آپ آف لائن ہیں
اتوار10؍جمادی الثانی 1442ھ 24؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اچھی خوراک،صحت مند ماحول بہترین تعلیم وتربیت دنیا کے ہر بچے کی بنیادی ضروریات ہیں لیکن ایک دونہیں کرڑوں بچے ان سہولیات سے محروم ہیں۔ ایسے میں یہ بچے مرجھا جاتے ہیں، ان کی شخصیت مسخ ہوجاتی ہے ان تمام پہلووں کو مد نظر رکھتے ہوئے ورلڈ کانگریس نے1925میں یوم اطفال منانے کا آغاز کیا تھا اس کے بعد1946میں بچوں کی فلاح وبہبود کے لیے اقوام متحدہ نے ایک ادارہ یوسنیف قائم کیا، اس کے قیام کا بنیادی مقصد، دنیا بھر میں بچوں کی ذمے داریوں سے متعلق بیداری پیدا کرنا ہے۔1954میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی، جس میں دنیا بھر کے ملکوں سے کہاگیا کہ وہ ہر سال اکتوبر کے پہلے پیر کو ’’ عالمی یوم اطفال‘‘ منایا کریں۔ ہر ملک اس روز اپنے بچوں کے مسائل کے بارے میں جانے، انہیں حل کرنے کی سعی کرے۔ بعد ازاں جنرل اسمبلی نے1969میں ایک میشاق مرتب کیا، جس میں بچوں کے حقوق متعین کیے گئے۔

1992میں یونسیف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ اس سال یعنی 1992سے بچوں کا عالمی دن ساری دنیا میں20نومبر کو منایا جائے گا کیوں کہ20نومبر1969کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے حقوق کا معاہدہ منظور کیاتھا ۔

1990میں یونیسف نے عالمی سربراہ کا نفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں71ممالک کے صدر اور وزرائے اعظم صرف بچوں کی بہبود کے لیے بہت سے اصول طے کیے اور نئے اہداف مقرر کیے ۔جن میں بچوں کی بیماریوں پر کنٹرول،بچوں کی عدم غذائیت میں کمی، پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں ایک تہائی کمی، صفائی اور پانی کی سہولتیں بچے کی بنیادی سہولت وغیرہ فراہم کرنا۔ یونیسف کی رپورٹ1992کے مطابق ان اہداف کے حصول کے لیے54ملکوں نے منصوبے تیار کیے ۔تمام تر کوششوں کے باوجود بھی بچے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں2000میں دنیا بھر کے رہنماوں نے ’’ میلینم ڈیولپمینٹ گولز‘‘ کا تعین کیا تواس میں بھی بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح وبہبود سے متعلق نکات شامل کیے گئے۔

2012میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے بچوں کی تعلیم کے ضمن میں جن کوششوں کا آغاز کیا ان میں پہلا ہدف یہ تھا، کہ دنیا بھر میں اسکول جانے کی عمر کے تمام بچے اسکول جانے لگیں۔دوسرا ہدف یہ رکھاگیا کہ مکتب میں بچوں کو جو کچھ پڑھایا ، سکھایا جاتا ہے اس کا معیار بہتر بنایا جائے تیسرا ہدف یہ طے کیاگیا کہ تعلیم سے متعلق ان حکمت عملیوں پر عمل درآمد کیا جائے جن کے ذریعے امن واحترام اور ماحولیات سے متعلق آگہی کو فروغ ملے۔

ہرسال عالمی یوم اطفال منایا جاتا ہے لیکن کیا کرہ ارض کے کروڑوں بچوں کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوگئیں۔اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔

اس دن کی مناسبت سے دنیابھر میں سیمینار اور تقریبات کا انعقاد کیاجاتا ہے۔ہمارے ملک میں بھی شہروں کی سطح پر اس دن کی مناسبت سے مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ان میں اکثر وبیشتر وہی بولیاں، وہی قصے ، کہانیاں ہوتی ہیں ،جنہیں ماضی میں دیکھتے اور سنتے چلے آرہے ہیں۔بچوں کا عالمی دن امیدوں کا جھونکا بن کر آتا ہے پھر واپس چلاجاتا ہے۔

ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ بچے قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں لیکن کیا ہم اس قیمتی سرمائے کی قدروقیمت سے واقف ہیں؟ ان کی بنیادی حقوق پورے کررہے ہیں؟ بچوں کی فلاح وبہبود کے لیے کس حدتک کام ہورہا ہے یہ وہ سوالات ہیں، جن کا جواب شاید کوئی بھی نہ دے سکے۔

اگر کسی قوم کو ترقی کی رہ پر گامزن ہو تو وہ سب سے پہلے اپنے مستقبل کے معماروں کی طرف توجہ دیتی ہے، مگر افسوس ہم یہ سب نہیں سوچتے ،تیسری دنیا کے لوگ صرف پہلی دنیا کی تقلید کرناجانتے ہیں، ان کی دیکھا دیکھی مختلف سالانہ یوم مناکراپنے اردگرد موجود لوگوں اور ابلاغی ذرائع کی مدد سے دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم بھی مغربی ممالک اور جدیدت میں پیچھے نہیں ہیں۔ دیکھاجائے تو مغربی ممالک اس طرح کے دن مناکر اپنے معاشرے میں بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں ہم صرف نقالی کرناجانتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے بچوں کے حقوق کے لیے بنائے گئے کنوینشن کے مطابق پاکستان میں بچوں کے حقوق کے حوالے سےکوئی خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی ۔ اس کنوینشن کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق بچوں کو وہ بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں جن میں صحت، تعلیم اور تحفظ کے حقوق شامل ہیں۔

بچوں کے حوالے سے ویسے تو بہت سے مسائل در پیش ہیں لیکن ان میں سے چند کا درجہ ذیل ہیِ،۔جن کا حل بہت ضروری ہے۔

تعلیمی شعبے میں واجبی سرمایہ کاری

ملکوں کی تہذیب وترقی کا صحیح معیار اس کی مردم شماری کے اعداد یا معیشت کے حجم کے اعتبار سے نہیں بلکہ تعلیمی شرح سے ہوتا ہے ہمارے ملک میں طویل عرصے سے تعلیمی شعبے میں محض واجبی سرمایہ کاری نے شدید تعلیمی بحران پیدا کردیا ہے۔ بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد اسکول جانے سے محروم ہے۔ کیا اکیسویں صدی میں تعلیمی سہولتوں سے بچوں کو محروم رکھنا کسی مذہب ریاست کو زیب دیتا ہے؟

اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کے مطابق پاکستان کو اپنی قومی پیداوار کا چھ سے دس فی صد حصہ تعلیم پر خرچ کرناچاہیے تھا۔ لیکن افسوس مجموعی پیداوار کا بہت کم حصہ تعلیم جیسے اہم شعبہ پر خرچ کیا جاتا ہے۔یہ معمولی رقم آبادی کے پیش نظر مزید تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لئے ناکافی ہے بلکہ مجموعی طور پر تعلیم کے معیار پربھی اثر انداز ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیمی شرح دیگر ممالک کی نسبت انتہائی کم ہے۔

تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ان بچوں کی تعداد اڑھائی کروڑ سے زیادہ ہے جو اسکول نہیں جاتے اور ان کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان دنیا کا وہ خوش قسمت ملک ہے جس کی آدھی آبادی بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ یہ آدھی آبادی بنیادی سہولیات اور حقوق سے محروم ہے اور نہ جانے کب تک محروم رہے گی۔

بچوں کی صحت

یونیسف کے مطابق دنیا میںروزانہ 3لاکھ 60ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں، جبکہ روزانہ24ہزار بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ بچوں کے حقوق اور صحت کے لیے کام کرنے والے ادارے کے ماہرین کے مطابق پوری دنیا میں بچوں میں زیادہ تر اموات نمونیا کے سبب ہوتی ہے اور پاکستان تیسرا بڑا ملک ہے ،جہاں نمونیا کے سبب ہر سال ہزاروں بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جس کی بڑی وجہ غربت ، سرکاری سطح پر طبی سہولیات کا فقدان اور لاعلمی ہے۔ پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے باوجود آج تک پاکستان سے پولیو کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔

صحت مند زندگی کا خواب پس ماندہ علاقوں میں بسنے والے لاچار بچوں کے لئے محض ایک خواب بن کررہ گیا ہے۔ اپنے اوپر بیتی ستم ظریفی تو برداشت ہوہی جاتی ہے لیکن جب غریب والدین سے بات ان کے بیمار بچوں کی صحت کے حوالے کی جائے تو شدت افسوس سے آنکھیں نم ہوجانا یقینی ہے ان کی سچ بیانی اگرچہ دن کے اجالوں میں سنی جاتی ہے لیکن وہ ناامیدی کے اندھیروں میں لے جاتی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے لیے14فی صد یعنی تیس کروڑ بچوں کو صحت کی سہولیات تک رسائی نہیں۔ صفائی ستھرائی کی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہزاروں بچے خطرناک بیماریوں کا شکار ہوکر ہلاک ہوجاتے ہیں، پاکستان دنیا کے ان پس ماندہ ممالک میں شامل ہے، جہاں بچوں کی اکثریت موزوں غذا ،موثر علاج سے محروم ہے۔ ناکافی غذا اور بیماریوں کی وجہ سے یہاں بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ ہیں۔ یہ سب جانے کے باوجو لائحہ عمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔ریاستی ادارے جن کے ذمہ یہ کام ہیں وہ کیوں آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ بچہ چاہے امیر کا ہو یا غریب کا بچہ تو بچہ ہے،اپنے مفاد کے چکرمیں بچوں کی صحت سے تو نہ کھلیں۔

نوزائیدہ شرح اموات

ہمارے ملک میں بچوں کی اموات میں سب سے بڑی وجہ اہل طبی عملے کی کمی ہے۔نوزائیدہ شرح اموات دیہی علاقوں میں بہت زیادہ ہیں جہاں طبی سہولتیں تقریباً ناپید ہیں۔ طبی عملے کی غفلت اور ان کا اپنی ڈیوٹی پر موجود نہ ہونے سے بچوں کی اموات کی وجہ بنتی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق پاکستان میں ایک ہزار بچوں میں 44بچے پیدائش کے وقت ہی فوت ہوجاتے ہیں اور 75بچے پانچ سال کی عمر تک نہیں پہنچ پاتے ۔پاکستان میں حفاظتی ٹیکے نہ لگوانے کی وجہ سے بھی سالانہ ہزاروں بچوں کی اموات ہورہی ہیں جو ایک خطرناک علامت ہے۔پاکستان میں نومولود بچوں کی موت کی ایک بڑی وجہ قبل از پیدائش بھی ۔

مزدور بچے

آج ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، جس گلی محلے ، بازار یا دکان میں دیکھیں، محنت مزدوری کرتے چھوٹے بڑے بچے دکھائی دیں گے۔ ہوٹلوں، قالین بنائی، کان کنی، چوڑی سازی فیکٹریوں، کارخانوں، ورکشاپوں، مکینک کی دکانوں پراپنے ننھے منے ہاتھ کالے کرتے ، سڑکوں چوراہوں، سگنلوں پر بھیک مانگتے ، پوٹ پالش کرتے، گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے ، ٹریفک اشاروں پر اخبار بیچتے، گلی محلوں میں کاغذ چنتے، کپڑوں پر زری کاکام کرتے زندگی کی گاڑی کھینچنے والے بچے جگہ جگہ نظر آئیں گے۔ ہاتھوں میں قلم اور کتاب کی جگہ اوزار پکڑے یہ معصوم پھول جن کے ابھی فقط کھیلنے کودنے اور پڑھنے لکھنے کے دن ہیں کس غیر محسوس طریقے سے ان کا بچپنا چھینا جارہا ہے اس امر کا کسی کو اندازہ ہی نہیں گندگی کے ڈھیر کے پاس سے گزرتے وقت ہم اپنا ہاتھ ناک پررکھ لیتے ہیں کہ جراثیم ہماری سانس کے ذریعے پھیپڑوں میں نہ چلے جائیں۔ 

لیکن یہی جراثیم ان ننھے باسیوں پر اثر نہیں کرتے ،جبکہ ان کا اوڑھنا بچھونا وہی جراثیم ہیں؟ مفلسی کی آندھیاں انہیں ماں کی گود سے سیدھا ذمہ داریوں کے منجدھار میں لاکھڑا کرتی ہیں۔ ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ کچی بستیوں کے ان گھروں کو آباد کرتے ہیں، جہاں روٹی کے چند ٹکڑے زندگی کا واحد مقصد ہیں۔یہ ایسی قوم کا حصہ ہیں، جہاں ان کا حق ان کا فرض پورا کرنے والے کھاجاتے ہیں کل کتنے ہی بچے جواس ملک کا فخر بن سکتے تھے وہ معاشی ذمہ داریوں تلے دب گئے ہیں اصل میں تو 20نومبر کا دن ان ہی بچوں سے اظہار یک جہتی اور ان کے سر پر دست شفقت رکھنے کا دن ہے۔

اسی حوالے سے انشا جی نے کیا خوب نظم کہی تھی اس کے چندبند ملاحظہ کیجئے۔

یہ بچہ کیسا بچہ ہے

جوریت پر تنہا بیٹھا ہے

نہ اس کے پیٹ میں روٹی ہے

نہ اس کے تن پر کپڑا ہے

نہ اس کے سرپر ٹوپی ہے

نہ اس کے پیر میں جوتا ہے

نہ اس کے پاس کھلونوںمیں

کوئی بھالو ہے، کوئی گھوڑا ہے

نہ اس کا جی بہلانے کو

کوئی لوری ہے نہ کوئی جھولا ہے

ایک جیتی جاگتی دنیا میں ان زندہ بچوں کا کیا، جن کی پریشاں زیست کا ہر گزرتا دن ان کے لیے موت سے بدتر ہوتا جارہا ہے، جن کے پاوں ننگے، پیٹ خالی اور جگہ جگہ سے ادھڑا، پھٹا لباس مقدر بنا ہوا ہے، ایسے غریب ، لاوارث بے گھر اور بے سہارا بچوں کی دار رسی کے لیے کیا اقدامات اور کیا کام ہونے ضروری ہیں جو ان بچوں کی زندگی میں تبدیلی ، بہتری، اور خوشیاں لاسکیں؟ یہ سوال، گذشتہ کئی دہائیوں سے محض ایک سوال ہی بن کر رہ گیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق 61 ملین سے زیادہ بچے پاکستان میں چائلڈ لیبر کا شکار ہیں سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے دس ممالک جو چائلڈ لیبر کے حوالے سے بدترین صورت حال کا شکارہیں ان میں پاکستان چھٹے نمبر پر ہے۔

گھریلو ملازمت پیشہ بچے

پاکستان میں نابالغ بچوں کو گھروں میں ملازم رکھنا عام ہے، مگر ان کم عمر بچوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے لیے کوئی قانون نہیںشاید یہی وجہ ہے کہ گھریلو ملازمین بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان بچوں سے چوبیس گھنٹوں میں درجنوں کام لیے جاتے ہیں۔ جوتے پالش کرنے سے لے کر گھر کی صفائی تک تمام کاموں کی ذمہ داری ان کم عمر ملازم بچوں پرہوتی ہے، جن کے والدین غربت کی وجہ سے انہیں کام پرلگادیتے ہیں پیشگی تنخواہ ان کو ادا کردی جاتی ہے اور یہ بچے ایک طرح سے قید ہوکر رہ جاتے ہیں بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ ملازم بچے زرخرید غلام بن کررہ جاتے ہیں اور ان کے مالک جو چاہیں جیسا چاہیں سلوک کرتے ہیں طیبہ نامی بچی پر ایک جج کی بیوی کے مبینہ تشدد کا واقعہ بھی سامنے آیاتھا اور اس کی زخمی تصاویر بھی وائرل ہوئیں تھیں۔ جس پر پاکستانی سپریم کورٹ نے سوٹو ایکشن بھی لیا تھا لاہور میں سولہ سالہ عظمیٰ کو تشدد کرکے قتل کردیاتھا عوام کے غم وغصے کے باوجود یہ سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔

پاکستان میں بچوں کو تحفظ دینے اور ان کی بہبود کے لیے قانون موجود ہے۔ یہ قانون2017 Child Protecicn Billپاکستان کے منتخب ایوانوں سے پاس ہوچکا ہے لیکن ان سب کے باوجود بچوں کے ساتھ مختلف قسم کی زیادتی اور ظلم کی کہانیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔

کچرا کنڈیوں میں پھیکے جانے والے بچے

ہمارے معاشرے میں بچوں کے حوالے سے ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ جس کی روز ہی کوئی نہ کوئی ہمیں مثال نظر آتی ہے اور وہ ہے کچرا کنڈیوں سے نومولود بچوں کا ملنا، جنہیں بے رحم لوگ کچراا سمجھ کرپھینک جاتے ہیں۔ جن میں کم تعداد ہی ایسی ہوتی ہے جو زندہ بچ جاتے ہیں کیوں کہ ان کچرا کنڈیوں میں بلی، کتوں، چیل کوووں کی یلغار رہتی ہے۔ جوان معصوم بچوں کو بھنبھوڑ ڈالتے ہیں۔

بچ جانے والے بچوں کو اطلاع ملنے پر انسانی خدمت کے ادارے لے جاتے ہیں اتنا سفاکانہ عمل کرتے ہوئے لوگ اللہ کے عذاب کا نہیں سوچتے۔ ان کا دل خدا کے قہر سے لرز کیوں نہیں جاتا، ہم کب اپنے معاشرے کی اصلاح کرپائیں۔

پھولوں کودرندوں سے بچانا ہوگا

باغ میں لگے پھولوں کو دیکھ کر دل کرتا ہے کہ انہیں توڑ لیں لیکن پھر یہ احساس کہ باغ میں اس کا مہکنا اس کا حق اور اس کی خوب صورتی اسی ڈال پر ہے۔ بچے بھی پھولوں کی مانند ہوتے ہیں بے حد خوب صورت پھول جن سے پورا گھر مہکتا ہے۔ اولاد ماں باپ کے لیے سارے جہان کی دولت سے بڑھ کرہوتی ہے،جہاں اتنی قیمتی دولت ہو وہاں لٹیرے بھی ہوتے ہیں جو گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ کب نظر ہٹے اور وہ ان ہیروں کو لوٹ لیں۔ ان کلیوں کو پھول بننے سے پہلے ہی شاخ سے الگ کرکے مسل دیں، ہر روز کئی کلیوں کو توڑا اور مسلا جارہا ہے جن کی مسکراہٹ پر ان کے ماں باپ کی زندگی تھی ۔ 

یہ ان ہزاروں سالوں سے چلے آنے والی وحشت اور ہوس کی کہانی ہے جو ہر روز کسی گھر میں کسی گلی میں وقوع پذیر ہورہی ہیں۔ ظالم سفاک درندے آنگن کی معصوم کلیوں کو ہی نہیں غنچوں کو بھی کھلنے سے قبل ہی مسل ڈالتے ہیں۔شاید ہی پاکستان کا کوئی شہر اور قصبہ ایسا ہوگا جہاں بچوں کے ساتھ جرائم کے واقعات رونما نہ ہورہے ہوں۔ورکشاپوں، ہوٹل کھانا چائے لانے والے بچے ان تمام جگہوں پران چھوٹوں کے ساتھ مزدوری کے ساتھ ساتھ زیادتی بھی کی جاتی ہے۔قصور کی زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے بعد مجرم کو سزا ہوجانے کے بعد یہ امید ہوگئی تھی کہ اب اس طرح کے واقعات میں کمی آجائے گی لیکن افسوس بچوں سے جنسی زیادتی کا سلسلہ کسی صورت کم ہونے میں نہیں آرہا ۔

ہمارے معاشرے میں بچوںکے میل جول، اٹھنے بیٹھنے اور حرکات وسکنات کے حوالے سے زیادہ آگہی نہیں دی جاتی، جس کی وجہ سے جنسی درندے باآسانی بچوں کے ساتھ گھل مل کرانہیں اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں ۔ملک بھر میں ایسے کتنے واقعات رونما ہوتے ہیں جن کی رپورٹ ہی نہیں کی جاتی ۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ایسے ہر واقعے کے بعد ہمارا دل دہلتا ہے۔ خبر بنتی ہیں، حکومت بھی اقدامات کرتی ہے اور پھر ویسا ہی ایک اور واقعہ ہوجاتا ہے اور ہم پھر اسی گول دائرے میں چلنے لگتے ہیں۔ معاملے کے حل کی طرف نہیں آتے۔

ایک وہ بھی وقت تھا جب یہ دھرتی چاہتوں کے گیتوں سے گنگناتی تھی اور ہوائیں رشتوں کے احترام ومان سے مہکتی تھیں۔ سب بچے بچیاں ساتھ کھیلتے تھے۔ محلے بھی گھروں کا پرتو ہوتے تھے ہر طرف سلامتی اور سکون کا راج تھا پھر اس سکون وامن وسلامتی پر اندھیری رات ٹھہر گئی ۔

ہمارا مستقبل،ہماری امید اور ہمارے چمن کے پھول عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں۔ اب پانی سر سے بہت اونچا ہوتاجارہا ہے اس مکروہ فل کی وجوہ اور عوامل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کے بنا پر معاشرہ اخلاقی گراوٹ کے دلدل میں اس حد تک دھنستا جارہا ہے کے معصوم فرشتوں سے اپنی ہوس مٹانے میں مصروف عمل ہے۔

بلاشبہ بچوں کی حفاظت ، نگہداشت اور انہیں ناروا سلوک سے بچانا ، گزرتے دنوں کے ساتھ ایک چیلنج بنتا جارہا ہے والدین اور اساتذہ بچوں کی محفوظات کو یقینی بنائیں۔

بچوں کے حوالے سے صرف ایک دن مناکر پھر خاموشی کی چادر تان لینے سے استحصال کوروکا نہیں جاسکتا۔کسی بھی دن کو منانے کا مقصد محض مسائل کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تو ہوتا ہے ورنہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے ہر دن نئے عزم اور ولولے سے کام کرنے اور اپنے فرائض کا ادراک کرنے میں ہے۔ کیوں کہ صرف دن منانے سے دنیا بھر کے حقوق کو ترستے لاکھوں بچے کوئی حقوق حاصل نہیں کرسکتے۔

بچوں کے تمام بنیادی حقوق کی ذمہ داری والدین ، معاشرے ، درسگاہوں، محلوں، عہدیداروںاور حکومتی اداروں سب ہی پرعاائد ہوتی ہے، تاکہ کوئی سی بھی تپش ان پھولوں اور کلیوں کے جھلسنے کا باعث نہ بنے۔ ہمیں ہر سطح پر وہ تمام اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے، جس سے بچوں کو محفوظ ماحول ملے، ان کے حقوق کا تحفظ ہو اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع ملیں۔

آخر میں میرا سوال ہے اسے دل کی گہرائیوں سے محسوس کریں کیا ہم ان معصوم پھولوں کے ساتھ نرمی سے محبت سے پیش آتے ہیں۔ جو گھروں میں ہوٹلوں اور دیگر کاروباری مراکز میں کام کرتے ہیں۔ کیا کسی نے سڑکوں پر گاڑیاں مصاف کرتے بچوں ، کوڑا کرکٹ اٹھانے والے بچوں کی پڑھائی کی ذمہ داری لی ہے ہر کوئی ان کو دیکھتا ہے اپنی گاڑی صاف کروا کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ اکثر لوگ ان غربت کے ماروں کو دھتکار دیتے ہیں۔ لیکن کوئی ان کے طرز زندگی پر غور نہیں کرتا بلکہ ان کو یکسر نظر انداز کردیاجاتا ہے۔

اپنے وقت میں سے تھوڑی سی محبت تھوڑی سی توجہ انہیں بھی دے دیں یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہم یہ ذمہ داریاں ادا کریں گے تب ہی تو ترقی یافتہ ممالک کی طرح ثمرات حاصل کرپائیں گے۔

بچوں کے عالمی حقوق ایک نظر میں

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 20 نومبر 1949 کو متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی جس میں بچوں کے حقوق وضع کیے گئے، جو درج ذیل ہیں:

بچہ دنیا کے کسی خطے سے تعلق رکھتا ہو، عالمی حقوق میں برابر کا شریک ہوگا ، ان حقوق کی تقسیم میں کسی بچے سے کسی طرح کا امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔

بچوں کو ہرقسم کا تحفظ، ہر طرح کے مواقع، ہر قسم کی مراعات، قانونی طور پر انسانیت کی رو سے ملنی چاہئیں، تاکہ بچے جسمانی، ذہنی ،اخلاقی، روحانی اور معاشرتی طور پر بہتر نشونما پا سکیں۔

معاشرہ بچے کو سماجی تحفظ اور بہتر طور پر پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کرے۔ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی ماں پر توجہ دی جائےاور پیدائش کے بعد اسے(ماں ) اچھی خوراک اور طبّی سہولتیں مہیا کی جائیں۔

بچوں کی تعلیم میں حائل ہونے والی ہر قسم کی کمی اور رکاوٹ کو دور کیا جائے۔ جسمانی اور معاشی طور پر مفلوج بچوں پر خاص توجہ دی جائے۔

بچوں کی شخصیت نکھارنے پر توجہ دی جائے۔ بچوں کو والدین کی سر پرستی میں پالا جائےتاکہ انہیں والدین کی محبت اور تحفظ مل سکے۔ کم عمر بچوں کو خاص مواقع کے سوا جدا نہیں کیا جاسکتا۔ جدائی کی صورت میں بچے کی بہتر نگہداشت کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔

بچوں کے لیے تعلیم مفت اور لازمی ہو، خصوصاََ پرائمری تک اسے ایسی تعلیم دی جائے جو اس کی صلاحیتوں کو نکھار سکے اور اسے اعلیٰ قدروں کی پہچان کے قابل بناسکے، نیز بچے کی تعلیم کا ذمہ دار والدین کو بھی ٹھرایا گیا ہے۔ تعلیم کے ساتھ بچوں کو کھیل کود اور تفریح کی سہولتیں ملنی چاہئیں۔

بچوں کو ہر قسم کی نفرت ،ظلم اور اجارہ داری سے محفوظ رکھا جائے۔ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈالا جائے۔مخصوص عمر تک ان سے مشقت نہ لی جائے، انہیں ایسے کام پر نہ لگایا جائے جس سے ان کی تعلیم ، صحت، ذہن اور اخلاق پر برا اثر پڑنے کا اندیشہ ہو۔

بچوں کو ہر حالت میں سب سے پہلے تحفظ اور مدد دی جائے۔

بچوں کو مذہبی اور علاقائی تعصب سے محفوظ رکھا جائے۔ ان کی پرورش ایسے ماحول میں کی جائے، جہاں ان میں سوجھ بوجھ، نظم وضبط ، بھائی چارے ، امن اور عالمی برادری سے پیار کا سبق مل سکے تاکہ وہ انسانیت کی خدمت کرنے کے اہل بن سکیں۔