• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو ہزار بیس کا سال جہاں کورونا کی تباہ کاریاں اپنے جلو میں لے کر آیا وہاں بہت سے عالمی رہ نمائوں کی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر بھی کیا ہے۔ کچھ رہ نما اس سال بہت کام یاب رہے اور کچھ نے ناکامی کامنہ دیکھا۔ذیل میں دنیا کےچند کام یاب اور ناکام حکم رانوں کے بارے میں ملاحظہ کریں۔

کامیاب رہنما....

صدر چین، شی جی پھنگ

اگر دنیا بھر پر نظر ڈالی جائے تو جہاں چین نے دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیلایا اور اس کو عالمی سطح پر روکنے میں ناکام رہا وہیں چین کے صدر شی جی پھنگ نے موثر حکمت عملی کے ذریعے کورونا پر قابو پالیا۔ چین کے صدر شی کو اس لئے بھی 2020 کا ایک کامیاب ترین رہ نما اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے وائرس کے باوجود اپنے CPEC سی پیک کے منصوبوں کو متاثر نہیں ہونے دیا ، اس کے علاوہ ’’ون بیلئٹ ون روڈ ‘‘کے منصوبے جو دنیا کے درجنوں ملکوں میں شروع کئے گئے ہیں ان سب پر کام کم و بیش اسی رقتار سے جاری رہا۔اس کے علاوہ چینی صدر کی کامیابیوں میں 2020 کے آخر میں (RCEP) آرسیپ کے معاہدے پر دستخط بھی ہوئے، جس میں دنیا کے پندرہ ممالک شامل ہیں جو آسیان کے دس ممالک کے علاوہ چین، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پر مشتمل ہیں۔ 

ان ممالک نے مل کر دنیا کا سب سے بڑا تجارتی اتحاد بنایا ہے جو یقیناً چین کے صدر کی ایک بڑی کامیابی ہے۔پھر چین کے صدر نے بھارت کے ساتھ سرحدوں پر موثر کارروائی کر کے سرحدی تنازعوں میں بھارت کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جو یہ سمجھ رہا تھا کہ دیگر چھوٹے ہمسایوں کی طرح بھارت چین کو بھی دھونس دھمکی میں لے کر اپنے سرحدی عزائم کی تکمیل جاری رکھے گا لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔

چین کے صدر پچھلے آٹھ سال سے چینی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور پچھلے سات سال سے چین کے صدر ہونے کے علاوہ چین کے مرکزی فوجی کمیشن کے سربراہ بھی ہیں اس سے قبل وہ پانچ سال یعنی 2008 سے 2013 تک چین کے نائب صدر بھی رہ چکے تھے۔

صدر روس، ولادیمیر پوتن

دنیا کے کامیاب ترین رہ نمائوں میں روس کے صدر پوتن ویسے تو کوئی جمہوری رہ نما نہیں اور ایک آمر کی طرح پچھلے بیس سال سے روس پر حکومت کر رہے ہیں اور حزب مخالف کو بری طرح کچل بھی رہے ہیں ، اس کے باوجود ان کی کامیابی کی کئی وجوہ ہیں۔اول تو انہوں نے حالیہ کورونا بحران میں روس کی خوب قیادت کی ہے گو کہ وہاں اموات تقریباً چالیس ہزار ہو چکی ہیں لیکن اگر آبادی کو مدنظر رکھا جائے تو آبادی کے تناسب سے اموات میں روس کا نمبر دنیا کے پہلے پچاس ملکوں میںبھی نظر نہیں آتا۔ پوتن کی دوسری کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے روس کی معیشت کو بڑی حد تک بحال رکھا ہے اور کورونا کے جو برےاثرات دیگر ممالک کی معیشت پر پڑے ،وہ روس میں نظر نہیں آئے۔

اسی طرح روس نے چین اور بھارت سے بہتر تعلقات قائم رکھنےمیں بڑی کامیابی حاصل کی ہے، خاص طور پر چین کے ساتھ ان کے تعلقات اس وقت مثالی نوعیت کے ہیں اور وہ بھارت کے بھی قریب ہیں۔اس کے علاوہ پوتن کی ایک اور کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے یوکرائن کے جس علاقے پر قبضہ کیا تھا اس پر وہ قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ تاریخی طور پر روس کا حصہ رہا ہے اور وہاں روسی زبان بولنے والوں کی اکثریت کریمیان کے علاقے میں آباد ہے اس طرح پوتن 2020 کے کامیاب رہ نما رہے۔

وزیرِاعظم جاپان، یوشی ہیدے سوگا

جاپان کے نومنتخب وزیراعظم یوشی ہیدے سوگا کو 2020 کا کامیاب حکمران اس لئے قرار دیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بڑی کامیابی سے سابق وزیراعظم آبے شترو کے بعد اقتدار سنبھالا اپنے مخالفین کو شکست دی اوراُن کی پالیسیوں کے تسلسل کو جاری رکھا۔ 

انہوں نے نہ صرف کورونا کے مضر اثرات سے جاپان کو محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے بلکہ جاپان کی معیشت کو بھی سہارا دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

نئے وزیراعظم سوگا کی ایک اور کامیابی یہ بھی ہے کہ انہوں نے آرسیپ (RCEO) کے معاہدے میں شامل ہو کر دنیا کا سب سے بڑا تجارتی اتحاد تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، گو کہ امریکی صدر ٹرمپ اس بات سے خوش نہیں تھے اور چاہتے تھے کہ جاپان اس اتحاد سے دور رہے اور امریکا کی سرکردگی میں قائم چار قومی اتحادجو آسٹریلیا امریکا، بھارت اور جاپان پر مشتمل ہے صرف اس پر انحصار کرتا رہے۔لیکن جاپانی وزیراعظم سوگا کامیابی سے یہ امریکی دبائو برداشت کرنے میں کامیاب ہوئے۔

وزیراعظم ایتھوپیا، ابی احمد

ایتھوپیا کے جواں سال وزیراعظم کو بلاشبہ 2020 کے کامیابی رہ نمائوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی سابقہ امن پسند پالیسی جاری رکھی بلکہ بڑی حد تک ایتھوپیا کو کورونا کی وبا سے بڑی تعداد میں ممکنہ اموات سے بچانے میں کامیاب رہے۔یاد رہے کہ انہیں قیام امن کی کوششوں پر 2019 کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔ 

اس برس بھی انہوں نے اپنے پڑوسی ملکوں خاص طور پر اریئرنیا سے بہتر تعلقات کیلئے کوششیں جاری رکھیں۔ پھر کمال کی بات یہ ہےکہ گیارہ کروڑ کی آبادی والے ملک میں تادم تحریر کورونا اموات دوہزار سے بھی کم ہیں، جبکہ بارہ کروڑ کی آبادی والا ملک میکسیکو ایک لاکھ سے زیادہ اموات دیکھ چکا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے اندرون ملک بھی امن و امان کی بحالی پر خاص توجہ دی اور جہاں طاقت کے استعمال کی ضرورت تھی وہاں بھی زیادہ قوت نہیں لگائی اور اپنی مسلح افواج کو بھی قابو میں رکھا، انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اجازت بھی نہیں، اس طرح ایتھوپیا کے ابی احمدکا شمار 2020 کے کامیاب رہ نمائوں میں یقیناً ہوگا۔

وزیراعظم نیوزی لینڈ، جیسنڈا آرڈرن

چالیس سالہ جیسنڈا آرڈرن بلاشبہ اس بات کی حقدار ہیں کہ انہیں 2020 کا کامیاب ترین رہ نما قرار دیا جائے۔ انہوں نے بڑی کامیابی سے نیوزی لینڈ کی رہ نمائی کی۔ وہ 2017 سے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم ہیں۔ پہلے تو وہ ایک مخلوط حکومت کی سربراہ تھیں، مگر پھر اپنی بہترین کارکردگی سے انہوں نے اپنی پارٹی کو واضح کامیابی دلائی۔ 

انہیں بے نظیر بھٹو کے بعد یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ماں بننے کا رتبہ حاصل کیا۔پچھلے سال انہوں نے نیوزی لینڈ میں ایک مسجد پر حملے کے بعد شاندار قیادت کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کے علاوہ تمام مذہبی گروہوں کو تحفظ کا احساس دلایا تھا۔اس برس کورونا کے مقابلے کے لئے بھی انہوں نے متاثر کن پالیسی اپنائی اور اپنے ملک سے کورونا کو نکال باہر کیا۔ 

اس کیلئے انہیں سخت اقدام اٹھانے پڑے مگر انہوں نے اپنے عوام کی صحت اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ معیشت کو بھی بحال رکھنےمیں کامیاب ہوئیں اور اپنے عوام کو کورونا کی معیشت کے زوال سے محفوظ رکھا۔ اس طرح نیوزی لینڈ کی جیسنڈا ارڈرن یقیناً ایک کامیاب ترین رہ نما ہیں۔

