آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان دنیا کے ان اٹھائیس (28) ممالک میں شامل ہے جنہوں نے وفاقی طرز حکومت اپنایا ہے۔ پاکستان میں وفاقیت گزشتہ سات دہائیوں کے طویل ارتقائی عمل سے گزری ہے۔ اس طویل سفر میں کئی مشکل مراحل اور بحرانوں کے ساتھ ساتھ کچھ کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں ۔ ملکی تاریخ کی اس طویل مسافت کو جانچنے سے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ زیرنظر مضمون میں پاکستان میں وفاقیت کے مختلف مراحل کو آئینی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔

……٭٭……٭٭……

تاریخی طور پر وفاقی طرزِ حکومت زیادہ تر ان ممالک میں اپنایا جاتا رہا ہے جن کا رقبہ اور آبادی زیادہ رہی ہے۔ ایسے ممالک میں جن کا رقبہ یا آبادی زیادہ ہوتی ہے، وہاں نسلی، لسانی اور ثقافتی تنوعات کے بھی زیادہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ یکساں نوعیت کی آبادی والے ممالک کو اس طرح کے اداروں کی ضرورت نہیں ہوتی جیسی متنوع آبادی والے ممالک کو ہوتی ہے۔ 

ایک وسیع علاقے پر پھیلی ہوئی متنوع آبادی کے لیے ایسے سیاسی نظام کی ضرورت ہوتی ہے جو آبادی کے ہر حلقے یا گروہ کی ضروریات کو پورا کرسکے ،اور اگر یہ نسلی، لسانی وثقافتی گروہ مخصوص علاقوں میں پھیلے ہوں تو اس صورت میں علاقائی اور جغرافیائی اکائیاں وجود میں آتی ہیں ،جنہیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے قانونی اور سیاسی انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ وفاقی نظام میں دو سطح کی حکومت ہوتی ہے۔ ایک وہ جو کہ پورے ملک پر حکومت کرتی ہے اور دوسری علاقائی حکومت، جس کی عملداری مخصوص خطے پر ہوتی ہے۔

پاکستان کے لیے وفاقی نظام کی اہمیت

تاریخی طور پر کم از کم تین اہم عناصر ایسے تھے جن کے باعث پاکستان کے لیے وفاقیت ناگزیر تھی۔ پہلا یہ کہ غیر منقسم ہندوستان میں صوبائی خودمختاری جناح کی قیادت میں مسلم لیگ کا مسلسل مطالبہ رہی۔ 1947کی آزادی سے قبل تین دہائیوں تک جناح نے مسلسل مسلم صوبوں کی تعداد میں اضافے، صوبوں کے لیے زیادہ خودمختاری اور تمام صوبوں کے لیے ایک جیسی خودمختاری کے لیے دلائل دیے۔ اس عرصے کے دوران جناح کبھی طاقتور مرکز کے خلاف بات کرنے سے نہیں ہچکچائے۔ ان کی یہ کوشش کہ مسلم اکثریتی صوبوں کی تعداد میں اضافہ ہو، متحدہ ہندوستان کے وفاق میں مسلمانوں کو بہتر مقام دلانے کی ایک کوشش تھی۔ جب متحدہ ہندوستان میں مسائل کے حل کی ان کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں تو جناح نے مسلم اکثریتی صوبوں اور ان کے اندر موجود ریاستوں پر مبنی الگ فیڈریشن کا مطالبہ کر دیا۔

دوسرا یہ کہ ہندوستان کو تقسیم کرنے کے لیے جو طریقۂ کار طے کیا گیا اور مسلم اکثریتی صوبوں کے الگ وفاق کا قیام جس طرح عمل میں لایا گیا اس نے بھی نئے ملک کے لیے وفاقیت کی راہ متعین کر دی۔ اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا غیرمنقسم ہندوستان کے مسلم اکثریتی صوبے بھارتی فیڈریشن میں رہنا چاہتے ہیں یا اپنی الگ فیڈریشن بنانا چاہتے ہیں، ان صوبوں کو فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا۔

اگر چہ پہلے دونوں عناصر ماضی اور ملک کے قیام کے تاریخی تناظر سے متعلق تھے، لیکن تیسرے عنصر کا تعلق پاکستانی معاشرے کی ساخت سے ہے۔ پاکستان میں رہنے والے لوگ مختلف ثقافتوں کی نمائندگی کرتے ہیں، مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف لسانی شناخت رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور مختلف سماجی روایات کی پیروی کرتے ہیں تاہم صدیوں کے باہمی روابط کے باعث ان کے درمیان بہت سی یکسانیت بھی ہے۔ اس طرح کے متفرق اور متنوع معاشرے کو وفاقیت کے اصول پر ہی ایک ریاست میں پرویا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے ابتدائی آئینی مسائل

عوام کی توقعات کے برعکس، جو تحریک پاکستان کے جذبے سے مالا مال تھے، جن مقاصد کے پیشِ نظر پاکستان قائم کیا گیا تھا وہ آزادی کے بعد پورے نہیں ہوسکے۔ بانی پاکستان قائداعظم کے انتقال کے بعد منظر سے سب سے مؤثر شخصیت ہٹ گئی۔ چونکہ انہوں نے ملک کی تشکیل میں فیصلہ کن کردارا دا کیا تھا لہٰذا خیال یہی ہے کہ اگر وہ کچھ اور عرصہ زندہ رہتے تو ملک کو آئین سازی کی راہ پر بھی ڈال دیتے۔

پہلی دہائی میں پاکستان ایک ایسے آئین کی تلاش میں سرگرداں رہا جو اس کے مختلف خطوں کو ساتھ مل کر چلنے کے لیے درکار اعتماد فراہم کرسکتا۔ پہلا آئین تشکیل دینے میں نوسال لگ گئے۔ یہ آئین وفاقیت کی روح سے عاری، اور ترغیب وتحریص کے ذریعے کروائے گئے سمجھوتوں کا حاصل تھا۔1956میں اپنایا گیا یہ آئین محض اڑھائی سال ہی نکال سکا اور اکتوبر 1958 میں آئین توڑ دیا گیا اور مارشل لا نافذ کردیا گیا۔ فوجی حکمران ایوب خان نے 1962 میں نیا آئین دیا جو کسی آئین ساز اسمبلی یا کسی آئینی اجتماع (Convention) نے نہیں بلکہ ایوب خان کی کابینہ کے چند وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی نے تیار کیا۔ لیکن اسے سات سال بعد ہی ایک اور فوجی حکمران یحییٰ خان کو اقتدار کی منتقلی کے وقت خود ایوب خان نے توڑ نے کا اعلان کیا۔ تیسرا آئین 1973میں تشکیل دیا گیا، ملک کے پورے آئینی سفر کے دوران وفاقیت اہم عنصر رہا۔ 

پہلی دہائی کے دوران مشرقی اور مغربی حصے کے درمیان اختلافات رہے۔ مشرقی بنگال ملک کے مغربی حصے سے زیادہ آبادی کا حامل تھا۔ اس لیے اس نے آبادی کی بنیاد پر نمائندگی کا مطالبہ کیا لیکن یہ اصول حکمران طبقے کے لیے ناقابل قبول تھا۔ اگر چہ دیگر آئینی مسائل بھی تھے جیسا کہ طرزِ حکومت، ریاست اور مذہب کا تعلق وغیرہ لیکن اصل اختلاف مرکز اور صوبوں کے تعلقات اور دونوں بازووں کے درمیان نمائندگی پر تھا جو کہ حل کرنا سب سے مشکل ثابت ہوا۔ تاہم 1954 میں محمد علی بوگرہ فارمولا ملک کے دونوں حصوں کے اہم سیاسی حلقوں کو قریب لانے کا باعث بنا لیکن یہ ملک کی سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لیے ناقابل قبول تھا۔ ان اداروں نے ریاستی ڈھانچے پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔ 

اس کے نتیجے میں آئین ساز اسمبلی کو تحلیل کر دیا گیا اور ایک وفاقی عدالت نے گورنر جنرل کے فیصلے کی توثیق کر دی۔دوسری آئین ساز اسمبلی 1955میں وجود میں آئی۔ اس سے قبل ملک کے مغربی حصے میں شامل صوبوں اور ریاستوں کوضم کر کے وحدتِ مغربی پاکستان، ون یونٹ کی شکل میں قائم کی گئی۔ ساتھ ہی کہا گیا کہ اب چونکہ ملک کے مشرق اور مغرب میں دو ہی صوبے ہیں، لہٰذا ان میں نمائندگی کا تناسب برابر برابر ہوگا۔ برابری (Parity)کے اس مصنوعی اصول کی بنیاد پر دوسری آئین ساز اسمبلی نے 1956کا آئین تشکیل دیا۔ اس کی بنیاد ایک غیر حقیقی اور مشکل سمجھوتے پر رکھی گئی جس میں مغربی حصے کے تین صوبوں اور تمام دس ریاستوں کو ملا کر ایک صوبہ مغربی پاکستان کے نام سے قائم کیا گیا۔ 

یہ محض اس بنا پر کیا گیا کہ ملک میں صرف دوصوبے مشرقی اور مغربی پاکستان ہوں گے تو آبادی کی بنیاد پر نمائندگی کے مشرقی پاکستان کے مطالبے کو رد کر دیا جائے گا۔ چنانچہ یہی کیا گیا اور کہا گیا کہ اب آبادی کی بنیاد پر نمائندگی کی کوئی ضرورت نہیں۔ یوں مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان برابری نافذ کر دی گئی۔ یہ اسکیم مغربی حصے کے چھوٹے صوبوں کے سیاسی رہنمائوں کی اکثریت کی جانب سے مسترد کردیے جانے کے باوجود نافذ کی گئی، یہاں تک کہ دونوں حصّوں کے وہ سیاستدان جنہوں نے پہلے اس کو منظور کیا تھا،وہ بھی بعد میں اس کے مخالف ہوگئے۔

1958 میں فوج کے اقتدار سنبھالنے کی ایک وجہ ون یونٹ کے تسلسل کو یقینی بنانا بھی تھا۔ ایوب کے 1962 کے آئین میں بھی اس کو شامل کیا گیا۔ جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت کے دوران شدید عوامی مخالفت کے باعث ون یونٹ کو ختم کر کے سابقہ صوبے بحال کیے گئے۔ مزید یہ کہ برابری کے اصول کو ختم کر کے ’’ایک شخص ایک ووٹ‘‘ کا اصول نافذ کیا گیا جس کی بنیاد پر 1970ے انتخابات منعقد ہوئے۔

تاہم انتخابی نتائج نے پاکستانی معاشرے کی تقسیم کو ظاہر کر دیا۔ اس میں زیادہ واضح خلیج ملک کے مشرقی اور مغربی حصوں کے درمیان نمایاں ہوکر سامنے آئی۔ اس آئینی اور سیاسی بحران کو فوجی آپریشن کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی اور جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا باعث بنی۔ پاکستان ایک قابلِ عمل وفاقی نظام کوتشکیل دینے میں ناکامی کے باعث اپنے قیام کی ایک چوتھائی صدی کے اندر ہی دولخت ہوگیا۔

مشرقی اور مغربی حصے کے عدم توازن کا مصنوعی انداز سے حل نکالنے اور برابری(Parity) کے غلط فارمولے کے علاوہ بھی 1956اور 1962کے دساتیر میں ایسے کئی نکات تھے جن کے ملکی اتحاد پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ان میں سب سے اہم شدید قسم کی مرکزیت تھی جس کو ان دساتیر نے رواج دیا۔ دونوں دساتیر میں اختیارات کی ایسی تقسیم کی گئی جس میں تمام اہم امور مرکز کے پاس رکھے گئے۔حتیٰ کہ وہ امور بھی جو صوبوں کو دیے گئے ان میں بھی زیادہ تر پالیسی سازی مرکز کے پاس رہی۔ مزید یہ کہ مالی امور خاص طور پر مرکز کے پاس رکھے گئے اور صوبوں کو مالی معاملات میں مرکز پر انحصار کرنا پڑا۔

1973کے آئین کی وفاقیت

1973 کا آئین کئی طرح سے اہمیت کا حامل ہے۔ پچھلے دو دساتیر کے برعکس یہ عوام کے منتخب نمائندوں نے بنایا۔ اسے آئین ساز اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ آئین میں ایسے ادارے قائم کیے گئے جو وفاقی طرزِ حکومت میں عمومی طور پر موجود ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر آئین نے دو ایوانی قانون ساز ادارہ تشکیل دیا جس میں ایوانِ زیریں ، یعنی قومی اسمبلی، میں نمائندے براہِ راست عوام سے منتخب ہو کر آتے ہیں جبکہ ایوان بالا، یعنی سینیٹ، وفاقی اکائیوں کی برابری کے اصول پر قائم کیا گیا ہے۔

اسی طرح آئین نے وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار طے کر دیا۔ اس میں مرکز اور صوبوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ادارے قائم کیے گئے۔ تاہم آئین ابھی بھی مرکزیت پسندی کی جانب مائل تھا۔ اسی حقیقت کے باعث، آنے والی دہائیوں میں سیاسی قیادت، خاص طور سے صوبائی خودمختاری کے علمبردار رہنما اور جماعتیں آئینی اصلاحات اور زیادہ صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کرتی رہیں۔ اصلاحات کی ضرورت آئین کی منظوری کے وقت سے ہی محسوس کی جاتی رہی تھی۔ اسی لیے آئین کو حتمی شکل دینے کے دوران اس وقت صدارت کے منصب پر فائز ذوالفقار علی بھٹو نے اپوزیشن سے وعدہ کیا تھاکہ دس سال بعد مکمل آئینی پیکج پر نظر ثانی کی جائے گی۔ ایک موقع پر وہ اس بات پر قائل ہوچکے تھے اور دوسروں کو بھی قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ آئین میں موجود مشترکہ مضامین کی فہرست(Concurrent List) کو دس سال بعد ختم کر دیا جائے گا اور اس میں درج مضامین صوبوں کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

عدم مرکزیت کامطالبہ سیاسی جماعتوں کے منشوروں میں اہم جگہ حاصل کرتا رہا۔ 1973کے آئین کی منظوری کے بعد دونوں فوجی حکومتوں کے دوران سیاسی قائدین کے درمیان جو اتحاد قائم ہوئے، خواہ وہ بحالی جمہوریت کی تحریک (MRD)ہو جو کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں شروع کی گئی یا’ میثاق جمہوریت ‘ہو جس پر2006 میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کے درمیان دستخط ہوئے، یا پھر اس کے نتیجے میں لندن میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس ہو، ہر موقع پر صوبائی خودمختاری کا مطالبہ، بحالی ٔ جمہوریت کے تصور کا لازمی حصہ قرار پایا۔ اس مطالبہ کو 2008 کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی سویلین حکومت میں زیرِ غور لایا گیا اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کی صورت میں اس پر عمل درآمد کیا گیا۔ اٹھارہویں ترمیم کو پاکستان کے وفاقی آئین کی نوعیت میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جاسکتا ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد پاکستان میں وفاقیت

اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کے وفاقی طرزِ حکومت کی نوعیت میں بڑی تبدیلی کا سبب بنی اور اس میں کافی حد تک عدم مرکزیت آگئی۔ کم از کم آٹھ ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جن میں مرکز اور صوبوں کے تعلقات میں فرق پڑا۔پہلا، اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد پارلیمنٹ ،پاکستانی ریاست کی وفاقی نوعیت کی زیادہ عکاس نظرآتی ہے۔ سینیٹ کی نمائندگی میں اضافہ کیا گیا جس سے صوبوں کو زیادہ آواز ملی۔ اسی طرح گورنروں کی تعیناتی کے صدارتی اختیار میں تبدیلی کی گئی۔ پہلے وہ وزیر اعظم کی ’’مشاورت‘‘ (consultation)سے تعیناتی کرتا تھا اب وزیراعظم کی ’سفارش‘ (recommendation) پر کرتا ہے۔ پہلی صورت میں حتمی اختیار صدر کے پاس تھا۔ اب یہ اختیار وزیراعظم کے پاس ہے جو پارلیمنٹ سے منتخب ہوتا ہے۔ نیز آئین کی ایک اور شق کی رُو سے صدر، وزیراعظم کی سفارش کو رد نہیں کرسکتا۔اس سے ایک طرف تو پارلیمانی نظامِ حکومت کو مضبوطی ملی تو دوسری طرف منتخب انتظامیہ کی صوبوں سے قربت میں اضافہ ہوا۔

دوسرا، صوبوں اور مرکز کے انتظامی تعلقات پر نظر ثانی کی گئی۔ پہلے، آرٹیکل 144میں پارلیمنٹ کو ایک یا زیادہ صوبوں کے بارے میں ایسے موضوعات پر قانون سازی کا اختیار حاصل تھا جو کہ وفاقی لسٹ میں شامل نہ ہوں۔ اب اس میں ترمیم کر کے صوبائی اسمبلی کو یہ حق دیا گیا کہ وہ پارلیمنٹ کی جانب سے کسی ایسی قانون سازی کو ختم یا اس میں ترمیم کر سکے۔ اسی طرح آرٹیکل 147 میں صوبوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنے دائرہ کار میں آنے والے انتظامی اختیارات کو مرکز کو سونپ سکتے ہیں۔ اب اس میں اضافہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت کو مرکز کو سپرد کیے گئے اختیارات کی ساٹھ(60) دن کے اندر صوبائی اسمبلی سے توثیق کرانی ہوگی۔

تیسرا، آئین کی وفاقی نوعیت میں اہم تبدیلی قانون سازی کے اختیارات کی تقسیم میں ہوئی۔ اس سلسلے میں سب سے اہم اقدام مشترکہ فہرست (Concurrent List) کا خاتمہ اور مشترکہ مفادات کی کونسل کے اختیارات میں اضافہ تھا۔ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے سے بعض امور وفاقی فہرست کے حصہ دوم میں منتقل نہیں کیے گئے جو کہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ اسی طرح وفاقی لسٹ کے حصّہ اوّل میں آنے والے کچھ امور کو حصّہ دوم میں منتقل کردیا گیا ۔ اس میں سائنسی اور تکنیکی تحقیق کی منصوبہ بندی اور رابطہ شامل ہیں۔ اسی طرح کچھ امور کو وفاقی فہرست میں شامل کیا گیا ۔ اس میں بین الاقوامی معاہدے، کنونشن اور بین الاقوامی امور شامل ہیں۔

مزید یہ کہ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے بعد جن امور کو وفاقی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا وہ ان بقایا امور کا حصہ بن گئے جن پر صوبوں کا مکمل اختیار ہے۔ کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے اہم فیصلے کے بعد سترہ(17)وفاقی وزارتیں ختم ہوگئیں۔ اس سے صوبوں کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوا اور انہیں کم از کم چونتیس(34) نئی ذمہ داریاں سپرد کی گئیں۔

چوتھا، اٹھارہویں ترمیم کے بعد مشترکہ مفادات کی کونسل ایک زیادہ اہم ادارہ بن گیا اور اس کے ارکان اور ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔ کونسل کی صدارت وزیرِ اعظم کرتے ہیں۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور تین وفاقی ممبر کونسل کاحصّہ ہوتے ہیں۔ مشترکہ مفادات کی کونسل کا الگ سیکریٹریٹ ہے۔ کونسل کی تشکیل وزیرِ اعظم کے انتخاب کے تیس (30) دن کے اندر کرنا ضروری ہے اور اس کا ہر تین ماہ میں کم از کم ایک اجلاس ہونا لازم ہے۔ مشترکہ مفادات کی کونسل کی ذمہ داریوں میں وفاقی فہرست کے حصّہ دوم میں شامل امور پر پالیسیوں کی تشکیل اور قانون سازی شامل ہیں۔ اس کی ذمہ داریوں میں متعلقہ اداروں کی نگرانی بھی شامل ہے۔

پانچواں، بین الحکومتی تعلقات میں ایک اور اہم ادارہ قومی اقتصادی کونسل ہے۔ اس ادارے کے تیرہ (13) ارکان ہوتے ہیں جن میں وزیر اعظم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی، چاروں صوبوں سے متعلقہ وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے نامزد ایک ایک ممبر اور وزیراعظم کے نامزد کردہ چارارکان شامل ہوتے ہیں۔ قومی اقتصادی کونسل بنیادی طور پر ایک مشاورتی ادارہ ہے جو کہ چاروں صوبوں اور وفاقی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں میں ربط اور ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

چھٹا، اٹھارہویں ترمیم کے بعد قومی مالیاتی کمیشن کا کردار بھی بڑھ گیا اور صوبوں کو پہلے کی نسبت زیادہ مضبوط بنا دیا گیا ۔ یہ لکھ دیا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ اس سے کم نہیں ہوگا جتنا کہ پچھلے ایوارڈ میں رکھا گیا تھا۔ قومی مالیاتی کمیشن کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کو ایوارڈ پر عملدرآمد کی صورتحال پر رپورٹ پیش کرنا ہوتی ہے۔

ساتواں، کسی صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے یہ واضح کر دیا گیا کہ اس کا نفاذ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر صدر کسی صوبے میں اپنے طور پر ایمرجنسی نافذ کرتا ہے تو اس کی دس روز کے اندراندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے توثیق ضروری ہے۔

آٹھواں، صوبوں کی معاشی اور مالی پوزیشن میں بہتری کی ایک اہم شق، بعض وسائل کی مشترکہ ملکیت سے متعلق ہے۔ چنانچہ آرٹیکل 172کی شق 2 میں کہا گیا کہ کسی صوبے میں پائی جانے والی معدنیات یا قدرتی گیس پر صوبے اور وفاقی حکومت کا مشترکہ حق ہوگا۔

اٹھارہویں ترمیم میں درجہ بالا تبدیلوں سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں وفاقیت اس وقت اس سے بہت مختلف ہے جو اس ترمیم کے منظور ہونے سے قبل تھی۔ مرکزی اور صوبائی دائرہ کار کی واضح حد بندی کے بعد، یہ توقع کی جاتی رہی ہے کہ صوبوں کے درمیان تعلقات بھی نئی وفاقیت کی روح کے مطابق چلائے جائیں گے۔ تاہم انسانی معاشرے کبھی بھی مسائل سے آزاد نہیں ہوتے۔ اس لیے مستقبل میں صوبوں کے درمیان ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات اور کام کے حوالے سے مسائل کھڑے ہونے کا امکان موجود تھا۔ کسی آئینی شق کی مختلف صوبے اپنے مطابق مختلف تشریح کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے امور کو مختلف اداروں مثلاً سینیٹ، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یا براہِ راست مشترکہ مفادات کی کونسل میں حل کیا جاسکتا ہے۔

اگر چہ اٹھارہویں ترمیم نے متعدد امور کا احاطہ کیا اور صوبوں کے طویل المدتی مطالبات کے بعض مثبت حل پیش کیے ،لیکن نئی وفاقیت کو کئی چیلنجوں کا بھی سامنا ہو سکتا تھا ،جنہیں مرکز اور صوبوں میں موجود سیاسی قیادتوں اور جماعتوں کوحل کرنا تھا۔ آئینی شقیں زیادہ سے زیادہ ایک طریقۂ کار طے کرسکتی ہیں اور ریاست کا انتظام چلانے کے لیے اصول وضع کرسکتی ہیں۔ تاہم ان کو سمجھنا،ان پر عملدرآمد اور ان کی عملی تشریح ان افراد پر منحصر ہوتی ہے جو ان کو چلا رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے بہت زیادہ انحصار ان افراد کے سیاسی عزم پر ہوتاہے جو اس عدم مرکزیت پر مبنی وفاقی نظام کو چلا رہے ہوتے ہیں۔ چونکہ نظام پہلے مرکزیت پر مبنی تھا اس لیے ان افراد کی ذہنیت کو بھی تبدیل ہونے کی ضرورت تھی۔ ماضی کی آمرانہ اور مرکزیت پر مبنی ذہنیت نئے آئینی انتظام کے ساتھ نہیں چل سکتی تھی۔ اسی طرح نئی وفاقیت کی کامیابی کے لیے ضروری تھا کہ ان امور پر صوبوں کی استعدادِ کار میں بھی اضافہ کیا جائے جہاں نئی صوبائی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ان کے پاس استعداد موجود نہیں تھی۔

اٹھارہویں ترمیم کی کارکردگی

پاکستان میں وفاقیت طویل مدت کے ارتقائی عمل اور مشکل مراحل سے گزری ہے نیز کئی غلطیوں اور مشقوں سے ہو کر آگے بڑھی ہے۔اٹھارہویں ترمیم ایک سنگ میل ہے۔ مگر یہ کہنا بہت بڑا دعویٰ ہوگا کہ اس ترمیم کے بعد ہمارا وفاقی نظام ایک مکمل وفاقی نظام بن گیا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ اب بھی دستور میں وفاقیت کی روح کی کارفرمائی کے نقطۂ نظر سے ترمیم واضافے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ پھر یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کو کتابِ دستور کا حصّہ بنے ہوئے اب دس سال ہو رہے ہیں۔ یہ اتنی مدت ضرور ہے کہ عوام یہ دیکھیں کہ اس ترمیم کے نتیجے میں اُن کی زندگیوں میں کیا معنوی تبدیلی آئی ہے۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اس دوران کیا صوبوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے؟

جہاں تک اٹھارہویں ترمیم کے عملی حاصلات کا تعلق ہے، یہ کہنا بجا ہوگا کہ کچھ شعبوں میں یقینا صوبوں کی صورتِ حال بہتر ہوئی۔ صوبوں کے مالیاتی وسائل میں اضافہ ہوا اور بعض صوبوں نے ان اضافہ شدہ وسائل کو استعمال میں لا کر چند ایک شعبوں میں کم از کم مقداری اضافہ کیا۔بنیادی ڈھانچے (Infrastructure)کی تعمیر میں بھی ترقی دیکھی گئی گو کہ یہ بھی سب صوبوں میں ایک سطح پر نہیں ہوئی۔ پنجاب میں سڑکوں اور برسرِ سڑک ٹرینوں کی تعمیر کی گئی۔

خیبر پختونخوا میں بھی سڑکوں کی تعمیر دیکھی جاسکتی ہے۔ تعلیمی اداروں کی تعمیرو توسیع (معیارِ تعلیم سے قطع نظر) بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ دیکھی گئی۔ مگر یہ حاصلات، صوبوں کے تقاضوں اور صوبائی حکومتوں کے دعوئوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ تمام شعبہ جات کا فرداً فرداً جائزہ لیا جائے تو کم از کم تین حقائق سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم حقیقت تو یہ ہے کہ کرپشن ہمارے جملہ شعبہ ہائے حیات کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔ جب اختیارات اور وسائل بڑی حد تک مرکز کے پاس تھے، تو کرپشن کی عملداری مرکز میں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی تھی۔ اب اختیارات اور وسائل صوبوں کی طرف بھی آئے ہیں تو اپنے ساتھ کرپشن کا رجحان بھی لائے ہیں اور صوبے جو پہلے بھی کرپشن سے محفوظ نہیں تھے، کرپشن کے نئے منطقوں کو چھو رہے ہیں۔

دوسری اہم حقیقت یہ ہے کہ اختیارات کی مرکز سے صوبوں کو منتقلی بجائے خود کوئی انقلاب آفریں بات نہیں ہوتی۔ اصل بات اختیارات اور وسائل کی عدم مرکزیت کا تصور ہے جس کا تقاضا ہے کہ اختیارات اور وسائل مرکز سے صوبوں تک آنے کے بعد، صوبوں ہی کی سطح پر نہ رک جائیں بلکہ صوبوں سے نیچے اُتر کر مقامی حکومتوں اور گلی محلّے تک پہنچیں۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں جب کبھی صوبے کو کوئی اختیار ملتا ہے تو صوبائی حکومت، صوبائی بیوروکریسی، اور یہاں تک کہ صوبائی اسمبلیاں بھی اس اختیار کو اپنے تک رکھنا چاہتی ہیں۔ وہ خاص طور سے مالیاتی وسائل کو نچلی سطح تک پہنچانے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک عام شہری مرکز سے اختیارات کے صوبوں تک آنے پر، کم از کم اپنی روزمرہ کی زندگی میں کوئی خاص بہتری نہیں محسوس کرتا۔

تیسری اہم حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ دس برسوں میں یہ بھی نظرآیا کہ بعض صوبوں نے نئے اختیارات کو روبہ کار لانے میں دشواری محسوس کی۔ صوبوں کے پاس ہر شعبے میں نہ تو فعال افراد موجود تھے اور نہ ہی ان کے پاس نئے نظام کو احسن طریقے سے چلانے کی صلاحیت (capacity)موجود تھی۔ جہاں جہاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ صلاحیت پیدا کر لی گئی، وہاں کارکردگی بہتر ہوتی گئی اور اٹھارہویں ترمیم کے حاصلات نظرآنے لگے۔مگر جہاں یہ صلاحیت پیدا نہیں ہوئی یا اس طرف توجہ نہیں دی گئی، وہاں نہ تو عوام کو دینے کے لیے کچھ ہے اور نہ اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے کوئی بہانہ دستیاب ہے۔

پاکستان میں عدم مرکزیت کی حامل وفاقیت اور صوبائی خودمختاری کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ جہاں اس عدم مرکزیت کے سفر کو جاری رکھا جائے وہیں جو آئینی اصلاحات اب تک ہوئی ہیں اُن کو اُن کی روح کے مطابق روبہ عمل لایا جائے۔ اس سلسلے میں بنیادی کردار سیاسی جماعتوں کو ادا کرنا ہوگا کیونکہ وہی ایک جمہوری معاشرے میں شہریوں اور ریاست کے درمیان واسطے کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اس سلسلے میں سول سوسائٹی کا کردار بھی مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ سول سوسائٹی کی تنظیمیں ہی ہیں جو حکومتوں کی کارکردگی پر نظر رکھتی اور ان کو اصلاحِ احوال کے لیے مشورے دیتی ہیں۔ پاکستان میں وفاقی نظام کی کامیابی کا دارومدار بھی بڑی حد تک انہی دونوں حلقوں پر ہے۔