آپ آف لائن ہیں
ہفتہ9؍جمادی الثانی 1442ھ 23؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’ کورونا وائرس کے سدّباب کے لیے ویکسین تیار کر لی گئی، جو نتائج کے اعتبار سے90 فی صد تک مؤثر پائی گئی ہے‘‘ یہ خبر دنیا بھر کے میڈیا نے بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کی۔ اس ویکسین کی تیاری کی تصدیق دنیا کی دو بڑی اور مستند دوا ساز کمپنیز کے سربراہان نے کی۔ دنیا کے دو بڑے مسائل، جو رواں برس فروری سے شروع ہوئے تھے، اب تک عالمی اعصاب پر سوار ہیں۔امریکا میں الیکشن ختم ہوچُکے ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے جوبائیڈن ایک اطمینان بخش مارجن سے فاتح قرار پائے ہیں۔پاکستان سمیت بیش تر ممالک کے سربراہان نے اُنہیں مبارک باد کے پیغامات بھی دئیے ہیں۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ہار تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔بہرحال یہ معاملات امریکا اور اُس کے عوام ہی طے کریں گے۔

یوں امریکی الیکشن نے تو دنیا کا پیچھا چھوڑ دیا، اب جو ہوگا، دیکھا جائے گا، لیکن کورونا وائرس دنیا کا پیچھا چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔اِن دنوں پاکستان سمیت دنیا کے بیش تر ممالک اس کی دوسری لہر کی لپیٹ میں ہیں۔پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈائون اور اداروں کو پِھر سے بند کرنے کی خبریں عام ہیں۔ماسک پہننے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا اِس قدر ذکر پہلی لہر میں نہیں ہوا، جتنا اب کیا جارہا ہے۔ شاید حکومتی اہل کاروں کو اِس وبا کی سنگینی کا درست ادراک ہی اب ہوا ہے۔پچھلی بار جس لاپروائی اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ خود حکومت، وزیرِ اعظم اور سرکاری حکّام نے کیا تھا اور اِس وبا کے خطرات جس طرح گھٹا کر پیش کیے گئے تھے، اُس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب عوامی سطح پر کہیں بھی ایس او پیز فالو نہیں کیے جارہے۔ اِس وبا سے کوئی بھی ڈرنے کو تیار نہیں اور اِسی لیے احتیاطی تدابیر بھی فضول سمجھی جا رہی ہیں۔ 

یہاں تک کہ ماسک نہ پہننے پر پانچ سو روپے جرمانے کی دھمکی بھی کارگر ثابت نہیں ہو رہی۔ تاہم، بڑی خوش خبری یہ ہے کہ دنیا کی دو بڑے کمپنیز فائیزر اور بائیون ٹیک نے، جن کا تعلق امریکا اور جرمنی سے ہے، باہمی اشتراک سے کورونا ویکسن تیار کرنے کا اعلان کردیا ہے۔اس ویکسین کے تیسرے مرحلے میں بھی تجربات کام یاب رہے اور نوّے فی صد انسانوں کو اس وبا سے بچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے، تب تک کمپنیز برطانیہ، امریکا اور دیگر ممالک کے متعلقہ اداروں سے اسے مارکیٹ کرنے کے لیے رجوع کرچُکی ہوں گی۔یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ اس ویکسین کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی اسٹاک ایکس چینجز پر مثبت اثرات مرتّب ہوئے۔پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بھی ایک مرحلے پر تیزی دیکھی گئی۔

ویکسین کی ایجاد کو انسانیت کے لیے ایک بڑی خوش خبری قرار دیا جارہا ہے۔موجدین کا دعویٰ ہے کہ یہ ویکسین کورونا سے بچاؤ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، کیوں کہ اس کے نتائج سے ثابت ہو ا کہ 90 فی صد افراد ، جن پر اسے آزمایا گیا، وائرس سے محفوظ رہے۔ اُنھیں کسی قسم کا کوئی نقصان یا سائیڈ افیکٹ بھی نہیں ہوا۔ 

دوسرے الفاظ میں یہ ویکسین انسانوں پر استعمال کے لیےمکمل طور پر محفوظ ہے۔ تیسرے مرحلے یعنی انسانوں پر آزمائش کے دَوران اسے 43 ہزار 500 افراد پر آزمایا گیا۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر اس ویکسین کے عام استعمال کی اجازت حاصل کریں گے تاکہ رواں ماہ کے آخر تک اس کا باقاعدہ استعمال کیا جاسکے۔ ویکسین کی تیاری میں جو طریقۂ کار استعمال کیا جاتا ہے، اُس میں وائرس کے جینیاتی کوڈز خون میں شامل کیے جاتے ہیں تاکہ انسانی جسم کے مزاحمتی اور مدافعتی نظام کو اس سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جاسکے۔ تجربات سے ثابت ہوا کہ یہ ویکسین اینٹی باڈیز کی تیاری میں مدد دیتی ہے اور ٹی سیلز کو، جو مدافعتی نظام کا حصّہ ہیں، کورونا وائرس ختم کرنے کے قابل بناتی ہے۔ 

اسے امریکا، جرمنی، برازیل، جنوبی افریقا، ارجنٹائن اور تُرکی میں آزمایا گیا۔ ویکسین کی دو خوراکیں تین ہفتوں میں استعمال کروائی گئیں اور دوسری خوراک کے سات دن بعد نوّے فی صد افراد کورونا وائرس سے محفوظ ہوگئے۔فائیزر کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سال کے آخر تک 5 کروڑ ، جب کہ اگلے برس ایک ارب 30 کروڑ خوراکیں مارکیٹ میں پہنچ جائیں گی۔ برطانیہ پہلے ہی اس کی چار کروڑ خوراکوں کا آرڈر دے چُکا ہے، جب کہ یورپی یونین نے بھی 30 ملین ڈوزز کا آرڈر دیا ہے۔ 

طبّی ماہرین کے مطابق اس ویکسین کو فی الحال منفی 80 ڈگری پر رکھنا ہوگا، جب تک کہ اس میں مزید تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں۔ واضح رہے، دنیا میں اِن دنوں ایک سو کے قریب ویکسینز تجربات کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ ان میں آکسفورڈ اور چین کی ویکسینز بھی شامل ہیں، جنھیں اب انسانوں پر آزمایا جا رہا ہے۔ چینی ویکسین کی آزمائش پاکستان میں بھی ہو رہی ہے۔ گویا طبّی ماہرین اور سائنس دانوں کا یہ کہنا درست ثابت ہوا کہ آج کا انسان سائنس اور ٹیکنالوجی میں ماضی کی نسبت بہت ترقّی کر چُکا ہے، اس لیے اب طبّی سائنس میں عالمی وباؤں کے توڑ کی پوری صلاحیت موجود ہے اور لوگوں کو ان وباؤں کے ساتھ جینے کی ضرورت نہیں۔ 

آکسفورڈ کے ایک عالمی شہرت یافتہ طبّی ماہر کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ ’’ لوگ آیندہ سال بہار میں معمول کی زندگی گزار سکیں گے۔‘‘ اللہ کرے ایسا ہی ہو، لیکن تب تک کم ازکم پاکستان جیسے ممالک میں احتیاطی تدابیر پر مکمل اور سختی سے عمل کیا جانا چاہیے۔ گو کہ کام یابی نزدیک ہے، لیکن اس کا ایک صحت مند فرد کے طور پر نظارہ کرنے کے لیے ہمیں محتاط زندگی گزارنی ہوگی۔ اِس ضمن میں ایک حیران کُن بات یہ بھی رہی کہ عام خیال کے برعکس ویکسین اسی سال تیار ہوگئی، حالاں کہ کہا یہ جا رہا تھا کہ اس کی تیاری میں دو، تین سال لگ جائیں گے۔ یاد رہے۔ امریکی صدر، ڈونلد ٹرمپ نے اسے جنگی بنیادوں پر تیار کرنے کے لیے بہت دباؤ ڈالا تھا، اسی لیے ویکسین کی ایجاد کی خبر بھی سب سے پہلے اُنھوں ہی نے ٹوئٹ کے ذریعے دی۔ 

اُن کا کہنا تھا ’’امریکی شہریوں کو اس وبا کے خلاف اعتماد دینے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔‘‘ یہ ویکسین ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب دنیا بھر میں اب بھی لاکھوں افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں اور دو لاکھ تو جان کی بازی بھی ہارچُکے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی حکومتی سطح پر اعلان کیا گیا ہے کہ مُلک کورونا وائرس کی دوسری لہر کی لپیٹ میں ہے۔ روز طرح طرح کی پابندیوں اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کے اعلانات ہو رہے ہیں۔ عوام کو سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور ماسک کے استعمال کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ اس لہر سے کم سے کم نقصان کے ساتھ نکلا جا سکے۔ تاہم، پہلی لہر کے دَوران اختیار کردہ غیر سنجیدہ رویّے اور لاپروائی نے عام آدمی کو یقین دلا دیا کہ کورونا سے متعلق باتیں مذاق، وہم یا کوئی سازش ہے۔ یا پھر یہ کہ اس مرض کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ 

