آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ذیقعد 1441ھ11؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تمام مقدمات میں کچھ نہیں نکلا، حکومت کو منہ کی کھانی پڑی، ملک محمد احمد خان

رہنما مسلم لیگ ن ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ ہم نیب سے نہیں بھاگ رہے ہیں، ہمیں نیب کی نیت پر شک نہ ہوتا تو نیب کے پاس جانے پر اعتراض نہ ہوتا، تمام مقدمات میں حکومت کو منہ کی کھانی پڑی ہے، کسی کیس میں کچھ نہیں نکلا۔

ترجمان مسلم لیگ ن ملک محمد احمد خان نے اپنے ایک بیان میں نیب سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے نیب کے ساتھ تعاون کیا، تمام سوالوں کے جواب دیے ، پہلے 56 کمپنیاں پھر ملتان میٹرو پھر پاور کمپنی کے کیسز آئے سب میں ان کو منہ کی کھانی پڑی، کسی مقدمے میں کچھ نہیں نکلا تو پھر یہ نجی کاروبار پر آئے اور نجی کاروبار سے نکالا کیا ؟

ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ کال آپ نوٹس آج کا دے رہے ہیں اور 28 مئی کی وارنٹ گرفتاری ،اس سے زیادہ ننگی جارحیت اور کیا ہوگی؟ بالکل عدالت جائیں گے ہم ممکن بنائیں گے کہ شہبازشریف عدالت پہنچ سکیں۔ یہ 28 مئی کو ہی گرفتاری کے وارنٹ نکال کر بیٹھے ہوئے تھے، خدشات کے باعث ہم ہائیکورٹ گئے۔

ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ نیب کے نوٹس میں تھا کہ عدالت میں شہبازشریف کو خود کو پیش کر رہے ہیں، نیب کے علم میں تھا کہ معاملہ عدالت میں ہے نیب نے گھر پر چھاپہ مارا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایسا نہیں کہ کوئی اگر عدالت جارہا ہے تو وہ تفتیش سے بھاگ رہا ہے، شہبازشریف کو ڈاکٹرز کی سخت ہدایت ہے کہ کورونا کی صورت حال میں احتیاط کریں، جواب ہے کہ ہم اپنی جائیداد ڈکلیئر کرچکے ہیں، آمدن ایف بی آر کو بتا چکے ہیں، عدالت کے پاس تب جاتے ہیں جب غیر قانونی گرفتاری کا خطرہ ہو۔

ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ جب یقین ہو کہ انہوں نے بلاوجہ لازمی مجھے گرفتارکرنا ہے تو پھر کیا آپشن رہ جاتا ہے، ملک اسد کیس اور دیگر میں عدالت نے کہا ہے کہ کابینہ تفتیش میں ملوث ہوگی تو سیاسی انتقام کہلایا جائے گا۔

اُن کا معاون خصوصی شہز اد اکبر سے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کیسے وہ معلومات لیتے ہیں جو صرف نیب کے پاس ہونی چاہیے، شہز اد اکبر کابینہ کے رکن ہیں وہ کیسے کسی کیس کی انویسٹیگیشن لیتے ہیں، شہزاد اکبر یہ معلومات نہ صرف لیتے ہیں بلکہ عوام کے سامنے بھی لاتے ہیں، حکومت کے لوگ انویسٹیگیشن کو سیاسی طور پر کنٹرول کر رہے ہیں۔

ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ یہ کہتے ہیں ہمارا تعلق نہیں یہ تو جھوٹی قسمیں کھا لیتے ہیں کیسے یقین کرلیں ان کا، رانا ثناء اللّٰہ کے کیس میں انہوں نے جھوٹی قسمیں کھائی کہ ہمارا کوئی تعلق نہیں، ریاستی جبر بڑھے گا تو نتائج کے ذمہ دار حکومت ہوگی۔

ملک محمد احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ نجی کاروبار میں نکالا کیا جو عام پریکٹیسز ہیں جو ہر بزنس مین کرتا ہے، تمام بزنس مین رازق داؤد ، خسرو بختیار، جہانگیر ترین تک کوئی ایک شخص آکر بتادے بیرونی سرمایے کا، اس کے علاوہ اگر کوئی اور پیٹرن ہے تو پھر میں بھی جرم دار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 1992ء سے عام پریکٹیس ہے تمام کاروباری افراد کرتے ہیں کوئی قانونی جرم نہیں، قانون اور معاشی اصلاحت ایکٹ اجازت دیتا ہے، کوئی قانونی جرم نہیں انہو ں نے تماشہ لگارکھا ہے۔

قومی خبریں سے مزید