آپ آف لائن ہیں
بدھ3؍ربیع الاوّل 1442ھ21؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اوباما کے پسندیدہ پاکستانی مصنف کون؟

امریکا کے 44 ویں اور پہلے سیاہ فام صدر باراک اوباما اپنے مطالعہ کے شوق کے وجہ سے کافی شہرت رکھتے ہیں۔

کتابوں کے رسیا باراک اوباما اپنی من پسند کتابوں کا تذکرہ باقاعدگی سے کرتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ وہ پاکستانی مصنفین کی کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔

 ماضی میں اوباما نے اپنی پسندیدہ کتابوں کی فہرست اپنے فیس بک پیج پر جاری کی تو اس فہرست میں پاکستانی مصنف محسن حامد کا ایک ناول بھی شامل تھا۔

اوباما کے پسندیدہ اس ناول کا نام Exit West ہے، جس کی کہانی ایک پناہ گزین جوڑے کے گِرد گھومتی ہے، محسن حامد کا یہ ناول مین بکر پرائز کے لیے بھی شارٹ لسٹ ہوا تھا۔

’ایگزٹ ویسٹ‘ محسن حامد کا چوتھا ناول ہے، اس سے قبل محسن حامد کے ناول مائوتھ اسموک(Moth Smoke)، دی ریلکٹنٹ فنڈامینٹالسٹ(The Reluctant Fundamentalist) اور ہاؤ ٹو گیٹ فلتھی رچ اِن رائزنگ ایشیا(How to Get Filthy Rich in Rising Asia) کے نام سے شائع ہو کر بین الاقوامی ناقدین اور قارئین سے داد و تحسین سمیٹ چکے ہیں۔

ان کے ناول ’دی ریلکٹنٹ فنڈامینٹالسٹ‘ پر ہالی ووڈ میں فلم بھی بنائی جا چکی ہے۔

محسن حامد کون ہیں؟

جنوب ایشیائی ادب کی تخلیق کے منظر نامے پر موجودہ دور میں سب سے مقبول نام ’محسن حامد‘ کا ہے۔ وہ 1971 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ بچپن امریکا میں گزرا، جہاں ان کے والد ایک امریکی جامعہ سے بطور پروفیسر وابستہ تھے۔ کچھ برسوں کے لیے واپس لاہور آئے، بنیادی تعلیم یہیں حاصل کی، دوبارہ مزید تعلیم کے لیے پہلے امریکا اور پھر برطانیہ گئے۔

امریکا میں ان کو ایسے اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا، جو ناول نگاری کی دنیا میں بڑا نام ہیں، وہ ’جوائس کیرول اوٹس‘ اور’ٹونی مارسین‘ ہیں۔

محسن حامد کا پہلا ناول ’مائوتھ اسموک‘ 2000 میں اشاعت پذیر ہوا۔  محسن حامد بہت تیزی سے عالمی سطح پر تخلیق ہونے والے انگریزی ادب کے اُفق پر نمایاں ہونے لگے۔ پاکستان، امریکا اور برطانیہ میں کام بھی کرتے اور رہائش بھی اختیار کرتے ہیں۔

وہ شریک حیات زہرہ اور بیٹی دینا کے ہمراہ خوشگوار زندگی بسر کر رہے ہیں، محسن حامد  برطانیہ کے معروف ادبی ایوارڈ ’بکر پرائز‘ کے لیے دو مرتبہ  نامزد بھی ہوچکے ہیں، بطور پاکستانی ادیب، دو مرتبہ نامزد ہونے کا اعزاز صرف انہی کے پاس ہے۔ 2018 میں حکومت پاکستان نے بھی ان کو ستارۂ امتیاز دیا۔

خاص رپورٹ سے مزید