• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

سندھ اسمبلی: حکومت اور اپوزیشن قازئمہ کمیٹیوں کی تشکیل پر متفق

رمضان المبارک میں گرچہ سیاسی سرگرمیاں ماند پڑگئی ہیں تاہم گزشتہ ہفتے سندھ اسمبلی نے کئی بل منظور کیے۔سندھ اسمبلی اجلاس میں سندھ پبلک فنانس ایڈمنسٹریشن بل اپوزیشن کے شدید اعتراض کے باوجود منظورکرلیا گیا اور نماز کے وقت وقفہ کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، اسپیکرآغاسراج درانی نے اجلاس میں ہنگامہ آرائی پر ارکان سندھ اسمبلی کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہاکہ میری غیرموجودگی میں چیئرمین آف پینل کو وہی اختیار حاصل ہیں جو اسپیکر کو حاصل ہیں، اسپیکر کو چیلنج اور دھمکی آمیز رویہ نہیں چلے گا۔

سندھ اسمبلی نے فرانسیسی حکومت کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف مذمتی مشترکہ قرار داد منظورکرلی، تمام پارلیمانی جماعتوں نے قراردادکی حمایت کی، قرارداد وزیر مذہبی امور سید ناصر حسین شاہ اور دیگر پارلیمانی جماعتوں کے ارکان نے پیش کی تھی، قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ وفاقی حکومت توہین آمیز خاکوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے، قرارداد میں کہا گیا کہ اظہاررائے کی آزادی کے نام پر توہین آمیز خاکوں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا گیا، قرارداد کی حمایت جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کی جانب سے بھی کی گئی تھی، کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مفتی قاسم فخری نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے ایک سال قبل فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت نے ہماری جماعت سے معاہدہ کیا جس کی خلاف ورزی کی گئی، ایم ایم اے کے رکن سید عبدالرشید نے کہاکہ ناموس رسالت کے حوالے سے کئے گئے معاہدوں پر عمل کیا جائے اوروفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کو برطرف کیا جائے، قراردادپیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر سیدناصرحسین شاہ نے کہاکہ یہ صرف پاکستانی مسلمانوں کا نہیں بلکہ یہ دنیا بھر کے ایک ارب مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ایوا ن نے کارروائی کے دوران قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد 2013 میں کنٹریکٹ پر بھرتی کئے گئے اساتذہ کو مستقل کرنے کے علاوہ چائلڈپروٹیکشن اتھارٹی ترمیمی بل بھی منظور کیا۔

دوسری جانب بیانات کی حدتک پی پی پی اور پی ٹی آئی میں رسہ کشی دیکھنے کو مل رہی ہے تاہم پی ڈی ایم سے نکلنے کے بعد پی پی پی سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو ہر ہفتے نیب کی طرف سے ملنے والے نوٹس میں خاطرخواہ کمی آئی ہے ممکن ہے کہ یہ صرف رمضان المبارک کی وجہ سے ہورہا ہو۔ تاہم سندھ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے بحال ہوگئے، سندھ حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں شامل ہونے کی دعوت دے دی ہے، اس ضمن میں مشیرقانون مرتضی وہاب کے دفتر میں اپوزیشن لیڈرایم کیوایم اور جی ڈی اے کے پارلیمانی لیڈرز کی حکومتی نمائندوں کی ملاقات ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہواہے کہ مل کر چلیں گے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل سے متعلق پیش رفت کے بعد قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا۔ 

دوسال قبل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی(پی اے سی) کی چیئرمین شپ نہ دینے پر سابق اپوزیشن لیڈرفردوس شمیم نقوی نے اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ ملاقات کے بعد اپوزیشن لیڈرحلیم عادل شیخ نے میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ ڈھائی سال سے اسٹینڈنگ کمیٹی نہیں بنائی گئی تھی، گزشتہ اجلاس میں اسپیکر نے کہاکہ اسٹینڈنگ کمیٹی بنائی جائے جو اسمبلی کاماحول بہتر کرے۔ سندھ کے وزیراطلاعات سیدناصرحسین شاہ نے میڈیاسے گفتگو میں کہاکہ حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی ملاقات ہوئی ہے۔ 

مثبت پیش رفت ہوئی ہے، اس سے اسمبلی کے ماحول کو بہتر بنانے میں مددملے گی، کچھ کمیٹیز کو جلد بنادیا جائے گا، حکومتی اور اپوزیشن بینچوں کے درمیان جو ایشوز ہوں گے انہیں حل کیا جائے گا۔ادھرکراچی غربی کے حلقہ 249 کے ضمنی انتخاب کے لیے پنجہ آزمائی جاری ہے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار سابق مشیرخزانہ مفتاح اسماعیل کی انتخابی مہم کے لیے مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز کو دو روزہ کراچی کا دورہ کرنا تھا تاہم کورونا وائرس کے پھیلاؤکے خدشے کے پیش نظر انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کردیا مسلم لیگ(ن) کو ضمنی انتخاب میں جے یو آئی، اے این پی کی حمایت حاصل ہے جبکہ پی پی پی کی حمایت مجلس وحدت المسلمین کررہی ہے پی پی پی نے یہ انتخاب جیتنے کے لیے پورا زور لگادیا ہے۔ حلقے سے پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال اور کالعدم تحریک لبیک کے امیدوارکے علاوہ پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم، مسلم لیگ فنکشنل دیگر جماعتیں اور آزاد امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں۔ 

اس حلقے میں پولنگ 29اپریل کو ہوگی پاک سرزمین پارٹی نے بھی حلقے میں کارکنوں کو متحرک کررکھا ہے تاہم کہاجارہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کا پلہ بھاری ہے۔ جبکہ دوسرے نمبر پر کالعدم تحریک لبیک یا پی ٹی آئی آسکتی ہے۔ادھرملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے حکومت نے صرف اسکولوں کو بند اور بازاروں کے اوقات محدود کئے ہیں باقی صوبے بھر میں کہیں بھی کورونا ایس او پیز پر عمل نہیں ہورہا۔

رمضان المبارک میں افطار سے رات گئے تک بچے جھولوں، گھوڑوں، اونٹ پر سواری کرتے نظرآتے ہیں جبکہ نوجوانوں کی ٹکریاں دس دس ، پندرہ پندرہ کی تعدا د میں لوڈو، تاش کھیلتے نظرآتے ہیں سڑکوں پررات گئے کرکٹ اور دیگر کھیل جاری ہیں علاقہ پولیس کو اس ضمن میں کوئی ہدایت نہیں یا پھر انہوں نے آنکھیں بند کررکھی ہے کورونا کے بڑھتے کیسز کے سبب وزیراعلیٰ سندھ نے ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کے لیے فوج کی خدمات لینے کے لیے حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔ 

صوبائی وزیر اطلاعات ناصرحسین شاہ کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر کورونا صورتحال سنگین رہی تو لاک ڈاؤن سمیت سخت اقدامات کرنے پڑیں گے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کوروناوائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار وزیراعظم کو قرار دیتے ہوئے اور ملک بھر میں کورونا پھیلاؤاور اموات پر تشویش اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس حکومتی نااہلی کی وجہ سے آج قابو سے باہرہوچکا ہے کیونکہ اگر بروقت لاک ڈاؤن کرلیا جاتا تو کوروناوائرس کے پھیلاؤ کو باآسانی روکا جاسکتا تھا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید