آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ربیع الاوّل 1442ھ28؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کابینہ میں پیش کردہ اینٹی ریپ ایکٹ 2020ء کی نمایاں خصوصیات

اسلام آباد (انصار عباسی) ریپ کی روک تھام کیلئے تیار کیے گئے قانون کے مسودے (اینٹی ریپ انوسٹی گیشن اینڈ پراسیکوشن ایکٹ 2020ء) کو منگل کے دن کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا، اس میں اجتماعی زیادتی میں ملوث ملزمان کیلئے سزائے موت کی تجویز پیش کی گئی ہے جبکہ ایسے لوگوں کیلئے بھی سزائے موت تجویز کی گئی ہے جو ریپ کرکے قتل کا ارادہ کرتے ہیں۔

قانون کے مسودے میں زانیوں کیلئے ’’سر عام پھانسی‘‘ کی تجویز شامل نہیں ہے حالانکہ وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے سے بیان بھی دیا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ زانیوں کو سر عام پھانسی دے کر انہیں عبرت کا مقام بنایا جائے۔ قانون کا مسودہ وزیراعظم کے مشیر برائے امُور داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے پیش کیا۔

اس میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ ایسے مجرموں کو کیمیائی عمل کے ذریعے نامرد کیا جائے جو ماضی میں بھی اس گھنائونے فعل کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ زنا کی کوشش میں ملوث افراد کیلئے 7؍ سے 14؍ سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ ان تمام جرائم کو ناقابل ضمانت، ناقابل مصالحت اور قابل دست اندازی پولیس قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس مجوزہ قانون کی خصوصیات میں یہ باتیں شامل ہیں کہ اس معاملے میں تحقیقات اور پراسیکوشن صنفی لحاظ سے حساس ہوں گی، ’’ریپ‘‘ اور ’’مرضی‘‘ کی جامع تشریح کی جائے، اسپیشل کورٹس تشکیل دی جائیں، متاثرہ شخص کی شناخت کا تحفظ کیا جائے، شخص کو بچے، مرد، عورت اور خواجہ سرا کے طور پر تشریح کی جائے، سماعت بند کمرے میں ہونا چاہئے، شواہد ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنا چاہئیں، عبرت ناک سزائیں مثلاً کیمیائی عمل کے ذریعے نامرد بنانا جیسے اقدامات کیے جائیں، نیشنل کمیشن برائے اسٹیٹس آف ویمن اور ریپ کرائسس سیل جیسے ادارے تشکیل دے کر صورتحال کی نگرانی کی جائے، متاثرین کی بحالی اور انہیں قانونی معاونت فراہم کی جائے جبکہ مجرموں کی نفسیاتی بحالی کیلئے اقدامات کیے جائیں؛ جیسی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر ریپ کرائسس سیل کی قیادت خواتین پولیس افسران کریں گی جن کا گریڈ بالترتیب 21، 20؍ اور 18؍ ہوگا۔ ریپ کیسز کی تحقیقات کیلئے مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ گریڈ 17؍ یا اس سے بڑے گریڈ کی خاتون افسر سے تحقیقات کرائی جائیں، انہیں صنفی حساسیت کے معاملات کی تربیت بھی دی جائے گی۔

تحقیقات 30؍ دن میں مکمل کی جائے۔ جنسی جرائم میں ملوث افراد کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ تیز رفتار اور موثر پراسیکوشن کیلئے، مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ خصوصی عدالتیں تشکیل دی جائیں، سرکاری وکیلوں کو تعینات کیا جائے اور خواتین پریزائڈنگ افسران کو مقرر کیا جائے۔ ریپ کیس کا ٹرائل 45؍ دن میں مکمل کیا جائے۔

متاثرہ شخص کی شناخت چھپانے کیلئے مقدمے کی سماعت بند کمرے میں کی جائے۔ ٹرائل کے دوران گواہی اور متاثرین کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے۔ مجوزہ قانون کابینہ کی لیجسلیٹو کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔

لاہور موٹر وے کے حالیہ واقعے کے بعد، وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ قانون میں سخت سزائیں شامل کی جائیں گی تاکہ زانیوں کو عبرت کا مقام بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نے یہ کام مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر کو دیا تھا کہ نیا قانون لایا جائے تاکہ ملک میں خواتین، بچوں اور خواجہ سرائوں کے ساتھ ریپ کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کیے جا سکیں۔

اہم خبریں سے مزید