آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے، ترک وزیرخارجہ

مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے، ترک وزیرخارجہ


اسلام آباد (جواد ایم گورایا) ترکی کے وزیر خارجہ میولت چائوش اوغلو کا کہنا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیئے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کیلئے 15 مارچ کے اقدام کو سراہتے ہیں، جسے پاکستان نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق، ترکی کے وزیرخارجہ میولت چاؤش اوغلو کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ دنیا کے تقریبا 2 ارب افراد اس وقت تنازعات کا شکار ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔ تاہم، ملت اسلامیہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ دنیا کے 60 فیصد تنازعات او آئی سی جغرافیہ میں آتے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ تنازعات کبھی بھی سر اٹھالیتے ہیں ان کو حل نا کیے جانے سے انسانوں کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ جب کہ اس کے معیشت اور معاشرے پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ تنازعات سے متعلق امن قرارداد علاقائی استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔ یہی ان کی سرفہرست خارجہ پالیسی بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مصالحت سے متعلق شعور پیدا کررہے ہیں۔ 

اس حوالے سے اقوام متحدہ، او ایس سی ای اور او آئی سی ایک ساتھ کام کررہے ہیں۔ جب کہ پاکستان اقوام متحدہ اور او آئی سی دونوں کا رکن ہے۔ اس کے علاوہ استنبول مصالحتی کانفرنسز اور مصالحت برائے امن سرٹیفکیٹ پروگرام پر بھی وہ کام کررہے ہیں۔ 

ترکی کے وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ کشمیر کا ہے۔ جب کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارت نے اس تنازعے کو بڑھاوا دیا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ صدر طیب اردگان نے اس حوالے سے واضح موقف لیا ہے اور اس مسئلے کے حق میں قرار داد کی حمایت کی ہے۔ ترکی کا ماننا ہے کہ مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیاا جانا چاہیئے جو کہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اور یو این چارٹر اور متعلقہ یو این سیکورٹی کونسل قرارداد کے فریم ورک کے تحت ہوں۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطین مسلم امہ کا اجتماعی مسئلہ ہے۔ جب کہ ہم اس تنازعے کے اہم موڑ پر ہیں۔ ماضی قریب میں ہونے والی پیش رفت کی وجہ سے دوریاستی حل کا نظریہ متاثر ہوچکا ہے۔ 

حالیہ معاہدوں کی وجہ سے مسئلہ فلسطین پیچیدہ ہوگیا ہے۔ اس صورت حال میں ترکی پاکستان کے موقف کو سراہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین تنازعہ کے حل کی ہر جامع کوشش کو سراہنا چاہیئے۔ اس حوالے سے او آئی سی میں بھی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ وہ فلسطین کے صدر عباس کے اقوام متحدہ کی قیادت میں عالمی امن کانفرنس کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین میں ہونے والی ناانصافی کو اجاگر کیا جائے۔ اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ 

قبرص کے مسئلے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ جزیرے پر مستحکم امن کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں یونان ، ترکی سے تعاون نہیں کررہا۔ حالاں کہ جزیرے پر دو قومیں، دو جمہوریتیں اور دو ریاستیں آباد ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ صرف حقائق کی بنیاد پر ہی وہاں معاہدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ ناگورنو کاراباخ کے مسئلے پر ان کا کہنا تھا کہ جنوبی قفقاز تقریباً تین دہائیوں سے متاثر ہے، جس کی وجہ آرمینیا کی جانب سے حملہ کرکے آزربائیجان کی 20 فیصد جگہ پر قبضہ کرنا ہے۔ 

اس پر آزربائیجان کا موقف شروع سے ہی اخلاقی لحاظ سے بہتر رہا ہے۔ تاہم، 10 نومبر، 2020 کو جنگ بندی کے معاہدے سے اب امید ہوگئی ہے کہ آرمینیا اپنے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مثبت اقدام کرے گا۔ ترک وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ او آئی سی کے قیام کا مقصد مفاد عامہ کا تحفظ تھا۔ 

2016-19 تک ترکی کی قیادت میں او آئی سی اجلاس میں اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا تاکہ ادارے کو مزید موثر بنایا جاسکے۔ جہاں تک اقتصادی دائرے کی بات ہے تو اعدادوشمار خود بتاتے ہیں۔ او آئی سی کا مجموعی تجارتی حجم 40 کھرب ڈالرز ہے۔ تاہم، او آئی سی کے آپسی تجارت میں تعاون مکمل نہیں ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہم سرحد پار کاروباری تعلقات میں بھی بہتری کے لیے بھی کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کوروناوائرس سے شدید متاثر ہے اب تک ہم نے دنیا کے 156 ممالک کی معاونت کی ہے، ان میں سے 40 او آئی سی کے رکن ممالک ہیں۔ 

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا بدقسمتی سے دنیا بھر میں عروج پر ہے۔ انہوں نے 15 مارچ کے پاکستانی اقدام کو بھی سراہا جسے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دیا گیا تھا۔ 

انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں برس پاکستان کی میزبانی میں ہونا والا او آئی سی کونسل برائے وزرائے خارجہ اجلاس بھی مسلم امہ کے لیے بہترین نتائج کا حامل ثابت ہو۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی 2019 میں اقتصادی لحاظ سے دنیا کی سرفہرست ریاستوں میں 19 ویں نمبر پر تھا۔ ترکی کی معیشت 2003 سے 2019 تک اوسط 5 فیصد بڑھی ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اس کی بنیادی وجوہات ترکی کی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں، اصلاحات اور سیاسی استحکام تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے تجارت کو فوقیت دی۔ جب کہ برآمداد کا دائرہ کار ٹیکسٹائل سے دیگر مصنوعات کی طرف بھی بڑھایا۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مزید اقتصادی تعاون جاری رکھیں گے اور پاکستان کو عالمی معیشت میں اچھا مقام دلانے میں معاونت فراہم کرتے رہیں گے۔ ترک وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہم علاقائی اور بین العلاقائی تعاون کے حق میں ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور توانائی کے ذریعے نمو اور روزگار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ 

اس حوالے سے باکو۔بلسی۔کارس ریلوے کوریڈور پر ہمارا کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی آر آئی ایک کامیاب منصوبہ ہے اور یہ تاریخی سلک روڈ کی بحالی کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ 

اس حوالے سے جغرافیائی لحاظ سے پاکستان بھی اہم جگہ موجود ہے۔ جب کہ بی آر آئی پاکستان اور ترکی کے تعلقات مزید مستحکم کرنے کا اہم ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تجرباتی ریل پٹڑی پر سفر کا خیال پہلی بار 2008 میں سامنے آیا تھا۔ تب سے اب تک اس روٹ پر 14 ٹرینیں سفر کرچکی ہیں ان میں سے چھ پاکستان سے ترکی اور آٹھ ترکی سے پاکستان آئیں۔ آخری بار یہ سفر 25 نومبر، 2011 کو ہوا اس کے بعد اسے روک دیا گیا۔ تاہم، اس کی بحالی پر بات چیت جاری ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کے عوام کا تعلق مغل دور سے قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاحوں کے تبادلے کی شرح انتہائی کم ہے۔ تاہم، پاکستان میں ترکی کے ڈرامے انتہائی مقبول ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ بہت سے پاکستانی سیاح ترکی گھومنے میں اظہار دلچسپی کررہے ہیں۔اسی طرح ترکش ایئرلائن اور پی آئی اے کے درمیان بھی تعلقات مثالی ہیں۔ ان کا کہان تھاکہ ترکی کے سیاح بھی پاکستان کا دورہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید