• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت اُمّ کلثوم بنتِ عقبہ رضی اللہ عنہا (قسط نمبر 16)

یہ7ہجری کی ایک سیاہ رات تھی، جب کفّارِ مکّہ کے وحشیانہ مظالم اور سفّاکیت سے تنگ آکر مکّے کی چند مسلمان خواتین نے خاموشی سے مدینہ منوّرہ کی جانب ہجرت کا فیصلہ کیا۔ حضرت اُمّ ِ کلثوم کی والدہ، حضرت ارویٰؓ بنتِ کریز نے بیٹی کو مشورہ دیا’’ تم بھی ان خواتین کے ساتھ مدینے چلی جاؤ، جہاں تمہارا بھائی حضرت عثمان ؓبن عفّان تمھارا اچھی طرح خیال رکھے گا۔‘‘ سن رسیدہ، کم زور اور لاغر ماں کو جوان بیٹی کی شادی اور اُس کے بہتر مستقبل کی فکر تھی، جس کے کوئی آثار مکّے کے کفریہ معاشرے میں نظر نہ آتے تھے۔ 

حضرت اُمّ ِ کلثومؓ نے جب ماں کا مشورہ سُنا، تو تڑپ اُٹھیں اور بولیں’’ امّاں جان! مَیں آپ کو اِن دشمنوں کے درمیان تنہا چھوڑ کر کیسے چلی جاؤں، جب کہ آپ کی سگی اولاد بھی آپ کی جان کے درپے ہے؟‘‘ ماں نے کہا’’ اے میری لختِ جگر! مَیں جانتی ہوں کہ تیرے لیے مجھے یہاں اکیلا چھوڑ جانا کس قدر مشکل اور تکلیف دہ ہے، لیکن تُو جانتی ہے کہ مَیں بوڑھی ہوں اور کم زور بھی۔ نہ جانے کب واپسی کا بُلاوا آجائے۔ 

پھر مَیں مدینے تک کے طویل پیدل سفر سے بھی قاصر ہوں، جب کہ تو جوان ہے اور قوی بھی۔ مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد تیرے بھائی اور کفّارِ مکّہ نہ جانے تیرے ساتھ کیا سلوک کریں۔ اگر تُو میری زندگی میں مدینہ منوّرہ پہنچ گئی، تو میں اطمینان وسکون کے ساتھ داعیٔ اجل کو لبّیک کہوں گی۔‘‘ ماں کی ضد، شدید اصرار، التجا اور بہتے اشکوں نے نوجوان، فرماں بردار بیٹی کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا۔ اور ایک افسردہ رات کے پہلے پہر غم زدہ ماں، بیٹی نے آنسوؤں کی برسات میں تڑپتے مچلتے دِل کے ساتھ ایک دوسرے کو ہمیشہ کے لیے الوادع کہا۔حضرت اُمّ ِ کلثومؓ قبیلہ بنو خزاعہ کے ایک شخص کی رہ نُمائی میں چند مسلمان خواتین کے ساتھ پا پیادہ مدینہ منوّرہ روانہ ہوگئیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی روشن و بے مثال تاریخ خواتین صحابیاتؓ کی فقید المثال قربانیوں اور خدمات کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ 

دینِ حق کی اشاعت میں مَردوں کے ساتھ خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا اور پھر اِس راہ میں آنے والی تمام آزمائشوں اور مصیبتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ کوئی ظلم اُن کے پائے استقامت میں لرزش پیدا نہ کرسکا، یہ خواتین ہر موقعے پر ثابت قدم رہیں۔ان خواتین نے اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی محبّت میں اپنا گھر بار، رشتے ناتے قربان کرکے اپنے ایمان کی حفاظت کی۔بلاشبہ، حضرت اُمّ ِ کلثومؓ بنتِ عقبہ بھی ایسی ہی بہادر اور جاں نثار خواتین میں شامل ہیں، جن کی ایمان افروز زندگی میں آج کی مسلم خواتین کے لیے ایک واضح سبق ہے۔ہمیں آج ایسے ہی مجاہدانہ اور انقلابی کردار کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

باپ اسلام کا بدترین دشمن

نبی کریم ﷺ کا پڑوسی، بنو اُمیّہ کا سردار، عقبہ بن معیط بھی اسلام دشمنی میں ابو جہل اور ابو لہب سے کسی طرح کم نہ تھا۔ یہ وہ شخص تھا، جس نے اللہ کے رسول ﷺ کے گلے میں چادر ڈال کر گلا گھونٹنے کی ناپاک حرکت کی، لیکن سیّدنا ابو بکر صدیقؓ کی شدید مزاحمت کی بنا پر وہ اپنی اس مکروہ حرکت میں کام یاب نہ ہوسکا۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ خانۂ کعبہ میں نماز ادا فرما رہے تھے۔

جب آپ ﷺ سجدے میں گئے، تو اسی عقبہ نے ابوجہل کی فرمائش پر اونٹ کی بھاری، بدبودار اوجھڑی آپﷺ کی گردنِ مبارک پر ڈال دی، جسے کم عُمر صاحب زادی، سیّدہ فاطمۃ الزہراؓ نے بڑی مشکل سے گھسیٹ کر نیچے پھینکا۔ یہ شخص اس کے علاوہ بھی نبی کریم ﷺ کو ایذا دیتا رہتا تھا، جب کہ دیگر مسلمانوں پر بھی مظالم کیا کرتا۔ حضرت اُمّ ِ کلثومؓ اسی عقبہ بن ابی معیط کی مسلمان بیٹی تھیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ وہ اسلام دشمنوں کے گھروں میں ایمان کی دولت سے مالا مال افراد پیدا کرتا رہا۔

حضرت اُمّ ِ کلثومؓ کی والدہ

حضرت اُمّ ِ کلثومؓ کی والدہ اور عقبہ کی اہلیہ، حضرت ارویٰؓ بنتِ کریز کا پہلا نکاح بنو اُمیّہ کے ایک شخص، عفّان بن العاص سے ہوا تھا، جن سے اللہ تعالیٰ نے اُنھیں ایک جلیل القدر فرزند عطا فرمایا، جنھیں تاریخ امیر المؤمنین، حضرت عثمان بن عفّانؓ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ وہ تیسرے خلیفۂ راشد اور نبی کریم ﷺ کے داماد تھے۔اُنھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ نبی کریمﷺ نے یکے بعد دیگرے اپنی دو صاحب زادیاں اُن کے نکاح میں دیں، جس پر حضرت عثمانؓ ’’ذوالنورین‘‘ یعنی دو نوروں والے کے لقب سے مشہور ہیں۔ حضرت ارویٰ ؓکی والدہ، نبی کریم ﷺ کے والد، حضرت عبداللہؓ کی حقیقی بہن تھیں۔ اِس رشتے سے وہ رسولِ اکرمﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ حضرت ارویٰؓ کا دوسرا نکاح عقبہ بن ابی معیط کے ساتھ ہوا، جن سے حضرت اُمّ ِ کلثومؓ پیدا ہوئیں۔

سلسلۂ نسب

حضرت اُمّ ِ کلثومؓ کا سلسلۂ نسب یوں ہے: حضرت اُمّ ِ کلثومؓ بنتِ عقبہ بن ابی معیط بن ابی عمرو بن اُمیّہ بن عبد شمس بن عبد مناف۔ ان کا تعلق قریش کے قبیلے، بنو اُمیّہ سے تھا۔

قبولِ اسلام

حضرت اُمّ ِ کلثومؓ اور اُن کی والدہ، حضرت ارویٰ ؓ ، حضرت عثمانؓ بن عفّان سے بہت محبّت کرتی تھیں۔ پھر یہ کہ وہ اُمّ المومنین، حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کی پڑوسی بھی تھیں۔ یوں بیٹے کے قبولِ اسلام اور اُمّ المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓسے تعلق کی بنا پر ان ماں، بیٹی کے دِل بھی ایمان کی پاکیزہ کرنوں سے منوّر ہو چُکے تھے، لیکن عقبہ کی مسلمانوں سے بدترین عداوت اور گھر کے مشرکانہ ماحول کی وجہ سے اُنھوں نے اپنے مسلمان ہونے کا اظہار نہیں کیا تھا۔

 2ہجری میں اسلام اور کفر کے درمیان پہلے معرکے، غزوۂ بدر میں عقبہ کی عبرت ناک موت کے بعد اُن کے گھر والوں کو اِن ماں، بیٹی کے مسلمان ہونے کا علم ہوا، تو عقبہ کے بھائی اور بیٹوں نے ان کی سخت نگرانی شروع کردی، جس کے سبب وہ دونوں مدینہ منوّرہ کی جانب ہجرت نہ کرسکیں اور مکّے ہی میں رہ کر رشتے داروں کے مظالم برداشت کرتی رہیں۔

قریش کی پریشانی میں اضافہ

6 ہجری کو صلحِ حدیبیہ کے بعد کفّار نے مکّے کی سرحدوں کی نگرانی کم کردی تھی۔ دراصل، وہ اِس خوش فہمی میں تھے کہ اس طرح مدینے جانے والے قریشی واپس مکّہ آجائیں گے، لیکن اس کے اُلٹے اثرات مرتّب ہوئے۔ مسلمان کم زور نگرانی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے چُھپ چُھپا کر مکّے سے نکلنے لگے۔چوں کہ صلحِ حدیبیہ کی وجہ سے اُنھیں مدینہ منوّرہ میں پناہ نہیں مل سکتی تھی، اِس لیے وہ سمندر کے کنارے ذو مروۃ کے قریب، عیص میں جمع ہونے لگے۔ کچھ ہی عرصے میں اُس مقام پر مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد جمع ہوگئی، جو قریش کے لیے بہت پریشانی کا باعث تھی۔

