آپ آف لائن ہیں
جمعہ5؍ربیع الاوّل 1442ھ 23؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مسائل میں اضافہ اور امریکی جریدے کی رپورٹ!

ملک میں احتساب کا نظام متنازعہ ہوچکا ہے۔ غداری اوربغاوت کے مقدمات بنانے والےاپنی روش بھول چکے ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر پر غداری کا مقدمہ قائم کرنا صرف دشمنوں کو خوش کرنے کا ایجنڈا ہو سکتا ہے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک کو بندگلی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ الزمات کی سیاست پاکستان کو عدم استحکام کی طرف لے جائے گی۔ ایسے لگتا ہے کہ حکمراں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور قوم کی توجہ ہٹانے کی غرض سے تصادم کی فضا پیدا کررہے ہیں۔ حکومتوں کا کام ملک و قوم کی خدمت ہوتا ہے۔ ملکی ادارے آئین و قانون کے مطابق کام کرنے کے پابند ہیں۔ ان کے درمیان چپقلش ملکی سلامتی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ حکمرانوںکو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اب ایک دوسرے کو غداری کے سرٹیفکیٹ باٹننا بند ہونے چاہئیں۔ حکومت کے عاقبت نا اندیش منصوبوں اور غریب کش پالیسیوں کی وجہ سے واپڈا کے ہزاروں ملازمین مہنگائی، بے روزگاری اور اداروں کی نجکاری کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ اداروں کی نجکاری اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے پاس وہ اہلیت ہی نہیں جس سے مسائل کو حل کیا جاسکے۔ پاکستان میں بسنے والا ہر شخص خواہ اس کا تعلق کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے کیوں نہ ہو، حکمرانوں کی کارکردگی سے نالاں ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری سب سے بڑے مسائل ہیںجن پر قابو

پانا ضروری ہے۔ سوئی نادرن کی جانب سے 69 ارب روپے کے شارٹ فال کو جواز بناتے ہوئے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے، اسے فی الفور واپس لیا جانا چاہئے۔ حکمراںاگر عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرسکتے تو عوامی مسائل میں اضافہ بھی نہ کریں۔ کاشتکاروں کا استحصال جاری ہے۔ کسانوں کو ہنگامی بنیادوں پر ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔ بجلی کے بلوں میں کمی اور جعلی زرعی ادویات بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ کپاس کی کم پیداوار کے باعث رواں سال اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا ہوگا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ حکمرانوں کی ساری توجہ اصل مسائل کی بجائے اپوزیشن سے نمٹنے پر مرکوز ہے۔میڈیا کی رپورٹ کے مطابق1258ارب روپے کی ٹیکس چوری تشویشناک ہے۔ 5سال میں ہونے والی یہ ٹیکس چوری نظام کی تبدیلی اور شفافیت پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومت بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالنے سے گھبراتی ہے۔ 22کروڑ کی آبادی میں صرف 17لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں۔ نظام کی تبدیلی کا خواب چکنا چور ہوچکا۔ خصوصی آڈٹ رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی پروجیکٹ میں حکام کی بد انتظامی کے باعث 410ملین روپے کا نقصان ہوا ۔ چکی ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی آٹا مزید 2روپے فی کلو اضافہ کرنے سے ملک کے مختلف علاقوں میں قیمت 78روپے فی کلو ہوچکی ہے۔ بیشتر علاقوں میں آٹا پہلے ہی 80روپے کلو تک فروخت ہورہا ہے۔ صوبائی حکومت اور چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنے والے ادارے اس حوالے سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہمارے ارباب اقتدار نے ملک کو گویا آئی ایم ایف کے سپرد کردیا ہے۔ حکومت کی اپنی کوئی معاشی پالیسی نہیں۔ قیمتوں کے تعین اور ٹیکسوں میں اضافے کے فیصلے کہیں اور ہورہے ہیں۔ہر طرف مہنگائی کے ستائے عوام کی فریادیں ہیں مگر کوئی سننے والا نہیں ہے۔ انہیں عوامی مسائل کے حل کے لئے کسی قسم کی کوئی غرض نہیں۔”آئی پی ایس او ایس پاکستان‘‘ کی جانب سے جاری کردہ سروے کے مطابق، موجودہ ملکی حالا ت پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے والوں کی تعداد69فیصدتک ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ہر دس میں سے 8پاکستانیوں کو حکومتی معاشی پالیسیوں پر سخت تشویش ہے۔ عوام مسائل کا سامنا کرتے کرتے بیزار آ ٓچکے ہیں۔ پاکستان کے 22کروڑ عوام مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی کارکردگی دیکھ چکے ہیں۔اب کچھ تذکرہ ہو جا ئے بھارت کے حوالے سے امریکی جریدے کی حالیہ رپورٹ کا!امریکی جریدے ’’فارن پالیسی‘‘ نے بھارت کی دہشت گردی کو بے نقاب کیا ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ ہندوستانی حکومت آرا یس ایس کے انتہا پسندانہ ایجنڈے کی تکمیل کررہی ہے۔ انڈین دہشت گرد پاکستان، افغانستان اور کشمیر میں اپنی مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں، کل بھوشن نیٹ ورک کا بلوچستان سے پکڑ ے جانا اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ ہندوستان کی انتہا پسندانہ حکمت عملی تباہی کا باعث ہے۔ وہ جنوبی ایشیائی خطے میں بالادستی کا خواب دیکھ رہا ہے اور اس مقصد کی تکمیل کی خاطر طاقت کا توازن خراب کررہا ہے۔ا س کی یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بھارت ایک متعصب اور دہشت گردانہ سوچ رکھنے والی ریاست بن چکا ہے۔ جس نے لداخ اور کشمیر سے لے کر بنگال اور گجرات تک مسلمانوں کا بہیمانہ قتل عام کیا ہے۔ بھارت میں آج بھی اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ بھارت، اسرائیل اور امریکہ گٹھ جوڑ دنیا کے لئے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