آپ آف لائن ہیں
منگل29؍شعبان المعظم 1442ھ 13؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
حرف و حکایت …ظفر تنویر
جنرل ضیاالحق کی حکومت اپنے پورے جوبن پر تھی اورکچھ کرنا تو درکنار عام آدمی بات کرنے سے بھی ڈرتا تھا اشاروں کنایوں میں بات کی جاتی ایسے دبے دبے اور گھٹے ہوئے ماحول میں شوکت علی نے مشہور فولک گیت ’’جگا‘‘ گایا تو آقائوں کے ساتھ ساتھ ان کے چیلے بھی تڑپ اٹھے جوں ہی یہ گیت ملک کے واحد ٹیلی ویژن پی ٹی وی کی نشریات کے ذریعہ لوگوں تک پہنچا پاکستان کی مانگے تانگے کی قومی اسمبلی میں اس گیت اور شوکت کے خلاف طوفان اٹھ کھڑا ہوگیا اور پنجاب کے ایک بڑے لیڈر چوہدری ظہور الٰہی نے نکتہ اعتراض اٹھایا کہ سرکاری ٹی وی پر ڈاکوئوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے حالانکہ جگا ایک ایسا وطن پرست تھا جس نے انگریز سامراج کے خلاف جنگ شروع کر رکھی تھی۔ نکتہ اعتراض کا فائدہ یہ ہوا کہ شوکت علی بھی پنجاب کے ایک نڈر سپوت کی حیثیت سے دونوں طرف کے پنجاب میں یکساں مقبول ہوگیا اور جہاں کہیں بھی جگا گایا گیا شوکت کی تصویر لوگوں کے سامنے آگئی۔ گزشتہ دنوں 78 برس کی عمر میں انتقال کر جانے والے شوکت علی ایک گلوکار ہی نہیں شاعر بھی تھے ان کے پنجابی کلام کے دو مجموعے بھی شائع ہوچکے ہیں وہ ایک پڑھا لکھا فنکار تھا جس نے اپنے والد کے اچانک انتقال کے بعد اپنی جدوجہد کرتی ماں سے بہت کچھ سیکھا اور شاید یہ اس کی ماں کی جدوجہد یا اس کے پڑھائے ہوئے سبق ہی تھے جس نے شوکت کو ہر اس شخص کے نزدیک کردیا جو انسانیت اور جدوجہد پر یقین رکھتا تھا شاید یہی وہ رشتہ تھا جس نے شوکت علی کو چیئرمین بھٹو اور ان کی پارٹی کے نزدیک کیا۔ 1968ء میں ایوب خان کے خلاف تحریک چلی تو شوکت علی، حبیب جالب کے کاندھے سے کاندھا ملائے سب سے آگے تھا۔ ایوب آمریت کے خلاف جہاں حبیب جالب کی شاعری ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوئی وہیں شوکت کی گرجدار گائیگی اس کے فوک گیت اور شوکت کے اپنے وچار لوگوں کو اکھٹا کرنے کے کام آئے۔مجھے یاد ہے کہ چیئرمین بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت بنی تو پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل خورشید حسن میر کا کلام ’’ہیر تے رانجھیا تیری اے‘‘ شوکت علی نے گایا تو پارٹی میں دھوم مچ گئی۔ انقلاب اور جدوجہد کے پس منظر میں لکھے گئے اس پنجابی گیت کی راولپنڈی میں تقریب رونمائی ہوئی تو خورشید حسن میر کے ساتھ ساتھ بہت سے دوسرے وزراء بھی جھوم رہے تھے۔ 1972ء میں چیئرمین بھٹو نے لاہور ٹیلی ویژن کی نئی عمارت کا افتتاح کیا تو اپنے قائد کے استقبال کیلئے شوکت علی وہاں موجود تھا اسے چیئرمین سے اس لئے بھی عشق تھا کہ جس طرح شوکت نے اپنی ماں سے جدوجہد کرنا سیکھی اسی طرح چیئرمین نے اپنی ماں کو دیکھ کر غریبوں سے محبت کرنا سیکھا ۔یہ غالباً 1994ء کا ذکر ہے میں نے شوکت علی سے ’’جنگ فورم‘‘ کیا تو پورا ہال کھچا کھچ بھر گیا یہ پہلا موقع تھا کہ ہمارے فورم میں چار پانچ سو لوگوں نے شرکت کی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تھی جو شوکت علی کو ملنے یا اس کی صرف ایک جھلک دیکھنے آئی ہوئی تھی۔ بہت سوں کو شوکت کے فوک گیت کھینچ لائے تھے اور ایک بڑی تعداد ان کی تھی جنہوں نے پہلی مرتبہ سیف الملوک شوکت کے ذریعہ سنا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت میاں محمد بخشؒ کی مشہور کتاب سفر العشق المعروف سیف الملوک بہت سے جید فنکاروں نے گائی اور بے پناہ شہرت حاصل کی لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جس طرح نصرت فتح علی خان نے قوالی کو زیارتوں درگاہوں اور عرسیہ تقریبات سے نکال کر عام لوگوں کے گھروں تک پہنچایا اسی طرح شوکت علی نے اپنی آواز کے زور سے اس کلام کوان گلی محلوں، چھتوںاور چوباروں تک رسائی دی جہاں کبھی بھی کوئی صوفیانہ کلام نہیں پہنچا تھا۔ عام طور پر ہمارے جنگ فورم کی کاروائی گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے میں نبٹا دی جاتی تھی لیکن اس روز یہ سلسلہ چار گھنٹوں سے بھی زیادہ طوالت اختیار کر گیا بہت سی باتیں بھی ہوئیں سوالات بھی پوچھے گئے اور اس کی گائیکی کے مختلف رنگ بھی بکھرتے دیکھے گئے۔ شوکت علی خود بھی ایک دور میں پی ٹی وی کیلئے ’’جی آیاں نوں‘‘ کے نام سے ایک پروگرام کرتے تھے اس لئے ان تمام نزاکتوں سے واقف تھے جن کا سامنا ایسے موقعوں پر کرنا پڑتا ہے۔ شوکت علی ہمیشہ اپنے بڑے بھائی عنایت علی کو بڑے پیار سے یاد کرتے رہتے تھے جب شوکت علی کے والد فوت ہوئے تو عنایت علی کی عمر صرف 9 برس تھی اس نے اپنے چھوٹے بھائی کی انگلی پکڑ لی اور مرتے دم تک اسے پکڑے رکھا۔ شوکت علی کا مشہور گیت ’’چھلا‘‘ دراصل پہلی مرتبہ عنایت علی نے ہی گایا تھا شوکت نے بھی جب کبھی چھلا گایا ایسا ہی لگتا تھا کہ شوکت کا چھلا تو عنایت ہے جس نے اسے چلنا سکھایا اور اس راستے کے اونچ نیچ سے متعارف کروایا۔ حکومت پاکستان نےشوکت علی کی خدمات کے اعتراف میں اسے تمغہ حسن کارکردگی تو دے دیا لیکن جب جگر کے مرض میں شوکت کو اپنی اسی حکومت سے کسی مدد کی توقع تھی تو عمران حکومت نے صرف ایک گلدستہ کو ہی اس کے قابل سمجھا اور یہ جانتے ہوئے کہ بیمار آدمی کو پھولوں سے زیادہ ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمران خان کو تو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے تھا کہ یہ وہی شوکت علی ہے جس نے ان کی ماں کے نام پر بنے شوکت خانم ہسپتال کیلئے چندہ اکھٹے کرتے ہوئے اپنا دن رات ایک کردیا تھا ایک طرف یہ پنجاب ہے کہ ’’جگا‘‘ گانے پر اس کا روزگار بند کردیتا ہے اور ایک وہ پنجاب ہے کہ جس کے ضلع موگاں میں شوکت علی کو خراج پیش کرنے کیلئے اس کا بُت ا یستادہ کیا جاتا ہے، ضلع موگاں کے مجنیت سنگھ ایسا کیوں نہ کرتے شوکت تو پنجاب اور پنجابی زبان کی عوامی روح ہے۔
یورپ سے سے مزید