• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’عید الفطر‘‘ اہل ایمان کے انعام و اکرام کا دن

’’عیدُالفطر‘‘ اُمّتِ مسلمہ کا پُرمسرّت دینی و مذہبی تہوار، اسلام کی ملّی، تہذیبی اور روحانی اقدار کی ایک روشن علامت ہے۔ یہ اہلِ ایمان کے لیے رمضان المبارک کی عبادت و ریاضت کا انعام اور اللہ جلّ شانہ کی طرف سے اعزاز و اکرام کا دن ہے۔ یہ اللہ کے نیک، عبادت گزار اور پرہیز گار بندوں کی مسرّت و شادمانی کا دن ہے۔ سچ یہ ہے کہ عیدین(عیدُالفطر اور عیدالاضحیٰ) مسلم اُمّہ کے توحیدی مزاج اور دینی و ملّی اقدار کی پوری طرح آئینہ دار ہیں۔ تہذیب و شائستگی کا یہ جشنِ مسرّت، اہلِ ایمان کے دینی و مذہبی تشخّص کا مظہر ہے۔ یہ مبارک و پُرمسرّت روزِ سعید 27 مارچ 624ء، یکم شوّال 2ھ سے منایا جارہا ہے۔اس ضمن میں حضرت عبداللہ بن عبّاسؓ سے روایت ایک حدیثِ مبارکہؐ کا مفہوم ہے کہ’’ آسمانوں پر عیدالفطر کی رات کا نام’’لیلۃ الجائزہ‘‘ یعنی’’ انعام کی رات‘‘ ہے۔ 

جب لوگ عیدگاہ کی طرف جاتے ہیں، تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے’’ اُس مزدور کا کیا بدلہ ہے، جو اپنا کام پورا کرچُکا ہو؟‘‘ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ’’ اے ہمارے معبود اور ہمارے مالک! اُس کا بدلہ یہی ہے کہ اُسے پوری مزدوری دی جائے۔‘‘ تو حق تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’ اے فرشتو! مَیں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے اپنے ان بندوں کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے عوض اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی۔‘‘بندوں سے خطاب کرکے ارشاد ہوتا ہے’’ میری عزّت کی قسم اور میرے جلال کی قسم، مَیں تمہیں مجرموں کے سامنے رسوا نہ کروں گا، بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لَوٹ جائو، تم نے مجھے راضی کردیا اور مَیں تم سے راضی ہوگیا۔‘‘(الترغیب و الترہیب)

’’عید‘‘ کا لفظ تین حروف پر مشتمل ہے اور اس کے لفظی و اصطلاحی معنیٰ بھی تین ہیں۔(1) ’’عید‘‘ کا لفظ ’’عود‘‘ سے مشتق ہے، جس کے معنی واپس اور لَوٹ آنے کے ہیں، چوں کہ عید ہر سال واپس لَوٹ کر آتی ہے، اِس لیے اسے عید کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔(2) ’’عید‘‘ کے دوسرے معنیٰ توجّہ کرنے کے ہیں۔ چوں کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ اپنے عاجز و بے بس بندوں پر رمضان المبارک میں کی گئی عبادات اور نیک اعمال پر رحم و کرم فرماتا ہے، اُنہیں اعزاز و اکرام سے نوازتا ہے، اِس لیے اللہ عزّوجل کی خاص عنایات، فضل و کرم اور خصوصی توجّہ کی وجہ سے اسے عید کہا جاتا ہے۔(3) ’’عید‘‘ کے لفظی معنیٰ مسرّت و انبساط کے بھی ہیں۔ چوں کہ اس روزِ سعید، اہلِ ایمان جشنِ مسرّت مناتے اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں، لہٰذا محاورۃً اسے عید کہا جاتا ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق، کرّۂ ارض پرجشنِ مسرّت یا خوشی سے بھرپور تہوار منانے کا آغاز اُس روز سے ہوا، جس دن حضرت آدمؑ کی بارگاہِ الٰہی میں توبہ قبول ہوئی۔ گویا یہ دنیا کی پہلی عید تھی، جو اس خوشی میں منائی گئی۔ دوسری عید یا یومِ مسرّت اُس وقت منایا گیا، جب حضرت نوحؑ اور اُن کی اُمّت کو طوفان سے نجات ملی۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ پر جب آتشِ نمرود گل زار بنی، اُس روز کی مناسبت سے اُن کی اُمّت عید منایا کرتی تھی۔جس روز حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی، وہ اُن کی امّت کا یومِ عید بنا۔ بنی اسرائیل اُس روز عید منایا کرتے تھے، جس روز اُنہیں فرعون اور اُس کے مظالم سے نجات ملی، جب کہ عیسائی حضرت عیسیٰؑ کی ولادت کے روز عید مناتے ہیں۔تاہم، مسلمانوں کا فلسفۂ عید اور اس کا تصوّر بالکل منفرد اور اِک نرالی شان کا حامل ہے۔

’’بُلوغ الارب فی احوال العرب‘‘ کے مولّف، محمود شُکری آلوسی کے مطابق، عہدِ جاہلیت میں مشرکینِ عرب میں متعدّد عیدوں کا تصوّر موجود تھا۔ بعض اُن کی مکانی عیدیں تھیں اور بعض زمانی، یہ موسمی تہواروں کے طور پر منائی جاتی تھیں۔ وہ اپنے تین مشہور بُتوں لات، منات اور عُزّیٰ کے ناموں پر عید مناتے اور دُور دراز کا سفر کرکے اُن کے سامنے نذرانے پیش کرتے۔ان تینوں بُتوں میں سے ہر بُت کسی نہ کسی شہر کے لیے مخصوص تھا۔جیسے لات اہلِ طائف کا بُت تھا، عُزّیٰ اہلِ مکّہ کا اور منات اہلِ مدینہ کے لیے تھا۔ 

ان تینوں بُتوں کے پاس جمع ہونے اور تہوار منانے کے لیے عربوں نے سال میں مخصوص ایّام اور موسم مقرّر کر رکھے تھے، جب کہ عربوں کی زمانی عیدیں کسی خاص تاریخی واقعے، جنگ میں فتح یابی، دشمن پر غلبہ پانے کے حوالے سے خوشی، تفریح اور میلوں وغیرہ کے لیے مخصوص ہوتی تھیں۔ یہ عید ایک خاص قوم کی ہوتی تھی اور دوسری کسی قوم کو اس میں شرکت کی اجازت نہ تھی۔ 

چناں چہ ایسا بھی ہوتا کہ ایک ہی دن ایک قوم کے لیے خوشی اور اظہارِ مسرّت کا ہوتا اور دوسری کے لیے غم اور بدبختی کا۔اس حوالے سے عید کے دو دن’’ یوم السّبع‘‘ اور’’ یوم السّبا ‘‘ خاص دن شمار ہوتے تھے۔ ایران کے مجوسی، نیروز یا نوروز کے نام سے عید مناتے ہیں، یہ اُن کا سب سے بڑا پُرمسرّت مذہبی تہوار ہے۔ ان کا عید کا دوسرا دن، مہرجان ہے۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ اہلِ ایران نے نوروز کا دن، مہرجان کے دن سے دو ہزار پانچ سو سال قبل منانا شروع کیا تھا۔ 

اِن دونوں تہواروں کے موقعے پر اُنہیں مُشک، عنبر اور عُودِ ہندی تحفتاً دی جاتی تھیں اور نو روز کے دن وہ ایک دوسرے کو زعفران اور کافور بھی دیا کرتے تھے۔ہندو مت میں ’’دیوالی‘‘ اور ’’ہولی‘‘ دو مقدّس مذہبی تہوار ہیں۔ ’’دیوالی‘‘کا تہوار شری رام بھگوان کی یاد میں منایا جاتا ہے اور اس موقعے پر دیے وغیرہ جلائے جاتے ہیں، جب کہ ’’ہولی‘‘’’ہولکا ماتا‘‘ کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ 

اِس روز اس مذہب کے پیروکار ایک دوسرے پر رنگ وغیرہ پھینکتے ہیں۔ الہامی مذاہب میں عیسائیوں اور یہودیوں کی عیدیں مقدّس مذہبی تہواروں کے طور پر منائی جاتی ہیں۔ ’’معجم البلدان‘‘ کے مؤلف، یاقُوت حموی کے مطابق نصاریٰ کی 14 عیدیں ہیں۔ سات بڑی اور سات چھوٹی۔ بڑی عیدیں میں’’بشارت‘‘، ’’زیتونہ‘‘ شامل ہیں۔ یہی عیدالشّعانین (PAM SUNDAY) بھی ہے۔ اس کے معنیٰ تسبیح کے ہیں اور اسے وہ روزوں کے ساتویں اتوار کو مناتے تھے۔ ’’فصح‘‘ بھی ان کی بڑی عید ہے۔ ’’خمیس الاربعین‘‘ عید الخمیس یا عیدالعنصرہ (Pentacost Whit Sunday) یہ تہوار ایسٹر سے پچاس دن بعد منایا جاتا ہے۔ ’’عیدالمیلاد‘‘ وہ دن ہے، جب حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی۔ ’’غطاس‘‘ اس دن عیسائی اپنے بچّوں کو پانی میں غوطے دیتے ہیں۔ ’’اربعون‘‘ ہیکل میں داخل ہونے کا جشن ہے۔ ’’خمیس العید‘‘ (Holy Thursday) ’’سبت النّور‘‘ ایسٹر سے ایک دن پہلے منایا جاتا ہے۔ ’’احد الجدید‘‘ ایسٹر سے آٹھ دن بعد منایا جاتا ہے۔ ’’تجلّی‘‘ عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق اس دن حضرت مسیح ؑنے آسمان کی طرف اُٹھائے جانے کے بعد اپنے شاگردوں کو جلوہ دِکھایا تھا۔ ’’عیدالصّلیب‘‘ بھی اُن کا مقدّس مذہبی تہوار اور عید کا دن ہے۔

یاقُوت حموی کے مطابق یہودیوں کی پانچ عیدیں ہیں، جن کا ذکر ’’تورات‘‘ میں آیا ہے اور وہ اس طرح ہیں:’’عید رأس السّنہ‘‘ (نئے سال کی عید)، یہودیوں کے ہاں اس دن کی وہی حیثیت ہے، جو ہمارے ہاں عیدالاضحیٰ کی ہے۔ ’’عیدالمظال‘‘ یہ آٹھ دن رہتی ہے۔ ’’عیدالاسابیع‘‘ (Ten Command Ments) ،اُن کے اعتقاد کے مطابق یہ وہ دن ہے، جب اللہ تعالیٰ نے طورِ سینا سے بنی اسرائیل سے خطاب کیا تھا، جس میں احکامِ عشرہ بھی شامل تھے۔ ’’عیدالفور‘‘ اُن کی نئی ایجاد ہے۔ ’’عیدالحنکہ‘‘ بھی نئی ایجاد ہے، جو آٹھ دن تک رہتی ہے۔

اسلام میں عید کا فلسفہ اور پس منظر اِس حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ جب مکّے سے ہجرت فرما کر مدینۂ منوّرہ تشریف لائے، تو اہلِ مدینہ (جن کی ایک بڑی تعداد دائرۂ اسلام میں داخل ہوچُکی تھی) جشن و مسرّت کے دو تہوار منایا کرتے تھے۔ رسول اکرمﷺ نے اُن سے دریافت فرمایا کہ’’ یہ دو دن جو تم مناتے ہو، ان کی کیا حقیقت (پس منظر) ہے؟‘‘اُنہوں نے عرض کیا’’ ہم جاہلیت میں (قبل از اسلام) یہ دو تہوار منایا کرتے تھے، (لہٰذا وہی رواج ہم میں ابھی تک باقی چلا آرہا ہے)۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالیٰ نے ان دو تہواروں کے بدلے ان سے بہتر دو دن تمہارے لیے مقرّر فرما دیے ہیں، (لہٰذا اب وہی تمہارے قومی اور مذہبی تہوار ہیں)، یوم عیدالاضحیٰ اور یومِ عید الفطر۔‘‘ (سنن ابو دائود)محمود شُکری آلوسی لکھتے ہیں’’ بتایا جاتا ہے کہ مدینے والوں کے کھیل کود اور پُرمسرّت تہوار کے یہ دو دن، نوروز اور مہرجان تھے۔‘‘(بلوغ الارب فی احوال العرب 187/2)وہ مزید لکھتے ہیں’’ اِن دونوں دنوں کو اِس لیے بدل دیا گیا کہ اسلام میں عید منانے کا سبب دینی شعار کو بلند کرنا ہے۔

آنحضرت ﷺ نے محسوس کیا کہ آپؐ نے اگر اُنہیں اُن کی عادات اور سابقہ رسم و رواج پر چھوڑ دیا، تو ایسا نہ ہو کہ جاہلیت کے شعائر کی تشہیر ہوتی رہے یا وہ اپنے اسلاف کی رسوم کو رواج دیتے رہیں، لہٰذا آپؐ نے بدل کر اُنہیں ایسے دن عطا فرمائے، جن میں ملّتِ حنیفیہ کے شعائر بلند کیے جائیں۔ آپؐ نے عیدین کے تہوار کے موقعے پر زینت و آرائش کے ساتھ ایک اور بات کا اضافہ بھی کردیا، یعنی اللہ کا ذکر اور اُس کی عبادت۔ 

آپؐ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا کوئی بھی اجتماع اور مذہبی تہوار اعلائے کلمۃ اللہ سے خالی نہ ہو۔‘‘(ایضاً، ص 188)علامہ سیّد سلیمان ندوی کے بقول’’اسلام دنیا میں توحید کا آوازہ بلند کرنے کے لیے آیا ہے، یہ خدائے واحد کا پرستار ہے۔ اسلام میں کسی تاریخی فتح یا قومی نجات کے دن کو بطور مذہبی تہوار منتخب نہیں کیا گیا۔ روزِ ہجرت بھی اس کی عید نہیں، بدر کا یوم الفرقان بھی اس کی عید نہیں، بلکہ فتحِ مکّہ کا دن بھی اس کے لیے تہوار نہیں۔ 

اس نے اپنی ملّت کی عمومی خوشی اور اظہارِ مسرّت کے لیے وہ دن منتخب کیا، جو نزولِ وحی کے مہینے رمضان المبارک کے اختتام پر آتا ہے۔‘‘دوسری جانب یہ امر بھی پیشِ نظر رہے کہ اسلام نے ’’عیدین‘‘ کے پُرمسرّت دینی و ملّی تہواروں کے موقعے پر اظہارِ مسرّت اور ان تہواروں کو منانے کی اجازت تو دی، تاہم ایک مخصوص ضابطے کے ساتھ۔ اور وہ یہ ہے کہ جشنِ مسرّت میں مسلمان اپنے خالقِ حقیقی کو یاد رکھیں اور اپنے فرائضِ بندگی کی تکمیل سے غافل نہ ہوں۔ ’’عیدین‘‘ کے دینی و ملّی تہوار، مسلم امّہ کی قومی و ثقافتی زندگی کے دو اہم اور سُرور آفریں مواقع ہیں۔ 

اس حوالے سے مسرّت و شادمانی کا اظہار فطری بھی ہے اور برمحل بھی، تاہم اس کے ساتھ اسلام جیسے مثالی اور انقلابی ضابطۂ حیات نے خوشی اور غم کے موقعے پر کچھ حدود قائم کردی ہیں، عیش میں یادِ خدا اور طیش میں خوفِ خدا ایک مومنِ صادق کا طرزِ عمل اور شعار ہوتا ہے۔ اس حقیقت کی ترجمانی کرتے ہوئے آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کہتے ہیں؎’’ظفرؔ آدمی اُس کو نہ جانیے گا، وہ ہو کیسا ہی صاحبِ فہم و ذکا … جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی، جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا ۔‘‘

حضرت انس بن مالکؓ کے ارشاد کے مطابق، پانچ چیزوں کو عید کی روشن اور حقیقی علامت قرار دیا گیا ہے۔(1) اللہ کا خوف اور اُس کی خشیّت، جو بندے کو گناہوں سے محفوظ رکھتے اور اسے اطمینانِ قلب عطا کرتے ہیں۔(2) گناہوں پر ندامت، جو بندۂ مومن کو شیطان کے مکرو فریب سے بچاتی اور آخرت کا خوف دِلاتی ہے۔(3) عاجزی، انکساری اور اعترافِ بندگی، جس کی بدولت بندۂ مومن پُلِ صراط سے بہ آسانی گزر جائے گا۔(4) اطاعتِ الٰہی، جو بندے کو جنّت کی بشارت دیتی ہے۔(5) حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پابندی، جو بندے کو رضائے الٰہی تک پہنچاتی ہے۔ 

جس نے اِن پانچ چیزوں کو پالیا، اُس کی عید، حقیقی عید ہوگی۔ کسی اہلِ دل شاعر نے اِس کی شعری ترجمانی کرتے ہوئے کیا خُوب کہا ہے؎’’لیس العید لِمن لبس الجدید…انّما العید لِمن امِن من الوعید(عید اُس کی نہیں، جو صرف نئے کپڑے زیبِ تن کرلے، بلکہ (حقیقی) عید اُس کے لیے ہے، جسے وعید(اللہ کے ڈر اور خوف) سے امن مل گیا)’’لیس العید لمن تبخّر بالعُود…انّما العیدُ التّائبُ الّذی لایعُودُ(عید اُس کے لیے نہیں جو عُود سلگا کر خوش بُو حاصل کرے، (حقیقی) عید دارصل اُس کی ہے جو (عید کے روز) ایسی توبہ کرے کہ پھر گناہ کی طرف کبھی نہ لَوٹے)’’لیس العید لمن تزیّن بزینۃالدُّنیا…انّما العید لمن تزوّد بزادِ التّقویٰ(عید اُس کے لیے نہیں، جس نے آرائشِ دنیا سے زیب و زینت اختیار کی، بلکہ (حقیقی) عید اُس کے لیے ہے، جس نے پرہیزگاری کو اپنا زادِ راہ بنایا)’’لیس العیدُ لمن رکب المطایا…انّما العیدُ لمن ترک الخطایا(عید اُس کے لیے نہیں، جو عید کے روز (پرتعیّش) سواریوں پر سوار ہوکر سیر کرتا پِھرے، بلکہ (حقیقی) عید دراصل اُس کی ہے، جس نے خطائوں (لغزشوں اور گناہوں) کو تَرک کردیا)’’لیس العیدُ لمن بسط البساط…انّما العیدُ لمن جاوزالصّراط(عید اُس کے لیے نہیں،جو (محفلوں میں قیمتی) فرش بچھا کر نمود و نمائش کرے، بلکہ (حقیقی) عید اُس کی ہے، جو پلِ صراط سے بہ سلامت گزر جائے)۔

روایت کے مطابق رسول اکرمﷺ عید کے دن یہ دُعا مانگا کرتے تھے’’اے پروردگار! ہم تجھ سے پاک و صاف زندگی اور ایسی ہی عمدہ موت طلب کرتے ہیں۔ ہمارا لَوٹنا ذلّت و رسوائی کا نہ ہو۔ پروردگار! ہمیں اچانک ہلاک نہ کرنا، نہ اچانک پکڑنا، اور نہ ایسا کرنا کہ ہم حق ادا کرنے اور وصیّت کرنے سے بھی رہ جائیں۔ پروردگار! ہم حرام سے اور دوسروں کے سامنے سوال بننے کی فضیحت سے بچنے کی دُعا کرتے ہیں۔ 

اے اللہ! ہم تجھ سے پاکیزہ زندگی، نفس کا غنیٰ، بقا، ہدایت و کام یابی اور دنیا و آخرت کے انجام کی بہتری طلب کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار! ہم شکوک و شبہات اور آپس میں نفاق، ریا، بناوٹ اور دین کے کاموں میں دِکھاوے کے عمل سے پناہ چاہتے ہیں۔ اے دِلوں کے پھیرنے والے ربّ! ہمارے دل ہدایت کی طرف پھیرنے کے بعد ٹیڑھے نہ کرنا اور ہمیں اپنی طرف سے خاص رحمت عطا فرما، بے شک تُو سب کچھ عطا فرمانے والا ہے۔‘‘