بلاشبہ، اس وبا کے دَوران ڈاکٹرز کی خدمات مثالی رہیں، تاہم اُن کی بڑی بڑی اور مضبوط تنظیموں کو بھی خود احتسابی کے عمل سے گزرنا چاہیے کہ وہ اِتنے بڑے نیٹ ورک رکھنے کےباوجود آخر حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کو کورونا وبا کی سنگینی پر کیوں قائل نہ کر سکیں؟پہلے تو حکّام’’سب اچھا ہے‘‘ کہتے رہے، مگر اب جب دوسری لہر آئی ہے، تو’’ احتیاط، احتیاط‘‘ کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ خدارا! کسی ایک بات پر تو ڈٹ جائیں۔یہ تھالی کے بینگن کی طرح اِتنے سنگین معاملے پر اِدھر اُدھر لُڑھکنا کہاں کی عقل مندی ہے۔غالباً اُنہوں نے ان خاندانوں کی آہ و بکا نہیں سُنی، جو اس بیماری کی اذیّت سے گزرے ۔ویکسین تیار ہے، مارکیٹ میں بھی آنے کو ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ہمارے مُلک میں عام آدمی کو کب اور کس قیمت پر دست یاب ہوگی؟

ناگورنو قرہ باغ کے تنازعے پر روس کی کوششوں سے امن معاہدہ ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں آرمینیا اور آذربائیجان میں سات ہفتوں سے جاری جنگ بند ہوگئی۔اس جنگ کے دَوران آرمینیا میں 729 ہلاکتیں بتائی گئیں، جب کہ آذربائیجان نے ابھی تک اِس حوالے سے اعدادو شمار جاری نہیں کیے۔جنگ بندی کے ساتھ ہی باکو اور دوسرے آذری شہروں میں جشن منایا گیا، جب کہ آرمینیا اور ناگورنو قرہ باغ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔روس کی ثالثی میں جو معاہدہ ہوا ہے، اُس کی ایک شق یہ بھی ہے کہ جو علاقے آذربائیجان کی فوجوں نے قبضے میں لیے ہیں، وہ اب اُسی کے پاس رہیں گے، جب کہ آرمینیا کی فوجوں کو قرہ باغ خالی کرنا پڑے گا، جس کا طریقۂ کار طے کیا جارہا ہے۔

فوجی ماہرین کے مطابق اس معاہدے ہی سے ظاہر ہے کہ آرمینیا کو جنگ میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، اسی لئے وہاں اور ناگورنو قرہ باغ میں غم وغصّہ پایا جاتا ہے۔ آرمینیا اور آذربائیجان سوویت یونین کی ریاستیں تھیں اور اُس کے بکھرنے کے بعد خود مختار ہوئیں۔ناگورنو قرہ باغ، آرمینیائی زبان بولنے والی اکثریت کا علاقہ ہے، لیکن یہ سوویت یونین کے زمانے میں بھی آذربائیجان کا حصّہ تھا۔ظاہر ہے، یہی لسانی اور انتظامی پیچیدگی اس تنازعے کی وجہ بنی۔

مسئلہ سوویت یونین کے بکھرتے ہی سُلگ اُٹھا اور وہاں بغاوت کے حالات پیدا ہوگئے، لیکن1994 ء میں ایک معاہدے کے طور پر اسے آذربائیجان میں شامل کر کے اس کا انتظامی اسٹیٹس بحال کردیا گیا۔یہ بھی یاد رہے کہ سوویت یونین سے قبل یہ عثمانی سلطنت کا ایک صوبہ تھا اور آذربائیجان میں آذری کے بعد تُرکی ہی قومی زبان ہے۔ یہاں کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد تُرک نسل سے تعلق رکھتی ہے، اِس لیے تُرکی بھی آرمینیا اور آذربائیجان کی جنگ کا ایک اہم فریق ہے۔تُرک وزیرِ خارجہ نے جنگ کے دَوران دو مرتبہ باکو کا دورہ کیا، جس سے اس معاملے میں تُرکی کی دل چسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نیز، صدر اردوان نے اس تنازعے میں کُھل کر آذربائیجان کی حمایت کی۔

وسط ایشیا کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ دنیا بھر کی نگاہیں ان نو آزاد ریاستوں پر ہیں۔اگر نقشے پر نظر ڈالی جائے، تو اُن کی جغفرافیائی صُورتِ حال بہت بدل ہوچُکی ہے۔پھر یہ کہ یہ ریاستیں آج گیس اور تیل کے ذخائر سے مالا مال ہیں۔مشرقی یورپ اور روس پلس ایشیا کے درمیان ایک بفر کا کام کرتی ہیں۔مثال کے طور پر طویل پائپ لائنزسے ایک طرف تیل اور گیس چین کو سپلائی ہوتے ہیں، تو دوسری جانب یورپ کو۔کیسپئن سی کی اپنی اہمیت ہے کہ یہ کھارے پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے، جو ایشیا سے یورپ تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسے تقریباً سمندر ہی کا درجہ حاصل ہے۔

امریکا، افغانستان سے جانے کے لیے پَر تول رہا ہے اور روس، بھارت، چین جیسے بڑے ممالک کی نگاہیں ان ریاستوں پر لگی ہوئی ہیں، جب کہ دوسری جانب، ان میں ایران بھی بہت زیادہ دِل چسپی لیتا ہے اور قدیم تاریخی رشتوں کی وجہ سے تُرکی بھی۔پاکستان کا گوادر پورٹ اور کوسٹل ہائی وے تو ان ریاستوں کو بیرونی ممالک تک رسائی دینے ہی کے لیے بنے ہیں۔ اس ضمن میں سی پیک کو بھی ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ادھر ایرانی بندرگاہ چا بہار پر بھی بھارت کام شروع کرچُکا ہے۔اس پس منظر میں وسط ایشیا، جس میں آرمینیا، ناگورنو قرہ باغ اور آذربائیجان بھی شامل ہیں، کسی جنگ یا طویل لڑائی کے متحمّل نہیں ہوسکتے۔ ان کے درمیان تاریخی تنازعات رہے ہیں، لیکن اس صدی میں اِتنا کچھ بدل چُکا ہے کہ تاریخ کا پہیّہ واپس گھمانا اس علاقے میں بیرونی مداخلت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا اور اگر یہ ایک بار ہوجاتی ہے، تو پھر واپسی کا سفر انتہائی تکلیف دہ اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ 

افغانستان میں بہتا لہو اور اس کے کھنڈرات اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ وسط ایشیا کے علاقے کو جنوب مشرقی ایشیا کے چھوٹے چھوٹے ممالک کی مثال سامنے رکھنی چاہیے، جنہوں نے دوسری جنگِ عظیم سے سبق سیکھتے ہوئے جنگ کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہا، جس کے نتیجے میں ترقّی اُن کی منزل بنی۔ایشین ٹائیگرز اور اُبھرتی معیشتیں منظرِ عام پر آئیں ، جنھوں نے علاقے اور دنیا کو خوش حالی اور مواقع کا پیغام دیا۔ بلاشبہ اس میں جاپان جیسا ترقّی کا مینارہ بھی تھا، جس نے نہ صرف اپنی ترقّی کو منزلِ مقصود بنایا، بلکہ علاقائی ممالک کی ترقّی کے لیے بھی بنیاد بنا۔وسط ایشیا کے پاس بھی ایسا ہی مینارہ چین کی شکل میں موجود ہے۔

اس کی پالیسی بھی جاپان جیسی ہے، وہ بھی مُلکی ترقّی کو ہر چیز اور پالیسی پر ترجیح دیتا ہے۔اگر وسط ایشیائی ریاستیں خود کو تنازعات اور لڑائی سے بچانے میں کام یاب رہیں، تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا میں اگلی’’ لینڈ آف اپرچیونٹیز‘‘ وسط ایشیا ہوگا۔روس نے 80 سال تک اس علاقے اور ریاستوں کو بُری طرح کچل کر رکھا، لیکن آزادی کے بعد اُنہیں موقع ملا ہے، اگرچہ اس موقعے کو اب تیس سال گزر چُکے ہیں۔ بلاشبہ یہاں باکو جیسے ترقّی یافتہ شہر وجود میں آچُکے ہیں، لیکن چھوٹی آبادی، قدرتی وسائل سے مالا مال خطّے کیا کچھ کرسکتے ہیں؟ اس کا ابھی تک کوئی مظاہرہ وسطی ایشیا میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ناگورنو قرہ باغ جیسے مسائل حل کرنے کے لیے جرأت اور حوصلے کے ساتھ توازن کی ضرورت ہے۔ اسے اسی پس منظر میں رہ کر حل کروانا چاہیے۔پھر یہ کہ وسط ایشیا جیسے اہم خطّے کا حصّہ ہوتے ہوئے کبھی روس اور کبھی تُرکی پر انحصار کرنے کی پالیسی کس قدر سود مند ہے؟ اس پر وہاں کے حکم رانوں کو ضرور سوچنا چاہیے۔