آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ڈیٹ لائن لندن … آصف ڈار


مقبوضہ کشمیرمیں صف ماتم بچھی ہے، پورا پاکستان سرا پااحتجاج ہے جبکہ سابق سیکولر اور آج کے ہندو انتہا پسند ملک انڈیا میں گھی کے چراغ روشن ہیں۔ آر ایس ایس اور ویشوا ہندو پریشد کے دیوانے جشن منا رہے ہیں کہ 5اگست کو انہوں نے ایک اور تاریک تاریخ رقم کردی۔ ایودھیہ میں ساڑھے چار سو سال پرانی مسجد کو شہید کئے جانے کے بعد آج اس کی جگہ پر رام مندر کا سگ بنیاد رکھ دیا گیا۔ اس انتہا پسندانہ اقدام میں خود وزیراعظم نریندر مود ی نے نہ صرف شرکت کی بلکہ انڈیا کو ہندو ریاست بنانے کا ایک اور وعدہ بھی پورا کرنے پر اپنے چیلوں کو مبارک باد بھی دی۔ مودی نے گذشتہ برس آج ہی دن ایک اوروعدہ بھی پورا کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے حصے بخرے کرکے اس کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا اور اس میں سیکڑوں برس سے رہنے والے لا کھوں کشمیریوں کو اپنے ہی ملک میں بے وطن کردیا تھا۔ مودی نے دنیا کے سوا ارب کے قریب مسلمانوں کی توہین کرنے کے لئے بھی 5اگست کا ہی انتخاب کیاتھا۔ اس غیر معمولی واقعہ پر تو ساری اسلامی دنیا میں بے چینی اور غم و غصے کی لہر پیدا ہو جانی چاہئے تھی ۔ 55کے قریب مسلمان ممالک میں سے صرف ایک پاکستا ن ہے کہ جس کے عوام اس توہین آمیز رویئے پر افسردہ اور نالاں ہیں مگر بے بس ہیں کہ وہ سوائے مظاہروں اور احتجاج کے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ کچھ مسلمان ممالک تو بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی زبردستی تعمیر پر اپنی توہین محسوس کرتے ہوئے مودی سے احتجاج کرسکتے تھے۔ اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھا سکتے تھے مگر انڈیا کے ساتھ ان کی تجارت ، مالی مفادات اور دیگر ’’امور‘‘ اس قدر گہرے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون، کشمیری عورتوں کی بے حرمتی، مسلسل کرفیو، انڈین مسلمانوں پر ہندو انتہا پسندوں کے مظالم، مساجد پر حملوں اور اب رام مند ر کی تعمیر جیسے گھنائونے اقدامات پر زبان تک نہیں کھولتے۔ ان کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے خلاف ہونےوالے ان اقدامات پر اپنی توہین محسوس تک نہیں ہو رہی۔ او آئی سی کو اس لئے بنایا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے سیاسی، معاشی اور مذہبی حقوق کا تحفظ کرے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس ادارے پر صرف ایک ملک کی حکمرانی ہے اور وہ ملک مودی کا ریڈ کارپٹ استقبال کرچکا ہے اور انہیں اعزاز سے بھی نواز چکا ہے۔ اس طرح اقوام متحدہ پر بھی ایک ملک کی حکمرانی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر ، فلسطین اور دیگر مسلم امور پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد تک نہیں کروایا جارہا۔ انڈیا کی سفارت کاری اور تجارتی نشہ اس قدر موثر ہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار تصور کئے جانے والے ممالک بھی مقبوضہ کشمیر اور انڈیا کے کروڑوں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر آنکھ موندے ہوئے ہیں۔ انہیں اس سے بھی غرض نہیں کہ ساڑھے چار سو سالہ تاریخی عمارت (بابری مسجد) ہندو انتہا پسندوں نے باقاعدہ حملہ آور ہوکر شہید کردی۔ جبکہ اسی’’مہذب‘‘ دنیا نے اس وقت بہت واویلہ کیا تھا جب افغانستان میں طالبا ن نے بدھوں کی تاریخی عمارتوں کو گرا دیا تھا۔ اگرچہ طالبان حکومت نے بالکل غلط کیا تھا، کسی بھی اقلیت کی مذہبی یا تاریخی عمارتوں کا تحفظ کرنا اس دور کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر وہی قاعدے کا اطلاق مسلمانوں کی عبادگاہوں پر بھی ہونا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ خود مسلمانوں کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ جہاں جہاں وہ اکثریت میں ہیں، آیا وہاں پر اقلیتوں کی کسی بھی صورت میں دل آزاری تو نہیں ہو رہی آیا وہ بھی مسلمان اکثریت کی طرح محفوظ ہیں؟ آیا ان کی عبادتگا ہیں بھی محفوظ ہیں؟ اگر مسلمان اکثریت والے ممالک ان اصولوں کو مدنظر رکھیں گے تو ہی وہ ان ممالک پر تنقید کرنے میں حق بجانب تصور ہو ں گے جہاں( انڈیا کی طرح) مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مودی سرکار گذشتہ چھ برس سے ہندو توا کے نظریئے پر عمل پیرا ہے۔ اس نے آر ایس ایس کے منشور میں شامل دو شقوں (مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اورتعمیر رام مندر کا آغاز) پر عمل درآمد ر کرلیا ہے۔ مگر اس بات کو فراموش نہیں کیا جانا چاہئے کہ آر ایس ایس کے منشور میں نہ صرف پاکستان کی جانب بہتے ہوئے دریائوں کا پانی بند کرکے اسے (خدانخواستہ) صحرا میں تبدیل کرنا اور بالآخر پورے برصغیر میں ایک ہندو ریاست کا قیام بھی شامل ہے۔ سوچنا یہ ہوگا کہ پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور علاقے کے دوسرے ممالک اس حوالے سے کیا حکمت عملی تیار کرتے ہیں؟۔

یورپ سے سے مزید