آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایک طرف سندھ میں متعدد اسپتالوں نے کورونا کیسز لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ اُن کے پاس مزید انتظامات نہیں جبکہ دوسری طرف دیگر امراض میں مبتلا افراد بھی ازخود اس خوف کی وجہ سے اسپتال جانے سے گریزاں ہیں کہ کہیں اُنہیں کورونا مریض نہ قرار دے دیا جائے۔ اسپتالوں کا انکار جہاں موجود کھوکھلے نظامِ صحت کے زمین بوس ہونے کا اعلان ہے تو وہاں شہریوں کو لاحق خوف بھی اس صحت کے نظام کی بےاعتباری کا پتا دے رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران عملی طور پر ایسے شبہات دور کرنے کیلئے عملی قدم اُٹھائیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ جو تاثر دیا جا رہا ہے وہ درست ہے لیکن سوشل میڈیا پر جب کوئی اپنے والد، بھائی یا کسی عزیز سے متعلق کھلے عام ایسی باتیں کرتا ہے تو یقین نہ کرنے کی گنجائش اس لئے ختم ہو جاتی ہے کہ تمام واقعات کا وہ چشم دید گواہ ہوتا ہے اور یہ کہ وہ حوالہ دیکر اپنا کیس پیش کر رہا ہوتا ہے۔ جیسے کراچی میں یہ بات مشہور تھی کہ دکانداروں سے بھتہ طلب کیا گیا تھا، بالکل اُسی طرح کوچوںاور بازاروں میں یہ بات بھی عام ہے کہ جہاں ایک طرف دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کا اسپتالوں میں علاج نہیں کیا جاتا وہاں جن میں کورونا نہیں ہوتا اُنہیں بھی کورونا میں شامل کر لیا جاتا ہے، ہم ان باتوں کی صداقت پر اصرار نہیں کر رہے لیکن یہ سوال ضرور اُٹھاتے ہیں کہ دنیا کے 122ممالک کورونا سے متاثر ہیں، وہاں پر افراتفری، عدم اعتماد، خوف وغیرہ پاکستان جیسا کیوں نہیں ہے؟ کیا ان تمام سیاسی و غیرسیاسی، جسمانی و روحانی عوارض کی بنیادی وجہ یہ نہیں ہے کہ ملک کا ہر شعبہ انحطاط پذیر ہے۔ جب ہم ہر شعبے کی بات کرتے ہیں تو گویا پورے معاشرے سمیت ملکی نظام کا ہر انگ و آہنگ پر یہ محیط ہوتا ہے۔ یہاں چند مگر انتہائی محدود مستثنیات کے ہر طاقتور و صاحبِ اختیار کے فرائض معمولات ذات، گروہ و جماعت کے دائرے میں مقید ہوکر رہ گئے ہیں، مزید اختیار اور ہوسِ زر کی خواہش یہاں طوفان خیز موجوں کی طرح رواں دواں ہے، ظاہر ہے یہ سیلابِ بلا کمزور ہی کو خس و خاشاک کی طرح بہاکر لے جانے کا سبب بنتا ہے اور ان دنوں بالخصوص ملک بھر میں یہ منظرنامہ کوتاہ نظر و تنگ نظر کے ماسوا ہر کسی پر عیاں ہے۔ ایسے انسان کش اور ذات پرور ماحول کا فیض اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ زرداروں و با اختیاروں کے سیم وزر پر استوار بلند و بالا بام و درکو دیکھ کر ہر شعبے سے وابستہ ہر، ہرکارہ یہ سوچنے پر آمادہ ہو چکا ہے کہ بس وہ عیش و عشرت پانے کی اس دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے اور باقی سب مرادیں پاگئے ہیں، من حیث القوم جب من میں زور و زر کی ایسی خواہشیں تلاطم خیز ہوں تو ظاہر ہے کہ تمام دینی، دنیاوی اصولوں، ظابطوں، روایات و اخلاقیات کا جنازہ نکل جاتا ہے پھر ایسے ماحول میں حصولِ اختیار و دولت کیلئے ہر بلیک میلنگ، ہر ناجائز کو جائز قرار دیدیا جاتا ہے۔ شوگر، آٹا مافیا تو ہے ہی طاقتور لیکن ان سے کم طاقتور بھی حصولِ زر کا کوئی موقع ضائع کرنا گویا ایمان کا ضائع ہونا گردانتےہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ عید سے قبل پنجاب حکومت نے ٹراسپورٹرز کو کرایہ کم کرکے گاڑیاں چلانے کی اجازت دی لیکن وہ ٹرانسپورٹرز جو آنسو بہا رہے تھے کہ کسی طرح ٹرانسپورٹ چل پڑے وگرنہ ہم فاقوں سے مر جائیں گے، وہی عید پر جانے والوں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کیلئے ہڑتال یعنی بلیک میلنگ پر اُتر آئے اور پیٹرلیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود زائد کرایہ کا مطالبہ کرنے لگے، ہمارے شہر قائد میں گزشتہ 15روز سے نرسوں نے ہڑتال کر رکھی ہے، یہ موقع پرست ماحول مسیحا کہلائے جانے والے شعبے کو بھی اس طرح راہِ اسفل پر لے آیا ہے کہ نرسز نے عید سے ایک روز قبل بےسہارا مریضوں کو دھمکی تک دی کہ وہ اسپتالوں کا رُخ نہ کریں وگرنہ اپنے نقصان کے وہ خود ذمہ دار ہونگے۔ اس مملکت میں ہر قدم پر مافیاز کی خود ساختہ ریاستیں ہیں، عید سے چار روز قبل کراچی میں اُن پولٹری مالکان نے مرغی کا گوشت چار سے ساڑھے چارسو تک پہنچا دیا جو ٹرانسپورٹرز ہی کی طرح کاروبار کی بندش کی وجہ سے مرکھپ جانے کی فریاد کررہے تھے۔ بعض عناصر رمضان سے قبل حدیث کا حوالہ دیکر کہتے ہیں کورونا ہے گھروں پر نماز پڑھیں لیکن جب ایک جلوس نکلتا ہے تو کہتے ہیں کہ مسجدوں کو آباد کیا جائے اور اُس ’فاصلے‘ کو خود پامال کرتے ہیں جس کا درس وہ اُس کورونا کی وجہ سے دیتے تھے جو، اب بھی ہے۔ الغرض یہاں جس کو جب موقع ملتاہے وہ بےاختیار اور کمزور کی مجبوریوں سے فائدہ اُٹھانے میں ذرہ برابر دیر نہیں لگاتا، یہاں اساتذہ اپنے نام نہاد مطالبات کیلئے اُس وقت ہڑتال کرتے ہیں جب امتحانات ہو رہے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرز ایمرجنسی اور آپریشن چھوڑ کر اپنی مراعات کیلئے ہڑتال کرتے ہیں۔ سوال یہ ہےکہ آخر قدم بہ قدم ریاست کے اندر ریاستیں کب تک موجود رہیں گی، کیا یہ تشویشناک حالات اس امر کا تقاضا نہیں کرتے کہ ہوسِ زر و ہوسِ اختیار چھوڑ کر کچھ ملک و ملت کیلئے بھی سوچا جائے!