آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ11؍ شوال المکرم 1440 ھ 15؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
”انتخابات شفاف نہیں ہو رہے، 11مئی کو پرانا نظام ہی واپس آئے گا“ڈاکٹرطاہر ا لقادری سچ ہی تو کہہ رہے ہیں کہ”تبدیلی کا نعرہ لگانے والے 11مئی کی رات کو سر پکڑکر بیٹھے نظر آئیں گے“۔رحمن ملک جو کہ ملک کی داخلی شکست و ریخت اور لا قا نو نیت کے سیاہ و سفید کے 5سال انچارج وزیر رہے یوں گو یا ہوئے کہ” شریف برادران پاکستان کی تا ریخ کی سب سے بڑی منی لانڈ رنگ میں ملوث رہے “۔
منی لانڈرنگ تورہنماؤں کا قومی مسئلہ ہے سارا قبیلہ باجماعت خشوع و خضوع کے ساتھ”گوڈے گوڈے “ ملوث ہے ۔ملک ایک زمانے سے اقتدار کے بھوکے درندوں کی آماجگاہ بن چکا۔ہر نئے مینڈیٹ کے بعد وطنِ عزیز کوبھبھوڑنے کے لئے تیار ۔آج ہزاروں امیدوار آئینِ پا کستان کا تمسخر اڑا کرانتخابی عمل کا حصہ بن چکے ۔ ان حالات میں عوام کی عافیت اسی میں ہے کہ اپنی ضرورت اور سہولت کا نمائندہ چُنیں۔ بقول فیض صاحب ”آئندہ نظام بھی یوں کا توں رہے گا“۔
ٹی ۔وی اشتہا رات کاایک ہنگام کھڑا ہے ۔ اگر ٹی وی اور اخباری اشتہارات پر فیصلہ کرنا پڑتا تو میر ا ذاتی ووٹ پیپلزپارٹی نے دھر لینا تھا ۔ سیاسی مجاہد بذریعہ اشتہارات ایک دوسرے کا اصلی روپ سامنے لا رہے ہیں اور اپنے آپ کو آبِ زَم زَم سے غسل شدہ اور دوسرے کو مطعون زدہ ثابت کر چکے ہیں ۔
تحریک انصاف جس کومضحکہ خیز انٹرا پارٹی الیکشن

اور بے ہنگم پارلیمانی بورڈ نے بے یارو مدد گار بلکہ بے دست و پا کر دیا تھا ۔عمران خان کی اعصاب شکن انتخابی مہم نے چشمِ زدن میں ایک معقول اور با عزت مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ چند ہفتے مزید میسر آ جاتے تو نتائج خیرہ کن بھی ہوسکتے تھے۔11 مئی کو ن لیگ 100کا ہند سہ تو شاید عبور نہ کر سکے جبکہ تہی دامن پیپلز پارٹی حا لات کی سنگینی کے باوجود عزتِ سا دات بچانے میں کامیا ب رہے گی 50یا کچھ زیادہ نشستیں لے ہی لے گی ۔ تحریکِ انصاف پیپلز پارٹی سے شاید چند سیٹیں پیچھے رہے آزاد اُمیدوار کثیر تعداد میں منتخب ہوں گے ۔اغیار کی خواہش ہے کہ حکومت مسلم لیگ ”ن“ہی بنائے۔اسٹیبلشمنٹ آج بھی ن لیگ کو سوہانِ روح سمجھتی ہے۔البتہ قسمت کا لکھا جان کر طوعاًو کر ہاًقبول کر لے گی ۔انتخابات کے بعد غلامی کا طوق بر قرار رہے گاامریکی اثر و رسوخ مزید بڑھے گا ۔ جنرل کیانی کے خطاب اور فوج کی میڈیا مہم میں جن لوگوں پر نشانہ تاکا جا رہا ہے وہ ہمارے ہم وطن ہی تو ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اگلی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف فوج کی تعداد میں کیا کمی لاتی ہے ۔نواز شریف چند سال پہلے ہندوستان کی تقسیم کو رشتوں میں رخنہ قرار دے چکے ہیں۔ امریکہ بھی ہندوستان کو پاکستان کا سمدھی بنا نا چاہتا ہے اور ”عسکری طاقت“ کو پیا گھر بھیجنا چاہتا ہے ۔ عوام پرانی تنخواہ ہی پر کام کریں گے ۔
