آپ آف لائن ہیں
جمعہ16؍ذی الحج 1441ھ7؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیا عامر کی ٹیم میں واپسی اتنی ضروری تھی؟

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے گزشتہ سال آسٹرالیا میں تین ٹی 20 مقابلوں میں 7.4 اوورز میں 66 رنز کے بدلے ایک وکٹ لینے والے محمد عامر کو اس سال بنگلہ دیش کے خلاف ٹی20 سیریز میں منتخب نہیں کیا تو کرکٹ کے حلقوں میں ان کے اس فیصلے کو پسند کیا گیا ؟

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بورڈ کی طرح چیف سلیکٹر کے فیصلوں میں بھی تسلسل کا فقدان ہے، وہ مصباح الحق جنہیں کوچنگ میں فاسٹ بالر سابق کوچ مکی آرتھر کے قریب بھی نہیں سمجھتے، جن کا مکی آرتھر کے ساتھ موازنہ ان کی نگاہ میں ایک بے وقوفی سے زیادہ نہیں، انہی مصباح الحق نے محمد عامر کو پی سی بی کے توسط سے معلوم ہوا کہ دورہ انگلینڈ کے لیے قائل کر لیا ہے، یہ بات اس لیے سمجھ سے باہر ہے کہ محمد عامر گذشتہ سال خود کو طویل دورانیے کی ٹیسٹ کرکٹ سے علیحدہ کر چکے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ سفید گیند کے ساتھ وہ زیادہ موثر اور کارگر ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ محمد عامر نے 2019ء ورلڈ کپ میں 21.05 کی اوسط سے 8 میچوں میں 17وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن انگلینڈ میں قومی ٹیم ٹیسٹ کے بعد تین ٹی 20 کھیلے گی، جہاں اس طرز کی کرکٹ میں بائیں ہاتھ کے تیز بالر نے تین میچوں میں 89 رنز کے بدلے صرف ایک ہی وکٹ لے رکھی ہے۔

محمد عامر پانچ سال کی پابندی کے بعد ٹی 20 کرکٹ کے جن 30 میچ کھیلے ہیں، وہاں وہ 36 وکٹ ہی لے سکے ، پھر ان کی جانب چیف سلیکٹر کا اس انداز میں متوجہ ہونا سمجھ سے باہر ہے، پانچ سال کی سزا کے بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آنے والے محمد عامر جو اب اپنا مستقبل سفید گیند کی کرکٹ میں دیکھ رہے ہیں.

دراصل سفید گیند کے ساتھ وہ ٹیم پاکستان کے لیے زیادہ مؤثر نہیں رہے، ایسا لکھا جائے تو غلط نہیں ہوگا، پانچ سال کی پابندی کے بعد 46 ون ڈے میں عامر نے 58 وکٹ حاصل کیے، اس کے برعکس واپسی کے بعد انہوں نے جو 9 ٹیسٹ سیریز کھیلیں، وہاں 22 ٹیسٹ میچوں میں ان کی 68 وکٹیں قدرے معیاری پرفارمنس کے زمرے میں آتی ہیں البتہ ٹیسٹ کرکٹ میں محمد عامر خود کو زیادہ تھکانہ نہیں چاہتے ہیں۔

محمد عامر کا خیال ہے کہ انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے بعد تینوں فارمیٹس کھیل کر خود کو مشکل میں ڈالا، اپنی ناقص کارکردگی کو محمد عامر اس عذر کے ساتھ چھپانے کی جو کوشش کر رہے ہیں، اعدادوشمار ان کی مدد کرتے دکھائی نہیں دیتے۔

حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے بعد محمد عامر پاکستان ٹیم کے لیے کھیلے تو فرنٹ لائن بالر کی حیثیت سے  البتہ ان کی کارکردگی محض واجبی سی ہی نظر آتی ہے، مسلسل اوسط درجے کی پرفارمینس کے ساتھ سابق کوچ مکی آرتھر محمد عامر کو کھلاتے رہے۔

انہوں نے دوسرے بالرز بالخصوص جنید خان اور وہاب ریاض کو سفید گیند کرکٹ میں صرف محمد عامر کو موقع دینے کے چکر میں ٹیم سے باہر رکھا، حیران کن امر یہاں یہ ہے کہ محمد عامر نے بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے بعد جو 98 میچ تینوں فارمیٹس میں کھیلے وہاں ایک بار بھی وہ میچ کے بہترین کھلاڑی یعنی مین آف دا میچ ایوارڈ کے حصول میں کامیاب نہیں ہوئے۔

18جون 2017ء کو اوول(لندن) میں چیمپئینز ٹرافی فائنل میں محمد عامر کی 3/16 کی پرفارمینس پر بات کرنے والے یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ بھارتی ٹیم 339 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار تھی۔

پھر سابق ٹیسٹ کپتان اور چیف سلیکٹر انضمام الحق کا سوال بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے جو کہتے ہیں کہ اگر محمد عامر مسلسل کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے تھکاوٹ اور دباؤ کا شکار تھے تو وہ دنیا بھر کی لیگ نہ کھیلتے، سچ تو یہ ہے کہ محمد عامر پاکستان سے ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کا اعلان کر کے انگلش کاؤنٹی ایسیکس کے لیے چار روزہ میچ کھیل رہے تھے، مطلب محمد عامر کی نیت پر تو سوال نہیں کیا جا سکتا، البتہ ان کے معاملات اور انضمام الحق کی بات تو وزن رکھتی ہے۔

گجر خان سے تعلق رکھنے والے 28سال کے فاسٹ بالر نے 2010ء میں اپنے کیرئیر کو چند روپوں کی خاطر داغ دار کیا، اچھا ہوتا کہ فاسٹ بالر اپنے کھیل سے غلطی کو ماضی بنا دیتا البتہ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے۔

محمد عامر کو ورلڈ کپ 2019ء میں ڈراپ کرنا درست فیصلہ تھا، جنہیں ورلڈ کپ سے قبل 15میچوں میں آٹھ وکٹ کی کارکردگی پر موقع نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا البتہ منتخب ہونے والے جنید خان پر ورلڈ کپ شروع ہونے سے پہلے انہیں ٹیم کا حصہ بنا لیا گیا۔

اب بالنگ کوچ وقار یونس کا محمد عامر کے لیے یہ کہنا کہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کہاں کھٹرے ہیں تاکہ ان کے مستقبل کا فیصلہ ہوسکے محض ایک بیان سے زیادہ نہیں ہے کیونکہ سابق ٹیسٹ فاسٹ بالر عاقب جاوید کہتے ہیں کہ مصباح الحق کی طرح پی سی بی میں محمد عامر کے بٹرے چاہنے والے ہیں۔

 حقیقت یہ ہے کہ محمد عامر نہ تو اب نئی گیند سے ٹیم کو وکٹ لے کر دے رہے ہیں نہ آخری اوورز میں گیند دیتے ہوئے سفید گیند کرکٹ میں کپتان ان پر اعتماد رکھتا ہے۔

یہ بات محض خیال نہیں حقیقت پر مبنی ایک تلخ سچ ہے، محمد عامر نے پانچ سال کی پابندی کے بعد جو 46 ون ڈے کھیلے، وہاں 29 ایسے میچ ہیں جہاں انہوں نے دس اوورز ہی نہیں کیے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید