• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

جنوبی پنجاب: بےاختیار سیکرٹریٹ عوامی نمائندگی پوری کرسکے گا؟

پی ٹی آئی این اے 249 کراچی میں الیکشن تو بری طرح ہاری ہے ،لیکن اس کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے ،ادھر ملتان میں جہاں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی مسلسل کئی دنوں سے سید یوسف رضا گیلانی اور جہانگیرترین پر تابڑ توڑ لفظی حملے کررہے ہیں ،وہاں کراچی ضمنی انتخاب کے نتیجہ میں انہیں دفاعی پوزیشن اخیتار کرنے پر مجبور کردیا ،جبکہ سید یوسف رضا گیلانی این اے 249 میں تحریک انصاف کی عبرت ناک شکست کو اس کی ناقص کارکردگی اور عوام کے ساتھ اس کی بے حسی کا شاخسانہ قرار دیتے رہے ،اس حوالے سے مخدوم جاوید ہاشمی بھی پیچھے نہ رہے۔

انہوں نے تحریک انصاف پر شدید تنقید کی اور کہا کہ یہ اس بات کا واضح اظہار ہے کہ پورے ملک کے عوام نے، جہاں جہاں بھی ضمنی انتخابات ہوئے تحریک انصاف کو مسترد کیا ،جو عوام کے سیاسی شعور کا نتیجہ ہے ،کیونکہ تحریک انصاف جیسی نااہل حکومت پاکستان میں کبھی نہیں آئی ،جس نے عوام کے منہ سے آخری نوالہ تک چھین لیاہے ،دوسری طرف شاہ محمود قریشی جہاں وزیراعظم عمران خان کی آمد پر خاصے جوشیلےانداز میں جہانگیر ترین کا نام لئے بغیر دھواں دار تقریر کررہے تھے۔

وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیدیوسف رضا گیلانی کو یہاں سے وزیراعظم بننے کا موقع ملا ،مگر وہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ نہ بنا سکے ،یہ کریڈٹ بھی عمران خان کو جاتا ہے کہ انہوں نے جنوبی پنجاب میں علیحدہ سیکرٹریٹ کی بنیاد رکھ دی ہے اور جلد ہی جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بھی بنادیا جائےگا ،ان کی اس بات کا سیدیوسف رضا گیلانی نے جواب اس طرح دیا کہ لولے لنگڑے اور بے اختیار سیکرٹریٹ سے جنوبی پنجاب کے عوام کی نمائندگی نہیں ہوسکتی ،اس کے لئے ایک خودمختار آئینی صوبہ کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت پیپلزپارٹی ہی جلد یا بدیر پوری کرے گی۔

یوں دیکھا جائے ،تو گیلانی اور قریشی خاندان کے یہ دونوں مخدوم ایک دوسرے کے خلاف طعن و تشنیع کے نشتر چلارہے ہیں اور دونوں یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ملتان کا اصل خیرخواہ وہ نہیں ،جو عوام کو زبانی جمع خرچ سے بہلاتا ہے ، بلکہ وہ ہے ،جو عملی اقدامات کے ذریعے عوام کی نمائندگی کررہا ہے ،جہاں تک تحریک انصاف کی مقبولیت کا تعلق ہے ،تو اس کا بھانڈہ کراچی کے ضمنی الیکشن میں پھوٹ چکا ہے ،پہلے نمبر پر آنے والی جماعت پانچویں نمبر پر چلی گئی اور یہ اتنا بڑا جھٹکا تھا کہ جسے وزیراعظم عمران خان بھی محسوس کئے بغیر نہ رہ سکے اور انہیں یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ٹکٹوں کی تقسیم اور کابینہ کے انتخاب کے وقت ان سے غلطیاں ہوئیں ،یہ تو صرف کراچی کی بات ہے ، حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی مقبولیت تقریباً ہرجگہ سکٹر رہی ہے۔

اس کی ایک وجہ تو حکومت کی معاشی ناکامیاں ہیں اور دوسری بڑی وجہ پارٹی کے اندر حد درجہ بڑھتی ہوئی گروپ بندی اور محاذ آرائی ہے ،خود ملتان میں حالات اس قدر خراب ہیں کہ گروپ بندی نے پارٹی کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے،اس کا اظہار اس وقت بھی ہوا ،جب وزیراعظم عمران خان جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ اور دیگر منصوبوں کا افتتاح کرنے گزشتہ ہفتہ ملتان آئے ، صرف شاہ محمود قریشی گروپ کے ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدے داروں کو وزیراعظم سے ملاقات کا موقع دیا گیا ،نظریاتی کارکن اور وہ عہدے دار جو ہمیشہ تحریک انصاف کے لئے ہراول دستے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں ،انہیں یکسر نظرانداز کیا گیا۔ 

خود ملتان ڈویژن کے صدر اعجازحسین جنجوعہ نے وزیراعظم کے دورے کے بعد سوشل میڈیا پر کھل کر اس بات کا اظہار کیا کہ اگرپارٹی بچانا ہے ،تو اسے گروپ بندی سے آزاد کرنا پڑے گا، اگرپارٹی مختلف دھڑوں میں بٹی رہی ،تو اس کا حال عام انتخابات میں کراچی جیسے ضمنی انتخاب کے رزلٹ کی طرح ہوگا ،لیکن ان باتوں پر فی الوقت توجہ دینے کو کوئی تیار نہیں ، خاص طور پر شاہ محمود قریشی آج کل اس مشن پر ہیں کہ کسی طرح جہانگیر ترین کے ساتھ شامل ہونے والے ہم خیال ارکان اسمبلی کو اس قدر تنقید کا نشانہ بنائیں کہ وہ یا تو پارٹی چھوڑ دیں یا پھر جہانگیر ترین کو چھوڑ کر غیر مشروط پر پارٹی میں رہیں ، اس بات کا اظہاروہ عمران خان کی موجودگی میں اپنی تقریر کے دوران بھی کرچکے ہیں ،جب انہوں نے کہا تھا کہ آدھا تیتر ،آدھا بٹیر والا معاملہ نہیں چل سکتا ۔

پی ٹی آئی کے حلقے اس بات پر حیران ہیں کہ شاہ محمود قریشی یہ کس قسم کا کھیل ، کھیل رہے ہیں ،اگر جہانگیر ترین کے ساتھی پارٹی کے خلاف بغاوت کردیتے ہیں ،تو تحریک انصاف ،مرکز اور پنجاب کی حکومت سے محروم ہوجاتی ہے ، اس وقت پارٹی کو متحدکرنے کی بجائے اس میں انتشار کو ہوا دینے کی پالیسی شاہ محمود قریشی کس لئے اور کس کے ایماء پر اختیار کئے ہوئے ہیں ،یہ بات عمران خان کے بھی سوچنے کی ہے۔

اگرچہ انہوں نے جہانگیر ترین گروپ کے ارکان اسمبلی سے ملاقات کی اور اس ملاقات میں کچھ معاملات بھی طے پائے ، مگر اس کے بعد جس طرح تنقید کا نشانہ بنایا گیااور شاہ محمود قریشی بھی مسلسل اس باغی گروپ پر تنقیدی حملے کرتے رہے ،اس کی وجہ سے خود وزیراعظم عمران خان کو بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑی اور انہوں نے ایک بارپھر واضح کردیا ہے کہ وہ جہانگیر ترین کو کسی قسم کی رعایت نہیں دیں گے اور ان کا کیس میرٹ پر دیکھا جائےگا۔

انہوں نے یہ بھی کہہ دیاکہ ڈاکٹر رضوان احمد ہی شوگر سیکنڈل کی تحقیقات کررہے ہیں اور ملک خدابخش ان کا ساتھ دیں گے،اگرچہ فی الوقت جہانگیر ترین گروپ کی طرف سے ایک خاموش پالیسی جاری ہے اور وزیراعظم سے ملاقات کے بعد جہانگیرترین گروپ کے لوگ اس حوالے سے کوئی بات نہیں کررہے ،لیکن یہ خاموشی بھی شاہ محمود قریشی اور ان کے ہم خیال ارکان اسمبلی کو چبھ رہی ہے اور وہ مسلسل یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جہانگیر ترین کا ساتھ دینے والے ارکان اسمبلی پارٹی میں واپس آجائیں یا پھر پارٹی چھوڑنے کا اعلان کریں ۔ 

جہاں تک پنجاب کے معاملات کا تعلق ہے ،تو وزیراعظم عمران خان ابھی تک وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں ، پارٹی کے بعض لوگ ان کے غلط فیصلوں میں سے ایک فیصلہ عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنانا بھی قراردیتے ہیں لیکن وزیراعظم عمران خان اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور انہوں نے ملتان میںعثمان بزدار کی تعریف کی اور مسلسل دلائل بھی دیتے رہے ،ان کی ملتان میں کی گئی باتوں پر سابق گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ نے ایک دلچسپ تبصرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف اور عثمان بزدار کا موازنہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی دلچسپ لطیفہ سنارہا ہو،جہاں تک شاہ محمود قریشی کا تعلق ہے ،وہ اس معاملہ میں بھی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ نہیں ہیں ،انہوں نے ملتان میں عثمان بزدار کی موجودگی کے باوجود ان کے لئے کوئی تعریفی جملہ نہیں کہا ،اس کا مطلب ہے کہ وہ عثمان بزدار کو اپنی راہ کی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید