آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل نشست کیلئے بھارت کے مطالبے کو گزشتہ روز پاکستانی مندوب نے یکسر مسترد کرتے ہوئے یہ کہہ کر حقیقتِ حال کی بالکل درست نشان دہی کی کہ عالمی معاملات میں اہم فیصلے کرنے والے حساس بین الاقوامی ادارے میں ایک فسطائی ریاست کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ اُن کا یہ ردِعمل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اُس خطاب پر تھا جس میں اُنہوں نے سلامتی کونسل کی مستقل نشست کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمیں کب تک انتظار کرنا پڑے گا؟‘‘۔ پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے بھارت کی اِس خواہش کو دیوانے کا خواب قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ دنیا ایک بدترین فسطائی ریاست کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہرگز نہیں دیکھنا چاہتی۔ اُنہوں نے صراحت کی کہ اقوامِ متحدہ میں اصلاحات پاکستان بھی چاہتا ہے لیکن وہ غیرمستقل ارکان کی تعداد میں اضافے کا حامی ہے کیونکہ سلامتی کونسل کے غیرمستقل ارکان کی تعداد جو فی الوقت دس ہے، بڑھاکر بیس اکیس تک کردی جائے تواس فیصلہ ساز مجلس میں اقوامِ متحدہ کے 193ارکان کی بہتر نمائندگی ہوسکے گی۔ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے کم ازکم تیس رکن ممالک سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں کے بجائے غیرمستقل نشستوں میں اضافے کے حامی ہیں۔ سلامتی کونسل کا مستقل رکن چین بھی جو اپنی

اس حیثیت کی بنا پر ویٹو پاور بھی رکھتا ہے، اسی موقف کا علم بردار ہے۔ تاہم بھارت کے علاوہ برازیل، جرمنی اور جاپان بھی سلامتی کونسل کی مستقل نشست کے حصول کیلئے کوشاں ہیں اور ان کی جانب سے حال ہی میں اصلاحات کے نام پر اس مطالبے کا اعادہ کیا گیا ہے لیکن غیرمستقل ارکان میں اضافے کے پاکستانی موقف کی معقولیت اور ضرورت پاکستانی مندوب کی جانب سے پیش کئے گئے ان حقائق کی روشنی میں پوری طرح واضح اور قابلِ فہم ہے کہ اس کے نتیجے میں تمام بڑی، درمیانی اور چھوٹی ریاستیں جن میں افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ملک خاص طور پر شامل ہیں، اِس بین الاقوامی فیصلہ ساز ادارے میں بہتر نمائندگی حاصل کرسکیں گی۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کی عالمی سطح پر کوئی مؤثر نمائندگی نہیں اور بین الاقوامی فیصلوں میں جن کا عملاً کوئی حصہ نہیں ہوتا جبکہ غیرمستقل ارکان میں اضافہ پانچ مستقل ارکان کے اختیارات کو بھی متوازن کرنے کا سبب بنے گا۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو جس فرقہ پرستی، تعصب اور تنگ نظری کا مظاہرہ یہ ریاست روز اول سے کرتی چلی آرہی ہے، کشمیر کے معاملے میں اس نے جس ڈھٹائی کے ساتھ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادی کی ضامن اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کا عملاً مذاق اڑایا ہے اس کے پیش نظر بھارت سلامتی کونسل کی مستقل نشست پانے کا کسی بھی طور حقدار نہیں۔ اس حوالے سے حقیقتاً تو سلامتی کونسل کی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی پر وہ بھارت کے خلاف ویسے ہی تادیبی اقدامات عمل میں لائے جس کی مثال کئی دوسرے ملکوں کے معاملے میں اس کی جانب سے قائم کی گئی ہے۔ سلامتی کونسل کی مستقل نشست کے لئے بھارت کی نااہلی کا ایک نہایت اہم اور تازہ ترین ثبوت امریکی وزارتِ خارجہ کی منظر عام پر آنے والی خفیہ فائلوں میں موجود ان حقائق کے ذریعے دنیا کے سامنے آیا ہے کہ بھارت کے کئی بینک حکومتی سرپرستی کے ساتھ دہشت گردوں کی سہولت کاری کے لئے اربوں ڈالرکی منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان حقائق کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری نہ صرف یہ کہ سلامتی کونسل کی مستقل نشست کے لئے بھارت کے مطالبے کو یکسر مسترد کردے بلکہ مودی حکومت نے اپنی نفرت انگیز پالیسیوں سے پورے خطے کے ماحول کو جس قدر زہرآلود بنادیا ہے، اسے ختم کرنے کیلئے بھی نتیجہ خیز اقدامات عمل میں لائے۔