تندرستی اور خوبصورتی کا باہمی تعلق
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خوشی، سرشاری اور اطمینان کا انحصار مرد عورت کے درمیان موجود خوشگوار تعلق پر ہے۔ یوں تو کائنات میں بے شمار رشتے ناطے ہیں اور ہر رشتہ اپنے اندر سمندروں کی سی وسعت و گہرائی رکھتا ہے، تعلق کی سمت درست اور سوچ مثبت ہو تو زندگی کو روشنی کی کرنوں سے اُجالتا ہے،لیکن جیون کو نکھارنے اور نئے پھولوں سے مالا مال کرنے والا کنکشن عورت مرد کی روحانی اور مادی کشش میں پوشیدہ ہے۔ کائنات کا بنیادی تعلق بھی ان دونوں کے درمیان ہی قائم ہے یا ان کے ارد گرد گھومتا ہے۔ کائنات کی بقااور زندگی کا تسلسل بھی انہی کا مرہونِ منت ہے۔ اسی کے سبب امیدوں کے دِیے جلتے ہیں، انتظار کے پودوں پر نئے پھول کھلتے ہیں اور کلکاریاں مارنے والے بچے جنم لیتے ہیں۔ بلکہ ہر رشتے کی بنیاد اس تعلق کی اینٹ سے اُساری گئی ہے۔اس میں اونچ نیچ معاشرتی اتھل پتھل کا سبب بنتی ہے۔ رنجشیں ان کے درمیان الجھاؤ پیدا کرتی ہیںتو اردگرد موجود کنکشن کی تاروں کے گچھے بھی اُلجھ جاتے ہیں۔ معاشرے میں جنم لینے والا تشدد سوچ سے نکل کر عمل کی تلوار پکڑ لیتا ہے اور سرسبز رستے لہولہان ہونے لگتے ہیں۔

خوبصورتی اور تندرستی کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے یہ دونوں ایک دل کی دھڑکن سے بندھے ہوتے ہیں ایک متاثر ہوگا تو دوسرا بھی اس کی زد میں آئے گا۔ خوبصورتی کی کئی حوالوں سے تعریف کی جا سکتی ہے مگر چند حرفوں میں بیان کرنا ہو تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب آپ کا ظاہر ویسا دکھائی دے جیسا خدا نے آپ کو تخلیق کیا ہے، اس میں چربی کے ڈھیر ہوں نہ غلاظت کے۔ ضرورت سے زیادہ اور اور غیر معیاری غذا غلاظت کا ڈھیر بن جاتی ہے۔ یہ ہمارے جسم کو بدصورت، دل کو داغدار اور روح کو میلا کر دیتی ہے۔ آہستہ آہستہ یہ میل زہر بن کر مختلف بیماریوں کا روپ دھارنا شروع کر دیتا ہے۔ جسم، دل اور روح کی غذا کا خیال کرلیا جائے تو وجود ایک نکتے پر رواں ہو جاتا ہے۔

تیزرفتار وقت کی تاروں پر چلتا ہوا انسان مسابقت اور جیت کی دوڑ میں وجود کے درخت کے تقاضوں کو بھول جاتا ہے کبھی اسے وقت پر پانی نہیں دیتا اور کبھی کھاد ڈالنا فراموش کر دیتا ہے۔اگر انسان شعور کی منزلوں کو چھو لے تو شاید وہ اپنا بہتر دھیان کرنے والا طبیب ہو جو کبھی جسم کو چیر پھاڑ کے مراحل تک آنے ہی نہ دے۔ انسان اپنا سب سے زیادہ معتبر طبیب ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے تمام دکھ اور اذیتیں اس کے ظاہر اور باطن میں ہی موجود ہوتی ہیں مگر ابھی خودشناسی کا وہ مرحلہ نہیں آیا اسی لیے ظاہری طبیب کی ضرورت ہمیشہ ساتھ رہتی ہے۔طبیب ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے وجود میں کن چیزوں کی کمی ہے اور کن کی زیادتی کیونکہ کمی بیشی ہی عدم توازن کا سبب بنتی ہے اس لئے طبیب پہلے دواؤں اور پھر آپریشن کے ذریعے کانٹ چھانٹ کرکے وجود کو صحت مند بلکہ نارمل بنانے کی تگ و دو کرتا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ زمین کے قالین پر انسانی عقل سائنس کی نئی دریافتیں سجاتی جا رہی ہے۔ صحت کے ساتھ خوبصورتی کے دائمی تعلق کو مدِنظر رکھتے ہوئے اب نئے زاویے سے تحقیق ہو رہی ہے۔ جی ٹی روڈ پر کھانوں کی لذتیں بکھیرنے والے چھوٹے شہر گوجرانوالہ میں الشفا فیوچر ہاسپٹل کا دورہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی تو بے شمار حیرتوں کا سامنا ہوا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تمام حیرتیں بہت خوشگوار تھیں۔ عموماً اسپتال کے نام کے ساتھ ہی ایک عجیب سا ناخوشگوار منظر نظروں کے سامنے لہرانے لگتا ہے۔ دوائیوں کی بدبو اور ناموافق فضا بیمار کی طبیعت کو مزید بوجھل بنا دیتے ہیں لیکن یہ ہسپتال ایک پُرفضا مقام یا ریستوران کی طرح ہے جس کے داخلی دروازے پر خوشگوار احساس آپ کو خوش آمدید کہتا ہے۔ اس کی سجاوٹ، ڈیزائن اور فرنیچر جمالیاتی قدروں کی ترویج کرتے ہوئے آپ کو خوبصورتی اور صحت مندی کا احساس دلاتے ہیں۔ شاید اس لئے کہ انسانوں کو خوبصورت اور صحت مند بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس کا ایک اور کمال یہ بھی ہے کہ مردوں عورتوں دونوں کے ظاہری حسن و جمال کی آرائش اور بیماریوں کا سدّباب جدید طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ یوں تو خدا نے ہر بندے کو خوبصورت بنا کر بھیجا ہے لیکن بدپرہیزیوں اور فطرت سے دوری کے باعث ہم بدصورتی کو اپنی ذات کا حصہ بنا لیتے ہیں جو نہ صرف ہمارے جسم بلکہ دل اور روح کو بھی آلودہ کر دیتی ہے۔ جس طرح چہرے پر جمی مٹی، داغ دھبے اور چھائیاں ختم کی جاتی ہیں اسی طرح نفسیاتی الجھنوں کا سبب بننے والی جسمانی وجوہات کے سدباب کی کوشش اور سوچ کی صفائی کی جاتی ہے۔

شاید وجود کا کوئی انگ ایسا ہو کہ جس کے بارے میں ہم نے وہاں کام ہوتا نہ دیکھا ہو۔ جب آپ اس ادارے سے باہر نکلتے ہیں تو آپ خود کو اِس طرح ہلکا پھلکا اور سرشار محسوس کرتے ہیں جیسے تن من کی تمام کثافتیں دھل گئی ہوں۔ یہاں پر کام کرنے والے ڈاکٹر وہ طبیب ہیں جو دلوں اور روحوں کے اطمینان کی خبر رکھتے ہیں، مریض کی سوچ پڑھ لیتے ہیں پھر ایسا دم کرتے ہیں کہ وہ خوش و خرم ہو کر زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے نکل جاتا ہے۔ موقع ملے تو وہاں ضرور جائیں اور سائنس کے نئے انکشافات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر انسانی عقل کو شاباش دیں۔

تازہ ترین