ترکی: نصف صدی کا رومان
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم کے تین سال گزارنے کے بعد اکیس سالہ جارج ڈئیرس لی نے والد کی رہنمائی میں محنت مزدوری سے جوڑی ہوئی رقم سے ڈیڑھ سو پاؤنڈ میں ایک چھوٹی سی وین خریدی اور دو ساتھیوں کے ساتھ سیر کو نکلے۔ یورپ کے کئی تاریخی شہروں سے ہوتے ہوئے بتیسویں دن وہ یونان کے راستے ترکی داخل ہوئے جہاں پہنچتے ہی جارج کے ساتھ حسین اتفاقات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔ پچاس سال بعد وہ ترکی کے ایک چھوٹے سے گاؤں کپلان میں اپنے ذاتی گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ استنبول پہنچنے کے دوسرے دن جارج اور اس کے ساتھیوں کی ملاقات کچھ ترک نوجوانوں سے ہوئی جن کے ساتھ انہوں نے فٹبال کھیلی اور پھر پاس ہی ایک یونیورسٹی کے طلباء کے ہمراہ ان کے ہوسٹل میں کھانا کھایا۔ ان میں سے ایک نوجوان لیونٹ کی امی سوزن نے ان کی چائے اور سینڈوچ سے تواضع کی۔ یہ لیونٹ اور اس کے خاندان کے ساتھ جارج کی دوستی کا آغاز تھا جو تا حال جاری ہے۔ بقول جارج یہیں سے ان کا ترکی کے ساتھ رومان شروع ہوا۔

برطانیہ واپسی پر جارج نے ایک عامل صحافی کے طور اپنی زندگی کا آغاز کیا جہاں وہ کئی مقامی اخبارات کے ساتھ کام کرتے قومی سطح کے ٹیبلائیڈ روزناموں ڈیلی میل اور سن میں پہنچے۔ اس دوران ان کی ذاتی زندگی میں کئی تبدیلیاں آئیں۔ شادی، پھر طلاق اور دوبارہ شادی ہوئی، دوسری بیگم سے دو بیٹیاں پیدا ہوئیں مگر ترکی کے ساتھ ان کے روابط گہرے ہوتے گئے۔ پہلے پہل تو وہ سالانہ چھٹیاں منانے آتے رہے پھر انہوں نے استنبول کے مضافات میں بحیرہ اسود کے کنارے آباد شیلیے نامی قصبے جو اب بڑا سیاحتی مرکز بن گیا ہے، میں فلیٹ خریدا جو پندرہ سال تک ان کے تصرف میں رہا۔ 2014میں انہوں نے وہ بیچ کر ازمیر سے باہر ایک گاؤں کپلان میں موجود سو سال سے پرانے کھنڈرات کی مرمت کرکے وہاں مستقل رہائش اختیار بنالی۔ترکی کے ساتھ اپنی والہانہ محبت پر مبنی جارج ڈئیرس لی کی سوانحTwelve Camels for Your Wife اس سال مارچ میں شائع ہوئی جس میں وہ اپنے ساتھ بیتی درجنوں کہانیاں بیان کرتے ہیں جنہیں ان کی انگریزی حسِ مزاح کی چاشنی اور بھی خوبصورت بنادیتی ہے۔ کتاب کا نام ان کی دوسری بیگم کیرولن کے ترکی کے پہلے سفر کے پہلے دن پیش آئے واقعے سے ماخوذ ہے۔ جب میاں بیوی استنبول کے ایک نائٹ کلب میں کھانا کھانے گئے تو کلب کا مالک ان کی ٹیبل پر آیا اور بیگم صاحبہ کی خوبصورتی کی تعریفیں کرتے ہوئے جارج کو اس کے بدلے میں بارہ اونٹوں کی پیشکش کی۔ ترکی کیساتھ گزاری نصف صدی کے دوران اگرچہ انہیں کچھ ناپسندیدہ حالات و واقعات سے بھی گزرنا پڑا مگر جارج ترکوں کی مہمان نوازی، فیاضی اور مذہبی رواداری کی دل کھول کر داد دیتے ہیں۔ اپنا پہلا فلیٹ خریدتے وقت کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا پر وہ لندن سے وقت پر پیسے نہیں منگوا سکے تو لیونٹ کی ساس نے اسی وقت چیک بک نکال کر ان کی طرف سے ادائیگی کردی جو انہوں نے بعد میں لندن جاکر چکائے۔ وہ اس طرح کے درجنوں واقعات بیان کرتے ہیں جب مکمل اجنبیوں نے ان کی اور ان کے گھر والوں کی امداد کی۔ گزشتہ دو سال جارج کیلئے انتہائی مشکل گزرے۔ نومبر 2019میں چار دہائیوں تک ساتھ نبھانے والی بیگم اچانک ہارٹ اٹیک سے فوت ہو گئیں۔ اس سانحے کے دوران پورا گاؤں ان کے دکھ میں شریک رہا یہاں تک کہ انہوں نے ہی کفن دفن کا سارا انتظام سنبھالا۔ اگرچہ گاؤں کے سارے لوگ مسلمان ہیں مگر کیرولن کو عیسائی رسومات کے ساتھ کپلان کے مقامی قبرستان میں دفنایا گیا جس کیلئے نزدیکی علاقے سے ایک نیم راہب کی خدمات لی گئیں۔ اس کے بعد مقامی لوگوں نے اپنے عقیدے کے مطابق بھی دعا کروائی جو جارج کیلئے انتہائی حیرت اور خوشی کا باعث بنی۔ اس دوران لیونٹ اور اس کی بیگم امینہ جارج کے ساتھ ساتھ رہے۔ چند ماہ بعد جب لیونٹ کی ماں سوزن کورونا کا شکار ہوکر وفات پا گئیں جو بقول جارج ان کی دوسری امی تھیں اور جس نے انہیں ہمیشہ اپنی ماں کی طرح چاہا تو جارج بھی اپنی دوسری ماں کا کچھ قرض اتارنے کیلئے لیونٹ کے ساتھ ساتھ رہے یہاں تک کہ میت کو کندھا دیکر قبرستان پہنچانے میں بھی مدد کی۔

ستر سالہ جارج کی دونوں بیٹیاں اور انکے خاندان انگلینڈ میں رہ رہے ہیں مگر وہ خود کپلان میں اپنے دوستوں اور پڑوسیوں کیساتھ مطمئن ہے۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ وہ مرتے دم تک ترکی میں ہی رہنا پسند کریں گے۔ ویسے بھی کیرولن کو گاؤں کے سربراہ نے جان بوجھ کر قبرستان میں ایک کشادہ قطعہ زمین میں دفنایا تھا تاکہ جارج کیلئے اپنی بیگم کے پہلو میں لیٹنے کیلئے مناسب جگہ ہو۔

تازہ ترین