آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ذیقعد 1441ھ 6؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
حرف و حکایت … ظفر تنویر
بات کسی کی بیوی کی نہیں اس ذہنیت کی ہے جس نے پوری طرح ہمارے معاشرہ کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، ہر شخص خود کو طرم خان سمجھتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اس سے قدرے مختلف سلوک کیا جائے، اسے زیادہ عزت دی جائے، چاہے اس کے لیے کسی دوسرے کا حق ہی کیوں نہ مارنا پڑے، کسی صاحب کی بیگم بھی غالباً ایسی ہی کسی بیماری کا شکار تھیں، یہ بیماری آپ کی ذہنیت تبدیل کردیتی ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کوئی وکھری ٹائپ کے لوگ ہیں، اس ذہنیت کو سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ سوچ بھی کہا جاسکتا ہے جو72برس سے ملک پر راج کررہی ہے، اب ان دو طبقوں میں ایک تیسرا بھی شامل ہوگیا ہے جس کے نزدیک وہ دوسروں سے ارفع و اعلیٰ ہے، اس کے نزدیک باقی سارے (ہم لوگ) بس کیڑے، مکوڑے ہیں اور صرف اس لیے پیدا کیے گئے ہیں کہ ان بڑے طبقات کے حکم بجا لائیں، ان دنوں سوشل میڈیا پر اس موضوع پر ہر طرح کی رائے کی بھرمار ہے، کچھ لوگ اسے قوت کا نشہ جب کہ کچھ اسے پاک افواج کے خلاف پروپیگنڈہ قرار دے رہے ہیں، لیکن یہ کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ افواج کسی دوسرے سیارہ میں سے نہیں، بلکہ ہم سے ہی ہیں، جب بھی پاکستان کے اندر یا سرحدوں پر کسی فوجی جوان کی شہادت کی خبر ملتی ہے تو پوری قوم تڑپ اٹھتی ہے، ہر طرف ہر دل میں ایک ہی درد محسوس ہوتا ہے، شہید کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور اس کی عزت و تکریم پہلے سے بھی بڑھ جاتی ہے، پاکستانی قوم ہمیشہ اپنے فوجی جوانوں کے لیے دعا گو رہی ہے، ہاں انہیں اس وقت دکھ ہوتا ہے جب ان کا ہی کوئی محافظ ان پر بندوق تان لے، پاکستانی افواج جہاں ملک کی سرحدوں کی پہرہ دار ہے، وہیں آفات و بلات اور ہنگامی حالات میں سول حکومتوں کا ہاتھ بھی بٹاتی ہے اور یہی دو ذمہ داریاں ہیں جو کسی بھی فوجی افسر یا جوان کو نبھانی ہوتی ہیں، بگاڑ تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی اپنی حدود سے نکلنا چاہتا ہے، اب اس واقعہ کو ہی دیکھ لیجیے، یہ بھی اپنی حدود سے باہر نکلنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے، اگر ڈیوٹی پر کھڑے سپاہی نے کسی بھی وجہ سے ٹریفک روک رکھی ہے تو آپ کو قطعاً یہ اختیار حاصل نہیں کہ آپ اس رکاوٹ کو پھلانگنے کی کوشش کریں۔ ہم جو لوگ برطانیہ میں رہتے ہیں، ہم نے دیکھا ہے کہ یہاں ہر کام قطار میں لگ کر کیا جاتا ہے، سوشل سیکورٹی کے دفتر سے لے کر بس اسٹاپ تک اور بینک سے کے لے کر ہسپتال تک سب ہی لائن میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں، نہ کوئی دھکم پیل ہے اور نہ ہی شوروغل، تمام کام انتہائی اطمینان سے ہوجاتا ہے، برطانوی شہری تو بہرحال اس کے عادی ہوگئے ہیں، میں نے پاکستان سے آئے ہوئے بڑوں بڑوں کو ان قطاروں میں لگے اپنی باری کا انتظار کرتے دیکھا ہے اور پھر میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ یہ پاکستانی نژاد برطانوی جب بھی کبھی پاکستان جاتے ہیں تو ایئر پورٹ پر اترتے ہی ان کو سویا ہوا پاکستانی جاگ جاتا ہے اور یہ وہیں پر دھکم پیل شروع کرتے ہوئے اپنی واپسی کا بھرپور اعلان کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے اور وہ ہے برطانیہ میں قانون کی حکمرانی لوگوں کو علم ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے کوئی غلطی یا بدتمیزی کی تو قانون کی پکڑ میں ہوں گے جب کہ پاکستان میں عوام تو کیا خود ادارے بھی اپنی حدود سے تجاوز کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں، اگر پاکستان کو ٹھیک کرنا ہے اور اسے ایک مذہب معاشرہ کی کی شکل دینا ہوتا ہے تو اس اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا، ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرنا ہوگا کہ جینے کا حق سب ہی کو ایک جیسا چاہیے۔ 
یورپ سے سے مزید