بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کا صحافیوں کیلئے بڑھتی ہوئی مشکلات پر اظہار تشویش
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کا صحافیوں کیلئے بڑھتی ہوئی مشکلات پر اظہار تشویش

یورپی یونین، یورپی کونسل اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے بڑھتی ہوئی مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

پاکستان سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے یورپی یونین نے کہا کہ حالیہ برسوں میں میڈیا کی آزادی پر پابندیوں کا واضح منفی رجحان ہے، اس سے پاکستان کی بیرون ملک منفی شبیہ جھلکتی ہے۔ 

اسی طرح یورپی یونین خاتون صحافیوں کو ہراساں کرنے کے بارے میں بھی فکر مند ہے، یورپی یونین پاکستان سمیت پوری دنیا کے صحافیوں کے تحفظ کی ضرورت کے لیے سرگرم ہے۔

اس حوالے سے یورپی یونین نے پاکستانی صحافی ابصار عالم کے کیس کا بھی حوالہ دیا ہے۔

دوسری جانب کونسل آف یورپ کی سیکریٹری جنرل ماریا پیجو سینو وچ نے اپنی ممبر ریاستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے خطے ( یورپ اور اطراف میں ) آزاد صحافت اور صحافیوں کو بچانے کے لیے مضبوط سیاسی قوت ارادی کا مظاہرہ کریں۔

علاوہ ازیں 14 بین الاقوامی میڈیا تنظیموں کی جانب سے قائم کردہ پلیٹ فارم فار دی پروٹیکشن آف جرنلزم اینڈ دی سیفٹی آف جرنلسٹس کی جانب سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کونسل آف یورپ کی 47 ریاستوں میں 2019 کے مقابلے میں 2020ء کے دوران صحافیوں کو دھمکانے کے واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 

پلیٹ فارم کے مطابق اس دوران میڈیا کو دھمکانے کے 201 سیریس کیس رپورٹ ہوئے جس میں 52 کو جسمانی نقصان پہنچایا گیا اور 70 صحافیوں کو دھمکیاں دی گئیں اور ہراساں کیا گیا۔ 

 ان واقعات کے حوالے سے جن دیگر ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ان میں پولینڈ، مالٹا، ہنگری، چیک ریپبلک، روس اور بیلاروس قابل زکر ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید