• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگِ یرموک کی عظیم مجاہدہ

وہ5 رجب،15 ہجری کی ایک صبح تھی کہ جب سرزمینِ شام کی وادیٔ اُردن کے صحرا میں یرموک کے چشمے کے کنارے رُومیوں اور مسلمانوں کے درمیان ایک خوں ریز جنگ کا آغاز ہوا۔ رُومیوں کی تین لاکھ فوج کے مقابلے میں مسلمان مجاہدین کی تعداد صرف 46 ہزار تھی۔ جنگ کی شدّت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ُرومیوں کے تیروں کی بارش سے دن کی تپتی دُھوپ میں شام کی تاریکی کا گمان ہوتا تھا۔ مسلمان خواتین حسبِ روایت اِس جنگ میں بھی پیش پیش تھیں۔ میدانِ جنگ میں پانی پلانا، زخمیوں کی مرہم پٹّی اور تیمارداری، شہیدوں کی تکفین و تدفین میں مدد اُن کے فرائض میں شامل تھے۔ 

جنگ اپنے عروج پر تھی کہ اچانک رُومیوں کے ایک دستے نے خواتین کے کیمپ پر حملہ کر دیا۔ تمام خواتین نہتی تھیں، لیکن پھر یرموک کی فضائوں نے یہ ایمان افروز منظر دیکھا کہ حملہ آور رُومی سپاہیوں کے جسم میں خیمے کی کیل لگی چوبیں نیزوں کی طرح پیوست ہوگئیں۔ یوں پہلے ہی حملے میں 30 رُومی واصلِ جہنّم ہوگئے۔ ان میں سے 9رُومی ایک مجاہدہ اور نبی کریمﷺ کی صحابیہؓ، حضرت اسماءؓ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ ابھی یہ محیّرالعقول معرکہ جاری تھا کہ حضرت خالدؓ بن ولید کا ایک دستہ برق رفتاری سے وہاں پہنچا اور دشمنوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔یہ عظیم مجاہدہ تاریخ میں ’’خاتونِ یرموک‘‘ کے نام سے معروف ہیں۔ (الاصابہ، ج8 ص13)

سلسلۂ نسب

حضرت اسماء بنت یزید بن السکن بن رافع بن امراء القیس بن زید بن عبدالاشہل بن جُشم بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس۔ کنیت اُمّ سلمہ تھی اور حضرت معاذ بن جبلؓ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ انصار کے قبیلے، اوس کی ایک شاخ، الاشہل سے تعلق تھا۔

قبولِ اسلام

آنحضرتﷺ کی مدینہ منوّرہ تشریف آوری کے فوری بعد خدمتِ اَقدسؐ میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئیں۔ مسندِ احمد میں ہے کہ حضرت اسماءؓ اپنی بہن، حواؓ ،خالہ اور چند دیگر خواتین کے ساتھ بارگاہِ نبویؐ میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا’’ اے اللہ کے رسولﷺ! ہم عورتیں آپؐ سے بیعت کرنے آئی ہیں۔ آپؐ اپنا دستِ مبارک آگے بڑھائیں تا کہ ہم بیعت کر سکیں۔‘‘ سرکارِ دو عالمﷺ نے فرمایا’’ مَیں خواتین سے مصافحہ نہیں کرتا۔‘‘ واضح رہے، رسول اللہﷺ عورتوں سے زبانی بیعت لیا کرتے تھے۔ 

چناں چہ اُن سے بھی زبانی بیعت لی۔ اِس موقعے پر حضرت اسماءؓ کی خالہ سونے کے کنگن اور انگوٹھیاں پہنے ہوئے تھیں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا’’ کیا تم اس کی زکوٰۃ دیتی ہو؟‘‘ اُنھوں نے جواب دیا’’ نہیں۔‘‘ اس پر آپؐ نے فرمایا’’ کیا تم اِس بات کو پسند کرو گی کہ روزِ قیامت اللہ تم کو آگ کے کنگن اور انگوٹھیاں پہنائے؟‘‘ حضورِ انورﷺ کے اِس ارشاد کے بعد اُن کی خالہ نے زیور اُتار دیے۔بعض روایات میں ہے کہ کنگن کا یہ واقعہ خود حضرت اسماءؓ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ (مسند احمد 453/6)

عورتوں اور مَردوں کو برابر کا ثواب

حضرت اسماءؓ بنتِ یزید جلیل القدر صحابیہؓ تھیں۔ اپنی ذہانت و فطانت، بلاغت و خطابت، قیادت و سیادت اور شجاعت و بے خوفی میں معروف تھیں۔ حاضر دماغ، نکتہ شناس، حق گوئی و بے باکی میں اپنی مثال آپ ۔ دین کے بارے میں آنحضرتؐ سے بلاجھجک سوالات کیا کرتیں ۔ ایک دِن مسلمان خواتین کی نمایندہ بن کر بارگاہِ نبویؐ میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا’’ یارسول اللہﷺ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ اگر آپؐ کی اجازت ہو، تو مسلمان خواتین کی جانب سے ایک سوال پوچھنے کی جسارت کروں؟‘‘ حضورِ انورﷺ کی اجازت کے بعد عرض کیا’’ یارسول اللہﷺ! اللہ عزّوجل نے آپﷺ کو تمام بنی نوع انسان کے لیے رحمت اللعالمین بنا کر مبعوث فرمایا ہے، اُن میں عورت اور مرد دونوں شامل ہیں۔ 

چناں چہ ہم عورتیں بھی آپؐ پر ایمان لائیں اور آپؐ کی پیروی کا عہد کیا ہے ۔ اب معاملہ یہ ہے کہ ہم عورتیں پردہ نشین ہو کر گھروں میں رہتی ہیں ، ہم اپنے شوہروں کی خدمت کرتی ہیں ، اُن کے گھروں کی رکھوالی کرتی ہیں، اُن کے بچّوں کو گود میں لیے پِھرتی ہیں، اُن کی پرورش کرتی ہیں اور اُن کے مال کی حفاظت کرتی ہیں ، جب کہ مرد جنازوں اور جہاد میں شرکت کر کے اجرِ عظیم حاصل کرتے ہیں ، تو سوال یہ ہے کہ ان مَردوں کے ثوابوں میں سے کچھ ہم عورتوں کو بھی حصّہ ملے گا یا نہیں؟‘‘ 

سرکارِ دوعالمﷺ نے اُن کا سوال سُنا اور پھر صحابۂ کرامؓ کی طرف متوجّہ ہوکر فرمایا’’دیکھو، اِس عورت نے اپنے دِین کے بارے میں کتنا اچھا سوال کیا ہے ۔ پھر حضورﷺ نے حضرت اسماءؓ سے فرمایا’’اے اسماءؓ تم خوشی خوشی جائو اور تمام خواتین کو بتا دو کہ جو عورت اپنے شوہر کی فرماں بردار ہے، اُس کی خوش نُودی کے لیے فرائضِ زوجیت ادا کرتی ہے، تو جس قدر ثواب اس کے مرد کو ملتا ہے، اتنا ہی ثواب اس عورت کو بھی ملتا ہے۔‘‘ (الاستیعاب، باب النساء، ج 4 ، ص 350)

خطیبۃ النساء

حضرت اسماءؓ بہترین خطیبہ، فقیہہ اور عالمہ تھیں۔ ہر وقت علم کی جستجو میں رہتیں۔ اللہ تعالیٰ نے خطابت اور وعظ کی بہترین صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ دین کے علم کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں کمال رکھتی تھیں۔ خواتین سے متعلق شرعی مسائل کے بارے میں اُمّ المومنین، سیّدہ عائشہ صدیقہؓ سے سوالات کرتیں اور اُن کے جواب سے عام خواتین کو آگاہ کرتیں۔ ایک مرتبہ حضرت سیّدہ عائشہؓ نے اُن کے بارے میں فرمایا’’ اسماءؓ انصار کی اُن خواتین میں سے ہیں، جو دین سمجھنے کے لیے بلاجھجک سوال کرتی ہیں۔ جس میں اُنہیں حیامانع نہیں ہوتی۔ ‘‘یہی وجہ ہے کہ اُنہیں’’ خطیبۃ النساء‘‘یعنی’’ عورتوں کی نمائندہ‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ (الاصابہ 21/8)

پیار بَھری نصیحت

جب ہجرتِ مدینہ کے بعد یکم ہجری میں اُمّ المومنین، سیّدہ عائشہؓ کی رُخصتی کا دن آیا، تو والدہ، حضرت اُمّ ِ رُومانؓ نے اُنھیں سجانے سنوارنے یعنی دُلہن بنانے کے لیے انصار کی خواتین میں سے حضرت اسماءؓ بنتِ یزید کا انتخاب کیا۔ اس موقعے پر دیگر خواتین بھی خوشی و مسّرت کے کلمات گُنگنا رہی تھیں۔ رسول اللہﷺ تشریف لائے، تو آپؐ کو دُلہن کے ساتھ بِٹھا دیا گیا۔ آپﷺ کا سیّدہ عائشہؓ سے نکاح تو تین سال پہلے ہی مکّہ مکرّمہ میں ہو چُکا تھا۔ حضرت اسماءؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں دُودھ کا پیالہ پیش کیا۔ 

آپؐ نے اُس میں سے تھوڑا سا پیا اور پھر پیالہ اپنی اہلیہ کی جانب بڑھا دیا۔ حضرت عائشہؓ شرم سے سَر جُھکائے ہوئے تھیں۔ اُنہیں دُودھ کا گلاس لیتے ہوئے جھجک محسوس ہوئی۔ برابر میں حضرت اسماءؓ بیٹھی ہوئی تھیں۔ اُنہوں نے پیار بَھرے انداز میں سرزنش کرتے ہوئے کہا’’ اللہ کے رسولﷺ جو دیتے ہیں، لے لو۔‘‘ اس پر حضرت عائشہؓ نے گلاس لے کر اُس میں سے تھوڑا سا دُودھ پیا اور واپس کر دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا’’ یہ اپنی سہیلیوں کو دے دو۔‘‘ چناں چہ وہاں موجود خواتین نے وہ متبّرک دُودھ نوش کیا۔ (اسدالغابہ 23/7)

نبی کریمﷺ کا ایک معجزہ

حضرت اسماءؓ فرماتی ہیں’’ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ میرے گھر تشریف لائے۔ صحابۂ کرامؓ کی ایک جماعت بھی ساتھ تھی۔ آپؐ نے مغرب کی نماز اَدا فرمائی۔ اُس وقت گھر میں چند روٹیاں اور تھوڑا سا سالن ہی تھا۔ مَیں نے وہ خدمت میں پیش کر دیا۔ 

مَیں نے دیکھا کہ سب نے سیر ہو کر کھانا کھا لیا، لیکن اس کے باوجود کھانا ختم نہ ہوا۔ پھر حضورﷺ نے میرے مشکیزے سے پانی نوش فرمایا۔ اللہ نے اس مشکیزے میں یہ خصوصیت پیدا کر دی کہ اس کا پانی بیماروں کو پلاتے، تو اُنہیں شفا ہو مل جاتی۔ برکت کے لیے پیتے ،تو برکتوں کا نزول ہوتا۔ (طبقات ابنِ سعد 244/8)

محبتِ رسولﷺ کا منفرد انداز

حضرت اسماءؓ کو آنحضرتؐ کی خدمت کر کے بے حد خوشی ہوتی تھی۔ محبّت کا یہ عالم تھا کہ اگر کسی وقت کوئی صحابیؓ قریب نہ ہوتا اور اللہ کے رسولﷺ اونٹنی پر تشریف فرما ہوتے، تو جلدی سے اونٹنی کی مہار پکڑ کر چلنے لگتیں۔ خود فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ مَیں حضورﷺ کی ناقہ غضبا کی نکیل تھامے ہوئے تھی کہ آپؐ پر وحی کا نزول شروع ہوگیا۔

اُس وقت آپؐ اونٹنی پر تشریف فرما تھے۔ وحی کا بار اِتنا زیادہ تھا کہ مجھے یہ خوف پیدا ہوگیا کہ کہیں وحی کی شدّت سے اونٹنی کے ٹانگیں ہی نہ ٹوٹ جائیں۔ اُس وقت سورۃ المائدہ کا نزول ہو رہا تھا۔ (مسند احمد 459/6، حدیث 27575)

فتنۂ دجّال کا خوف

ایک مرتبہ حضرت اسماءؓ نے آنحضرتؐ سے فتنۂ دجّال کے بارے میں جاننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ آپؐ نے دجّال کے ظہور کے وقت پیش آنے والے خطرات کا ذکر کیا، جسے سُن کر حضرت اسماءؓ زار و قطار رونے لگیں۔ حضورﷺ نے رونے کی وجہ پوچھی، تو بولیں’’ یا رسول اللہﷺ !اِس وقت ہم کتنے آرام سے ہیں کہ باندی کھانا پکا دیتی ہے اور ہم سیر ہو کر کھا لیتے ہیں ،لیکن دجّال کے آنے کے بعد دُنیا میں جو قحط پڑے گا، ہم اُس کا مقابلہ کیوں کر کر سکیں گے؟‘‘ حضورﷺ نے فرمایا’’ اے اسماءؓ! تم روؤ نہیں، اُس وقت اللہ کا ذکر اور تکبیر بھوک سے بچائے گی۔‘‘ (مسند احمد 453/6)۔

جنّت کی بشارت

حضرت اسماءؓ کی دِلی تمنّا تھی کہ اُنہیں میدانِ جنگ میں شہادت نصیب ہو، چناں چہ تاریخ کے صفحات بتاتے ہیں کہ اُنھوں نے ترویجِ علم کے ساتھ بہت سے غزوات میں بھی حصّہ لیا۔ وہ ان خوش قسمت صحابیاتؓ میں سے ایک ہیں، جنہیں اللہ کے رسولﷺ نے جنّت کی بشارت دی۔ اُس کے ساتھ اُنھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اُن کے ذریعے بہت سے شرعی مسائل کا حل سامنے آیا۔ 

حضرت اسماءؓ کے استفسار پر اللہ کے رسولﷺ نے فتنۂ دجّال سے متعلق تفصیلات ارشاد فرمائیں۔ حضرت اسماءؓ کے شوہر نے اُنہیں طلاق دی، تو وہ بہت پریشان ہوئیں، چناں چہ اللہ نے نبی آخرالزماںؐ پر وحی نازل فرمائی کہ ’’طلاق یافتہ عورتیں تین ماہ تک انتظار کریں۔‘‘ اس سے پہلے عدّت کے بارے میں کوئی حکم نہیں تھا۔

وفات

حضرت اسماءؓ کا انتقال 69 ہجری میں خلیفہ عبدالمالک بن مروان کے دورِ خلافت میں ہوا اور اُن کی تدفین دمشق میں ہوئی۔ اُن سے 181 احادیث مروی ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید