آپ آف لائن ہیں
اتوار10؍جمادی الثانی 1442ھ 24؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

غیر اللہ کی قسم اور قسم کے چند ضروری مسائل

تفہیم المسائل

سوال: اکثر لوگ معاملات میں سچائی ثابت کرنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے دوسرے فریق کو مختلف چیزوں کی قسم یا رشتے داروں کی قسم دیتے ہیں ،کیا ایسی قسمیں شرعاً نافذ ہوتی ہیں اور اُن کے توڑنے پر کفارہ ہوتا ہے ؟نیز قسم کھانے والا اگر توریہ کرے ،یعنی اپنے کلمات کاعام فہم معنیٰ مراد لینے کے بجائے دور کا معنیٰ مراد لے ، تو اس پر کوئی کفارہ لازم ہوگا ،مزیدیہ کہ قسم میں توریہ کی گنجائش کن صورتوں میں ہے ؟

جواب: قسم کا تقاضا یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی جائے ،اس کی تعظیم ہو اور حقیقت میں ہرقسم کی تعظیم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے ،اس تعظیم میں اللہ تعالیٰ کے کوئی مشابہ نہیں ہے ۔ قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے ، حدیثِ پاک میں غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع فرمایا: ترجمہ:’’ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: بے شک ،رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کو اس حال میں پایا کہ وہ سواروں کے ساتھ جارہے تھے اور اپنے باپ کی قسم کھارہے تھے ،تو آپ ﷺ نے فرمایا: 4سنو! بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے منع فرماتا ہے کہ تم اپنے آباء کی قسم کھاؤ ،جو شخص بھی قسم کھانے والا ہو ،سو وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھائے یا خاموش رہے ،(صحیح بخاری:6646)‘‘۔

علامہ علاء الدین ابوبکربن مسعود کاسانی حنفیؒ لکھتے ہیں : ’’ اپنے آباء ،اُمَّہات (ماؤں)اوربیٹوں کی قسم نہ کھائی جائے اور اگر کسی نے ان میں سے کسی ایک کی قسم کھائی ،تووہ شرعی قسم نہ ہوگی ،کیونکہ یہ غیر اللہ کے نام کی قسم ہے ،گوایسی قسمیں لوگوں میں متعارف ہیں، لیکن چونکہ شریعت نے ان سے منع کیا ہے (اس لیے ان کا اعتبار نہیں ہوگا )، رسول اللہ ﷺ کا فرمان: ’’تم نہ تو اپنے آباء کی قسم کھاؤ اورنہ شیاطین کی ،پھرتم میں سے جسے کوئی قسم کھانا ہووہ اللہ کی قسم کھائے یا چھوڑ دے (نہ کھائے)‘‘، اسی طرح ایک روایت میں ہے :’’ جس نے(ہر موقع اورہربات پربالذات شاہد وعلیم وخبیر جانتے ہوئے ) غیر اللہ کی قسم کھائی ،اس نے شرک کیا‘‘ ۔ علاوہ ازیں اس لیے بھی کہ قسم کی یہ نوع ’’مُقْسَمْ بِہٖ‘‘ (جس کی ذ ات کی قسم کھائی جائے)کی تعظیم وتکریم کے لیے ہے ،او ر اس نوع کی تعظیم کا مستحق اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا ،(بدائع الصنائع ،جلد3،ص:8)‘‘۔مزید لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ غیراللہ کی قسمیں بنیادی طورپر دو اقسام میں منقسم ہیں : (۱) قسم اول ایسی قسموں پر مشتمل ہے ،جن کا اوپر ذکرآیا یعنی اپنے آباء ،اپنے بیٹوں ،انبیاء اور ملائکہ علیہم السلام ،روزے ،نماز ، تمام شرعی احکام ،کعبہ ، حرم شریف ،زمزم ،روضۂ نبوی اور منبر نبوی وغیرہ کی قسمیں کھانا(وغیرہ)،ان کا حکم جیسا ہم نے بیان کیا کہ ان میں سے کسی شے کی بھی قسم کھانا جائز نہیں ہے ،رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :’’اگر تمہیں قسم کھانی ہو تو فقط اللہ تعالیٰ کی قسم کھاؤ ‘‘اور اگر ان (اشیاء یا شخصیات)میں سے کسی کی قسم کھابھی لی توشرعاً ایسی قسم کا کوئی اعتبار ہوگا اور نہ اس پر (قسم توڑنے کی صورت میں کفارے وغیرہ کا)کوئی حکم مرتب ہوگا ،(بدائع الصنائع ،جلد3،ص:21)‘‘،یعنی ایسی کوئی بھی قسم لغو ہوگی ۔صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی ؒ فتاویٰ عالمگیری کے حوالے سے لکھتے ہیں:’’غیر خدا کی قسم، (شرعی) قسم نہیں ،مثلاً تمہاری قسم ،اپنی قسم ، تمہاری جان کی قسم ،اپنی جان کی قسم ،تمہارے سَر کی قسم ،اپنے سَر کی قسم ، آنکھوں کی قسم ،جوانی کی قسم ،ماں باپ کی قسم ،اولادکی قسم ،مذہب کی قسم ، دین کی قسم ، علم کی قسم ، کعبہ کی قسم ،عرشِ الٰہی کی قسم ،رسول اللہ ﷺ کی قسم(وغیرہ) ،(بہارِ شریعت ، جلد دوم،ص:302)‘‘۔

دوسرے کے قسم دلانے سے قسم نہیں ہوتی ،صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی ؒ فتاویٰ عالمگیری کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’ دوسرے کے قسم دلانے سے قسم نہیں ہوتی ،مثلاً کہا: تمہیں خدا کی قسم یہ کام کردو،تو اس کہنے سے اُس پر قسم نہ ہوئی یعنی نہ کرنے سے کفارہ لازم نہیں ،ایک شخص کسی کے پاس گیا ،اُس نے اٹھنا چاہا ،اس نے کہا: خداکی قسم نہ اٹھنا اوروہ کھڑا ہوگیا تو اس قسم کھانے والے پر کفارہ نہیں ،(بہارِ شریعت ، جلد دوم،ص:303)‘‘۔

(… جاری ہے…)