آپ آف لائن ہیں
پیر6؍رمضان المبارک 1442ھ 19؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دسمبر 2020میں گوادر سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا۔ چینی حکومت کی متعدد وزارتوں کے نمائندوں اور چینی اعلیٰ حکام نے گوادر کی اپ گریڈیشن کی پیشرفت کا جائزہ لیا اور منصوبوں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ گوادر کے حوالے سے اگرچہ چیلنجز اب بھی باقی ہیں لیکن پاکستان بھرپور صلاحیتوں کا حامل ہے۔ عمران خان حکومت اپنے کارڈز کھیل رہی ہے۔ گوادر اور سی پیک پر سیاسی اور معاشرتی اتار چڑھائو سے بےنیاز ہو کر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔ گوادر کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز 2005کے قریب ہوا۔ سی پیک کے اعلان کے بعد گوادر چین اور پاکستان کے لئے مرکزی نقطہ بن گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اِس کی اہمیت دو ممالک سے پورے خطے میں پھیل گئی۔ گوادر زمینی طور پر وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ روابط کو تقویت دے سکتا ہے۔ چین گوادر کے زمینی رابطے اور سمندری رسائی دونوں کا حصہ ہونے کے ساتھ سِلک روٹ کے پرانے راستے کو بھی بحال کر سکتا ہے۔ سی پیک اور اوبور اب زوروں پر ہیں اور گوادر دونوں کا دل ہے۔ رئیل اسٹیٹ کی مارکیٹ عروج پر ہے اور متعدد رہائشی منصوبے شروع کیے جارہے ہیں۔ گوادر کی ترقیاتی پلاننگ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے حریف کی حیثیت سے اِس کی استعداد کو بڑھانے کے نقطۂ نظر سے کی جا رہی ہے۔ اسکالرز اور سیاسی ماہرین کا موقف تھا کہ ایران اپنی بحری بندرگاہ کے ذریعے اپنی معیشت کو بحال کرنے اور گوادر کو اپنے مفادات کے لئے سبوتاژ کرنے کی تمام تر کوششیں کرے گا لیکن اب ان تمام افواہوں کے غباروں سے ہوا نکل چکی ہے۔

چین نے ایران اور چاہ بہار کیلئے ایک بڑے پیکیج کی پیش کش کے ذریعے بالائی ہاتھ رکھا ہے۔ اب گوادر اور چاہ بہار بندرگاہوں کو علاقائی حریف نہیں بلکہ جڑواں شہروں کی حیثیت دی جا رہی ہے۔ یہ مشترکہ ترقی کا پیش خیمہ ہے جو پاکستان اور ایران کی ترقی کو آپس میں جوڑتا ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے بلوچستان اور گوادر مرکزی علاقہ بننے کے لئے تیار ہیں، مستقبل میں ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا اور ہمسایہ ایرانیوں کے لئے مناسب آمدنی کا باعث ہو گا۔ امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی زد میں ہونے کے باعث، گوادر اور بلوچستان میں چین اور پاکستان کے منصوبے ایران کے لئے معاشی بحالی کی امید ہیں۔ گوادر میں چینی ترقیاتی شعبے کی کمپنیاں اسپتالوں، اسکولوں، رہائشی اور ٹیلی مواصلات کے شعبوں میں جدید نیٹ ورکس قائم کر رہی ہیں۔ موٹر ویز گوادر کو تمام اہم شہروں سے جوڑ رہی ہیں۔ گوادر سے ٹرین کی لائنیں محفوظ اور آرام دہ رسائی کا باعث ہوں گی۔ خصوصی اقتصادی زونز مینو فیکچرنگ کی نئی سہولیات کو فروغ دیں گے۔

اِن تمام کامیابیوں میں اہم ترین مقصد کو نظر انداز نہیں ہونا چاہئے۔ گوادر میں اس بڑے پیمانے پر سہولیات کی فراہمی میں مقامی بلوچ آبادی کو خارج نہیں کیا جانا چاہئے۔ اب بھی بلوچستان کے کچھ حصوں میں گشیدگی اور ہیرا پھیری جیسے عوامل دیکھے جا رہے ہیں۔ گوادر کی ترقی میں مقامی لوگوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومتِ پاکستان اور گوادر کیلئے یہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔ گوادر میں ہر پوائنٹ پر سیکورٹی اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔ تشدد اور انتہا پسندی کے واضح خطرات ہیں۔ آمدنی میں عدم مساوات بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں بدترین ہے۔ حکومتِ پاکستان اور عمران خان کو گوادر کے فوائد اور اِس کے امکانات کو بلوچستان کے عوام کے ساتھ بانٹنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب کریں۔ ترقی کے ثمرات کو زیریں سطح تک پہنچانا بہت نازک مرحلہ ہے۔ گوادر کا دبئی اور سنگاپور جیسا تصور بلند و بالا عمارتوں، بلند دفاتر اور مصروف فیکٹریوں کی تعمیر سے نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام میں اطمینان کا احساس پیدا کرنے سے ہوگا۔ گوادر، اس سے پہلے کہ ایشیا کا زیور بن جائے، بلوچ عوام کے لئے ایک امید، کامیابی اور خوشی کا نشان بننا چاہئے۔ اِسی میں گوادر کا حقیقی مستقبل مضمر ہے۔

ماضی میں گوادر بڑی حد تک سیاسی جھگڑوں کی آماجگاہ تھا۔ مشرف دور میں گوادر ترقی کا محور بننے کے بجائے تنازعات کا گڑھ بن گیا۔ موجودہ حکومت گوادر کی کوآرڈنیشن، تعمیرات، سلامتی اور ترقیاتی شعبے میں قابلِ تحسین کام کررہی ہے لیکن اِس ساری پیشرفت کے فوائد گوادر کے سب سے نچلی سطح کے لوگوں تک پہنچنے چاہئیں۔ اس تناظر میں، ایس ایم ای سیکٹر کی آسانی سے حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ تکنیکی تربیتی پروگراموں کو ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جانا چاہئے۔ غیرہنر مند مزدور کو نیم ہنر مند اور مکمل ٹرینڈ لیبر میں تبدیل کیا جانا چاہئے جو پیچیدہ صنعتی یونٹوں میں ملازمت اختیار کر سکیں۔ پبلک سیکٹر کی ملازمت کی پیش کشوں کے ساتھ سستی رہائش اور گزارہ الاؤنس ایک اور قابلِ قدر کام ہو گا۔ گوادر تب ہی ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے جب اُس کی مقامی آبادی اپنے ترقی پذیر مستقبل میں سرگرمی سے حصہ لینے لگے۔ چین پاکستانی عوام اور حکومتی مشینری پر بھروسہ کرتا ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ بلوچ عوام کی امیدوں اور خوف کو بروقت سمجھا جائے۔ عوامی اعتمادکی بحالی گوادر کی ترقی ہوگی۔ گوادر مستقبل کے امکانات سے بھرا پڑا ہے لیکن آس پاس کے رہنے والے لوگوں کے بغیر یہ مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ واضح رہے کہ گوادر کا مستقبل اُسی صورت میں روشن ترین ہوگا جب بلوچستان کے عوام کے لئے کامیابی اور ترقی کے مساوی مواقع مہیا کیے جائیں گے۔

(مصنف جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں)

تازہ ترین