آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بلدیہ فیکٹری میں 260 افراد زندہ جلانے کے مقدمے کا فیصلہ، 2 کو موت، 4 کو عمرقید کی سزا، 4بری

بلدیہ فیکٹری میں 260 افراد زندہ جلانے کے مقدمے کا فیصلہ


کراچی (اسٹاف رپورٹر) سانحہ بلدیہ فیکٹری میں جھلس کر جاں بحق ہونے والے 260 افراد کے لواحقین کو 8 سال بعد انصاف مل گیا ۔ 

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ایم کیو ایم کے سابق سیکٹر انچارج رحمان بھولا اور زبیر چریا کو260؍ بار سزائے موت اورمجموعی طورپر 132سال قید بامشقت سمیت بھاری جرمانوں کی سزا سنادی۔

عدالت نے سہولت کاری اور اعانت جرم میں فیکٹری ملازمین شاہ رخ لطیف، علی محمد، ارشد محمود اور فضل احمد کومجموعی طورپر 50 سال قید بامشقت کی و جرمانے کے ساتھ ساتھ دیت ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہےجبکہ فاضل عدالت نے عدم ثبوت پر ایم کیو ایم کے رہنما محمد عبدالرؤف صدیقی، عمر حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار اور مسماۃ اقبال ادیب خانم کو بری کردیا ہے۔

مقدمہ کے مرکزی ملزمان حماد صدیقی اور علی حسن قادری کیخلاف مقدمہ داخل دفتر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔تفصیلات کے مطابق منگل کو سینٹرل جیل میں قائم جوڈیشل کمپلیکس کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت ہوئی۔ 

سماعت کے دوران جیل حکام کی جانب سے گرفتار ملزمان عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو پیش کیا گیا ۔ 

اس موقع پر ضمانت پر رہا ملزمان ایم کیو ایم کے رہنما رؤف صدیقی، عمر حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار، مسماۃ اقبال ادیب خانم، فضل احمد ،ارشد محمود،علی محمد، فیکٹری منیجر شاہ رخ پیش ہوئے۔ 

سماعت کے موقع پر رینجرز پراسیکیوٹر، ملزموں کے وکلا اور ایس ایس پی ایسٹ ساجد سدوزئی بھی عدالت میں موجود تھے۔ 

سماعت سے قبل جیل انتظامیہ کی جانب سے عدالتوں میں سیکورٹی سخت انتظامات کیے گئےتھے اور پولیس کی اضافی نفری بھی جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف تعینات کی گئی تھی۔ اسکے علاوہ صحافیوں پر عدالتی احاطے میں داخلے پرپابندی بھی عائد کی گئی تھی۔ 

سماعت سے قبل مقدمہ میں نامزد ملزمان چہروں پر پریشانی کے اثار نمایاں تھےاور ملزمان اپنے ساتھیوں سے بھی اپنی پریشانی کا اظہار کرتے دکھائی دیئے۔ بعد ازاں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ 

گزشتہ سماعت پر عدالت کی جانب سے مقدمہ کا فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ سنایا گیا جہاں استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہی۔ تحریری حکم نامے کے مطابق ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کو انسداد دہشت گردی کی دفعہ دفعہ سات اے کے تحت 2بار سزائے موت دو لاکھ روپے فی کس جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

دونوں مجرموں کو دفعہ 302 کے تحت 264 افراد کے قتل میں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت کی سزا کا حکم دیا گیا ہےاور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 بی کے تحت دونوں ملزمان کو دو بار عمرقیدیعنی 50سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ دو لاکھ روپے فی کس جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے، جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزمان کو مزید 6 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ 

فاضل عدالت نے دہشت گردی کے دوران ذخمی کرنے، دہشت گردی کے دوران آگ لگاکرانسانی جانوں کوخطرے میں ڈالنے آتش گیر مادے سے عمارت کو تباہ کرنے ،بھتہ طلب کرنا،بھتے کےلیے قتل کی کوشش اور بھتے کیلئے قتل کرنے کے جرم میں مجموعی طورپر82 سال قید بامشقت کی سزائیں سنائیں ہیں۔ 

سہولت کاری اور اعانت جرم میں شاہ رخ لطیف، علی محمد، ارشد محمود اور فضل احمد کو 2بار عمر قیدیعنی 50 سال قید کی سزااور دو لاکھ فی کس جرمانہ عائد کیاگیا ہے۔

چاروں ملزمان کو متاثرین کو دیت ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ دیت کا حکم حکومت کی جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق27 لاکھ 353 روپے فی کس متاثرین کو ادا کیا جائیگا۔چاروں ملزمان ضمانت پر رہاتھے جنہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا گیاہے۔ 

عدالت نے عدم ثبوت و شواہد پر ایم کیو ایم کے رہنما محمد عبدالرؤف صدیقی، عمر حسن قادری، ڈاکٹر عبداستار اور مسماۃ اقبال ادیب خانم کو عدم ثبوت کی بنا پربری کردیا ہے۔ تحریری فیصلہ ڈھائی سو صفحات پر مشتمل ہے۔ 

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے مقدمہ کے مرکزی ملزمان حماد صدیقی اور علی حسن قادری کے خلاف مقدمہ داخل دفتر کرنے کا حکم دیا ہے اور ملزمان کوگرفتاری کی صورت میں عدالت میں پیش کیا جائے، عدالت نے ملزمان کے تاحیات وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دیدیا، ملزمان کی گرفتاری کی صورت ان کے خلاف مقدمہ دوبارہ بحال کردیا جائیگا۔ 

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرمان 15دن میں اپیل کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ استغاثہ کے مطابق 11 ستمبر 2012 کو بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگائی گئی، آتشزدگی کے باعث 259 مزدور جھلس گئے تھے ، مقدمہ میں استغاثہ کی جانب سے768 گواہوں کی فہرست عدالت میں جمع کرائی گئی تھی جس میں سے 400 گواہوں کے بیانات قلمبند کیئے گئےجبکہ 364 گواہوں کے نام نکال دیئے گئے تھے ۔ 

جن گواہان کے بیانات قلمبند کیئے گئے ان میں زخمی، عینی شاہدین، جاں بحق افراد کے لواحقین، ڈاکٹرز، فارنزک اور کیمیکل ایکسپرٹ، فیکٹری مالکان ، جے آئی ٹی کے تفتیش کار، سابق و موجودہ تفتیشی افسران سمیت دیگر محکموں کے افسران شامل ہیں ۔

جن سے واضح ہے کہ فیکٹری میں آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی۔ مقدمہ میں گرفتار ملزم رحمان بھولا اپنے اعترافی بیان میں فیکٹری مالکان کی جانب سے بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگانے کا اعتراف بھی کرچکا ہے۔

فیکٹری میں آگ متحدہ کے حماد صدیقی کے حکم پر لگائی گئی تھی آگ لگانے میں زبیر چریا نے اہم کردار ادا کیا جبکہ رؤف صدیقی نے آگ لگانے کے بعد فیکٹری مالکان پر دباؤ ڈالنے کیلئے ان ہی کیخلاف مقدمہ درج کرادیا تھا اور بعد میں مالکان سے 4 سے 5 کروڑ روپے بھتہ بھی طلب کیا تھا ۔ 

سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر مقدمہ کی دوبارہ تفتیش ہوئی اور جے آئی ٹی قائم کی گئی جس نے تفتیش کرکے اصل حقائق سامنے لائے تھے۔ 

مقدمہ میں متحدہ کا بلدیہ سیکٹر انچارج رحمن بھولا اور زبیر چریا گرفتار تھے جبکہ متحدہ رہنما رؤف صدیقی ، علی محمد ، ارشد محمود ،فضل احمد جان ، شاہ رخ لطیف، عمر حسن قادری اور ڈاکٹر عبدالستار ضمانت پر رہا تھے، مقدمہ میں متحدہ کے حماد صدیقی اور علی حسن قادری مفرور ہے جسے اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے ۔ 

کیس کی شروعات سے انجام تک کئی اہم موڑ آئے ہیں ، ان آٹھ سال کے دوران تقریباً 170 سماعتیں ہوئی ہیں۔ گیارہ ستمبر 2012 کو ڈھائی سو خاندانوں پر قیامت ٹوٹی اور 12؍ ستمبر 2012 کو فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جس کے بعد 14 ستمبر 2012 کو فیکٹری مالکان عبدالعزیز بھائیلہ ، ارشد بھائیلہ اور راشد بھائیلہ نے سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کی ۔

 عوامی دباؤ بڑھا تو سندھ حکومت نے 12 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج زاہد قربان علوی کی سربراہی میں متاثرین کو معاوضہ دینے کےلیے ٹریبونل قائم کردیا گیا ۔ایم کیو ایم کارکنوں رضوان قریشی کے خلاف تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی۔ 

7فروری 2015 کو پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی پھر 23 فروری 2016 کو ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی نے بھی یہی رپورٹ دی اور مقدمہ میں دہشت گردیاں کی دفعہ بھی شامل کرنے کی سفارش کی گئی جس پر بعد میں 11 مارچ 2017 کو مقدمہ انسداد دہشت گردیاں کی عدالت منتقل کردیا گیا ۔

19 ستمبر 2019 کو مقدمہ میں اہم موڑ آیا فیکٹری مالک ارشد بھائیلہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرایا گیا ۔

21 نومبر 2019 کو استغاثہ کی جانب سے شواہد مکمل کئے گئے اور عدالت میں3 فروری 2020 کو فریقین کے وکلا کے حتمی دلائل کا آغاز ہوا۔2 ستمبر کو دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا گیا۔

11 ستمبر 2012ء کراچی کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، اس دن بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹر پرائز فیکٹری جل کر خاکستر ہوگئی تھی، بھڑکتے شعلوں نے روزی کمانے کی غرض سے گھروں سے نکلنے والے سیکڑوں ملازمین کو زد میں لے لیا تھا۔

ملازمین فیکٹری میں اپنے اپنے کام میں مصروف تھے کہ دن دیہاڑے ظالموں نے فیکٹری کو آگ لگادی، آگ پھیلنے سے فیکٹری میں بھگدڑ مچ گئی۔

اہم خبریں سے مزید