آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آزاد جموں وکشمیر میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے مالی سال2020-21کیلئے 1کھرب39ارب50کروڑروپے حجم ٹیکس فری بجٹ اور نظر ثانی میزانیہ 2019-20ایک کھرب، 18ارب 70کروڑ روپے کابجٹ آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کیا بجٹ میں ایک کھرب 15ارب غیر ترقیاتی میزانیہ جبکہ24ارب50کروڑ ترقیاتی اخراجات کیلئے تجویز کیے گئے ہیں۔اسپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر خزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان نے ایوان میں تخمینہ میزانیہ2020-21 پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ترقیاتی اخراجات کیلئے ساڑھے چوبیس ارب روپے فراہم کیے ہیں۔ 

آئندہ مالی سال کیلئے غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 1کھرب15ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ آمدن کا تخمینہ 1کھرب13ارب 50کروڑ روپے لگایا گیا ہے جس میں کیپیٹلexpenditureکیلئے ڈیڑھ ارب روپے کا تخمینہ بھی شامل ہے۔ گزشتہ سال کی نسبت امسال کے بجٹ میں 15ارب روپے کا اضافہ ھواھے غیر ترقیاتی اخراجات سب سے ذیادہ اخراجات تعلیم پر28ارب سے ذیادہ کے ہیں اسکے بعد پنشن کے ہیں پنشن پر 22ارب سے ذیادہ کے اخراجات ہیں محکمہ تعلیم آزادکشمیر مجموعی غیر ترقیاتی بجٹ کا تقریبا 33%بجٹ صرف ھوتا ہے لیکن عوام کو معیاری تعلیم فراہم کرنے میں ناکام رہا محکمہ تعلیم کاکام ریاست کے لوگوں کو معیاری تعلیم دینا ہے دنیا کا مقابلہ جدید تعلیم سے کرنا ہے لیکن ملکی سیاست اور محکمہ تعلیم کی سیاست نے محکمہ تعلیم کی افادیت ہی ختم کردی ہے۔ 

آزاد کشمیر میں سب سے کم کام محکمہ تعلیم میں ہے اگر کوئی محکمہ ہوتا اسکے لے کام چور کا لفظ استعمال کیا تعلیم ایک مقدس پیشہ ہونے کے ناطے یہ لفظ نامناسب ہے محکمہ تعلیم کے اندر اکثریت ٹیچرز کی تعلیمی ڈگریاں ایک ایسی یونیورسٹی کی ہیں جس کا معیار تعلیم اور طریقہ تدریس انتہائی ناقص ہے گھر بیٹھے اعلی تعلیم کی ڈگریاں مل جاتی ہیں 28ارب ایک اچھی خاصی رقم ہے لیکن یہ رقم 90فیصد ضائع ہو رہی ہے شہری اور دیہی علاقوں میں پرائیویٹ سیکٹر میں معیار تعلیم کئی گناہ سرکاری اداروں سے بہتر ہے سرکاری تعلیم اداروں کے 30فیصد بچے ایف اے پہنچ پاتے ہیں۔ 

سرکاری اداروں سے ڈاکٹرزاور نجینرز پیدا کرنے کی شرح انتہائی کم ہے سرکاری ٹیچرز کی 95فیصد ایسی ہے اگر ان کا این ٹی ایس لیا جاہے پاس نہیں کر پائے گی اب مزید تنخوائیوں میں اضافے کےلے احتجاج پر ہیں آزادکشمیر کا 22ارب روپے پنشن کی مد میں خرچ ہوتے ہیں کچھ رئیٹائر ملازم ایسے ہیں جو 10لاکھ سے ذیادہ پنشن لیتے ہیں چاہے تو یہ ہے کہ پنشنر کی ضرویات پوری ہونی چائے لیکن پنشنر کی خطیر پنشن سے 20نئی آسامیاں تخلیق ہو سکتی ہیں لیکن اس ملک کا نظام انتہائی ناقص سالانہ کھربوں کا بجٹ ملک نہ توقی کرتا ہے نہ غربت ختم ہوتی ہے لوکل گورنمنٹ کا ترقیاتی بجٹ 2ارب 79کروڑ 50لاکھ ہے یعنی پونے تین ارب روپے لوکل گورنمنٹ کا محکمہ ہمیشہ سیاسی ورکرز کو سالانہ امدادی گرانٹ سرکار کی طرف سے قانونی تحفظ کے ساتھ دینےکے لے ہے لوکل گورنمنٹ کا 80فیصد بجٹ زمین پر خرچ نہیں ہوتا ہے قابل غور بات یہ ہے کے ایک لاکھ سے کون منصوبہ مکمل ہوسکتا ہے۔ 

لوکل گورنمنٹ مجموعی بجٹ13فیصد بجٹ انطامیی اخراجات کے نام پر کاٹ لیتے ہیں یعنی 2ارب 78کروڑ سے 36کروڑ روپے محکمہ اپنے پاس رکھ لیتا ہے جس کاکوئی آڈٹ نہیں بقیہ دو دو تین تین لاکھ کی سکیمیں بھی ایسی طرح کی ہوتی ہیں ہمارے ہاں بجٹ ایک گورکھ دہندہ ہے بجٹ بن جاتا ہے لوگ کھا جاتے ہیں لیکن یہ آج تک نہیں ہوا کسی سے یہ پوچھا جائے آپ پر سرکار کے اتنے روپے خرچ ھوے اس کا حکومت اور عوام کو کیا فائدہ ھوا ھے خیر یہ کام چلتا رہے گاآزادکشمیر میں کرونا کے وارجاری ہیں اب تک 19افراد کی کرونا وائرس کی وجہ سے موت ہوئی 305نئے افراد کے کرونا کے شبہ میں ٹیسٹ لیے گئے۔ نئے سامنے آنے والے کیسز میں بڑی تعداد وہ ہے جو لاک ڈاون میں نرمی کے باعث آئے ہیں۔ 

آزادکشمیر میں اب تک 13339 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے 13287کے رزلٹ آچکے ہیں اور 890 افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے جن میں سے 336 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں اور انہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے جبکہ 458 مریض زیر علاج ہیں اور 19 مریضوں کی موت ہوئی ہے جن میں سے 9کا تعلق مظفرآباد، 01کا راولاکوٹ، 3کا باغ، 3افرادکاتعلق میرپورجبکہ02 کاسدھنوتی اور01کا بھمبرسے ہے۔ آزادکشمیر میں صحت یاب ہونے والے 336 افراد میں سے آئسولیشن ہسپتال مظفرآباد سے 83، آئسولیشن سینٹر نیوپی ایم ہاوس مظفرآباد 66، ڈی ایچ کیو جہلم ویلی سے4، سی ایم ایچ راولاکوٹ سے29، ڈی ایچ کیو باغ سے45، ڈی ایچ کیوسدھنوتی سے 13، ڈی ایچ کیو میرپور سے16، نیو سٹی ہسپتال میرپور سے22، ٹی ایچ کیو ہسپتال ڈڈیال میرپور سے5، ڈی ایچ کیو بھمبر سے 32جبکہ ڈی ایچ کیو کوٹلی سے21 مریض صحت یاب ہوئے جنہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

کرونا کے458 مریضوں میں سے307 مریضوں کو حکومت آزادکشمیر کی پالیسی کے تحت مختلف اضلاع میں ہوم آئسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ 151مریض آزادکشمیر کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے سی ایم ایچ مظفرآباد میں 06مریض، آئسو لیشن ہسپتال مظفرآبادمیں 25، آئسولیشن سینٹر نیوپی ایم ہاوس مظفرآباد22، ڈی ایچ کیو جہلم ویلی میں 01، ڈی ایچ کیو نیلم میں5، سی ایم ایچ راولاکوٹ میں02، ڈی ایچ کیو باغ میں08، ڈی ایچ کیو سدھنوتی میں 10، حویلی میں04، ڈی ایچ کیو میرپور میں28، نیو سٹی ہسپتال میرپور04، ٹی ایچ کیو ڈڈیال میں01، ڈی ایچ کیو بھمبر میں 23، ڈی ایچ کیو کوٹلی میں12مریض زیر علاج ہیں۔ 11943 افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی تمام اضلاع میں 58قرنطینہ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ 

تمام انٹری پوائنٹس پر محکمہ صحت کا عملہ موجود ہے جو ہمہ وقت مسافروں کی سکریننگ کررہا ہے۔ویرالوجی لیب عباس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، ڈویڑنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میرپور اور سی ایم ایچ راولاکوٹ میں پی سی آر ٹیسٹنگ ہو رہی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے آزادکشمیرمیں قائم تمام آئسولیشن سنٹرز میں انفکیشن، پری وینشن اینڈ کنٹرول (IPC) ٹریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید