آپ آف لائن ہیں
ہفتہ2؍جمادی الثانی 1442ھ 16؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سیکرٹری داخلہ کا اقدام، سنگین مقدمات میں ملوث رہنےوالےافراد کیلئے سخت قوانین متعارف

راچڈیل (نمائندہ جنگ)سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل کی طرف سے عصمت دری سمیت دیگر سنگین مقدمات میں ملوث رہنے والے افراد کیلئے سخت ترین قوانین متعارف کرادیے گئے۔توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ رواں ہفتے سیکرٹری داخلہ باضابطہ طو رپر اس معاملے کی تفصیلی وضاحت کریں گی ،سنگین مقدمات میں ملوث ضمانت پر رہا ہونیوالے افرادکی کڑی نگرانی کیلئے نیا لائحہ عمل مرتب کیا جا رہا ہے، مشتبہ افراد کو بغیر پابندی معاشرے میں کھلے عام سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائیگی پری چارج ضمانت پر مشتبہ افراد کی رہائی کا سلسلہ ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔ پولیس اس معاملے پر ضروری اورمناسب معاملات کی نگرانی کرے گی، متاثرین اور گواہوں سمیت عوام کیلئے خطرہ سمجھے جانیوالے افراد کے گرد گھیرا تنگ رکھا جائیگا، مشتبہ افراد کو تحقیقات کیلئے 28سے 90یوم کے لیے زیر حراست رکھنے کی تجویز بھی نئے اقدامات میں شامل ہے۔ پولیس اور پراسیکیوٹرز کو ایسے مجرمان کی رہائی سے قبل کسی بھی قانونی چارہ جوئی کیلئے ثبوت اکٹھا کرنے کیلئے

وقت دیا جائیگا اعدادو شمار کے مطابق 6ہزار 464افراد کو 2016 اور 97ہزار 473 مشتبہ افراد کو 2019میں دوران تفتیش رہا کیا گیا2017 کی تبدیلیاں ان خدشات کے بعد متعارف کروائی گئیں کہ کچھ مشتبہ افراد، بشمول کسی بھی جرم سے بے قصور قرار دینے والے، مہینوں یا سالوں ضمانت پر گذار رہے تھے ۔پولیس نے اعتراف کیا کہ تفتیش کے تحت رہائی کے حق میں یہ تصور غیرجانبدارانہ نتائج نکالتا ہے۔ بہت سارے مشتبہ افراد کو بغیر کسی پابندی کے معاشرے میں واپس جانے کی اجازت دی گئی، پولیس کے ایچ ایم انسپکٹر نے گذشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ بہت سے گھریلو زیادتی کے الزام کے تحت گرفتار کیے گئے افراد کو ضمانت کی شرائط کے بغیر رہا کیا گیا، ہوم آفس کے ذرائع کے مطابق افسران ضمانتوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ متاثرین اور گواہوں پر ملزمان اثر انداز نہ ہو سکیں 2017 میں صمانت کے قوانین میں تبدیلیوں نے متاثرین اور گواہوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا جب ہزاروں مشتبہ افراد کو پولیس نے بغیر کسی پابندی کے تفتیش سے آزاد کر کے رہائی دی، گزشتہ سات سالوں کے دوران گھریلو زیادتی کے کئی ایسے ملزمان سامنےآئے جنہیں تحقیقات کے دوران رہائی ملی، ان پر گھریلو تشدد اور متاثرین کو ہراساں کرنیکا بھی الزام تھا سیکرٹری داخلہ کو خط کے ذریعے متاثرین کی طرف سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ایسے مجرمان کیخلاف موثر قوانین متعارف کرائیں جو گھریلو زیادتی اور تشدد جیسے واقعات میں ملوث ہیں تاکہ متاثرین کو زیادہ سے زیادہ تحفظ حاصل ہوسکے ۔