مومن عورت اور حکمِ الہٰی

حضرت اُمّ ِ کلثومؓ قافلے کے ساتھ پیدل سفر کرتے ہوئے مدینہ منوّرہ پہنچیں، تو بھائی حضرت عثمان غنیؓ نے اُنھیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور عزّت و احترام کے ساتھ اپنے گھر لے گئے، لیکن ابھی سفر کی تھکان بھی نہ اُتری تھی کہ عقبہ کے دونوں بیٹے، ولید اور عمارہ اُن کی تلاش میں مدینہ آن پہنچے۔ یہ دونوں بھی مسلمانوں کی عداوت میں اپنے باپ سے کم نہ تھے۔وہ بارگاہِ رسالتؐ میں حاضر ہوئے اور صلحِ حدیبیہ کی ایک شرط کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت اُمّ ِ کلثومؓ کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

تاہم، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ معاہدے کی شرط یہ تھی کہ قریش کا جو آدمی ہمارے پاس آئے گا، اُسے واپس کردیا جائے گا، لیکن اِس معاہدے میں سرے سے خواتین کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے، چناں چہ حضرت اُمّ ِ کلثومؓ کو واپس بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی اثنا اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی’’ اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں ،تو اُن کی جانچ کرلو، اللہ ہی اُن کے ایمان کو خُوب جانتا ہے، پس اگر تم اُنہیں مومن معلوم کرلو، تو اُنہیں کفّار کی طرف نہ لوٹاؤ، نہ وہ (عورتیں) اُن کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) اُن کے لیے حلال ہیں۔‘‘( سورۃ الممتحنۃ، 10) چناں چہ وہ دونوں ناکام و نامُراد ہو کر مکّہ واپس لَوٹ گئے۔

شادیاں اور اولاد

حضرت اُمّ ِ کلثوم صُورت و سیرت میں یکتا تھیں۔ اُن کا پہلا نکاح حضرت زید بن حارثہؓ سے ہوا، لیکن ابھی شادی کو تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ وہ8ہجری کو موتہ کے مقام پر رومیوں کی ایک بہت بڑی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ وہ مسلمانوں کے لشکر کے سپہ سالار تھے۔حضرت اُمّ ِ کلثومؓ کو اُن کی شہادت کا بے حد غم تھا۔ عدّت گزارنے کے بعد حواریٔ رسول ﷺ اور عشرہ مبشّرہ میں شامل جلیل القدر صحابی، حضرت زبیر بن عوامؓ سے نکاح ہوا، تاہم یہ رشتہ زیادہ عرصہ نہ چلا اور اُنھیں طلاق ہوگئی۔ اُن سے ایک صاحب زادی زینبؓ پیدا ہوئیں۔ کچھ دنوں بعد عشرہ مبشّرہ میں شامل ایک اور معروف صحابی، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے اُن سے نکاح کرلیا۔ 

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا تعلق قریش کے قبیلے ، بنو زہرہ سے تھا۔ ان دونوں نے نہایت خوش گوار اور طویل وقت گزارا۔ وہ خود فرماتی ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے مجھے ہر طرح کا آرام اور سہولتیں فراہم کیں۔ اُن سے چار بچّےہوئے، جن کے نام ابراہیمؓ، اسماعیلؓ، حمیدؓ اور محمّدؓ ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا 31 ہجری میں 75 برس کی عُمر میں انتقال ہوا، تو اُن کی حضرت اُمّ ِ کلثومؓ سمیت چار بیویاں حیات تھیں، جن میں سے ہر ایک کو ترکے میں 80، 80 ہزار درہم ملے۔ 

عدّت ختم ہونے کے بعد فاتحِ مصر، حضرت عمرو بن العاصؓ نے نکاح کا پیغام بھیجا۔ ابھی اُن سے نکاح کو دو ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ موت کا فرشتہ آگیا۔آپؓ کی وفات دوسرے خلیفۂ راشد، حضرت عُمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حضرت اُمّ ِ کلثومؓ کی زندگی میں اُن عورتوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے، جو دوسرا نکاح کرنے کو عیب سمجھتی ہیں اور پوری عُمر شوہر کے بغیر گزار دیتی ہیں ۔

مناقب

حضرت اُمّ ِ کلثومؓ نہایت برگزیدہ صحابیہؓ تھیں۔ آپؓ ، نبی کریم ﷺ کی پھوپھی زاد بہن کی بیٹی، تیسرے خلیفۂ راشد حضرت عثمانؓ بن عفّان کی بہن اور نبی کریم ﷺ کے چار محبوب ترین صحابہؓ کی شریکِ حیات رہیں۔ اُن کے پانچوں بچّوں کو بھی صحابۂ کرامؓ میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