چند دن پہلے عمران خان نے ڈیلی ٹیلی گراف کے ROB CRILLYکوانٹر ویو دیتے ہوئے فرمایا کہ ”میرا کزن مجھ سے چیئر مین ہو نے کے ناتے یہ توقع کر بیٹھا تھا کہ میں اس کو ٹکٹ دلانے میں مدد گار ہوں گاجبکہ ضلعی تنظیم نے اس کا نام تجویز نہیں کیا ۔اب وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہا ہے “۔خان صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی بھی آزاد لڑرہے ہیں اور ضلعی تنظیم میانوالی نے جس شخص کو تجویز کیا اس سے تحریکِ انصاف کے قوانین و ضوابط کی کیا دھجیاں بکھیریں اورکس کے ایماء پر ؟ سینئر نائب صدر تحریک انصاف پاکستان انعام اللہ خان کو دھوکا دے کر میانوالی کو تحفہ کیا دیا گیا؟ تعلیم: میٹرک ، شغل :کبوتر بازی ، مرغوں کی لڑائی ،لینگوئج :بے زبان ، شہر ت :بری اورچار سو، ولدیت: ڈاکٹر شیر افگن جو آخری سانس تک عمران خان پر تبرا ء بھیجتے رہے۔ قواعد و ضبوابط کی خلاف ورزی اس پر مستزاد ۔ ”بدقسمت فیصلہ “تحریک ِ انصاف کے مستقبل پر گہرے بادلوں کی طرح چھایا رہے گا۔اس مو ضوع پر طبع آزمائی نہ کرتااگر سچ سیاق و سباق کے ساتھ آ تا۔حقائق کا توڑ موڑ مشتعل کر دیتا ہے ۔چند کالم نویس دوست جو سلیقے کے لکھاری اور اخلاص میں رچے بسے ہیں وہ بھی ایسے فقرے چسپاں کر گئے جو حقائق کے منافی ہیں مثلاً”خانصاحب کے چچا زاد بھائیوں نے برادرانِ یوسف کا کردار ادا کیا ہے“۔ معذرت کے ساتھ آپ نے قصصِ قرآن پر غور کیا ہی نہیں۔ دھکا دینے والا یوسف نہیں تھا یوسف بیچارہ تو دھکا کھا کر کنویں میں گرنے والا تھا۔ یہ شقا وت ہی تو ہے کہ مظلوم کو مطعونِ خلائق بنایا جائے ۔تاریخ سیاست ہے ہی خونچکاں۔اقتدار کی بھوک اقدار کا گلا گھونٹ دیتی ہے ۔ سیاست میں ہر حربہ جائز ہے ۔
ایک مرنجان مرنج بادشاہ نے اقتدار کی خا طر اپنے تین سگے بھائیوں کو قتل کیا اور محبت کرنے والے باپ کو تاحیات پابندِسلاسل رکھا۔بظا ہر ایسا عمل اورنگزیب کے زُہد، تقویٰ اور عمومی کردار کے بر عکس دکھائی دیتا ہے ۔ دارا شکوہ اپنے بھائیوں اورنگزیب ،شجاع اور مراد بخش میں سب سے بڑا، نا زو نعم ، لاڈ پیار میں اس طرح پلا کہ شہنشاہِ ہند شاہجہان نے پوری زندگی دارا کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہو نے دیا۔آخری وقت تک اپنی پلکوں کے نیچے تخت کے پہلو میں بٹھا ئے رکھا۔داراایک عالم ِدین ، عربی، فارسی، سنسکرت پر عبور ، دیگر مذا ہب پر بھی دسترس ، انتہائی کر شماتی شخصیت، چشمِ تصور میں مسقبل کا شہنشاہِ ہند ، حا ضر جواب، شیریں بیاں۔گو کہ اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتا تھا بد قسمتی سے سیاسی بصیرت اور عسکری مہارت سے یکسر محروم پھر بھی بادشاہ بننے کا انتہائی آرزومند۔ اپنی ذہنی صلاحیتوں اور سوچ سے اپنی منزل کا تعین کرتا۔ اپنی مرضی اور منشا ء ہمیشہ حاوی رہی معدودے چند موقعوں پر جب مرضی کے نفوس کے مشوروں سے مستفید ہو پایا۔