آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دنیا بھر پر قہر بن کر نازل ہونیوالی وبا کورونا کے گزشتہ روز پاکستان میں فعال کیسز کی تعداد 719تک پہنچ گئی ہے جبکہ اموات میں بھی 7کا اضافہ ہو گیا ہے۔ پچھلے چند روز میں اِس کے کیسز میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ موسم کی بدلتی صورتحال کے باعث اِس مہلک وبا کی دوسری لہر کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے جو پہلے سے زیادہ شدید تر ہو سکتی ہے۔ ملک میں اگرچہ کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال بہتر ہے تاہم کچھ مقامات پر کیسز میں اضافے کے بعد ایک مرتبہ پھر اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی طرف سے یہ انتباہ بہت پہلے جاری کیا جا چکا ہے کہ کورونا کے جانے یا ختم ہونے کے ابھی کوئی آثار نہیں۔ وزیراعظم پاکستان بھی کہہ چکے ہیں کہ اب ہمیں اسی کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔ پاکستان میں قدرت کی مہربانی سے اِس مرض نے ہلاکت خیزی کی وہ صورت اختیار نہ کی جو دوسرے ملکوں میں کی تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پچھلے چند روز میں اِس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اِن حالات میں جبکہ اِس کی کوئی ویکسین یا علاج بھی ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا، اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ یہ کتنی ہلاکت خیز ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر کے سائنس دان اگرچہ اِس کا علاج دریافت کرنے میں جتے ہوئے ہیں لیکن خبر یہ ہے کہ سال بھر سے قبل اِس کا علاج یا ویکسین نہ

بن پائے گی۔ مائیکرو سافٹ کے مالک اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن نے بھی حال ہی میں آگاہ کیا ہے کہ مالی طور مضبوط ممالک ہی شاید 2021کے اواخر میں کورونا کی ویکسین یا دوا حاصل کر کے نارمل زندگی کی طرف آسکیں۔ دریں حالات واحد علاج احتیاط ہی ہے جو ابھی سے کرنا ہوگی، نہ کہ اِس وبا کے حملے کے بعد۔ سماجی فاصلے کے ساتھ ساتھ ماسک، دستانوں اور سینی ٹائزر کے استعمال سمیت تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا تاکہ کورونا سے محفوظ رہا جا سکے۔ حکومت بھی ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے سخت اقدامات کرے۔

تازہ ترین