• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جرائم کو کنٹرول اور قانون کی مکمل عملداری کروانا پولیس و دیگر قانونی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ چندسالوں کے دوران زیریں سندھ کے سرحدی ضلع عمرکوٹ میں جرائم کی وارداتوں میں اضافے اور امن وامان کی مخدوش صورتحال سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ پولس اپنے فرائض میں لاپروائی کررہی ہے یا پھر جرائم پہ کنٹرول کی اہلیت وصلاحیت نہیں رکھتی ہے جس کی دیگر وجوہات میں سے ایک اہم وجہ سیاسی دباو یا سفارش پہ من پسند افسران کی تعیناتیوں کے باعث پولس افسران جرائم کی روک تھام میں ناکام رہے ہیں اور اکثر ان کی جانب داری و نااہلیت ثابت ہوتی رہی ہے۔ایسے ہی ایک واقعے میں پولس کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔

ایک سال قبل عمرکوٹ شہر کے چانیا محلہ میں مسلح افراد نےفائرنگ کرکےنوجوان شرافت علی راجپوت کو بے دردی کے ساتھ قتل کردیا تھا جس کا قاتل سال گزرنے کے باوجود ابھی تک قانون کی گرفت میں نہیں آسکا ہے ایک سال کاعرصہ گذرجانے کے باوجود عمرکوٹ پولیس سفاک قاتل کو گرفتار کرنے میں مکمل طرح ناکام ہے۔ آج بھی مقتول کے گھروالےذہنی اذیت میں مبتلاہیں اور انصاف کے منتظر ہیں۔ 

مقتول شرافت راجپوت کےوالدلیاقت راجپوت کاکہناہے کہ ایک سال کاعرصہ گذرجانےکےباوجود عمرکوٹ پولیس میرے نوجوان لخت جگرکےقاتل کوگرفتار کرنےمیں ناکام رہی ہےآج بھی گھرمیں سوگ کی فضاہے گھروالےآج بھی شرافت کی یاد میں روتےہیں افسوس کہ پولیس،انتظامیہ بالا حکام کوہمارے دردکااحساس نہیں ہے دس ماہ کاعرصہ گذرجانےکےبعد بھی ہمیں انصاف نہیں مل سکا ہے شرافت راجپوت کے بھائی عدنان راجپوت کے مطابق شرافت راجپوت کے مبینہ قاتل رفیق ملاح نےسرے عام فائرنگ کرکے بھائی شرافت راجپوت کو قتل کرنے کے بعد با آسانی فرار ہوگیاتھا مگر پولیس اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ہمیں انصاف نہ دلا سگی ہے۔ 

آج تک پولیس جھوٹے دلاسے دےرہی ہے جب کہ کسی عوامی نمائندے نے بھی ہماری مدد نہیں کی ہے۔مقتول شرافت راجپوت کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پہ ان کے ورثاء، دوست احباب اور راجپوت برادری کے مختلف پلیٹ فارمز سے عمرکوٹ پریس کلب کے سامنے کئی بار اور 20 دسمبر 2020 کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور احتجاجی کیمپ بھی لگایاگیا جس میں متحدہ کے رکن قومی اسمبلی انجنئیرصابرقائم خانی سمیت مختلف شخصیات نے بھی شرکت کی۔ 

اس سب کے باوجود مقتول شرافت راجپوت کے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں۔ عمرکوٹ کے ایس ایس پی شاہجہان پٹھان نے کچھ عرصہ قبل مقتول شرافت راجپوت کےگھر جاکر شرافت راجپوت کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے دلی تعزیت اور فاتحہ خوانی کی اس موقع پر مقتول شرافت راجپوت کی والدہ نے زاروقطار روتے ہوئے کہا کہ میرے جوان بیٹے کو بےدردی کےساتھ قتل کردیا گیا درندہ صفت سفاک قاتل آزاد گھوم رہا ہے کوئی ہمارے ساتھ انصاف کرنے والا نہیں ہمارا پورا گھر شدید ذہنی اذیت کرب کا شکار ہے۔ 

اس موقع پر ایس ایس پی شاہجہان پٹھان نے مقتول کے والدین کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ میں آپ لوگوں کا درد دکھ محسوس کرتا ہوں میں یقین دلاتا ہوں کہ انشاءاللہ بہت جلد پولیس شرافت راجپوت کےقاتل کو گرفتار کرنےمیں کامیاب ہوجائے گی آپ لوگوں کو پورا انصاف ملےگا مقتول کے گھر آمد سے قبل ایس ایس پی عمرکوٹ پولیس شاہجہان پٹھان نے پولیس کی ٹیم کےہمراہ شرافت راجپوت کو قتل کرنے والی جگہ جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا اور مقتول کے والد سے کیس کےمتعلق حقائق معلوم کیے۔

مقتول شرافت راجپوت کے ورثاء کا کہنا ہے کہ انہیں ایس ایس پی صاحب نے قاتل کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ کےچیف جسٹس، وزیراعظم، وزیراعلی سندھ، آئی جی سندھ پولیس، اور اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ خدارا ہمیں انصاف دلایاجائے۔شرافت راجپوت کے قاتلوں کو فوری طور گرفتار کرکےمنظرعام پرلایاجائے دیکھنا اب یہ ہے کہ ضلعی پولس افسر شاہجہان پٹھان کیا واقعی کسی دباو کو خاطر میں نا لاتے ہوئے مقتول شرافت راجپوت کے مبینہ قاتل رفیق ملاح کو گرفتار کرپائیں گے۔ 

ضرورت اس امر کی ہے کہ شرافت راجپوت کے قتل میں ملوث افراد کو جلدازجلد قانون کے کٹہرے میں لاکر قانون کے مطابق مقدمہ چلاکر قاتل کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ اس سزا کے عمل سے دیگر عبرت حاصل کریں اور جرائم کی روک تھام ہوسکے اور آئندہ کسی کا بیٹا باپ یا شوہر یوں بے دردی سے قتل نا ہوسکے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید