آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تُلسی داس کے اشعار سنائے، پھر کہنے لگے کہ وہ کسی مذہب کو غلط نہیں سمجھتے بلکہ ہر مذہب کی حقانیت کے قائل ہیں۔ ہندودھرم کے نظریۂ آواگون کو تو بہت بڑی حقیقت مانتے تھے۔ ’’تمام مذاہب ایک ہی آفاقی سچائی کی جانب جاتے ہیں۔ ارجن کرشن کو کہتا ہے، توُ نے اتنے روپے دِکھائے تو یہ ہزاروں فرقے کیسے ہیں؟‘‘کرشن کہتا ہے’’مجھ سے ملنے جو کوئی جس راستے سے آتا ہے، میں اُس سے اُسی راستے میں ملتا ہوں۔ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے، اسی طرح مذاہب انسان کو زیادہ انتخاب کی آزادی اور مواقع دیتے ہیں۔ 

یہ انسان کی انفرادیت مجروح نہیں ہونے دیتے۔ یوں خلقت کی رنگا رنگی دنیا کی خوب صورتی میں اضافہ کرتی ہے‘‘ جوگی، سنت، سادھوؤں کے بارے میں بتانے لگے کہ ایسے جوگی ہوتے تھے، جو اپنے بدن کو راکھ سے لیپ لیتے تھے، چنداتنے کم خور ہوتے کہ ہڈیوں کا ڈھانچا بن جاتے، کچھ ناخنوں اور بالوں کو اتنا بڑھا لیتے کہ مونچھ، داڑھی چہرہ ڈھانپ لیتی اور ہونٹ نظر نہ آتے۔ ان کے بال اتنے بڑھ جاتے کہ انھیں رسّیوں کی شکل دے کر درختوں کے تنوں، شاخوں پر کمند کی مانند پھینکتے، جو ان کے گرد لپٹ جاتے اور یہ بندروں کی مانند اُن سے جھولنے لگتے۔ چند ایسے بھی تھے، جو تنفّس پر اس حد تک قدرت حاصل کرلیتے کہ خود کو زمین میں دفنا لیتے اور گھنٹوں بعد زندہ باہرنکل آتے۔ ایسے سادھو انھوں نے اپنی آنکھوں سے یا تو لاہور میں دسہرے کے تہوار پر دیکھے یا پھر آوارہ گردیوں کے دوران۔

نیک لوگ پوری انسانیت کو ہم دردی، محبّت اور درگزرکی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جو راہِ راست پر نہیں، اُسے محبّت اور پرچار سے رستے پر لاتے ہیں۔ جب تک کوئی انسان موت کا لباس نہ اوڑھ لے، اُس کا بھلائی کی جانب لوٹ آنے کا امکان رہتا ہے۔ نیک لوگ آخری لمحے تک انتظار کرتے ہیں، اس سے پہلے فیصلہ صادر نہیں کرتے۔ ’’شہاب نامہ‘‘ اردو کی معروف ترین سرگزشتوں میں سے ایک ہے۔ اُس کے چند مندرجات پر احباب نے اعتراض بھی کیا، جو یقینا قابلِ بحث ہے۔ البتہ بھلائی کا قیمتی پتھر جہاں بھی ملے، اُسے چن لینا چاہیے۔ اس سرگزشت میں قدرت اللہ شہاب کی شخصیت کا بطور انسان ایک ایسا پہلو ضرور سامنے آتاہے، جو قابلِ ستایش اور قابلِ تقلید ہے۔ وہ پہلو اُن کی صراحتِ نظر (Clarity of thought)ہے۔ علما اور صوفیا یقین کے تین مدارج بیان کرتے ہیں، ’’علم الیقین‘‘ یعنی جاننے کی حد تک علم، ’’عین الیقین‘‘ یعنی مشاہدے کی حد تک یقین اور ’’حق الیقین‘‘ یعنی تجربہ کرکے قطعی طور پر یقین ہوجانا۔ حق الیقین یقین کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔ 

جو لوگ اس درجے کو تجربے یابغیر تجربے کے پالیتے ہیں، وہ خوش نصیب لوگ ہیں کہ ان کے اندر کا بحرِتلاطم ٹھیر جاتا ہے اور وہ شانت ہوجاتے ہیں۔ عبادت و مراقبہ یک سوئی عطا کرتے ہیں، جو مطلوبِ اوّل ہے۔ شہاب صاحب خود نوشت کے ابتدائی باب میں لکھتے ہیں ’’دین کے بارے میں مَیں کبھی کسی شک وشبے یا تذبذب میں گرفتار نہیں ہوا۔ دین کے متعلق میرا علم محدود اور عمل محدود تر ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنی بےنیازی سے مجھے اسلام کی بعض جھلکیوں کی نعمت سے محروم نہیں رکھا۔‘‘ خواہش یا نظریے اور عمل میں فرق ایک عمومی انسانی خطا ہے۔ حق الیقین کی خواہش ہونا ایک خُوب صُورت بات ہے، اس تک پہنچ نہ پانا انسانی کوتاہی ہے۔ یقیناً ہر انسان کی صلاحیت میں فرق ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ اقبال ؒ سے کسی نے پوچھا کہ اُن کی عملی زندگی اُن کی شاعری کا عکس نہیں۔ فکرو عمل میں یہ فرق کیوں کرہے؟ اقبال ؒ نے جواب میں فرمایا ’’اپنے فکروقول پر عمل کرنا انبیا ؑکا خاصّہ ہے۔ مفکر کا کام فکر پیش کرنا ہے۔‘‘ اپنے فکر یا قول کے اُلٹ کرنا منافقت یا دوغلاپن کہلاسکتا ہے، جب کہ اس پر پورا نہ اترپانا کوتاہی ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ گاڑی کے موجد کا کام گاڑی کی ایجاد تھا۔ اب اس پر لازم نہیں کہ وہ اس کا بہترین ڈرائیور بھی ہو۔ 

کوئی دوسرا اس سےبہتر ڈرائیور ہوسکتا ہے۔ ایک کوچ کا کام کھلاڑی کی راہ نمائی ہے، بہترین کھلاڑی ہونا نہیں۔ حق الیقین کےحوالے سے شہاب صاحب نے’’سرابِ منزل‘‘ عنوان کے باب میں اپنے سفرِحج کے حوالے سے دو خاندانوں کے چشم کُشا اور دل افروز واقعات اِن الفاظ میں رقم کیے ہیں۔ ’’نالے کے کنارے میرے بالکل قریب بہاول پور کے ایک خاندان نے ڈیرا لگایا ہوا تھا۔ ایک بوڑھے میاں بیوی کے ساتھ ان کی جوان بہو تھی۔ بڑے میاں تو خاموش بیٹھے حقّہ پیتے رہتے تھے، لیکن ساس،بہو میں بات بات پر بڑی طویل لڑائی ہوا کرتی تھی۔ لڑائی میں ہار اکثر بہو کی ہوتی اور ہرشکست کے بعد وہ روتی ہوئی اُٹھ کھڑی ہوتی اور ساس سے کہتی’’اچھا، تم نے جتنا ظلم کرنا ہے، مجھ پر کرلو۔ مَیں ابھی جاکر طواف کرتی ہوں اوراللہ میاں کے پاس اپنی فریاد پہنچاتی ہوں۔‘‘ یہ دھمکی سُنتے ہی اُس کی ساس فوراً پسیج جاتی اور بہو کا دامن پکڑ کر بڑی لجاجت سے کہتی’’نہ بیٹی نہ، تُو تو میری بیٹی ہے۔ ایسی غلطی نہ کرنا، خواہ مخواہ کوئی الٹی سیدھی بات منہ سے نہ نکال بیٹھنا۔ 

طواف میں جو منہ سے نکل جائے، وہ پورا ہوکے رہتا ہے۔‘‘ یہ ڈراما رات دن میں کئی بار ہوتا تھا۔ ایک روز بڑی شدید گرمی تھی۔ دوپہر کے وقت اچانک آندھی آئی اور تیز بارش ہونے لگی۔ نالے کے کنارے مقیم حاجیوں کا سامان کیچڑ میں لت پت ہوگیا۔ اب ساس اور بہو میں بڑی سخت چخ چخ ہونے لگی۔ غصّے میں آکر ساس نے بہو کو چوٹی سے پکڑ لیا اور جھنجھوڑ جھنجوڑ کر کہنے لگی ’’آج صبح طواف میں یہ حرام زادی کہہ رہی تھی۔ اللہ میاں بڑی گرمی ہے، اللہ میاں بڑی گرمی ہے۔ اللہ میاں بارش، اللہ میاں بارش۔ اری کالے منہ والی، تمھیں پتا نہیں، یہاں ہر دُعا قبول ہوجاتی ہے؟لے اب بارش کا مزا چکھ۔ اب یہ سامان تیرا باپ آکے سُکھائے گا…‘‘اس خاندان سے ذراہٹ کر ایک جوان جوڑے کا بسیرا تھا۔ یہ میاں بیوی بے اولاد تھے اوربچّے کی آرزو لے کر حج کرنے آئے تھے۔ اپنا پہلا طواف کرکے یہ واپس آئے تو بیوی نے بڑے وثوق سے کہا کہ اب اُن کی مراد ضرور پوری ہوجائے گی، کیوں کہ طواف کے دوران اُس نے اللہ تعالیٰ سے بچّے کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگا۔’’لڑکا مانگاتھایاصرف بچّہ مانگا تھا؟‘‘خاوند نے وکیلوں کی طرح جرح کی۔’’لڑکے کی بات تو میَں نےنہیں کی۔ فقط بچّہ مانگنے کی دُعا کرتی رہی۔‘‘ بیوی نے جواب دیا۔’’رہی نہ اُوت کی اُوت‘‘خاوند نے بگڑ کر کہا’’اب اللہ کی مرضی ہے، چاہے تو لڑکا دے، چاہے تو لڑکی دے۔ اب وہ تجھ سے پُوچھنے تھوڑی آئے گا۔ اس وقت لڑکے کی شرط لگا دیتی تو لڑکا ہی ملتا۔ یہاں کی دُعا کبھی نامنظورنہیں ہوتی۔‘‘یہ سُن کر بےچاری بیوی بھی کف افسوس ملنے لگی۔ 

پھر چہک کر بولی ’’کوئی بات نہیں۔ تم فکر نہ کرو۔ ابھی بہت سے طواف باقی ہیں۔ اگلی بار میں اپنے اللہ کو لڑکے کے لیے راضی کرلوں گی۔‘‘ان سیدھے سادے مسلمانوں کا ایمان اس قدر راسخ تھا کہ خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہی وہ کوہ طور کی چُوٹی پر پہنچ جاتے تھے اور اپنے معبود حقیقی سے رازونیاز کرکے نفس مطمئنہ کا انعام پاتے تھے۔ ان سب کو حق الیقین کی دولت حاصل تھی اور وہ بڑی بےتکلفی سے اپنی اپنی فرمائشیں رب کعبہ کے حضور پیش کرکے کھٹاکھٹ قبولیت کی مہرلگوا لیتے تھے۔ اُن کےمقابلے میں مجھے اپنی نمازیں، اپنے طواف، اپنی دُعائیں بےحد سطحی، کھوکھلی، بےجان، جعلی، نقلی اورفرضی نظر آنے لگیں۔ 

میرا جی چاہتا تھا کہ مَیں اُس لڑاکا ساس اور بہو اوراُس نوجوان کی بے اولاد بیوی کے پاؤں کی خاک تبرّک کے طور پر اپنے سَر پر ڈالوں تاکہ کسی طرح مجھے بھی اُن کے یقینِ محکم کا ایک چھوٹا سا ذرّہ نصیب ہو۔‘‘ یقین میں پختگی کے حوالے سے ایک حکایت ہے۔ ایک بستی میں خشک سالی کا تیسرا برس تھا۔ فصلیں غائب ہوچُکی تھیں اور دھول اُڑاتی زمین خُشکی کی وجہ سے جابجا چٹخ رہی تھی۔ ٹنڈ منڈ درخت نمی نہ ہونے کی وجہ سے کڑمڑا رہے تھے اور بستی میں بہنے والی واحد ندی کا صرف نشان باقی رہ گیا تھا۔ نہ جانے درختوں پر گھونسلے بنانے والے پرندے کدھر ہجرت کرگئے تھے۔ پرندوں میں فقط گِدھ ہوا میں چکرکاٹتےنظرآجاتےتاکہ کسی تازہ مرے ہوئے مویشی سےضیافت کاسامان پیدا کریں۔ ساکنانِ بستی بھی ہجرت پر آمادہ تھے، مگر جانتے نہ تھے کہ کہاں کا رُخ کریں۔ بالآخر وہ سب مرکزی میدان میں اکٹھے ہوئے اور فیصلہ کیا کہ اللہ سے گڑگڑا کر بارش کی دُعا کی جائے۔ بستی میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتےتھے۔ 

بحث چِھڑ گئی کہ خدا سے کلیسا، مسجد، مندر یا یہودیوں کے معبد، کہاں جاکے دُعا مانگی جائے۔ خاصے بحث مباحثے اوراختلاف کے بعد طے پایا کہ اُس رات کُھلے آسمان تلے اُسی میدان میں اللہ سے اجتماعی دعا کی جائے۔ رات کو ہر مذہب کے ماننے والے اپنی اپنی مذہبی کتاب تھامے ٹوپی، چادر عمامہ وغیرہ پہنے میدان میں اکٹھے ہوگئے۔ آسمان پر بادل کا گالا تک نہ تھا، شفّاف آسمان دن بھر کی حدّت کے بعد اب ٹھنڈا پڑ رہا تھا۔ مذہبی کتب تھامے مرد وزن ابھی دُعا کے لیے تیار ہوئے ہی تھے کہ میدان کے ایک جانب سے ایک بچّہ اور بچّی کوئی شےتھامے داخل ہوئے۔ جب وہ لوگوں کے گروہ کے پاس پہنچے تو ان میں سے ایک فرد نے بچّے سے پوچھا ’’تمھاری کتاب کہاں ہے اور یہ تم کیا تھامے چلے آرہے ہو؟‘‘یہ سُن کر اُس بچّے نے وہ شے کھول دی۔ ایک جانب بزعمِ خود درست لوگ مذہبی صحائف تھامے کھڑے تھے اور دوسری جانب وہ چھوٹے بہن بھائی پرُیقین انداز میں چھتری کھولے کھڑے تھے۔ اُنھیں اپنے اللہ کی رحمت پر اتنا یقین تھا کہ وہ اپنے ساتھ چھتری لے آئے تھے۔

پاؤلوکوئیلہو مشہور معروف دانش ور اور ادیب ہے۔ اس نے ایک سادہ دل بندے کے یقین اور راست فہمی پر ایک حکایت لکھی ہے۔ ایک شام منڈی سے واپسی پرایک کسان نے دیکھا کہ وہ اپنی دعائیہ کتاب گھر بھول آیا تھا۔ اُس کے چھکڑے کا ایک پہیّہ بیچ جنگل کے نکل گیااور اسے خدشہ لاحق ہو گیاکہ وہ ہر شام پڑھی جانے والی اپنی دُعا نہ پڑھ پائے گا۔ وہ نیم خواندہ سادہ دیہاتی آدمی تھا اور دعائیں زبانی یاد بھی نہ تھیں۔ خاصی سوچ بچار کے بعد اُس نے یہ دُعا مانگی’’اے میرے رب!آج مَیں نے بہت ہی احمقانہ حرکت کی ہے۔ مَیں اپنی دعائیہ کتاب گھر بھول آیا ہوں اور زبانی مجھے ایک بھی دُعا یاد نہیں ۔ اے میرے پیارے رب! میرے پاس ایک ہی رستہ بچتا ہے۔ مجھے حروف ِ تہجّی زبانی یاد ہیں۔ 

مَیں انھیں الف سے لے کر یے تک پانچ بار آہستہ آہستہ ترتیب میں پڑھ دوں گا۔ اے رب! توُ سب علم رکھنے والا ہے اور سب دُعائیں جاننے والا ہے۔ اِن حروف کو خُود ہی اُن دُعاؤں کی شکل میں ترتیب دے لے، جو مَیں پڑھتا ہوں۔‘‘ رب نے فرشتوں سے کہا ’’آج کے روز مجھ تک جتنی بھی دُعائیں پہنچیں، یہ اُن میں سب سے بہترین دُعا تھی کیوں کہ یہ اُس دل سے نکلی تھی، جو پاک اور مخلص ترین تھا۔‘‘ اس کے برعکس شکی اور منفی ذہن کے حوالے سے ایک فکاہیہ حکایت ہے۔ ایک مرتبہ ایک لامذہب بوڑھی عورت اپنے پانچ سالہ پوتے کو لیے ساحل سمندر پر چہل قدمی کررہی تھی۔ بچّے نے تیراکی کا لباس پہن رکھا تھا، سر پر ٹوپی تھی، ایک ہاتھ میں بالٹی اور دوسرے میں چھوٹا سا پلاسٹک کا بیلچہ تھا ۔ کبھی وہ بچہ سمندر کی لہروں سے کھیلتا تو کبھی وہاں ریت سے قلعے اور عمارات بنانے لگتا۔ 

ایک جانب ٹیک لگائے، بڑھیا کو اونگھ آگئی۔ یک دَم ایک بڑی لہر آئی اور سمندر بچّے کو نگل گیا۔ اُسی وقت بڑھیا کی آنکھ کُھلی تو بچّے کو ساحل پر نہ پاکر وہ سب معاملہ سمجھ گئی۔ ہڑبڑا کر اُسے کچھ اور تو نہ سُوجھا، پس وہ زمین پر سجدہ ریز ہوگئی اور گِڑگِڑانے لگی ’’اےخدا! اگر تیرا کوئی وجود ہے، تو تُو میرے پوتے کو بچالے۔ مَیں وعدہ کرتی ہوں کہ اپنی گزشتہ کوتاہیوں کا مداوا کروں گی۔ مَیں خدمت ِ خلق کروں گی اور ہراُس جگہ جاؤں گی جو تجھے خوش کرتی ہے، مَیں تیری عبادت کروں گی۔‘‘جس طرح یک دَم ایک بڑی لہر بچّے کو سمندر کے اندر لے گئی تھی، اُسی طرح یک دَم ایک بڑی لہر نے باہر اُگل کربچّے کو ساحل پر چھوڑ دیا۔ 

دادی لپک کر بچّے تک گئی، اُس کے دل کی دھڑکن محسوس کی، رخساروں کا رنگ دیکھا اور اُسے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے دیکھا۔ یہ سب دیکھ کر بڑھیا خوش ہونے کے بجائے تذبذب اور پریشانی میں مبتلا نظر آئی۔ دھیرے سے وہ کھڑی ہوئی،اپنےدونوں ہاتھ اپنی پشت پررکھے اور آسمان کی جانب شہادت کی انگلی بلند کرکے چلّائی’’اس نے ٹوپی پہن رکھی تھی،وہ ٹوپی کہاں ہے؟‘‘یعنی منفی نظر والے بہترین شے میں بھی حسب ِ منشا خامی تلاش کرلیتے ہیں۔

صحت، معاشی خوش حالی، مطمئن خاندانی زندگی، ورزش، خیرات، مثبت زاویۂ نظر، عبادت، یقین وایمان کے علاوہ ایک اوراہم چیز جس پر جدید معاشروں میں خاصا زور دیا جاتا ہے،کم ازکم ایک مشغلہ یعنی hobby پالنا ہے۔ اس میں باغ بانی، کھاناپکانا، رقص وموسیقی، مصوّری، کوہ پیمائی، گُھڑسواری، مطالعہ، لکھائی، سلائی کڑھائی، لکڑی کا کام اور دیگر کئی مشاغل شامل ہیں۔ پالتو جان وَر جیسے کہ کتّا، بلّی، پرندے، خرگوش، مرغ بانی اور ماہی پروری( مچھلیاں پالنا) بھی ان مشاغل میں شامل ہیں۔ درختوں، پودوں اور باغیچوں کو گود لیجیے۔ جیسے بچّوں کو گود لیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں لوگ پودے لگاتے ہیں اور ان کی پرورش اولاد کی طرح کرتے ہیں۔ اسے ’’درختوں کو گود لینا‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ درخت، پھل، پھول، سائے اور خوش نمائی سے خلقت کو خُوشی دیتے ہیں اور اپنے لگانے والے کے لیے صدقۂ ٔجاریہ ہوتے ہیں۔ 

اولاد معاش اور دیگر وجوہ کی بنا پر والدین کو چھوڑ کر جاسکتی ہے، درخت کہیں چھوڑ کر نہیں جاتے۔ ان پر بیٹھتے اور رہتے رنگا رنگ پرندے بھی قدرت کی زبان اپنی میٹھی بولیوں میں بولتے ہیں۔ اسی طرح ایک ترکیب ’’باغ گود لینا‘‘ عام استعمال میں ہے۔ اس میں ایک اجڑے یاخستہ حال باغ کو ایک علاقے کے صاحب ِ دل لوگ گود لے لیتے ہیں یعنی وہ اُسے صاف کرواتے ہیں، جھاڑ جھنکار دور کرتے، کھادپانی کاانتظام کرتے ہیں۔ یوں نہ صرف ان کے مشغلے کی تسکین ہوجاتی ہےبلکہ انسانیت کا بھی بھلا ہوجاتا ہے۔ نطشے نے قدرت کے حوالے سے کیا خوب کہا تھا ’’ہم قدرت کے بیچ رہنا پسند کرتے ہیں، اس لیے بھی کہ یہ ہمارے بارے میں رائے قائم نہیں کرتی۔‘‘ غیر شعوری طور پر ہم لوگوں کی رائے کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اپنی زندگیاں لوگوں کی توقعات کے مطابق گزار کریا ان پر پُورا اترنے کی کوشش کرتے رزقِ خاک ہوجاتے ہیں اور پھر یہ عام لوگ پلک جھپکتے ہی ہمیں بھلا دیتے ہیں۔ مشاغل میں تال میل اور موسیقی کا تذکرہ ہو تو پھر نطشے سامنے آجاتا ہے، بھلے علامتی طور پر سہی، جب وہ کہتا ہے ’’اور وہ جنھیں ناچتادیکھ کر دیوانہ سمجھا، اُن لوگوں نےجو موسیقی نہیں سُن سکتے تھے۔‘‘ہمارا لہو ایک تال، ایک ردھم میں رَگوں، نسوں میں دوڑتا ہے، دل ایک تال میں دھڑکتا ہے اور سانس بھی ایک تال میں آتی ہے۔ 

تال میل تو جزوِ بدن ہیں۔ پیدل چلنے کی ضرورت یا مشغلے کے حوالے سے کیا خُوب بات ہے کہ ماضی بعید کے سقراط سے لے کر ماضی قریب کے کانٹ اور روسو وغیرہ کو اہم ترین خیالات چہل قدمی یا چلنے کے دوران آتے تھے۔ نطشے نے تو اس پر کہابھی تھا’’تمام بڑے خیالات چلنے کے عمل سے برآمد ہوتے ہیں۔‘‘ امریکا کی مشہور درس گاہ، اسٹین فورڈ یونی ورسٹی کی ایک تحقیق کےمطابق پیدل چلنے سے تخلیقی صلاحیت نمایاں طورپربڑھ جاتی ہے۔ اس نے اپنی سنجیدہ نوعیت کی تحقیق میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا موازنہ پیدل چلنے والے لوگوں سے کیا اوران کا تجزیہ کیا تو یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر ایک بیٹھنے والا شخص، چلنے کی عادت ڈال لیتاہے تو چلتے ہوئے اس کے دماغ کی تخلیقی فعالیت میں ساٹھ فی صد اضافہ ہوجاتا ہے۔ (جاری ہے)