• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر رفعت سلطانہ

آج دنیا میں افراتفری، بے چینی، بدامنی کی فضا قائم ہے ۔اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف قدرت کے واضح کردہ قوانین کی نفی ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کی صلاحیت اور آگے سے آگے بڑھنے کی جستجو انسان کو کئی بہت پیچھے ہی لے گئی ہے اور افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ یہ طرزعمل انسان میں پایا جاتا ہے ۔اس کے برعکس اگر حشرات جو کہ ایک ادنی مخلوق تصور کیے جاتے ہیں۔ان کی سوانح حیات کا بغور مطالعہ کریں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ یہ ادنی مخلوق ساتھ مل جل کر رہنے اور اپنی زندگی کو ایک بہترین نمونے سے گزارنے کے راز سے بھی آشنا ہے ۔ 

ویسے تو حشرات کے کئی ممبران ہیں ۔ جن میں ایک ساتھ کالونی بناکر رہنے کا تصور پایا جاتا ہے وہ کبھی بھی تنہا نہیں رہتے لیکن ذیل میں موجود تحریر میں ہم صرف شہد کی مکھیوں (Bees) چیونٹیوں (Ant) اور بھڑیوں (Wasps) کی معاشرتی زندگی کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ ان حشرات میں آبادی کی تشکیل کو انتہائی اہمیت حاصل ہے، جس کا اندازہ ہم بھڑیوں اور شہد کی مکھیوں کے دلچسپ طرزعمل کو دیکھ کر لگاسکتے ہیں۔

ان کے بالغ اپنے نابالغ بچوں کو ایک ہی بار کافی مقدار میں غذا فراہم کرنے کے بجائے آہستہ آہستہ غذا پہنچانے کے اصول پر عمل کرتے ہیں ،جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں سے کافی حد تک مانوس ہوجاتے ہیں اس طرح گھریلو اور معاشرتی زندگی کی ابتدا ہوتی ہے اس کے برعکس انگلینڈ میں رہنے والے بھڑیوں کی ایک خاص نوع اوڈی نیرس اپنے انڈوں کو ایک مخصوص خانے میں دیتی ہے اور اس میں کافی مقدار میں تتلیوں کے (Catterpillars) جمع کرادیتی ہے جو کہ انڈوں سے نکلنے والے بچوں کے لیے کافی ہوتی ہے ،تاہم افریقا میں یہ صورت حال بہت مختلف ہے وہاں پر اپنے نابالغ بچوں کے لیے روزانہ کی بنیادوں پر خوراک مہیا کرتی ہیں اور بچوںکو آہستہ آہستہ خوراک کے حصول سے آشنا کرواتی ہیں۔ 

معاشرتی زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک عمل بڑا غور طلب ہے کہ اس عمل کو (Trophallaxir) کہا جاتا ہے۔ مثلاً بھڑوں کے درمیان وہ کام گار جو غذا کو اکلیوں کے پاس لے جاتے ہیں۔ اس کے بدلے میں اکلیوں سے لعاب کا ایک قطرہ حاصل کرتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاوضے کی خواہش ایسے نمو یافتہ حشرات کو معاشرے کے لیے کام کرنے پر آسانی سے کسی خاص قسم کی غذا کی فراوانی نے بھی معاشرتی زندگی پر اثر ڈالا ہے مثال کے طور پر زہروں (Pollen) اور شہد کی موجودگی کسی حد تک مکھیوں میں تنظیم پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے بالکل اس طرح (Beetles) کی معاشرتی زندگی کا موشیوں کے فضلات کے ساتھ بھی بڑا گہرا تعلق ہے۔ شہد کی مکھیوں کی کالونی تین اہم ارکان پر مشتمل ہوتی ہے جن میں ملکہ، سپاہی اور کارکن مکھیاں شامل ہیں۔

اس کا راز ملکہ کی تولیدی اور افزازی صلاحیت میں پوشیدہ ہوتا ہے ملکہ انڈے دینے کے ساتھ ساتھ جھتے کے تمام نظام پر بھی نظر رکھتی ہے اور اس منظم طریقے سے چلاتی ہے۔ سپاہی چھتے کی حفاظت پر مامور ہے جب کہ کارکن مکھیاں پھلوں سے رس چوس کر شہید بناتی ہیں اور اپنے ساتھی کارکن کی خوراک کابھی بندوبست کرتی ہیں لیکن جیسے ہی ملکہ بوڑھی ہو جائے تو یہ ارکان دوسری مکھی کو ملکہ منتخب کرتی ہیں کیوں کہ ملکہ کی غیرموجودگی کوفوراً محسوس کیا جاتا ہے اور اگر نئی ملکہ کا انتخاب نہ کیا جائے تو دیکھتے ہی دیکھتے چھتے کا سارا شہزازہ بکھر جاتا ہے ،تاہم اگر دیمک کی طرح چیونٹوں کی معاشرتی زندگی کا انحصار بھی کسی حد تک ملکہ کی ذات پر ہی ہوتا ہے۔ 

سماجی حشرات کی پیچیدہ معاشرتی زندگی ان میں بہتر احساس اُجاگر کرتی ہے بعض حشرات میں Social برتائو دلچسپ اور حیران کن کرنے والا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر شہد کی مکھیاں اور ایک مخصوص رقص سے اپنے ساتھی مکھیوں کو خوراک کے ذخیرہ کی نشان دہی کرواتی ہے اور اس سمت کا تعین بھی کرواتی ہے جہاں پر وافر مقدار میں پھول موجود ہوں یہ اپنی ساتھی ارکان کو کئی کئی فاصلوں سے بھی دوست سمت کا تعین کرواتی ہیں۔ 

معاشرتی زندگی کے ساتھ ہی ان حشرات کی طفیل زندگی میں بھی بہت پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں ان کی خاص مثالوں میں Chalicididac, ishneumonidae اور Proctutrypidac کی انواع شامل ہیں۔ان خاندانوں کی انواع طفیلی زندگی کی عادی ہوتی ہیں اور اس فیصلے کے تقریباً تمام طفیلی حشرات کا ان ہی خاندانوں سے تعلق ہے یہ اثر نہ صرف بالغوں میں متواثر نظر آتا ہے بلکہ یہ زندگی کے مختلف نشوونما مدارج پر بھی گہرا اثر مرتب کرتا ہے۔

مندرجہ بالا خاندانوں کی سب سے اہم خصوصیت ان کی طفیلیت ہے لیکن چیونٹیوں ،بھڑیوں اور شہد کی مکھیوں میں معاشرتی زندگی کا شعور انہیں بقیہ تمام خاندانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ چیونٹیاں جن کا تعلق فارمی کوآئیڈیا سے ہے۔ سماجی کثیر اشکال حشرات کی نمائندگی کرتی ہے ۔چیونٹی ایک منظم اور پیچیدہ سماجی نظام کی تشکیل کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر اپنے چھتے کی حفاظت، صفائی، ہوا کا آمدورفت کا بھی خاطر خواہ انتظام سنبھالتی ہے۔ مادّہ چیونٹی کے بیض انداز اعضاء (Reproductive Organ)، Ovipostors ڈنگ مارنے والے اعضاء (Stinging orfons) کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ یہ فیملی تقریباً 32 ہزار سے زائد انواع پر مشتمل ہے ۔

اب تک اس کے تقریباً 29 گروہ دریافت ہوچکے ہیں جو شکل و مشابہت میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ان میں بعض گروہ طفیلی حشرات مثلاً اس فیصلے کی دوسری انواع یادوسرے مثلاً (Nematode worms) میں جہاں نر اور مادّہ دونوں موجود ہوتے ہیں ۔اختلاط کا عمل اختلاطی پرواز کے درمیان مکمل ہوتا ہے۔ مادّہ چیونٹیاں اس کے بعد اپنے پرجھاڑ کر زائل کردیتی ہیں اور ہر مادّہ چیونٹی زمین پر اپنے لیے ایک نئی آبادی کی بنیاد ڈالتی ہیں۔ اگر کوئی آبادی قدرتی طور پر اپنی ملکہ کو کھو دیتی ہیں تو کارکن چیونٹیاں مناسب غذا کے زیر اثر اس کی جگہ لے لیتی ہیں اور اپنے لیے ایک نئی ملکہ ان کارکن چیونٹیوں میں سے ہی منتخب کرتی ہیں ۔

معاشرتی زندگی کی پیچیدگیوں کے علاوہ بعض دوسرے حشرات کی انواع یا بالکل ہی دوسرے organism کے ساتھ رہنے Association کی وجہ چیونٹیوں کی زندگی مزید پیچیدہ ہوگئی ہے Bugs اور Heleroptera کے بہت سے حشرات نابالغ حشرات چیونٹیوں سے مشکل میں حیران کن مشابہت رکھتے ہیں ،یہ حشرات اکثر چیونٹیوں کے بلوں (Nosts) میں ان کے ساتھ رہتے ہیں اور یہ تمام طرز زندگی اور مختلف انواع ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف ہنسی خوشی زندگی گزارتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے بہت ہی کارآمد اور معاون ثابت ہوتے ہیں تو کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم انسان بھی اس ادنی مخلوق سے سبق سیکھ کر اپنا طرز زندگی بدل دیں اور ہم بھی اپنی زندگی میں دوسروں کو Spale دینا سیکھ لیں کیونکہ دوسروں کا افترام کی دراصل انسانیت کی معراج ہے اور یہ سبق ہمیں حشرات نے بہت اچھا سکھا دیا ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید