• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

سیاسی قیادت سمیت پوری قوم کو یکجا ہونا ہوگا

پاکستان میں کرونا کے اعدادو شمار کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کا رویہ قابل ستائش ہرگز نہیں ہے ابھی بھی سیاسی جماعتوں کے علاوہ حکمرانوں سے لے کر کارکنوں تک اس حقیقت سے نابلد ہیں کہ کرونا آپ کی قومیت مذہب اور سیاسی وابستگی نہیں پوچھتا ،جب تک اس حقیقت کو نہیں پا لیں گے اس وقت تک آپ کو صحت کے حوالے سے بری بلا سے نمٹنے میں دشواری ہوگی بحثیت قوم اپنی اور اپنی نئی نسل محفوظ کرنا ہمارا فرض ہے جو نوجوانوں کی شکل میں آبادی کا 60 فیصد ہے بحیثیت قوم ہمیں فخر کرنا چاہیے کہ بیشتر قوموں کے مقابلے میں پاکستان میں نوجوان آبادی موجود ہے ،دوسری طرف عوام اس بات پر شاکی ہیں کہ سیاست کے نام پر لگنے والے میلے ٹھیلے سیاسی کارکنوں کو مصروف رکھے ہوئے ہیں سیاسی کارکن عوام تک ابھی اس مسئلہ کے ہل کے لیے نہیں پہنچے۔ 

پی ٹی آئی کی ٹائیگر فورس بھی وہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے جس کے لئے اس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا کورونا سے بچاو کی ویکسینیشن کے لئے بھی شعور اجاگر کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اور کسی سیاسی جماعت نے بھی لوگوں کی مدد کے لیے سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرنے کی کوشش نہیں کی- کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کے لئے حکومت نے چاروں صوبوں ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں فوج طلب کر لی ہے مگر حکومت کی طرف سے صورتحال گھمبیر ہونے کے باوجود صحت ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی یوں تو فوج طلب کرنا سویلین اداروں کی ناکامی ہے مگر فوج پہلی بار طلب نہیں کی گئی اس سے پہلے بھی سیلاب زلزلوں اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج کو بلایا جاتارہا ہے۔ 

دہشت گردی کے خلاف فوج اور اس کے ذیلی اداروں نے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں، کراچی میں امن و امان کی بحالی کے سلسلے میں رینجرز نے اہم کردار ادا کیا جبکہ کے پی کے ، بلوچستان اور پنجاب میں بھی رینجرز پولیس کی مدد کے لیے موجود ہے۔ بھارت سے لگنے والے 1750کلو میٹر طویل باڈر پر فوج کے ساتھ رینجرز موجود ہے جو پولیس کی مدد کرتے ہیں۔

ویکسینیشن کے اثرات کے حوالے سے پارلیمنٹ نے ابھی تک کوئی کردار ادا نہیں کیا ہمارے یہاں یوں بھی مشاورت کا فقدان ہے۔امریکہ میں ایک کمپنی کی ویکسینیشن کا استعمال روک دیا گیا تھا اور رد عمل پر تحفظات دور ہونے کے بعد دوبارہ اجازت دی گئی ہے۔ 

پارلیمنٹ کی صحت کمیٹی کا کوئی اجلاس نہیں ہوا پارلیمنٹ کرونا کمیٹی بھی متحرک نظر نہیں آئی کمیٹی کا اجلاس بلا کر ارکان کو اعتماد میں لیا جاتا اور حکومت پارلیمنٹرین سے کہتی کہ آپ اپنے اپنے علاقوں میں لوگوں کی رہنمائی کریں، سیاسی کارکنوں کے لئے بندوبست کیا جاتا کہ وہ اپنے گلی محلوں میں لوگوں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں۔ جس گھر میں ایک سے زیادہ مریض ہوں ان کی مدد کیسے کرنی ہے، ان کے گھر میں نان نفقہ کی ذمہ داری کس کے سر پر ہے۔ سول اداروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں تو آرمی کو بلانے کی ضرورت محسوس ہوئی جس کی آمد کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ ایک ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا ۔ 

فوج کی آمد کے بعد پہلے دن ہی ماسک نہ لگانے والے نوجوانوں کے ایک گروپ کو کان پکڑے مرغا بنتے دیکھا گیا۔ ماسک نہ پہننے پر سزا کا عملی مظاہرہ نہ ہوا تو نوجوان ایس او پیز پرعمل درآمد بھی نہیں کریں گے۔ سیاسی محاذ پر پی ٹی آئی کی حکومت بہت غلطیاں کر چکی ہے مگر پی ڈی ایم اس سے بھروقت فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ بعض سیانے کہتے ہیں کہ مریم نے بلاول کے خلاف ہاتھ کھڑے کردیے ہیں سیاسی محاذ پر سینٹ عضو معطل بن کر رہ گئی ہے۔ سینٹ کمیٹیوں کا قیام متنازعہ ہو کر رہ گیا ہے۔ 

دو اپوزیشن لیڈر میدان میں کھڑے ہیں۔ پارلیمنٹ کی عمارت ڈس انفیکشن کرنےکے لیے پانچ روز کے لیے بند کی گئی تھی مگر بینک، پوسٹ آفس اور سیکیورٹی آفس کھلے رہے۔ سیانوں کا دعویٰ ہے کہ ن لیگ موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے تیار نہیں وہ ا اسے ایک ناکام حکومت ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ 

ڈھائی سالہ کارکردگی پر وزیر اعظم نے فخر کا اظہار کیا ہے مگر عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت سینیٹرز ایم پی اے اور ایم این ایز کو متحرک کر کے کرونا کے خلاف شعور اجاگر کرنے میں کامیاب ہو سکتی تھی مگر حکومت نے تو یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ کتنے پارلیمنٹیرینز نے کرونا ویکسین لگوائی ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کھڑی ہے اور اپنا دورانیہ مکمل کرنے تک کھڑی رہے گی اس کی کارگردگی زیر بحث نہیں آئے گی اسے گھر بھیجنے کے خواہاں سیاستدانوں کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔ 

جہانگیر ترین کی ناراضگی کے باوجود کچھ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ ن لیگ کسی ناراض گروپ کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی اس لئے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔حکومت کے حامی اب سوال کرتے ہیں کہ کون سا پی ڈی ایم ؟ پی ڈی ایم کچھ نہیں کر سکتا اس کے حصے بخرے ہو چکے ہیں۔ اپوزیشن کی طرح حکومت کو بھی عدالتوں سے ریلیف مل رہا ہے ۔ حکومت اپنی کرنیوں سے تو گر سکتی ہے مگر کوئی دوسرا اس کو نہیں گرا سکتا۔اسٹیبلشمنٹ کے پاس بھی دوسرا کوئی آپشن نہیں۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے 29اپریل کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بلوا لیا ہے۔ 

کیا پیپلز پارٹی اور اے این پی کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے ؟ آج ہونے والے اس اجلاس میں پی ڈی ایم کی سیاسی اوقات سامنے آجائے گی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی رہائی کے بعد سیاسی حلقے توقع کر رہے ہیں کہ سیاسی مار دھاڑ میں کمی آئے گی اور حکومت کے خلاف جلسے جلوسوں اور مظاہروں کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ کورونا پر قابو پانے کے لیے بھی شہباز شریف نے لوگوں کو گھر رہنے کی تلقین کی ہے۔ 

کرونا پر قابو پا لینے کے بعد بھی امکان ہے کہ حکومت کو عوام کی خدمت کا موقع دیا جائے گا تاکہ وہ آئندہ انتخابات میں جانے سے پہلے اپنی اچھی کارگزاری بھی دکھا سکے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کی کارکردگی پہلے جیسی رہے گی ان کو ہٹانے کے لیے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت، نہیں یہ خود کو خود ہی لے ڈوبیں گے۔ اب تو انہیں لانے والے بھی شرمندہ شرمندہ لگتے ہیں۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے مری میں کوہسار یونیورسٹی قائم کر کے ایک اچھا اقدام اٹھایا ہے اب انھیں وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤسوں میں بھی یونیورسٹیاں قائم کرنے کے اقدامات اٹھا کر اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔ صوبوں میں وزراء اعلی ہاؤسز میں بھی یونیورسٹیاں بن جائیں تو کیا اعلیٰ شان ہوگی۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کی خواہش کے مطابق ن لیگ سے ش الگ نہیں ہو سکی۔ شہباز شریف جیل سے سیدھے مریم نواز شریف کے پاس گئے اور نواز شریف کو اپنا قائد تسلیم کرتے ہوئے انہیں ساتھ لے کر چلنے کا عندیہ دیا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید