آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جرمنی دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے اور اسے یورپ کا اقتصادی پاور ہاؤس سمجھا جاتا ہے۔یہ ہی نہیں بلکہ یہ ملک پورے یورپ کاقائد بھی مانا جاتا ہے۔لیکن جب سے اسے انجیلا مرکل جیساقائد ملا ہے اس کے ہر شعبے میں نئی جان پڑگئی ہے۔تقریبا سڑسٹھ سالہ انجیلا مرکل پہلی مرتبہ نومبر2005میں جرمنی کی چانسلر منتخب ہوئی تھیں ۔ تب سے اب تک وہ مسلسل جرمنی کی منتخب چانسلر چلی آرہی ہیں۔

تاہم اپنی جماعت کی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کا انہیں احساس تھا۔چناچہ اکتوبر 2018امیں انہوں نے اپنی سیاسی جماعت، کرسچین ڈیموکریٹک یونین کی قیادت سے دست بردار ہونے اور آئندہ انتخابات میں چانسلر کے لیے امیدوار نہ ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ دارالحکومت برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہناتھا کہ علاقائی انتخابات میں شکست کے بعد وہ آئندہ مدت کے لیےچانسلر کی امیدوار بھی نہیں بنیں گی۔یاد رہے کہ ان علاقائی انتخابات میں سی ڈی یو مزید نشستیں کھوبیٹھی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ عوامی اعتماد کھودینے پر انہیں اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

ستمبر2017میں ہونے والے انتخابات میں ان کی جماعت کو پچھلے انتخابات کےمقابلے میں کم نشستیں ملنے کی وجہ سے مخلوط حکومت بنانےکےلیے انہیں دیگر سیاسی جماعتوں سے طویل مذاکرات کرنے پڑے تھےجس کی وجہ سےتقریباًچھ ماہ بعد جرمنی میں نئی حکومت کا قیام ممکن ہو سکاتھا۔لہذا چودہ مارچ 2018کوجرمن پارلیمان میں چانسلر کے انتخاب کے لیےووٹنگ ہوئی جس میں انجیلا مرکل364ووٹ حاصل کرکے چوتھی مرتبہ جرمن چانسلر منتخب ہوگئی تھیں۔ان کی مخالفت میں 315 ووٹ پڑےاور نو اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیاتھا ۔ موجودہ حکومت سی ڈی یو، ان کی ہم خیال جماعت سی ایس یو اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی پر مشتمل ہے اور اس کی میعادرواںبرس ختم ہورہی ہے۔یارہے کہ گزشتہ انتخابات میںان کی جماعت نے اسّی فی صد پارلیمانی اکثریت حاصل کی تھی جو اس بار کم ہو کرچھپّن فی صد رہ گئی تھی۔

تاہم کووِڈ۔اُنّیس کی وبا کے دوران انہوں نے جس طرح حالات پر قابو پایا اور جس طرح ملک اور قوم کی قیادت کی اس نے ایک بار پھر ان کی جماعت کی حمایت میں اضافہ کیا۔رواں برس جنوری کی سولہ تاریخ کوان کی جماعت نے مسٹر لاشیٹ کو نیا قائد منتخب کیا،لیکن یہ اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ ہی جرمنی کےاگلےچانسلر ہوںگے۔اسی روز جرمن پارلیمان نے مرکل کوان کی ملک اور قوم کے لیےخدمات پرزبردست انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ اراکینِ پارلیمان اپنی نشستوںپر کھڑے ہوئے اور چھ منٹ تک ان کے لیے تالیاں بجاتے رہے۔

جرمنی کے لوگوں کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ وہ تھوڑا خشک مزاج ہوتے ہیں۔پھر وہاں کی سیاسی تاریخ میں کسی راہ نما کو اس طرح خراجِ تحسین پیش کرنے کی روایت بھی زیادہ مستحکم نہیں۔ایسے میں مرکل کو یہ عزت ملنا بہت سے جرمن باشندوں کے لیے حیرت کی بات تھی۔لیکن ذرا یہ تو دیکھیے کہ مرکل نے جس طرح سولہ برس تک جرمنی کو چلایاکیا وہ کوئی معمولی بات تھی۔عورت ہونے کے باوجوداس جرمن راہ نما نے بہت دبنگ انداز میں ملک اور قوم کی قیادت کی اور بڑے بڑے ملکی اور عالمی مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔

مسٹر لاشیٹ کوجماعت کا نیا قائد منتخب کیے جانے کے موقعے پرمرکل نے کہاکہ کام یابی حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاملات کو اسی طرح جاری رکھیں۔ بادِ مخالف زیادہ سخت ہے۔ ہمارے خلاف قوتیں اور زیادہ مضبوط ہو گئی ہیں۔ہمیں وبائی امراض کے بعد بہت ساری چیزیں مختلف اور جدید انداز میں کرنا ہوں گی۔واضح رہے کہ آرمین لاشیٹ جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے وزیر اعلیٰ ہیں اورانہیں نہ صرف جرمنی کی برسر اقتدار سیاسی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین کا نیا سربراہ بلکہ اینجلامرکل کا سیاسی جانشین بھی منتخب کیا گیا ہے۔

انجیلا مرکل نے ایک صاف ستھری زندگی گزاری ہے۔ وہ انجیلا ڈورتھیاکاسنر Angela Dorothea Kasner کے نام سے 17جولائی 1954ء کو ہمبرگ جرمنی میں پیدا ہوئیں۔ تین بہن بھائیوں میں وہ سب سے بڑی تھیں۔ ان کے والد لوتھرین پادری تھے اور ان کا تعلق پروٹسٹنٹ فرقے سے ہے۔ برلن کے شمال میں پچاس میل دور ایک قصبے ٹمپلن میں ان کی اٹھان ہوئی تھی جو اس وقت مشرقی جرمنی کا حصہ تھا۔ ابتدائی تعلیم ٹمپلن میں پانے کے بعد انجیلا کاسنر نے لائپزگ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا جہاں 1973ء سے 1977ء تک فزکس کی تعلیم پائی۔ 

1978ء میں انہوں نے کوانٹم فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد برلن آلڈرشوف کی اکیڈمی آف سائنسز کےسینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل کیمسٹری میںبہ طور سائنس داں کام کیا۔ اسی سبب ان کے مداحین سیاست میں ان کی سائنسی اُپج کی تعریف کرتے ہیں۔انہوں نے 1977ء میںایک ماہر طبیعات اُلرچ مرکل سے شادی کی جو 1982ء میں طلاق پر منتج ہوئی۔ پھر 1998ء میں برلن کے ایک کیمسٹری کے پروفیسر جاؤشم سوئر (Jaochim Saur) سے شادی کی جو کام یاب ہے۔ تاہم انجیلانےپہلے خاوند کا نام ترک نہیں کیا۔

اس وقت اگرچہ تجزیہ کاروں کا عام خیال یہ ہے کہ کرسچین ڈیموکریٹک یونین کو آئندہ انتخابات میں ووٹوں کا سب سے بڑا حصہ حاصل ہوگا،لیکن اب مرکل چانسلر نہیں بنیں گی۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اس جماعت کو تقریبا سینتیس فی صد ووٹ مل سکتے ہیں جو دیگر سیاسی جماعتوںکی حمایت کےمقابلے میںدگنے ووٹس ہوں گے۔ لبرل ، مہاجرین کے حامی ،سبز، تقریبابیس فی صدکےبعددوسرے نمبرپرہیں۔اس کےبعدسوشل ڈیمو کریٹس (مرکل کے دیرینہ اتحاد کے ساتھی) تقریبا پندرہ فی صد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

مرکل نے مئی 2019 میں ہی یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد وہ کوئی بھی سیاسی عہدہ قبول نہیں کریں گی۔برلن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اپنی میعاد مکمل ہونے کے بعد وہ کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لینے کےلیے بھی پرعزم ہیں اور اپنے ملک، یورپی یونین یا کسی دوسرے ملک یا ادارے میں کوئی عہدہ نہیں لیںگی۔ خیال رہےکہ انجیلا مرکل کی جانب سے یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیاتھاجب ان کا نام یورپی کونسل کی سربراہ کے لیے تجویز کیے جانےکی خبریں گردش کررہی تھیں۔ ان خبروں کے مطابق انہیں2021ء میں جرمن چانسلر کےعہدے سے سبک دوشی کے بعد یورپی کونسل کا سربراہ مقرر کیا جا سکتا تھا۔

انجیلا مرکل نے چوتھی بار جرمن چانسلر منتخب ہونے کا منفرد اعزاز حاصل کیاتو جرمنی میں مقیم تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے لیے یہ خوشی کی خبرتھی۔ مسلمانوں، تارکین وطن، شامی پناہ گزینوں کی آمد کی سخت مخالف دائیں بازو کی قوم پرست جماعت اے ایف ڈی کو2017 'کےانتخابات میںتیرہ اعشاریہ دو فی صد ووٹ ملے تھے اور وہ جرمنی کی تیسری بڑی سیاسی قوت کےطورپر اُبھر کر سامنے آئی تھی۔اے ایف ڈی نے اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران شامی پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی جرمنی آمد کے مسئلے کو انتہائی شدو مد سے اُٹھایا اور ملک بھر میں قوم پرستانہ جذبات پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔تاہم انتخابی نتائج نے ثابت کردیا کہ یورپی عوام کی اکثریت اسلام مخالف کسی بھی مہم جوئی کی حامی نہیں۔جرمنی کے گزشتہ انتخابات کے نتائج اس لیے بھی انتہائی اہمیت کے حامل تھے کہ ان نتائج سے دیگر یورپی ممالک میں بھی اسلام مخالف رائے عامہ ہم وار کرنے والی تمام قوم پرست جماعتوں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔

انجیلا مرکل کو اپنے نئے دورِ حکومت میں بہت سے نئے چیلنجزز کا سامنا کرناتھاجن میں سے ایک نئی اقتصادی پالیسی کا نفاذ تھاکیوں کہ جرمنی کو افرادی قوت میں سخت کمی کا سامناکرنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔اس حوالے سے جرمنی کے اقتصادی پالیسی ساز وں میں کافی تشویش پائی جاتی تھی۔اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ جسے نئی حکومت نے حل کرنا تھاوہ گلوبلائزیشن کاتھا۔جرمنی کی خواہش ہے کہ دنیا بھر کی کمپنیز اُس کے ہاں کا م کریں تاکہ ٹیکسس کی مد میں اُسے خاطر خواہ اقتصادی فواید حاصل ہوسکیں ۔اس کے لیے امیگریشن قوانین میں تبدیلی اور افرادی قوت کے لیے تارکین وطن کو اپنے ملک میں آنے کی ترغیب دینا آنے والے دنوں میں وہ ممکنہ ہدف ہوسکتے تھےجن کے حصول کے لیے انجیلامرکل کو کئی مشکل فیصلے کرنے پڑے۔

پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیرس معاہدے سے یک طرفہ علیحدگی کے اعلان کے بعد ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے مؤثر پالیسی سازی کرنا بھی ایک ایسا مسئلہ تھاجونئے دورِ حکومت میں انجیلا مرکل کے لیے ایک مشکل ہدف ثابت ہوسکتاتھا کیوں کہ جرمنی دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو مستقبل میں گلوبل وارمنگ کا سب سے زیادہ شکار ہوسکتے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی کے ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے جرمنی پہلے ہی دیگر یورپی ممالک کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تبدیلی کے کئی معاہدوں پر کام کر رہا ہے۔اس لیے جرمنی کی شدید خواہش ہے کہ پیرس ماحولیاتی معاہدہ ہر صورت میں کام یابی سے ہم کنار ہو۔اس حوالے سے جرمنی یورپی یونین میں اس بات کا بھی حامی ہے کہ اس معاہدے کو مزید نتیجہ خیز بنانے کے لیے چین کو بھی اس کا حصہ بنالیاجائےتاکہ امریکاکے اس معاہدے سے نکلنے کے بعد اخراجات میں کمی کے مسئلہ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انجیلا نے اس محاذ پر بھی کافیموثر انداز میں پیش قدمی کی۔

آخری اورسب سے بڑا چیلنج جو انجیلا مرکل کی نئی حکومت کو درپیش تھاوہ یورپی یونین کو اپنی اصلی حالت میں بہ دستور قائم رکھنے کا تھا۔جرمنی کی خواہش تھی کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعدسے یورپی یونین جس بحران سے گزر رہا ہے اُس سے جلد از جلد باہر نکل آئے۔ جرمن چانسلرکی خواہش تھی کہ یورپی یونین کے تمام ممالک ایک مشترکہ ڈیفنس سسٹم اور سیکیورٹی پالیسی جلد ازجلد ترتیب دے لیں تاکہ یورپ پر حملہ آور دہشت گردی کے عفریت سے مقابلہ کرنے کےلیے انہیں دنیا کے کسی اور ملک، خاص طور پر امریکا کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔مرکل نے اس ضمن میں بھی کافی جدوجہد کی اور بہت حد تک یورپ کو متحد رکھنے میں کام یاب رہیں۔تاہم مشترکہ دفاع کا ان کا خواب ابھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا ہے۔

مرکل کہتی ہیں کہ میں جھک تو سکتی ہوں لیکن کبھی ٹوٹ نہیں سکوں گی کیوں کہ ایک مضبوط عورت ہونے کے ناتے یہ میری فطرت میں ہے۔بلا شبہ وہ قابل خاتون اور زیرک سیاست داں ہیں۔ان سے پہلے جرمنی کو دوبارہ متحد کرنے والے ہلمٹ کوہل (Helmut Kohl) اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے والے کونراڈ ایڈینائر (Konrad Adenauer) دو بڑے سیاسی راہ نماتھے جنہیں چار بار جرمنی کا چانسلر بننے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ انجیلا مرکل ایک کرشماتی شخصیت ہیں۔ مثبت سوچ، مضبوط اعصاب اور متاثر کن لہجے والی یہ جرمن سیاست داں صرف اپنے ملک کے ماتھے کا جھومر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی عورتوں کے لیےبھی باعث فخر ہے۔

سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ انجیلا مرکل نے جرمن قوم کے ذہن سے قوم پرستی، عسکریت پسندی اور نسل کشی کے رجحانات نکال کرانسانیت، فیاضی اور برداشت کے بیج بو دیے ہیں۔ مرکل کہتی ہیں کہ جرمنی اپنی عظیم قوت اب دنیا کو بچانے پر صرف کرے گا، تباہ کرنے پر نہیں۔انہوں نے پہلے انتخاب میں اپنی فتح سے لے کر چوتھے انتخاب میں اپنی جیت سے ثابت کیا کہ وہ ایسی راہ نما ہیں جن پر پوری طرح اعتماد کیا جا سکتا ہے اور جو لوگوں کی اجتماعی توقعات پورا کر سکتی ہیں۔ 2015ء میں دس لاکھ سے زاید مہاجرین جرمنی میں داخل ہوئے جن کی حمایت کے باعث انجیلا مرکل اور ان کی جماعت کو انتخابات میں خاصا نقصان اٹھانا پڑا۔ 

غیر ملکی راہ نماؤں، بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اندرون ملک مخالفین نے طعنے دیے اور شدید مخالفت کی، لیکن وہ اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں۔ اپنی جیت کے بعد انہوں نے اپنی مخالف جماعت اے ایف ڈی کے بارے میں جو کچھ کہا وہ ایک مدبر راہ نما ہی کہہ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اے ایف ڈی کے حمایتیوں کی طرف توجہ دیں گی،ان کے مسائل حل کرکے، ان کی پریشانیاں چُن کر اور ان کے خدشات دور کرکے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں صاف ستھری سیاست مہیا کرکے۔

انجیلا مرکل کی انتخابی جیت یورپ اور آزاد دنیا کے لیے خوش آئند گردانی جاتی رہی ہے۔ انہوں نےجرمنی کی ساکھ اور حیثیت کو مستحکم کیا اور یورپی یونین میں اپنے ملک کو ایسے مرتبے سے نوازا کہ آج جرمنی کی ہر رائے کا احترام ہر صورت کیا جاتا ہے۔ رجائیوں کے نزدیک انجیلا مرکل یورپ کی راہ نمائی کرنے والی ایک نڈر جرنیل ہیں۔ اپنے لوگوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے بار بار کہا ہے’’ہم ایسا کر سکتے ہیں‘‘۔بلاشبہ ان کی شخصیت اور خدمات مدتوں اہل یورپ کی زندگیوں کو متاثر کرتی رہیں گی۔

مرکل جرمن ، انگریزی اور روسی زبان میں مہارت رکھتی ہیں۔ یورپی یونین کی مضبوط ترین معیشت کی راہ نمائی کرتی ہیں ۔تاہم انہیں وفاقی جمہوریہ جرمنی کے بجٹ سے مفت ریاستی خدمات ،رہایش ، بجلی ، گیس ملتی ہے اور نہ تفریحی اخراجات۔کوئی ذاتی شیف ،مفت کا پانی اورٹیلی فون تک نہیں ملتا۔وہ کسی دوسرے جرمن شہری کی طرح عاجزی کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہی ہیں۔وہ اپنی شاپنگ خودکرتی ہیں ، اپنے شاپنگ بیگ اٹھاتی ہیں، خریداری کی ادائیگی کرتی ہیں اور آگے بڑھ جاتی ہیں۔اگر انہیں کہیں غلط پارکنگ کرنے پر ٹکٹ مل جاتا ہے تو اس کی ادائیگی پنی جیب سےکرتی ہیں۔کیا دنیا ایسے راہ نما کوآسانی سے بھلا سکتی ہے؟