آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍رجب المرجب 1442ھ25؍فروری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ملک کی حالت پر غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ جب تک کرپٹ عناصر بلا خوف و خطر سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر آزادانہ دندناتے پھر تے ر ہیں گے۔ اس وقت تک ملکی حالات بہتر نہیں ہو سکیں گے۔ حکومت کی دو سالہ کارکردگی پر ملک کے سنجیدہ عوامی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا کوئی معاشی ایجنڈا نہیں ہے۔ حکومتی نا اہلی کے باعث سب پر یشان ہیں، حکومت ہر محاذ پر بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ عوام کا اعتماد ختم ہوچکا ہے۔ مایوسی کے گہرے بادل منڈلارہے ہیں۔ حکومت اب تک 10ہزار ارب کا قرض لے چکی ہے۔ پاکستان کے ذمہ کل قرضہ 34ہزار 500ارب کا ہوگیا ہے۔ اوسطاً 14.2ارب روپے کا یومیہ قرضہ لیا گیا۔ پورا معاشی ڈھانچہ ہی تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے۔ حکومت کے بلندو بانگ دعوے سب ریت کی دیوار ثابت ہوئے ہیں۔ موجودہ حکمرانوں نے نااہلی اور ناتجربہ کاری کے باعث مایوس کن حالات پیدا کردیے ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں ریکارڈ اضافے سے راتوں رات مافیا نے اربوں روپے کما ئے ہیں۔ مہنگائی کے خاتمے کے لئےحکومت کے تمام دعوے ہوا میں تحلیل ہو گئے ہیں۔ منافع خور اور گرانفروش کھلم کھلا عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ حکومتی دعوؤں کے باوجود آٹا سستا دستیاب نہیں ہے۔ 20کلو آٹے کا تھیلا 1100روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ عوام سے دو وقت کا نوالہ بھی چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اداروں کی نجکاری کے حوالے سے حکومتی اقدام کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔ قومی اداروں کو اونے پونے فروخت کرنا اور لاکھوں افرااد کا مستقبل داؤ پر لگانا افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہے۔حکومت اپنی ناکامی اور نااہلی چھپانے کے لئے ایسے کام کررہی ہے کہ جن سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ سول ایوی ایشن کا بھی پورا نظام ہی مشکوک ہو گیا ہے محض 28پائلٹس برطرف اور 34کو معطل کرناکافی نہیں بلکہ انسانی زند گیوں سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کے مطابق ”40فیصد پاکستانی پائلٹس مشکوک یا جعلی ڈگری رکھتے ہیں“ جس انداز میں حکومت نے اس سارے معاملے کو ہینڈل کیا ہے اس سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ بیرون ممالک میں آباد پاکستانیوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ سفارتخانوں کے باہر دو دو کلومیٹر لمبی لائنیں لگی ہیں اور کوئی پُرسان حال نہیں۔ ایئر لائنز نے کرائے تین گنا کردیے ہیں۔

حکومت نے احتساب کے سارے نظام کو بھی متنازع بنادیا ہے۔ وہ صرف مخالفین کا احتساب چاہتی ہے اور جو لوگ اس کی اپنی صفوں میں شامل ہیں ان کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔ کرپشن کے نعرے کو بھی متنازع بنا دیا گیا ہے۔ جب سے موجودہ حکومت بر سر اقتدار آئی ہے، عوام کو درپیش مسائل میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت، کرپشن اور لوٹ مار کے سلسلے کو تقویت ملی ہے۔ حکومت کے ناعاقبت اندیش فیصلوں کی بدولت پاکستان کے 22کروڑ عوام مایوس اور پریشان ہیں۔ ارباب اقتدارکے معاشی صورت حال کو بہتر بنانے کے تمام اقدامات محض بلند وبانگ کھوکھلے دعوے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ جمہوری نظام کے استحکام کے لئے حکومت بلدیاتی انتخابات کا اعلان کرے۔ قرضوں میں کمی کا دعویٰ کرنے والوں نے قوم کو مزید قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے، سب کے لئے بےلاگ احتساب، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ بےگھر افراد کو چھت دینے کے جو وعدے کئے گئے تھے، وہ ہوا میں تحلیل ہو چکے ہیں۔ وسائل سے مالامال پاکستان ماضی کے حکمرانوں کی لوٹ اور موجودہ حکمرانوں کی نا تجربہ کاری و نا اہلی کے سبب مسائلستان بن چکا ہے۔ معاشی اور اقتصادی زبوں حالی نے مہنگائی اور بےروزگاری میں ریکارڈ اضافہ کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے عوام میں سخت مایوسی اور بےچینی پائی جاتی ہے۔ پورے ملک میں اضطراب کی کیفیت ہے۔ حکومت نے اپنا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔ رہی سہی کسر کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن نے پوری کردی ہے۔ ملک میں اس وقت دو کروڑ افراد بے روزگار ہیں۔ ملکی حالات پہلے سے زیادہ بدتر ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ملک بھر میں 120نئی احتساب عدالتیں قائم کرنے اور پانچ عدالتوں میں ججز تعینات کرنے کا حکم خوش آئند ہے۔ اس سے کرپشن کے معاملات اور زیر التوا ریفرنسز کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔ صرف لاہور میں 300سے زائد نیب ریفرنسز زیر التوا ہیں۔ پاکستان میں عدل کا نظام ہی ابہام کا شکار ہے۔ کئی کئی سال لوگوں کو عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں مگر مقدمات کے فیصلے نہیں ہوتے۔ رشوت نے تمام اداروں کی بنیادوں کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔ غریب عوام کو اپنے جائز حقوق کی خاطر دہائیوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ نیب کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال 5ہزار ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے مگر بد قسمتی سے احتساب کے ادارے خاطر خواہ کارکردگی دکھانے سےقاصر ہیں۔ ملک میں انصاف کا بول بالا ہونا چاہئے۔ ہر کرپٹ شخص چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے یا سیاسی جماعت سے ہی کیوں نہ ہو، اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جانی چاہئے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین