آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

اس سچّی کہانی کا مرکزی کردار، عبداللہ نامی شخص گزشتہ پچاس برس سے انتظار کی طویل سولی پر لٹکا ہوا ہے۔ وہ کس کا منتظر ہے، آئیے اسی کی زبانی سنتے ہیں۔

’’ایک زمانے سے ہمارا خاندان سندھ کے صحرائی علاقے، تھر میں مقیم ہے، جو ’’سیّدوں کا خاندان‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ تھر کے اس وسیع و عریض خطّے میں مقیم قبائلی افراد انتہائی سخت زندگی گزارتے ہیں۔ صحرا میں دور دور تک غربت، افلاس، بھوک پیاس کے مناظر عام ہیں۔ ہمارے آباء واجداد نے اس علاقے کو جب اپنا مسکن بنایا، تو اس بیاباں صحرا میں کسی قسم کی کوئی سہولت نہیں تھی، لیکن ہمارے دادا نے محلّے اور خاندان کے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر دن رات کی محنت سے اس علاقے کو سرسبز و شاداب بنادیا۔ دادا کی کاوشوں کو علاقے کے لوگ قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کی بے پناہ عزت کرتے تھے۔ 1960ء کی دہائی میں ایک خانہ بدوش قبیلہ صحرا نوردی کرتا یہاں آپہنچا۔ صحرا میں ہرطرف سرسبز درخت، گھاس اور پانی دیکھا، توقبیلے کے سردار نے یہیں خیمہ زن ہونے کا ارادہ کیا۔ وہ لوگوں سے پوچھتا ہوا ہمارے دادا جان کی خدمت میں حاضر ہوا اورہاتھ جوڑکے صحرا میں خیمہ زن ہونے کی اجازت طلب کی۔ دادا جان نے گائوں کے چند سرکردہ افراد سے مشورے اور مختصر چھان بین کے بعد چند شرائط کے ساتھ خالی میدان میں انہیں خیمے لگانے کی اجازت دے دی اور اس قبیلے کی بنیادی ضرورتوںکی تکمیل، خاص طور پر پینے کا پانی فراہم کرنے کا حکم بھی صادر فرمادیا۔

ان خانہ بدوشوں کی گزر اوقات جانوروں کی افزایش اور ان کی خرید و فروخت پر تھی۔ کچھ عرصے تک تو اس قبیلے کا کوئی فرد ہمارے قریب نہ آیا، اجنبی اور نووارد ہونے کی وجہ سے ہم بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ کچھ لوگوں سے راہ و رسم ہوئی، تو قبیلے کی چند خواتین نے ہمارے گھر میں کام کاج کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی، چناں چہ انہیں اجازت دے دی گئی۔ اس طرح گائوں میں ان کی آزادانہ آمد و رفت شروع ہوگئی۔ اس قبیلے کی ایک تین سالہ بچّی زیبو بھی اپنی والدہ کے ساتھ ہمارے گھر آتی تھی۔ اس وقت میری عمر چھے سال تھی۔ ہم دونوں جلد ہی ایک دوسرے سے مانوس ہوگئے اور گھنٹوں ساتھ کھیلتے رہتے۔ تھوڑے بڑے ہوئے، تو آس پاس کے مزیدبچّے اور خانہ بدوشوں کے بچّے اکٹھے مل کر کھیلنے لگے۔

کھیل میں، مَیں اور زیبو ہمیشہ ساتھ ہوتے تھے۔ شام ہوتے ہی اس صحرا میں ہر طرف سنّاٹا چھا جاتا۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہر طرف اندھیرے کا راج ہوتا۔ صحرا میں چودھویں کے چاند کی رات خوب رونق ہوجاتی تھی، سب بچّے گھروں سے نکل کر رات گئے تک کھیلتے رہتے۔ اسی طرح کھیلتے کھیلتے وقت کا پتا ہی نہیں چلا اور میں میٹرک میں پہنچ گیا۔ تھوڑا باشعور ہوا، تو بچپن کی شوخیاں، شرارتیں فطری محبت میں بدل گئیں۔ اب میں دن رات زیبو کے بارے میں سوچنے لگا۔ میں اپنی بچپن کی ساتھی کو اپنا جیون ساتھی بنانا چاہتا تھا۔دل میں محبت کی لَو بھڑک رہی تھی، لیکن اظہار نہیں کرسکتا تھا، میں جانتا تھا کہ خاندان کے بزرگ مجھے کبھی ایک اجنبی اور خانہ بدوش قبیلے کی اَن پڑھ لڑکی سے شادی کی اجازت نہیں دیں گے۔ اُدھر زیبو کی حالت بھی مجھ سے کچھ مختلف نہ تھی۔

کچھ عرصے کے بعد صحرا میں خشک سالی شروع ہوگئی۔ طویل عرصے تک بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے گھاس پھونس اورہری بھری فصلیں سوکھنے لگیں۔ بڑی تعداد میں پرندے، جنگلی اور پالتو جانور مرنے لگے، خشک سالی زیادہ بڑھی تو لوگ گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ ایک دن خانہ بدوشوں کا سردار، راجو دادا جان کی خدمت میں حاضر ہوا اور روتے ہوئے کہا کہ ’’ہم زندگی بھر آپ کا احسان نہیں بھولیں گے۔ ہمارے جانور خشک سالی کی وجہ سے مرتے جارہے ہیں۔ ہمیں اجازت دیں، ہم کسی اور علاقے کی طرف نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ دادا بھی اگرچہ ان سے خاصے مانوس ہوچکے تھے، لیکن ان حالات میں وہ انہیں روک نہیں سکتے تھے، لہٰذا چاروناچار اجازت دے دی۔ 

اگلے دن صبح سویرے ان خانہ بدوشوں نے اپنے خیمے اکھاڑنا شروع کردیئے۔ وہ اس ماحول سے بہت مانوس ہوچکے تھے، یہاں سے جانا نہیں چاہ رہے تھے، لیکن نقل مکانی کے سوا کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا۔ قافلہ جب رخصت ہونے لگا، تو زیبو کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کرمیں تڑپ اٹھا۔ اس کی جدائی کے غم سے میرا سینہ پھٹا جارہا تھا، لیکن اسے روکنے سے قاصر تھا۔ بالآَخر مجھے مایوسیوں کے اتھاہ گہرائیوں میں اتار کر وہ قافلہ نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔ مَیں بڑی حسرت و یاس سے اُس وقت تک قافلے کو جاتا دیکھتا رہا،جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگئے۔اور پھر سورج کے ڈوبتے ہی میرا دل بھی ڈوبنے لگا۔

اس دن کے بعد سے آنسوئوں کا نہ ختم ہونے والا ساون شروع ہو گیا۔ ساون کا مہینہ سال میں ایک مرتبہ آتا ہے اور گرج چمک کے ساتھ بارشیں برسا کر چلا جاتا ہے، لیکن یہ کیسا ساون ہے، جو پچاس سال گزرجانے کے باوجود ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ آسمان کا چاند بھی چند دن غائب ہونے کے بعد پھر ہلال بن کر چمکتا ہے، لیکن میرے چاند کو غروب ہوئے پچاس برس بیت گئے ہیں، مگروہ اب تک طلوع نہیں ہوا۔ زیبوکے جانے کے بعد میں بالکل مایوس ہو گیا، خوشیاں مجھ سے روٹھ گئیں، ہنسنا بولنا بھول کر خود کو قیدِ تنہائی میں ڈال لیا۔ ایک وقت تھا مَیں ہر محفل کی رونق ہوتا۔ ہر طرف میرے قہقہوں کی گونج سنائی دیتی، لیکن ارمانوں کا تاج محل ٹوٹنے کے بعد میری حالت دیوانوں کی سی ہوگئی۔ 

میری حالت دیکھ کر میرے دوست اور خاندان کے سب لوگ بہت پریشان تھے، لیکن مجھے اپنا کچھ ہوش نہیں تھا، بس ہر دَم ایک ہی تصویر نگاہوں میں رہتی۔ ایک بار شدّتِ غم سے خودکشی کے لیے کیڑے مار دوا پینے لگا، تو عین موقعے پر چھوٹی بہن نے دیکھ لیا اور شور مچادیا۔ بابا جان کو جب معلوم ہوا اور انہوں نے سختی سے پوچھ گچھ کی، تو میں نے اپنے عشق کی داستان شروع سے آخر تک انہیں سنادیں۔ میری الم ناک داستان سننے کے بعد پہلے تو وہ چند ثانیے سکتے کے عالم میں مجھے گھورتے رہے، پھر بڑے پیار سے گلے لگا کر بہت محبت سے کہا کہ ’’میرے لال! مجھے پہلے کیوں نہ بتایا۔ زیبو کے گھر والے کبھی اس رشتے سے انکار نہیں کرتے، بلکہ وہ تو خوشی خوشی راضی ہوجاتے اور زندگی بھر ہمارے احسان مند رہتے۔‘‘ پھر انہوں نے مجھے بہت سمجھایا کہ جو ہوگیا، سو ہوگیا، اب اس کا خیال دل سے نکال دو۔ مگر میں باوجود ہر کوشش کے اُسے بُھلانے سے قاصر رہا۔ کچھ عرصے کے بعد میری والدہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئیں، تو اس صدمے نے مزید دل برداشتہ کردیا۔ والد میری حالت دیکھ کر تسلّیاں دیتے رہتے، آخر کب تک، چند سال بعد وہ بھی داغِ مفارقت دے گئے۔ والدین کی جدائی اور زیبو کے بچھڑنے کے غم نے مجھے نیم پاگل سا کردیا ہے۔

اب میں اکثر صحرا کی طرف نکل جاتا ہوں اور ہر گزرنے والے قافلے کی طرف دیوانہ وار بھاگ کر جاتا ہوں کہ شاید وہی خانہ بدوش قبیلہ گزر رہا ہے، لیکن قریب جاکر دل برداشتہ ہو کر واپس لوٹ آتا ہوں۔ میری حالت صحرا میں بھٹکے ہوئے، اُس پیاسے کی سی ہوگئی ہے، جو دُور سے چمکتی ریت کو پانی سمجھ کر پیاس بجھانے کے لیے دوڑتا ہے، لیکن قریب جانے پر پتا چلتا ہے کہ وہ تواِک سراب ہے۔ ’’زیبو! ان صحرائوں میں مجھے بھٹکتے پچاس سال سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ میں اب بھی تمہارا انتظار کررہا ہوں، جگر چھلنی ہوچکا ہے اور اب حالتِ نزع میں ہوں، تم جہاں کہیں بھی ہو خدارا اپنے عبداللہ کے پاس آجائو۔‘‘ درد میں ڈوبی اس کی آہ و بکا سننے کے بعد مَیں کچھ دیر تک اُسے خالی خالی نگاہوں سے دیکھتا رہاکہ میرے پاس اسے دلاسا دینے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔اور پھر بوجھل قدموں سے اُٹھ کر چلا آیا۔ (اعجاز احمد، انٹرنیشنل یونی ورسٹی،اسلام آباد)

سُنیے…آپ سے کچھ کہنا ہے…!!

اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا واقعہ محفوظ ہے،جو کسی کردار کی انفرادیت،پُراسراریت یا واقعاتی انوکھے پن کی بنا پر قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث معلوم ہو، تو فوراً قلم اُٹھایئے اور اس صفحے کا حصّہ بن جائیے۔ یہ واقعات قارئین کے شعور و آگہی میں اضافے کے ساتھ اُن کے لیے زندگی کا سفر آسان کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔واقعات بھیجنے کے لیے تحریر کا پختہ ہونا ضروری نہیں،صرف سچّا ہونا لازم ہے۔ نیز اپنا نام و پتا بھی لکھیے تاکہ رابطے کی ضرورت محسوس ہو، تو رابطہ کیا جاسکے۔ہمیں اپنی تحریریں اس پتے پر بھیجیں۔

ایڈیٹر،’’سنڈے میگزین‘‘ صفحہ ناقابلِ فراموش، روزنامہ جنگ، شعبہ میگزین، اخبار منزل، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