• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

چیف جسٹس کی انقلابی ترامیم: 85 سال بعد لوگوں کو کم وقت میں انصاف مل سکے گا

تخت پاکستان پر براجمان ارباب کی پالیسیاں عوام کیلئے لوہے کا چنا ثابت ہوئیں ہیں جنھیں چبا کرعوام بڑی تیزی سے اپنے دانتوں سے محروم ہوتے چلے جارہے ہیں، سیاسی حکومت کی پیدا گئی مہنگائی کے جنجال میں جکڑے عوام کیلئے ایک خوشخبری ہے ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے برعکس زمینی حقائق کے عوام کو ریلیف دینے کا عمل شروع کردیا ہے جس کی عوامی سطح پرزبردست پذیرائی ملے گی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے 85 سال بعد پنجاب بھر میں ضابطہ دیوانی ، آرڈرز اور رولز میں انقلابی ترامیم رائج کردیں ہیں،جس کا مقصد پنجاب کی عدالتوں کو مقدموں کے بوجھ سے آزادی دلانا اور سائلین کو کم ترین وقت میں انصاف دلانا مقصود ہے۔

اس خواب کی تکمیل کیلئے عملی انتظامات جنگی بنیادوں پر کئے جارہے ہیں،ترامیم کا پس منظر یہ ہے کہ تجاویز اور سفارشات 8رکنی رولز کمیٹی نے دیں جسکے سربراہ جسٹس امین الدین خان تھے جبکہ ارکان میں جسٹس طارق عباسی، جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس شاہد کریم، سینئر سول جج شکیب عمران، سینئر قانون دان ظفر اقبال کلانوری اورسینئر قانون دان شہزاد شوکت شامل تھے۔ رکن رولز کمیٹی سینئر قانون دان ظفر اقبال کلانوری نے بتایا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے سول عدالتوں میں 2017ء سے دائر کیسوں کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا بھی حکم دے دیا ہے۔

ماتحت عدالتوں میں زیر التواء کیسز کیلئے رہنما اصول وضع کئے گئے ہیں ۔ کیسوں جلد نمٹانے کیلئے ججوں کی غیر ضروری چھٹیوں پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ 6 ماہ سے زیر التواء حکم امتناعی کے کیسوںکو 15 دنوں میں نمٹانے کا حکم جاری کیاگیاہے۔ مزید برآں فیملی، گارڈین اور جانشینی سرٹیفکیٹس کے کیس 3 ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ترامیم کے حوالے سے انھوں نے بتایا کمیٹی کی تجاویز پر ضابطہ دیوانی میں 23 ترامیم رائج کردی گئیں ہیں۔جن کے مطابق کیس منیجمنٹ کا نیا نظام متعارف کروایا گیاہے۔ ہر کیس کے دومراحل ہوں گے۔مرحلہ نمبر 1 کی سماعت و نگرانی انتظامی جج کرے گا جبکہ مرحلہ نمبر 2 کی سماعت ٹرائل جج کرے گا۔ انتظامی جج مقدمہ کا منیجر ہوگا ۔ 

مرحلہ نمبر 1 میں دعویٰ دائر ہو نے کے بعد 30 روز میں جواب داخل کرنا لازم ہوگا اور مقررہ مدت میں جوب داخل نہ کرنے پر جواب دعویٰ کا حق ختم ہوجائیگا۔ مدعی اور مدعا علیہ کی جانب سےدستاویزی ثبوت جمع کروانے اور الزامات عائد کرنےان کا اقرار یا استرداد کرنے تک مقدمہ کی نگرانی انتظامی جج کرے گا۔مدعی اور مدعا علیہ کیس مینجمنٹ فارم بھی بھریں گے۔انتظامی جج ٹرائل سے پہلے سماعت کر ےگا اور خود بھی چیک لسٹ فارم بھرے گا تاکہ معلوم ہوسکے کہ کیس کس مرحلے پر پہنچا ہے؟دوسرے مرحلے میں ایشوز فریم کرنے کیلئے تاریخ مقرر ہوگی جو ایک سے دو ماہ کے اندر اندر ہوگی ۔ ٹرائل جج مقدمہ کی قاعدہ سماعت شروع کرے گا۔سماعت روزانہ کی بنیا دپر ہوگی کوئی التوا نہیں ہوگا۔

چھ ماہ کے ماہ اندر اندر دلائل مکمل ہونے کے بعددلائل کا خلاصہ ٹرائل جج وضع کرےگا اورٹھیک 14 روز بعدفیصلہ سنا دے گا ۔15واں دن نہیں آئیگا۔ڈگری جاری ہونے کے بعد فیصلہ پر عملد رآمد خود کار طریقہ سے شروع ہوجائیگا۔اس کیلئے سخت شرائط مقرر کی گئیں تاکہ انصاف کا حصول حقیقت میں ممکن ہوسکے۔فیصلہ کے بعد متاثرہ فریق اپیل کردیتا ہے تواپیلٹ کورٹ نئے سرے سے سماعت نہیں کرے گی بلکہ صرف ریکارڈ طلب کرے گی اور صرف فریقین کو دوبارہ سن کر فیصلہ سنائے گی ۔اپیلٹ کورٹ اگر سابقہ عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتی تو تحریری فیصلہ میںکوئی توجیہہ بیان نہیں کرے گی۔اختلاف کی صورت میںاپیلٹ کورٹ وجوہات تحریر کریگی۔تنازعات کو بیرون عدالت جلد حل کرنے کیلئے مصالحتی عدالتیں بعد از سماعت30 روز کے اندر فریقین کو قضیہ حل کرنے کا وقت دیں گی۔عدم مصالحت پر معاملہ دوبارہ کورٹ کو بھیج دیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا جولائی 2020 تک مجموعی طور پر20 لاکھ41 ہزار 382 کیس پاکستانی عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔جن میں سپریم کورٹ میں 45508، لاہور ہائیکورٹ میں 188411، سندھ ہائیکورٹ میں 83341 ،پشاور ہائیکورٹ میں38464 ، بلوچستان ہائیکورٹ میں 5313 اور اسلام آبا دہائیکورٹ میں15847 میں زیر سماعت ہیں۔ پنجاب کی ضلعی عدالتوں میں 1287121، سندھ میں105458،خیبر پختونخواہ میں 210025، بلوچستان میں 17000 اور اسلام آباد میں43294 زیر التوا ہیں۔پاکستان کی کل آبادی 21 کروڑ22 لاکھ جبکہ پنجاب کی آبادی 11 کروڑ سے زائد ہے ، جو کل آبادی کا52 فیصد ہے۔پنجاب میں لاہور ہائیکورٹ سمیت ماتحت عدالتوں میں مجموعی طورپر 14 لاکھ 75 ہزار 532مقدمات زیر التوا ہیںجو کل آبادی کا 72 فیصد بنتے ہیں۔

اگر مصالحتی عدالتوں میں 30 دن کے اندر فریقین نے صلح کرنے پر راضی ہوگئی تو آدھےکیس باقاعدہ ٹرائل سے پہلے ہی ختم ہوجائیں گے اور عدالتوں پر پڑا بھاری بھرکم بوجھ ہلکا ہوجائیگا۔ خداکورٹ کچہری سے بچائے ، دیوانی کیس دیوانہ بنا ئے، دادا کیس کرے پوتا اس کا فیصلہ لے، یہ سب ماضی کی باتیں اس وقت ہی ہوپائیں گی جب تمام ججوں ، وکلاء اور عدالتی عملہ کی جنگی بنیادوں پر تربیت ہوگی ۔ 

حالیہ صورتحال یہ ہے کہ جو تربیتی ورکشاپس ہوئی ہیں جو کافی نہیں ہیں۔عدم تربیت اور معلومات نہ ہونے کہ وجہ سے مختلف شہروں سے مزاحمت اور ہڑتال کی خبریں موصول ہورہی ہیں ۔اگر سنجیدگی سے تربیتی ورکشاپس نہ کروائی گئیں تو خوشگوار تبدیلی کا خواب سراب بن جائیگا اور عوام انصاف کے حصول کیلئے بلکتے رہیں گے۔

تازہ ترین
تازہ ترین