صدر ترکی، رجب طیب ایردوان

پچھلے پچیس سال سے اقتدار کے ایوانوں میں گردش کرنے والے ایردوان اب بھی اپنی مرضی سے حکومت چلانے میں کام یاب رہے ہیں۔ چار سال یعنی 1994ء سے 1998ء تک استنبول کے میئر رہے اور پھر سن 2001ء اپنی جماعت قائم کرلی جو 2002ء سے مسلسل کام یابی حاصل کررہی ہے۔ 2003ء سے 2014ء تک گیارہ سال ترکی کے وزیراعظم رہے۔ اس کے بعد چھ سال سے ترکی کے صدر چلے آ رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے ایک آئینی ریفرنڈم کرا کے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی۔

انہوں نے کمال اتاترک کے سیکولر ترکی کا سماجی و سیاسی نقشہ بڑی حد تک بدل دیا ہے، 2020ء کے دوران انہوں نے کورونا کا مقابلے کرنے میں ایران سے بہتر کارکردگی دکھائی اور یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں تو خاصے بہتر رہے ،جن میں پچاس ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں جب کہ ترکی میں اب تک اموات کی تعداد سولہ ہزار ہے۔

2020ء میں ایردوان کی ایک اور کام یابی آرمینیا کے مقابلے میں آذربائی جان کو جنگ میں فتح دِلوانا ہے، جو اب اپنے مقبوضہ علاقے آرمینیا سے آزاد کرا چکا ہے۔ گو کہ نگورنو کاراباغ اب روس کی زیرنگرانی ہے، مگر اس کے اردگرد کے علاقے آذر بائی جان کو واپس مل چکے ہیں۔

جرمن چانسلر ،اینگلا مرکل

اینگلا مرکل جلد ہی جدید جرمنی کی طویل ترین عرصے تک برسراقتدار رہنے والی چانسلر بن جائیں گی جب 2021ء میں وہ ہیلمٹ کوہل کا سولہ برس تک اقتدار میں رہنے کا ریکارڈ توڑ دیں گی جو 1982ء سے 1998ء تک چانسلر رہے تھے۔ 

یاد رہے کہ جرمنی کی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک چانسلر رہنے کا اعزاز بسمارک کو حاصل ہے جو 1871ء سے 1890ء تک انیس برس چانسلر رہے تھے۔اس کے علاوہ 2020ء میں چانسلر مرکل کی بڑی کام یابیوں میں یورپی یونین کے تاریخی بجٹ کا معاہدہ ہے جس کے ذریعے کورونا وائرس پر قابو پایا جائے گا۔

چھیاسٹھ سالہ چانسلر اینگلا مرکل جب 2005ء میں برسراقتدار آئیں تو اُن کی عمر پچاس برس تھی۔ پچھلے پندرہ سال میں مرکل نے بڑی کام یابی سے جرمنی کی قیادت کی ہے اور 2020ء میں بھی مرکل دیگر یورپی رہنمائوں کے مقابلے میں بہت کام یاب رہیں۔

ناکام رہنما....

وزیرِاعظم بھارت، نریندر مودی

بھارت کے وزیراعظم کی پہلی ناکامی تو کورونا پر قابو نہ پایا اور دوسری ناکامی چین کے ساتھ ان کی ہاتھا پائی کی کوششیں ہیں جو مسلسل ناکامی کا شکار ہوئی ہیں ۔چین نے سرحدی علاقوں میں بھارت کے وزیراعظم کو بار بار ناکام بنایا ہے۔

مودی کی تیسری بڑی ناکامی کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے میں ناکامی ہیں۔ مودی کو توقع تھی کہ کشمیر کے الحاق کے یک طرفہ اعلان کے بعد کشمیر کے عوام اپنے مقدر سے سمجھوتہ کرلیں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔مودی کی آخری اور بڑی ناکامی بھارت کی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں ناکامی ہے جس کے تحت بھارت کے غریب عوام شدید معاشی دبائو کا شکار رہے ہیں اس طرح مودی 2020 میں ناکام رہے۔

صدر امریکا ، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نہ صرف امریکا میں اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کورونا وائرس کو بری طرح پھیلنے دیا بلکہ شروع میں اس کا مذاق اڑاتے رہے پھر جب وائرس قابو سے باہر ہو گیا تو نیم دلی سے کچھ کوششیں کیں جو ناکام رہیں اور اس وقت دنیا میں ڈھائی لاکھ کورونا کی اموات کے ساتھ امریکا دنیا کا ناکام ترین ملک بن گیا ہے۔

ٹرمپ کی دوسری بڑی ناکامی امریکا میں نسلی امتیاز کے بارے میں تھی جس کو نہ صرف ٹرمپ نے مزید ہوا دی بلکہ اس طرح امریکا میں نسلی فرق مزید واضح ہو کر سامنے آیااور درجنوں شہر فسادات کا شکار ہوئے۔ٹرمپ کی ایک اور ناکامی ان کی صدارتی انتخابات میں بری طرح شکست تھی جس میں جوبائیڈن اور کملا ہیرس سرخرو رہے اور ٹرمپ کو منہ کی کھانا پڑی۔

اس طرح صدر ٹرمپ نے اپنی احمقانہ حرکتوں سے نہ صرف خود اپنے آپ کو بلکہ ری پبلکن پارٹی کے ساتھ امریکا کو بھی بڑا نقصان پہنچایا ہے، اس طرح 2020 بلاشبہ صدر ٹرمپ کے لیے ناکامیوں کا سال تھا۔

صدر برازیل، بول سونارو

2020 میں دنیا کے ناکام ترین سربراہوں میں برازیل کے صدر بول سونارو کا نام بھی ہے۔ بول سونارو بھی امریکی صدر ٹرمپ کی طرح بہت سے؟؟؟ حقائق سے روگردانی کرتے رہے ہیں۔ یہ نہ تو یہ ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کو ماننے پر تیار ہیں اور نہ ہی کورونا وائرس سے مقابلے کے لئے کوئی موثر حکمت عملی بنا پائے۔ بلکہ انہوں نے خود کورونا سے متاثر ہو چکنے کے بعد بھی اس کی ویکسین لگوانے سے انکار کیا۔

بول سونارو واضح الفاظ میں کہتے رہے کہ کورونا کی ویکسین اگر کامیاب ہو بھی گئی تب بھی وہ خود یہ ویکسین نہیں لگوائیں گے۔ان کی ناکامی کے باعث ،برازیل نہ صرف دنیا بھر میں کورونا سے اموات میں امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے بلکہ یہاں معیشت کا بھٹا بھی بری طرح بیٹھ چکا ہے۔

ابھی برازیل کے صدر نے جنگلات کی کٹائی کو روکنے کے بجائے اس میں مزید اضافہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں امیزون دریا کے آس پاس کے گھنے جنگلات جو دنیا کا بڑا سرمایہ ہیں ان میں شدید کمی دیکھی گئی ہے،جس کے نتیجے میں ماحولیاتی تباہی پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اس طرح بول سونارو تقریباً ہر فرنٹ پر ناکام دکھائی دیئے ۔

صدر میکسیکو، آندریس اوبرادور

میکسیکو کے صدر جو پچھلے دوسال سے اپنے عہدے پر براجمان ہیں، کچھ اچھی کارکردگی دکھا رہے تھے لیکن انہیں بھی کورونا وائرس نے دنیا کے ناکام حکمرانوں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔اس وقت میکسیکو دنیا بھر میں کورونا اموات کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہے اور امریکا، برازیل، بھارت کے بعد چوتھا ایسا ملک ہے جہاں کورونا اموات کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر جا چکی ہے۔

میکسیکو کے صدر اس وبا کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ۔ معیشت کو بھی سہارا نہ دے سکے اور نہ ہی اپنے ملک میں غریبوں کیلئے کوئی حکمت عملی تشکیل دے سکے، پھر میکسیکو جو ڈرک کارٹل کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہے، ان کی اسمگلنگ پر بھی قابو پانے میں ناکام رہے۔ اس طرح میکسیکو کے صدر تین چار بڑے محاذوں پر 2020 میں ناکام رہے ۔

صدر، فلپائن دوترتے

2020 کے ناکام عالمی رہ نمائوں میں فلپائن کے صدر، دوترتے کا نام بھی شامل ہے، جو نہ صرف اپنے ملک میں کورونا کو روکنے یا اس پر قابو پانے میں ناکام رہے بلکہ معیشت کے محاذ پرانہیں ناکام ہی سمجھا جائے۔یہ بھی گیارہ کروڑ کی آبادی والا ملک ہے، مگرتاحال اس میں کورونا سے اموات کی تعداد تقریباً نو ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ 

پھر یہ اپنی سخت گیر پالیسیوں کے باعث سیکڑوں مبینہ ملزموں کو تو مارنے میں کامیاب ہوگئے مگر اس سے بھی ملک میں امن کی بحالی میں ناکام رہے،خاص طور پر جنگ سا مورو کے خطے میں جو مسلح منڈا پائو کی تحریک چل رہی ہے اس سے بھی یہ کوئی خاطر خواہ مذاکرات کر کے دیرپا امن کی بحالی میںاپنا کردار ادا نہ کرسکے، گو کہ انہوں نے امن معاہدے کو تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرانے کا کہا ہے ،مگر اس کے باوجود کوئی پائیدار حل نہیں نکال پائے۔؟؟؟ 

ملکوں کے مقابلے میں فلپائن کی کارکردگی خاصی مایوس کن رہی ہے،معیشت مسلسل زوال پذیر رہی، گو کہ دوترتے نے چین کے ساتھ مل کر آرسیپ) RCEP (معاہدے پر دستخط کرکے کچھ فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے،مگر مجموعی طور پر 2020 میں صدر دوترتے، ناکام ہی دکھائی دیئے۔

صدر مصر، جنرل عبدالشیخ سیسی

مصر کے فوجی آمر جنرل عبدالفتح السیسی 2014 سے زبردستی اقتدار پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں۔ جب مصر کے عوام کے سابق آمر حسنی مبارک کو ایک جدوجہد کے بعد اقتدار سے بے دخل کیا گیا تھا تو لگتا تھا کہ مصر میں جمہوریت قائم ہو جائے گی ،مگریہاں کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی مناسب موقع کے انتظار میں تھے، انہوں نے مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔

اب ان کا اقتدار ناکامی کے عروج پر ہے، صرف دس کروڑ آبادی والے اس ملک میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد تقریباً سات ہزار ہے اور ان میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا۔ ملک کی معیشت پچھلے چھ سال سے مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور غربت بڑھ رہی ہے۔ اپنے اقتدار کو سہارا دینے کیلئے یہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے قریب ہوتے گئے، جنہوں نےمصر کی خاصی مدد کی، مگر جب تک اقتدار ایک فوجی ٹولے کے ہاتھ میں رہے گا مصر ناکام ہی رہے گا۔ اسی لئے جنرل عبدالفتاح 2020 کے ناکام رہ نما ہیں۔

صدر ایران، حسن رُوحانی

ایران کے72 سالہ حسن رُوحانی مجموعی طور پر 2020ء میں ایک ناکام حکم ران ثابت ہوئے۔ان کی سب سے بڑی ناکامی تو یہی رہی کہ ایران صرف ساڑھے آٹھ کروڑ کی آبادی کے ساتھ کورونا کی اموات میں تقریباً پچپن ہزار کی تعداد کے قریب پہنچ چکا ہے اور متاثرین کی تعداد بھی آٹھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ 

گو کہ یہ بات دُرست ہے کہ امریکا کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے باعث ایران میں صحت کا شعبہ بُری طرح متاثر ہوا ہے لیکن ایرانی صدر رُوحانی نے یورپ کو بھی ناراض کر رکھا ہے جو اُن کا ممکنہ حامی ہو سکتا تھا کیوں کہ جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تو یورپ نے ٹرمپ کا ساتھ نہیں دیا تھا۔

اس کے علاوہ حسن رُوحانی کی ایک بڑی ناکامی یہ رہی کہ وہ نہ صرف اپنے بڑے لوگوں جیسے جنرل قاسم سلیمانی اور محسن فخری زادے کو نہ بچا سکے بلکہ اپنے ناقدین کو سزائے موت دینے میں پیش پیش رہے۔ دسمبر کے دُوسرے ہفتے میں رُوح اللہ زام جو ایک صحافی تھےانہیں سزائے موت دے دی گئی کہ وہ مبینہ طور پر تشدد کو ہوا دے رہے تھے۔

اِسی طرح احمد رضا جلالی کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں سزائے موت سُنائی گئی۔ جلالی ایک ایرانی ڈاکٹر ہیں جو سویڈن میں مقیم مگر انہیں 2016ء میں ایران کے ایک سفر کے دوران گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اب ایران کا شمار ان تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ سزائے موت دی جاتی ہے۔ یعنی حسن رُوحانی کی صدارت میں ایران انسانی حقوق کی پاسداری میں ناکام رہا ہے۔