آپ آف لائن ہیں
منگل29؍شعبان المعظم 1442ھ 13؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ٹیکنالوجی جب ہر جگہ اپنے پنجے گاڑ رہی ہے، اب تو اس کی دستر س میں ہوٹلوں اور ریستورانوں کے کچن بھی آگئے ہیں۔ مستقبل میں جب آپ کسی ریستوران میں کھانا کھارہے ہوں گے تو نمک مرچ تیز ہونے پر شیف کو کچھ کہہ بھی نہیں سکیںگے۔ چند سال قبل برطانیہ کی کمپنی Moleyنے ایک روبوٹک کچن تیار کیا جس کو ریسیپیز، کھانا پکانے کے طریقے اور صفائی ستھرائی کے انتظامات سکھائے گئے۔ اس خودکار کچن میں لگے خود کار بازو مطلوبہ ڈش کیلئے کوکنگ کے فرائض انجام دیتے ہیں، تاہم یہ روبوٹس بھی انسانو ں کے ذریعے ہی کام کرتے ہیں۔ 

روبوٹ کچن میں کھانے کے اجزاء کو ایک خاص ترکیب میں رکھنا ہوتاہے۔ اس عمل کو انجام دینے کے بعد صرف اسٹارٹ کا بٹن دبایا جاتا ہے، جس کے بعد کوکنگ شرو ع ہوجاتی ہے۔ تحفظات محض یہی ہیں کہ اگر روبوٹس نے اچھے کھانے تیار کرنے سیکھ لیے تو خانسامے اور باورچی کہاں جائیں گے کیونکہ یہ روبوٹ شیف دنیا کے مایہ ناز شیفس کی ریسیپیز اپنے اندر فیڈ کرکے بالکل وہی کھانا تیار کرکے پیش کریں گے۔

بوسٹن میں موجود Spyce نامی ریستوران نے اپنے باورچیوں کو ہٹا کر روبوٹ شیف رکھ لئے ہیں تاکہ کسٹمرز کو نت نئے ذائقوں سے روشناس کروایا جاسکے۔ اسی طرح جاپان کا ایک ریستوران Nagoyaکسٹمر ز کو اپنی جانب متوجہ کرنے کیلئے روبوٹس ویٹریسز کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ یعنی مستقبل میں صارفین کھانوں کے ذائقوں سے ہی نہیں بلکہ روبوٹ ویٹریس سے بھی متاثر ہورہے ہوں گے۔

ایک مشہور ہوٹل کے سی ای او کا اس بارے میں کہنا ہے،’’ہوسکتاہے کہ مستقبل میں روبوٹس کچن کا انتظام و انصرام سنبھال لیں، جو کہ ریستوران مالکان کے لیے ایک زبردست سہولت بھی ہوسکتی ہے، تاہم اس سے شیفس کا روزگار خطرے میں نہیں ہے ‘‘۔

دراصل روبوٹ شیف استعمال کرنے کے پیچھے ریستوران مالکان کی وہی سوچ ہے کہ وہ اپنے کسٹمرز کو بہتر سے بہترین سروس فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں نئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین اور فوری سروس کی فراہمی میں ریستوران مالکان کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔ مزید یہ کہ مقابلے کی فضا میں ایک دوسرے سے آگے رہنے کی دوڑ بھی انہیں روبوٹ کچن کیلئے فیصلہ سازی کرنے میں مدد کرتی ہے، اس میں مالکان کو ایک بڑا فائدہ لیبر کی لاگت کم ہونے سے ہوگا۔ 

فروخت کے ڈیجیٹل مقامات (Point of Sale)کا نظام، کھانوں کے آن لائن آرڈر والی ایپس اور آگمینٹڈ ریالٹی(AR) کو چلانے والے سوفٹ ویئرز کےساتھ کھانا تیار کرتے وقت کی ویڈیوز اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ اب ڈیجیٹل مداخلت کی وجہ سے کھانا پکانے اورصارفین کو پیش کرنے کا خواب حقیقت میں ڈھلنے والاہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ روبوٹک کچن کو دنیا بھر کے معروف ریستوران مالکان دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔

روبوٹ کچن کی وجہ سے اگر لیبر کی لاگت کم ہوگی تو کیا اس سے صارفین کو فائدہ ہوگا ؟

سان فرانسسکو میں موجود ایک برگر ریستوران Creatorنے اس حوالے سے دعویٰ کیا کہ وہ 18ڈالر والا برگر صرف 6ڈالر میں فروخت کرے گا۔ دوسرے لفظوں میں ایک مہنگے ریستوران کا برگر آپ کو اپنی جیب کے مطابق مل جائے گا۔ اس دعوے کی پیچھے ایک chef-de-cusine نامی روبوٹ تھا، جو مہنگے خانسامے سے کم پیسوںمیں آگیا تھا۔

تاہم ابھی بھی بہت سے لوگوں کیلئے روبوٹ کیٹرنگ ایک انوکھی چیز ہی ہے۔ لاس اینجلس کے قریب ایک ریستوران  میں  Flippyنامی روبوٹک آرم ( صرف بازو) لوگوں کی تفریح طبع کیلئے برگر پلٹتا (Flip)تھا، لیکن اس روبوٹ کا کام صرف برگر پلٹنا ہی تھا، وہ برگر تیار نہیں کرسکتا تھا۔

2014ءمیں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 1900ٹیکنالوجی ماہرین نے روبوٹس اور روبوٹک شیفس پر اتفاق کیا اور اس بات پر بھی کہ 2025ء میں یہ ہماری زندگی کا نارمل حصہ ہوںگے ۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 2014ء میں فروخت ہونے والے روبوٹس کے مقابلے میں 2015ء میں ان کی فروخت 25فیصد بڑھ گئی تھی اور ایک سال میں 41ہزار60روبوٹس فروخت کیے گئے۔ 1998ء سے لے کر 2017ء تک پیشہ ورانہ استعمال ہونے والے دو لاکھ 22ہزار روبوٹس فروخت ہوئے جبکہ صرف گھر میں استعمال ہونے والے 54لاکھ سروس روبوٹس2015ء میں فروخت ہوئے اور یہ شرح 2014ء کے مقابلے میں 16فیصد زیادہ تھی۔

فیڈریشن کی پیشن گوئی ہے کہ2023ء تک پروفیشنل سروس روبوٹس کی فروخت میں اضافہ ہوگا اور یہ تعداد5لاکھ37ہزار یونٹس تک ہونے کی توقع ہےجبکہ ان مالیت کے اعتبار سے یہ فروخت 27ارب 70کروڑ ڈالر کی ہوگی۔ اسی طرح 2023ء تک گھریلو سروس روبوٹس کی فروخت بھی بڑھ کر 5کروڑ 53لاکھ یونٹس ہونے کا امکان ہے اور مالیت کے اعتبار سے یہ 12ارب 10کروڑ ڈالر کی ہوگی۔

فی الحال روبوٹک کچن امریکا، چین اور برطانیہ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی سے کچھ بعید نہیں ، ایسا بھی ہوسکتاہے کہ چند برس بعد آپ کے گھر کا روبوٹ شیف آپ کو آلو بھرے پراٹھے ، لہسن کی چٹنی کے ساتھ پیش کررہا ہو۔