بیشتر اردگرد کے مصا حبین کے لئے تحقیر و حقارت بدرجہ اتم موجود رہتی خصوصاََ ایسے لوگ جو کسی معاملے میں اسے مشورہ دیتے ہوئے اختلافِ رائے کی جرأت کر بیٹھتے ۔شاید یہی وجہ تھی کہ جس گڑھے میں وہ دفن ہوا اُس کو اُس نے خود اپنے ہا تھوں ہی سے کھودا۔ بہی خواہوں نے بچانے کی کوشش کی تو خوشامدی آڑے آگئے ۔دارا شکوہ جتنی بلندی پر گیا اتنا ہی پست نکلا۔ آخری دنوں میں دارا شکوہ آگرہ میں باپ کے پاس تھا اور باپ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلاتھا ۔ دارا شکوہ نے باپ کی بیماری سے بھا ئیوں کو اس لئے لاعلم رکھا تا کہ وہ دارالخلافہ سے کوسوں دور رہیں اور اقتدار پر با آسانی قبضہ جمایا جا سکے ۔ اورنگ زیب جو خود ایک فقیہہ ، درویش اور فقیر کی شہرت رکھتے تھے ۔ دا رالخلافہ کی صو رتِ حال کا پتہ چلا تو چھوٹے بھائی مراد بخش کو یہ کہہ کر ساتھ ملایا کہ دارا باپ کو زہر دے کر موت کی دہلیز پر پہنچا چکا اور دین کی نئی نئی تا ویلیں نکالنے کی وجہ سے ملحد ہو چکا جبکہ شجاع بغا وت کر کے رافضی بن گیا۔ میں ٹھہرا درویش منش میری دلچسپی امورِ سلطنت میں واجبی ہے آپ ہی ٹھہریں گے بادشاہی کے مستحق اور ساتھ ہی مراد بخش کی تائیدحا صل ہوتے ہی اورنگزیب باپ کی بیمار پرسی کے لئے دا ر لخلافہ عا زمِ سفر ہوا۔ دیبال پور بھائی کا قا فلہ بھی ہم رکا ب ہو گیا۔ آگرہ کے قریب دارا کے مصا حب جسونت سنگھ نے دونوں بھائیوں کے قا فلے کو روکنے کی کوشش کی شکست ہوئی اور جسونت سنگھ کو بھاگنے میں عا فیت نظر آئی ۔
دارا نے اورنگزیب اور مراد بخش کو دارالخلافہ کے باہر روکنے کے لئے لام باندھنے کاحکم دیا تو اورنگ زیب نے باپ کو خط لکھ کر منت سماجت کی کہ شاہ بلند اقبال (دارا)کو جنگ کرنے سے روکو یہ بڑے بھائی کی شان کے خلاف ہے ۔ علاوہ ازیں مجھ جیسے سکہ بند جنگجو کے خلاف جنگ میں شکست دارا کا مقدر بنے گی ۔ شاہجہان نے بھی دارا کو بہت سمجھایا اور روکا لیکن دارا بھائیوں کو شاہجہان کے پاس آنے سے روکنے کے لئے لاؤ لشکرسمیت نکل پڑا ۔ آگرہ کے قریب میدانِ جنگ سجا ۔دارا پوری طاقت سے اورنگزیب کو کچلنے کے لئے میدانِ جنگ میں اترا۔ایک دن کی جنگ میں دارا کو شکست ہوئی اور دارا بھاگ کھڑا ہوا۔ دارا کا فرار اور پھر تلاشِ جائے اماں ایک المناک داستان ہے بڑی تگ و دو کے بعد گرفتار ہوا اوراپنی مذہبی تاویلات بِنا قتل کر دیا گیا۔
کیا پاکستانی سیاست بھی دارا اور اورنگزیب کی اقتدار کی کشمکش کا تسلسل ہے؟کیا حضرت عمر بن عبد ا لعزیز کی مثال بھی مقدر بن پائے گی جب خلیفہ چنے گئے تو نڈھال ہو گئے ۔انکاری تھے کہ میں اس منصب کے تقا ضوں سے بہت دور ہوں ۔کیا آج وطن عزیز کی سیاست کبھی ”میں“ سے باہر آ پائے گی یا ”میں “ برباد کر کے ہی جائے گی ۔اس سیاست کی تلخی نے ہمارے سیاست دانوں کو ملک دشمن کے ہا تھوں کھلونا بنا دیا ۔ یا اللہ تاریک سُرنگ کا دوسرا سرا بھی ہے۔ کو ئی روشنی ہمارابھی مقدر بن پائے گی یا تاریک راتوں میں مرتے ہی رہیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں