اہلِ قلم نے اس کی شرحیں لکھیں۔ جامع الکبیر کو امام محمّد کی تیسری تصنیف قرار دیا جاتا ہے، جو ان کی بلند پایہ کُتب میں شمار ہوتی ہے۔آپ ؒنے اس کتاب کی تالیف کے دوران ارتکازِ توجّہ کے لیے گوشہ نشینی اختیار کر لی تھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ کتاب انتہائی دقیق اور محکم صُورت میں سامنے آئی۔ اس سے وہ تشنگی دُور ہوگئی، جو جامع الصغیر میں رہ گئی تھی۔امام محمّدؒ ہی نے سب سے پہلے مسلمانوں کے’’ علم السیر‘‘ یعنی’’ قانون بین الممالک‘‘ پر قلم اُٹھایا۔ 

اس موضوع پر سب سے پہلے آپؒ ہی کی تصانیف سامنے آئیں، جس میں مسلمانوں کا دیگر اقوام کے بارے میں نقطۂ نظر ،صلح و جنگ میں آپس کے تعلقات، نیز مملکتِ اسلامیہ کے اندر اور باہر غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات وغیرہ زیر بحث آئے۔ قانون بین الممالک کے موضوعات پر امام صاحبؒ نے دو کُتب لکھیں، جو’’السیر الصغیر‘‘ اور ’’السیر الکبیر‘‘ کے نام سے معروف ہوئیں۔’’ السیر الصغیر‘‘ میں صرف امام ابوحنیفہؒ سے روایت کردہ مسائل بیان کیے، یہ کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، مختصر ہے، چناں چہ بعد میں اسی پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے’’ سیر الکبیر‘‘ کی صُورت وسعت دے کر پھیلا دیا گیا، نتیجہ یہ نکلا کہ یہ کتاب قانون بین الممالک کے تمام اہم مسائل پر حاوی اور اپنے موضوع پر ایک منفرد کاوش بن کر سامنے آئی۔یہ بات البتہ وضاحت طلب ہے کہ ان دونوں تصانیف میں سے کسی ایک کا بھی اصل نسخہ باقی نہیں رہا۔ 

البتہ ان کی متعدّد شرحیں ضرور میّسر ہیں، جن میں سب سے مشہور امام سرخی کی ہے۔آپؒ نے اہلِ عراق کے ہاں موجود سنن اور اخبار ماثور کو ’’کتاب الآثار‘‘ میں جمع کیا اور اسے امام ابوحنیفہؒ سے روایت کیا۔وہ اپنی اکثر مرویات کا امام ابو یوسفؒ کی ’’کتاب الآثار‘‘ سے مقابلہ کرتے ہیں۔یہ دونوں کتابیں’’ مسند ابی حنیفہؒ ‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔آپؒ کی ایک اور تصنیف’’ کتاب الحج‘‘بھی ایک منفرد کتاب ہے کہ اس میں اہم فقہی مسائل میں اہلِ کوفہ اور اہلِ مدینہ کے درمیان اختلاف بیان کیا ہے۔اس کے ہر باب کے آغاز میں امام ابو حنیفہؒ کی رائے بیان کی گئی ہے، اس کے بعد اہلِ مدینہ کی رائے اور پھر امام محمّدؒ اُن کا تجزیہ کرتے ہیں۔ 

وہ عموماً منطقی دلیل لاتے ہیں اور اس کے ثبوت میں آثار واخبار پیش کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ کتاب عراقی اور حجازی فقہ کا ایک منفرد تقابلی مطالعہ ہے۔ اس تصنیف میں امام محمّدؒ کی انصاف پسندی جھلکتی ہے کہ جب بھی اہلِ مدینہ کی رائے کو امام ابو حنیفہ کی رائے کے مقابلے میں حق کے زیادہ قریب پایا، تو بلاجھجک اُسے اپنے استاد کی رائے پر ترجیح دی۔علاوہ ازیں، اُنھوں نے امام مالک کی معروف حدیث کی کتاب’’ موطا امام مالکؒ‘‘ بھی روایت کی۔ گو کہ اس کتاب کے روایوں کی ایک کثیر تعداد ہے، لیکن امام محمّد کا روایت کردہ نسخہ ہی بہترین سمجھا جاتا ہے۔ آپ’’ موطا‘‘ کی سماعت کرنے کی غرض سے مسلسل تین سال مدینہ منوّرہ میں رہے اور اسی دوران ایک سے زائد بار براہِ راست امام مالکؒ سے اس کتاب کی سماعت کی۔ 

اُنہوں نے صرف امام مالکؒ کی روایت کردہ احادیث کو بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ دیگر روایات بالخصوص علمائے حجاز و عراق سے سماعت کردہ روایات کا بھی اضافہ کر دیا۔ نیز، اپنے اجتہادات بھی کثرت سے جمع کردئیے، اسی لیے یہ تصنیف موطاء امام مالکؒ کی بجائے موطاء امام محمّدؒ کے نام سے مشہور ہوئی۔ امام محمّدؒ کی تصانیف کاتذکرہ یہیں ختم نہیں ہوتا، بلکہ الحیل، النوادر، الاکتساب فی الرزق المستطاب، الرقیات، الکیسانیات، الہارونیات جیسی بہت سی نادر تصانیف بھی ہیں، جن کے بارے میں زیادہ معلومات دست یاب نہیں۔ ان کے بارے میں بس اتناہی پتاچلتا ہے کہ یہ کتابیں آپؒ کے شاگردوں نے آپؒ سے روایت کی تھیں۔

امام شافعیؒ کے بقول’’ امام محمّد فصیح اللسان تھے۔ مَیں نے اُن سے ایک اونٹ کے وزن کے برابر کتابیں پڑھیں اور ناسخ و منسوخ کا اُن سے زیادہ جاننے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ امام مالکؒ کے بعد اُن کو اپنا امام مانتا ہوں۔‘‘ آپؒ کی عبارت پُرشکوہ، فصیح و بلیغ، خُوب صُورت اور اثر آفرین تھی، جب کہ بعض ناقدین آپؒ کی تحریر پر تنقید بھی کرتے ہیں۔مثلاً یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آپؒ بعض اوقات غیر فصیح الفاظ استعمال کر جاتے ہیں، حالاں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ الفاظ عام افراد میں معروف تھے، لہٰذا آپ مسائل کی تفہیم کے لیے وہی الفاظ استعمال کرتے ، جو عام افراد سمجھ سکتے ہوں۔

اِسی طرح ایک الزام یہ بھی عاید کیا جاتا ہے کہ امام محمّد نے بعض غیر عربی الفاظ استعمال کیے ہیں، اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آپؒ ایک ایسے معاشرے کے باسی تھے، جو فارسی تہذیب کے عہد سے قریب تر تھا اور ابھی تک فارسی زبان کا اثر باقی تھا۔بلاشبہ امام محمّد بن حسن شیبانی کا نام اسلامی فقہ میں اُن جیّد علماء و فقہاء کی فہرست میں نمایاں ہے، جنھیں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد کیا جائے گا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ امام محمّدؒ نے عراقی فقہ کو پوری شرح و بسط کے ساتھ مدوّن کر کے اُسے گم نامی یا ضایع ہونے سے بچا لیا۔ اس تدوینی عمل کی وجہ سے امام محمدؒ کی تالیفات حنفی فقہ کا ستون ہیں۔