آپ آف لائن ہیں
جمعہ یکم جمادی الثانی 1442ھ15؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میگھن مارکل نے بچہ ضائع ہونے کے دُکھ کوعظیم نقصان قرا ر دے دیا

لیڈی ڈیانا کے چھوٹے بیٹے پرنس ہیری سے شادی کے بعد بحیثیت شہزادی برطانوی شاہی خاندان سے علیحدگی اختیار کرنے والی امریکی اداکارہ میگھن مارکل نے اپنے ’مِس کیریج‘ یعنی اسقاط حمل سے متعلق پہلی بار بات کی ہے۔

میگھن مارکل کی جانب سے ’دی نیو یارک ٹائمز‘ کے لیے ’دِی لاَسِز وی شیئر‘ کے نام سے ایک جذباتی آرٹیکل لکھا گیا ہے جس میں اُنہوں نے رواں سال جولائی میں ہونے والے اپنے مِس کیریج سے متعلق تفصیلاً بات کی ہے۔

میگھن مارکل کی جانب سے اپنا بچہ ضائع ہو جانے پر جذبات اور احساسات پر بات کرتے ہوئے اس غم کو ناقابل برداشت قرار دیا گیا ہے۔

میگھن مارکل کا بتانا ہے کہ ’رواں سال جولائی میں وہ معمول کے مطابق ایک صبح اپنے بیٹے آرچی کا ڈائپر بدل رہی تھیں کہ اچانک اُنہیں شدید درد محسوس ہوا، وہ درد کے مارے زمین پر گر گئی تھیں اور اس دوران اُن کے ہاتھوں میں اُن کا بیٹا آرچی بھی تھا، وہ ایک بیٹا ہاتھوں میں لیے اپنے دوسرے بچے کو ضائع ہوتا ہوا صاف محسوس کر رہی تھیں۔‘

میگھن مارکل نے اپنے آرٹیکل میں مزید بتایا ہے کہ ’جب اُن کی آنکھیں کھلیں تو وہ اسپتال کے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھیں، اُن کا ہاتھ ہیری کے ہاتھوں میں تھا اور وہ اپنے شوہر کے ہاتھ کی گرمائش واضح محسوس کر رہی تھیں، انہوں نے ہیری کے ہاتھ پر بوسہ دیا جو کہ اُن کے اور ہیری کے آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اُنہوں نے اس وقت یہ سوچنا شروع کر دیا تھا کہ وہ اس غم سے کیسے لڑیں گے اور اس ناقابل برداشت صورتحال سے کیسے باہر نکلیں گے۔‘

میگھن مارکل کا مزید کہنا تھا کہ ’اس غمگین صورتحال کے دوران انہوں نے اور ہیری نے دیکھا کہ اسپتال کے جس کمرے میں وہ موجود تھیں وہاں 100 خواتین میں سے 10 سے 20 ماؤں نے اپنے بچے ایسے ہی کھو دیئے تھے، مگر یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر تا حال کھُل کر بات نہیں کی جاتی، اس موضوع پر بات کرنا ’ٹیبو‘ ہے۔ ‘

میگھن مارکل کا کہنا تھا کہ ’وہ اسپتال کے بستر پر موجود تھیں اور اُن کے شوہر کا دل ٹوٹا ہوا تھا، اُنہوں نے محسوس کیا کہ ہیری اپنے بکھرے ہوئے دل کے ساتھ اُنہیں سنبھال رہے ہیں اور تسلی دے رہے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اُس وقت اُنہیں احساس ہوا کہ تندرستی اور نارمل زندگی کی جانب بڑھنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ غمگین صورتحال سے نکلنے سے قبل  سب سے پہلے متاثرہ فرد سے پوچھا جائے کہ ’کیا آپ ٹھیک ہیں؟‘

بین الاقوامی خبریں سے مزید