• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

وزیراعلیٰ جام کمال ناراض اراکین کو منالیں گے؟

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی جانب سے سنیئر سیاستدان صوبائی وزیر بلدیات سردار صالح بھوتانی سے وزرات واپس لیے جانے کے بعد سے بلوچستان کے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے ، سردار صالح بھوتانی سے وزرات واپس لیے جانے کے لئے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں وزارت واپس لینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے سرکاری سطح پر جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے حکومت بلوچستان کے رولز آف بزنس 2012 کے قائدہ 3(5) کے تحت صوبائی وزیر سردار محمد صالح بھوتانی سے محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کا قلم دان واپس لے لیا تاہم واپس لئے جانے والے محکمے کا قلم دان وزیراعلیٰ جام کمال خان کے پاس رہے گا یاد رہے کہ سردار محمد صالح بھوتانی کو دوسرے کسی محکمے کا قلم دان تاحال تفویض نہیں کیا گیا ۔ 

دوسری جانب صوبے کی حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما سردار محمد صالح بھوتانی نے کہا ہے کہ محکمہ بلدیات و دیہی ترقی کا قلمدان واپس لینے سے پہلے ان سے نہ تو کوئی مشاورت کی گئی اور نہ ہی انہیں اعتماد میں لیا گیا سردار صالح بھوتانی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ سینئر ساتھیوں اور دوستوں سے مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ اور اعلان کریں گے۔ 

محکمے کا قلم دان واپس لئے جانے کے بعد رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قلم دان واپس لینے کے بعد کی صورتحال سے سنیئر ساتھیوں سے رابطے میں ہوں ، ساتھیوں اور دوستوں سے مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ اور اعلان کروں گا ۔ سردار صالح بھوتانی نے وزارت کا قلمدان واپس لیے جانے کے بعد اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو اور صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی سے ملاقات کی اس ملاقات کو صوبے کے سیاسی حلقوں میں اہمیت دی جارہی ہے۔ 

اسی دوران صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلید ی کو ایم پی اے لاجز کوئٹہ میں فلیٹ نمبر A6الاٹ کردیا گیا،وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کو ایم پی اے لاجز میں فلیٹ الاٹ کرنے کی درخواست دی تھی جس کے بعد انہیں فلیٹ الاٹ کردیا گیا ہے میر ظہور بلیدی کو ئٹہ کے ریڈزو ن میں صوبائی وزراء کے لئے مختص بنگلوں میں رہائش پذیر ہیں تاہم ان کیا جانب سے ایم پی اے لاجز میں فلیٹ الاٹ کرانے کو سیاسی حلقے معنی خیز انداز میں دیکھ رہے ہیں جبکہ ایسی خبریں بھی صوبائی دارالحکومت میں زیر گردش ہیں کہ بعض دوسرئے وزرا جن میں ظہور بلیدی بھی شامل ہیں سے بھی قلم دان واپس لیا جاسکتا ہے۔ 

تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے مزید وزراء سے قلمدان واپس لیے جانے کی بے بنیاد افواہوں میں صداقت نہیں ان کا موقف ہے کہ صرف سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم ہے کہ وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی جانب سے کابینہ میں مزید ردوبدل یا چند وزراء کو عہدوں سے ہٹائے جانے کا امکان ہے ان بے بنیاد افواہوں میں کوئی صداقت نہیں بلوچستان کابینہ بہترین انداز میں حکومتی امور انجام دے رہی ہے۔

وزراء کی کارکردگی اطمینان بخش ہے صرف وزیر بلدیات کو ہٹائے جانے کامطلب مزید تبدیلی نہیں ۔ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے سوشل میڈیا پر وزیراعلی بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد تحریک لائے جانے پر بھی سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعلی بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد تحریک کیلئے منعقدہ اجلاس کے حوالے سے افواہ بے بنیاد ہے، افواہ اورخبر میں فرق "مصدقہ"ہونے کا ہوتاہے ،اجلاس کب؟ کہاں؟ کس جگہ؟ کس وقت منعقد ہوا؟ کس نے طلب کیا؟ شرکاء کون تھے؟ خبر کس نے جاری کی؟ اجلاس کی تصاویر اور ویڈیو کہا ہیں۔

اسی دورانوزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کا موقف بھی اس سلسلے میں سامنے آیا ہے کہ وزیراعلیٰ اور انکی حکومت مضبوط ہے انکی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی باتیں بے بنیاد ہیں، اتحادیوں کے ساتھ حکومت کے روابط بھی بہتر ہیں کچھ لوگوں کی جانب سے حکومت اور وزیراعلیٰ کے خلاف افواہیں اڑائی جارہی ہیں جو بے بنیاد ہیں وزیراعلیٰ جام کمال خان کی قیادت میں بی اے پی کی حکومت اپنی مدت مکمل کریگی،اور ناراض اراکین کو بھی منالیں گے۔ صوبائی وزرا اور صوبائی ترجمان کے بیانات اور سوشل میڈیا پر افواہیں اپنی جگہ موجود ہیں تاہم صوبے کے سیاسی سنجیدہ حلقے صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال کو انتہائی سنجیدہ انداز میں لے رہے ہیں۔ 

ہفتہ رفتہ کے دورانوزیراعظم پاکستان عمران خان نے کوئٹہ کا ایک روزہ دورہ کیا دورئے کے دوران انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میںکوئٹہ کے مغربی بائی پاس روڈ، ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس، زیات موڑ، کچ، ہرنائی ، سنجاوی روڑ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس کی لمبائی 22.7 کلو میٹر ہے اور کنٹریکٹ کی لاگت 3938 ملین روپے سے زائد ہے ، 2020-21 میں اس منصوبے کے لئے 1500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں دو لین (اضافی) پر مشتمل اس سڑک کی چوڑائی 7.3 میٹر ہوگی منصوبے کو 2 سال میں مکمل کرلیا جائے گا ۔ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس کی لمبائی 11 کلومیٹر سے زائد ہوگی جبکہ سڑک کی چوڑائی7.3 میٹرجبکہ دونوں طرف 3 میٹر چوڑا شولڈر بھی ہوگا ۔ 

اس بائی پاس میں 31 کلورٹس اور ایک پل تعمیر کیا جائے گا ۔ اس منصوبے پر 1456 ملین روپے سے زائد لاگت کا تخمینہ ہے اور اسے 18ماہ میں مکمل کیا جائے گا ۔ زیارت موڑ ، کچ ، ہرنائی ، سنجاوی روڈ منصوبے کے پی سی ون کی لاگت 8379 ملین روپے سے زائد ہے ، سڑک کی تعمیر کے دوران 12پل اور 415 کلورٹس بھی تعمیر کئے جائیں گے ،اس منصوبے کو بھی دوسال میں مکمل کیا جائے گا جبکہ وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ چمن ، کوئٹہ ، کراچی شاہراہ کو دو رویہ کرنے کا کام اسی سال شروع کردیا جائے گا ۔ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی کورونا کی موجودہ لہر کی شدت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ان سطور کے تحریر کیے جانے تک بلوچستان میں کورونا کے پھیلاو کی شرح 16.4فیصد جبکہ کوئٹہ میں 16.7فیصد ہوگئی صوبائی حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کا سلسلہ جاری ہے کوئٹہ میں پولیس، ایف سی ، ضلعی انتظامیہ نے ایس او پیز پر عملدرآمد کو ممکن بنانے کے لئے تقریباً 2 ہزار سے زائدہوٹلوں ، دکانوں کا دورہ کیا اس دوران 1500 دکانوں کو بند کرکے 100 افراد کو گرفتار جبکہ 1 ایف آئی آر درج کرنے کے علاوہ 1000 دکانوں کو وارننگ جاری کی جبکہ 200 لوگوں سے شناختی کارڈ تحویل میں لئے۔ 

اس دوران یشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ملک میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور کورونا وائرس کی نئی اقسام کی روک تھام کے لئے ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں پر پیدل آمد و رفت 20مئی تک بند کردی ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید