آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پیکر علم و عمل، مولانا مفتی محمودؒ

مو لانا محمد امجد خان

(ڈپٹی سیکر ٹری جنرل، جے یو آئی پاکستان)

بہ حیثیت عالم دین اور سیا ست دان مو لا نا مفتی محمودؒ ایک عظیم انسان تھے، آپ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی گہرائی ،سنجیدگی اولوالعزمی کا ہر فرد معترف تھا۔ہر عالم دین اور سیاست دان آپ سے متاثر نظر آتا،یہاں تک کہ بھٹومر حوم نے بھی آپ کی سیاسی بصیرت اور عظمت کی گواہی دی ۔

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم نے بی ڈی سسٹم کے تحت قومی اسمبلی کے پہلے انتخابات کا اعلان کیا،مفتی صاحب جمعیت کی جانب سے انتخابی میدان میں کھڑے ہوگئے،اس کے بعد مخالفت کا آغاز ہوا، نتائج کا اعلان ہوا تو آپ اکثریت سے کامیاب ہوئے۔اکثر مخالفین کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ جب مولانا مفتی محمود وزیراعلیٰ سرحد بنے تو چیف سیکریٹری نے رہائش کے لیے گیسٹ ہائوس منتخب کیا اور مفتی صاحب سے گزارش کی کہ انگریزوں کے دور کا سامان اور فرنیچر ہے،اسے تبدیل کرانے کی کوشش کریں گے، لیکن مفتی صاحب نے کہا کہ اللہ کے بندے ،یہ تم کس چکر میں پڑگئے،یہ فرنیچر ٹھیک ہے،اس کے بدلنے کی ضرورت نہیں، میرے اپنے گھر عبدالخیل میں تو کوئی ٹوٹا پھوٹا صوفہ بھی نہیں۔

مفتی صاحب نے انتظامیہ کی پہلی میٹنگ کال کی، کیوںکہ آپ حالات کا اندازہ لگانا چاہتے تھے،چمکتے لباس میں جب افسران آئے تو سب مفتی صاحب کی ذات میں سادگی دیکھ کر حیران ہوگئے، لیکن میٹنگ کے دوران رفتہ رفتہ ان پر اس درویش صفت ہستی کے اسرار کھل گئے، مولانا مفتی محمود نے صوبہ سرحد(موجودہ کے پی کے) کی وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد صوبے میں چند انقلابی اقدامات کیے جس میں سرفہرست امتناع شراب کا مسئلہ تھا، اس حکم کی رو سے صوبے میں شراب بنانے، پینے، رکھنے اور بیچنے پر پابندی عائد کردی گئی۔غیرملکی مہمانوں کے لیے جب مرکزی حکومت نے اجازت چاہی، تب بھی آپ نے انکار کیا، اس کے علاوہ صوبہ سرحد کا سرکاری لباس شلوار قمیص قرار پایا، اس کے بعد یہ منظر سامنے آیا کہ بڑے چھوٹے تمام افسران اس لباس میں ملبوس نظر آئے، سرکاری دفاتر کا ماحول بھی بدل گیا،اب جس افسر سے عام آدمی کی ملاقات ہوتی تو وہ سمجھتا کہ میں ایک عام انسان سے مل رہا ہوں۔ 

وزیراعلیٰ ہونے کے باوجود مولانا مفتی محمود سادہ مزاج تھے،مفتی صاحب نے اپنے دور میں دور فاروقیؓ اور خلفائے راشدینؓ کی یاد تازہ کردی۔مولانا مفتی محمود وزیراعلیٰ کی حیثیت سے پہلی بار اپنے آبائی ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان پہنچے تو پولیس کو اپنے ساتھ آنے سے منع کیا،جس طرح وزارت سے قبل لوگوں سے آزادانہ گفتگو کرتے تھے،اس دن بھی اسی طرح دوستوں سے جاکر باری باری گفتگو کی، چائے پی، شام کے وقت اپنے گائوں عبدالخیل جانے لگے، ڈی سی جو سارا دن ان کے ساتھ رہ کر تھک چکے تھے، آگے بڑھے، مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولے اچھا جناب مجھے اجازت دیجیے، مفتی صاحب نے کہا، اللہ کے بندے میں یقیناً غریب ہوں، لیکن اتنا بھی نہیں کہ عبدالخیل میں تمہیں ایک پیالی چائے بھی نہ پلاسکوں،اب تم میرے مہمان ہو، کاش آج کے حکمراں ایسی سادگی کو اپنالیں تو قرضے لینے کی ضرورت نہ پیش آئے۔

جب اس وقت کی حکومت نے بلوچستان میں نیپ اور جمعیت کی مخلوط وزارت توڑدی اور صوبہ سرحد کے گورنر ارباب سکندر خان کو برطرف کردیا، یہ اقدام اصولوں کے خلاف تھا۔مولانا مفتی محمود نے اس غیرجمہوری اقدام پر احتجاج کیا اور اس کے فوراً بعد اصولوں کی خاطر وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا،بھٹو مرحوم کی خواہش تھی کہ مولانا مفتی محمود کو قائل کیا جائے، لیکن مفتی صاحب ڈٹ گئے اور کہا کہ میں نے یہ قدم اصولوں کی خاطر اٹھایا ہے،سیاست میں لہجوں کا بدلنا ایک معمول بن گیا ہے،مگر ان کا لہجہ نہایت شستہ، زبان ستھری ،گفتگو بے لاگ اور مدلل ہوتی تھی،وہ اپنے بدترین مخالفوں کا نام بھی نہایت احترام سے لیتے تھے،اسی لیے ہر طبقے میں ان کا نام پورے احترام سے لیا جاتا تھا،آپ کی سیاسی و غیرسیاسی گفتگو نہایت شائستہ ہوتی،مفتی صاحب کی عظمت کا راز یہ بھی تھا کہ وہ اپنے بزرگوں کے سچے پیروکار تھے۔ 

آپ کو سیاسی تاریخ پر خوب عبور تھا، معلومات میں خداداد بصیرت حاصل تھی، انہیں سیاسی مجالس یا میٹنگز میں شرکت کے لیے کسی تیاری کی ضرورت نہ ہوتی،سیاسی الجھنوں کو بڑی بصیرت سے حل فرماتے ،پاکستان قومی اتحاد نے بھٹو حکومت کے ساتھ مذکرات کے لیے جو ٹیم مقرر کی تھی،اس کی قیادت بھی آپ ہی کے ذمے تھی، ملک اس وقت نہایت نازک دور سے گزر رہا تھا،مفتی صاحب نے اعلیٰ سیاسی بصیرت اور بے داغ کردار سے مذاکرات کے دوران قوم کی نمائندگی کا صحیح حق ادا کیا،نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم، پروفیسر عبدالغفور احمد مرحوم کے تاثرات رکارڈ پر موجود ہیں، مفتی صاحب سیاسی امور میں ہمیشہ جمہوری ذہن سے سوچتے تھے، مملکت خداداد میں اسلامی اقدار کے نفاذ کے ساتھ ساتھ جمہوری عمل اور جمہوری اداروں کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ کا خیال تھا کہ سیاسی عمل کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد قوم کے سیاسی شعور میں خود بخود پختگی آجائے گی۔

مولانا مفتی محمود اتحاد امت کے داعی ، عظیم مجاہد، عالم دین اور سیاست دان تھے۔آپ نےبطور شیخ الحدیث جہاں دین کے محافظ تیار کیے،وہاں لاتعداد فتاویٰ جاری فرمائے، جن سے آج بھی مفتیان کرام استفادہ کرتے ہیں۔ اپنے رفقاء کے ساتھ مفتی صاحب نے جمعیت کے مشن کو آگے بڑھانے میں جو کردار ادا کیا،وہ تایخ جمعیت کا لازوال حصہ ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ رب کائنات کار کنان جمعیت کو حضرت مفتی صاحب ؒ اور دیگر اکابرین کے طرز پر اللہ کی رضا کے لیے کام کر نے کی توفیق عطا فر مائے ۔(آمین )